امریکہ کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں پیش رفت متوقع ہے: طالبان

0
692

افغان طالبان نے کہا ہے کہ وہ پیر کے روز قطر میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا پھر سے آغاز کریں گے؛ اور یہ کہ ملاقات ’’مثبت ثابت ہوگی‘‘، حالانکہ حالیہ دِنوں امن عمل کے خلاف رکاوٹوں سے متعلق اور پروپیگنڈہ پر مبنی باتیں سامنے آئی ہیں۔

گزشتہ موسم خزاں کے بعد امریکہ نے باغی گروپ کے ساتھ براہ راست بات چیت کا آغاز کیا، تاکہ افغانستان میں لڑائی کے خاتمے کے لیے سیاسی تصفیے کو فروغ دیا جا سکے۔

گزشتہ ملاقات تقریباً ایک ماہ قبل ہوئی تھی جب اطلاعات کے مطابق دونوں فریق نے ’’اصولی طور پر‘‘ اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ امریکی فوج کے انخلا سے متعلق سمجھوتے کی بنیادی ساخت پر رضامند ہوں گے جس میں طالبان یہ ضمانت دیں کہ امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کے خلاف حملوں کے لیے افغان علاقے کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اُس وقت اِس بات پر بھی اتفاق ہوا تھا کہ دونوں فریق ایک ’ورکنگ گروپ‘ تشکیل دیں گے، تاکہ آئندہ اجلاس سے قبل تفاصیل طے کی جاسکیں اور سفارشات کی تیاری ہوسکے۔

طالبان کے ایک ترجمان نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ ’’انشا اللہ، قطر میں اسلامی امارات (طالبان) اور امریکی نمائندوں کی مذاکراتی ٹیم کے مابین ملاقات ہوگی، جو مثبت ثابت ہوگی‘‘۔

ذبیح اللہ مجاہد نے ذرائع ابلاغ کی اِن رپورٹوں کو مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ قطر میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر میں تعینات نئے سربراہ، عبد الغنی آخوند، جنھیں عام طور پر ’ملا برادر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، داخلی نااتفاقیوں کے باعث امریکیوں کے ساتھ پیر کے اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔

مجاہد نے وضاحت کی کہ ’ملا برادر‘ نے طالبان مذاکرات کاروں کی ٹیم مقرر کرنے اور امریکی نمائندوں کے ساتھ بات چیت کی اجازت دینے کا اپنا کام کیا ہے۔

اُنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ برادر ’’سیاسی امور پر اسلامی امارات (طالبان) کے معاون ہیں اور امریکی ٹیم میں اُن کے درجے کا نمائندہ موجود نہیں ہے، اس لیے اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی‘‘ کہ وہ اس ملاقات میں شریک ہوں۔

طالبان کے ساتھ مفاہمتی بات چیت کے افغان نژاد خصوصی ایلچی، زلمے خلیل زاد امریکی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں کے دوران اُنھوں نے بارہا کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان اور افغان حکومت کے ساتھ امن مکالمہ مذاکرات میں پیش رفت کے حصول کے لیے ’’کلیدی شرائط‘‘ میں شامل ہے۔

طالبان افغان حکومت کے ساتھ مکالمے کے کسی عمل میں شریک ہونے سے انکار کرتے ہیں، جب تک ساری غیر ملکی فوجیں افغانستان سے نہیں چلی جاتیں۔

امن عمل کے لیے حمایت کے حصول کی خاطر خلیل زاد اِن دنوں افغانستان اور علاقائی ملکوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ جمعے کے روز اُنھوں نے ترکی کا دورہ کیا جہاں اُنھوں نے روسی صدارتی ایلچی برائے افغانستان، ضمیر قبولوف سے ملاقات کی، جس میں امن کی کوششوں سے متعلق گفتگو ہوئی

SHARE

LEAVE A REPLY