بھارت کے شہر جے پور کی جیل میں پاکستانی قیدی کی شہادت کے واقعہ پر پاکستان نے اظہار تشویش کرتے ہوئے بھارت سے جواب مانگ لیا ہے۔

نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے بھارتی حکام سے رابطہ کر کے قیدی شاکر اللہ کو قتل کیے جانے کی خبروں پر تشویش ظاہر کی اور واقعے کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی حفاظت کو یقینی بنائے جبکہ بھارت میں موجود پاکستانی سیاحوں کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جائے۔

خیال رہے کہ ہندو انتہا پسندوں نے پلوامہ حملے کا بدلہ لینے کےلیے جیل میں قید پاکستانی شہری کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ جاں بحق ہونے والا قیدی شکور اللہ سیالکوٹ کا رہائشی تھا اور جے پور میں 2017ء میں دہشت گردی سے متعلق ایک کیس میں عمر قید کاٹ رہا تھا۔

ذرائع کے مطابق ہندو انتہا پسندوں کے تشدد کے باعث پاکستانی شہری کو سر میں شدید زخم آئے، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شکور اللہ جیل میں جاں بحق ہو گیا۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جے پور جیل حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ بھارت میں سفارتی ذمہ داریاں انجام دینے والے سابق سفیر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ عوام کو کچھ نہیں کہہ سکتے کیوں بھارتی حکومت کا موقف ہی دہشت گردی اور انتہا پسندی پر مبنی ہے۔

سابق سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کو جے پور کی جیل میں قید شکور اللہ کے قتل میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کرنا چاہیے اور اسلام آباد میں موجود بھارتی سفیر کو طلب کر کے واقعے پر شدید احتجاج کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے پلواما میں بھارتی فوجیوں کی بس کوکاربم سے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی اور ساتھ موجود پانچ مزید گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔ دھماکے میں 42 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

بعد ازاں ہندو انتہا پسندوں نے کشمیریوں پر حملے اور املاک کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا تھا جبکہ کشمیری طلبہ و طالبات کو ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے پلوامہ حملے کا الزام پاکستان پر لگائے جانے کے بعد رد عمل دیتے ہوئے بھارت کو پیشکش کی تھی کہ اگر بھارت کے پاس پلواما حملے کے ثبوت ہے تو پیش کرے، ہم کارروائی کریں گے، بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو جواب دینے کا سوچیں گے نہیں بلکہ جواب دیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY