ہم گزشتہ مضمون میں جن چیزوں پر بات کر رہے تھے انہیں اپنانامسلم ممالک اور غیر مسلم ممالک دونوں میں پڑیگا۔ کیونکہ یہ تو وہ بنیادیں ہیں جس پرا سلام کا محل تعمیر کرنے کے لیے عامل ہونا ضروری ہے۔ اسی لیے قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس آیت کو بطور کلیہ نازل فر مادیا ہے کہ “اچھے مردوں کے لیے اچھی عورتیں ہیں اور برے مرددں کے لیے بری عورتیں ہیں۔۔۔الخ “اگر اس کا خیال نہ رکھا گیا، اول تو انکا نبھنا مشکل ہے۔ اور دونوں میں سے کسی نے جو تقویٰ میں بہتر ہوا، قربانی دیکر اپنی زندگی نبھالی بھی لی تو بچے کنفیوژن کاہمیشہ شکار رہیں گے۔ کہ وہ ان دونوں میں سے کس کا راستہ ختیار کر یں؟ مسلم ملکوں میں تو یہ سہولت ہے کہ “پیر پریشر“ والدین کا کسی حدتک ساتھ دیتاہے کہ وہاں لوگو ں میں اس کی تمیز شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر معاشرے میں موجود ہے اور وہ اچھے اور برے کی پہچان میں ہمیشہ ان کی معاون ہوتی ہے؟ اس لیے کوئی بآسانی برے کو بھلا اور بھلے کو برا نہیں کہہ سکتا؟ غیر مسلم ملکوں میں چو نکہ حاکمیت اعلیٰ عوام کی ہے۔ لہذا اکثریت جس کو درست کہے وہی وہاں قانون بن جاتا ہے؟ آ پ کو اپنی گفتار اور کردار سے بچوں کےسامنے یہ ثابت کرنا ہوگاکہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ ورنہ وہی معاملہ ہوجا ئے گا۔ کہ یہ سب جو کر رہے ہیں تو ہم کیوں نہ کریں؟ اور آپ کی اولاد اس ریلے میں بہہ جا ئے گی جو سب کا چلن ہوگا۔اس لیے کے“ پیر پریشر“ یہاں آپ کےحق میں نہیں ہے آپ کو عام دھارے میں بہنے کے بجائے اس کے مخالف سمت میں خود تیرنا اور نئی نسل کو تیرانہ ہے۔ اس کی اتنی مثالیں ہیں کہ ان صفحات میں پیش نہیں کی جا سکتیں؟ لیکن اگر خوف خدا آپ کے دل میں موجود ہوگا۔تو وہ خود ان کے دل میں منتقل ہو جا ئے گا۔اور بچوں کے دل میں یہ احساس اجاگر کردیگا۔ کہ ہم پر اللہ سبحانہ تعالیٰ نگراں ہے جو دلوں کے حال بھی جانتا ہے۔ اس نے سورہ احزاب33 میں آیت نمبر70 میں پورا اسلام بیان فرمادیا ہے۔ کہ تم اپنے دل میں تقویٰ پیدا کرلو؟اور شیوہ یہ اختیار کرو کہ “اپنے عہدوں کی پاسداری کرو“ باقی کام میں خود کر دونگا ؟ اوراس کی تفصیل اس سے اگلی آیت 71میں بیان فر مادی ہے کہ تمہیں اس منزل فائز۔ جس کو اسلام اصل کامیابی کہتا ہے۔ جبکہ مادی دنیا میں کامیابی کا تصور کچھ اور ہے۔ جو صرف دنیا تک محدود ہے۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ اگر اس راہ پر چلے، جس مقصد کے لیے یہاں بھیجا گیا اور وہاں کے احتساب سے بھی ڈرے تو دنیا تو خود بخود مل جا ئے گی۔ مگر صرف دنیا کے ہورہے تو عقبیٰ اپنے آپ نہیں ملے گا۔ کیونکہ بچہ پہلے سے والدین کو دیکھ کر اس راز سے واقف ہو گا کہ کس کے ساتھ ہم کہاں تک جاسکتے ہیں اور کہاں تک نہیں جا سکتے ہیں؟
اس فرق کو آگے چل کر اگر قائم نہ رکھا گیااور کسی مرحلے پر یہ کہدیا گیا کہ جو سب بچے کر رہے ہیں تم بھی کرسکتے ہو، یا اکثر مائیں کہدیتیں کہ یہاں سب بچے ہی ایسا کر تے ہیں ۔ تویاد رکھیے کہ یہ ایک تحریص آپ کے پورے کیے کرا ئے پر پانی پھیر دینے کے مترادف ہوگی؟ میں ایک دومثالیں دیکر بات کوختم کرتا ہوں، سب سے پہلےتو آپ یہ یاد رکھیں کہ اسلام اس بات کا حکم دیتا ہے کہ“ ہم جہاں رہ رہے ہوں اس ملک کے قانون کی پوری پابندی کریں“ اس لئے کسی ملک کو نقل ِ مکانی کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیں کہ اس کے قوانیں اسلام سے ٹکرا تو نہیں رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اس ملک کا نتخاب نہ کریں، ایسے ملکوں سے اسلام یہ کہہ کر دور رہنے کا اللہ سبحانہ تعالیٰ حکم دیتاہے کہ “اللہ کی زمین تنگ نہیں ہے اور روزی دینے ولا وہی ہےلہذا اس سرزمین سے ہجرت کر جاؤ“ کیونکہ اس ملک میں آپ ایڈجسٹ نہیں ہوسکیں گے۔ جبکہ یورپین ملکوں میں ایسا نہیں ہے۔ وہ اپنے مذاہب پر عامل ہوں یا نہ ہوں وہ دوسروں کے مذاہب کا احترام بھی کرتے ہیں ۔ یہاں جو چیز آپ کو پریشان کرے گی وہ ہے کلچر! سب سے پہلے کھلونوں اور کھیلوں کے انتخاب پر ٹکراؤ پیدا ہوگا۔اگر کپڑے یا پلااسٹک کا بنوا ہوا “ کتا “گھر میں بطور کھلونا لے آئیں گے؟ تو چند دن اس سے بچہ کھیلے گا پھر وہ کہے گا کہ مجھے تو جیتا جاگتا کتا چاہئے ہے، جو کہ میرے پڑوسی کے پاس ہے۔ ذراا ور بڑا ہوگا تو کہے گا کہ جیسا میرے کلاس فیلو کے پاس ہے مجھے تو و یسا ہی چاہیئے ہے۔ جبکہ اسلام میں کتا رکھنا منع نہیں ہے۔ شکار کے لیئے پالنے کی اجازت ہے اور اس کے لیئے قرآن نے رولز اینڈ ریگولیشن دیئے ہوئے ہیں جو کہ اب متروک ہے لہذا زیر ِ بحث لانا بیکار ہے۔ جبکہ چوکیداری کے لیے بھی پالنے کی اجازت ہے۔ لیکن گود میں چھوٹے سے کتے کو اٹھائے پھر نے اورپالنے کی اجازت نہیں ہے۔کیونکہ یہ “اسراف بیجا “میں آتا ہے اور قر آن میں“ اسرافِ بیجا “ میں ہر وہ چیز آتی ہے جس کی آپ کو شدیدضرورت نہ ہو جبکہ سراف بیجا کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔ لہذا یہاں بھی مسلمان گھروں آپ کو کتا نہیں ملے گا؟ جبکہ بچے کھلونے سے اور کتے زدہ کار ٹون اور اس کے بعد جیتے جاگتے کتے تک پہنچتے ہیں۔ یہ وہ پہلی کشمکش ہے جو یہاں آنے کے بعد واسطہ پڑیگا ۔ اس پہ ا گر والدین شکست کھا گئے تو پھر بھول جا ئیے کہ بچوں کے باقی مطالبے آپ کو قبول نہیں کرنے پڑیں گے؟ کیونکہ آپ ایک قانون کی خلاف ورزی کرکے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے تمام قوا نین کی خلاف ورزی کرنے کا دروازہ کھول چکے ہیں۔ پھر آپ کو آگے چل کر لڑکیوں کو چڈی اور کرتی پہنے کی بھی اجازت دینا پڑے گی، دوستی میں لڑکی اور لڑکے کافرق بھی مٹانا پڑیگا۔ اور آگے چلکر بہت کچھ ہوسکتا ہے اللہ سبھانہ تعالیٰ اس سے ہر ایک مسلمان کو محفوظ رکھے؟آمین













