عمران خان نے بھارت سے غربت کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا، نریندر مودی

0
824

ھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستانی ہم منصب کو انتخابات جیتنے پر مبارکباد دیتے وقت بات چیت میں کی گئی باتیں یاد دلائیں اور کہا کہ ’پٹھان ہونے کے ناطے عمران خان کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے اور آپس میں لڑنے کے بجائے بھارت کے ساتھ مل کر غربت اور ناخواندگی کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

بھارتی ریاست راجستھان کے علاقے ٹونک میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بھارت کے مختلف علاقوں میں کشمیری شہریوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی۔

واضح رہے کہ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب 4 روز قبل سپریم کورٹ نے ریاست کے چیف سیکریٹریز کو ہدایت کی تھی کہ کشمیری شہریوں پر حملوں کو روکا جائے۔

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو اس کا نیا وزیر اعظم مل گیا ہے جسے سب کرکٹر کے طور پر جانتے ہیں، میں نے روایات پر عمل کرتے ہوئے انہیں فون کیا اور مبارک باد دی، میں نے ان سے کہا کہ بھارت اور پاکستان کئی مرتبہ لڑچکے ہیں اور اس سے آپ کے ملک کو کچھ فائدہ نہیں ہوا، کیوں نہ ہم مل کر غربت اور ناخواندگی کا مقابلہ کریں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’پاکستانی وزیر اعظم نے مجھے یقین دہانی کرائی تھی کہ میں ایک پٹھان کا بیٹا ہوں اور سچ بولتا ہوں اور ہمیشہ اپنا الفاظ پر قائم رہوں گا، وقت آگیا ہے کہ دیکھا جائے کہ عمران خان اپنے الفاظ پر قائم رہتے ہیں یا نہیں‘۔

کشمیریوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’لڑائی کشمیر کے لیے ہے کشمیوں کے خلاف نہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اور میں دیکھ رہا ہوں کہ ان دنوں سوشل میڈیا پر انتہا پسندی کی باڑ آئی ہے، لیکن بھائیوں اور بہنوں ہماری لڑائی دہشت گردوں کے خلاف ہے، انسانیت کے دشمنوں کے خلاف ہے، ہماری لڑائی کشمیر کے لیے ہے، کشمیر کے خلاف نہیں ہے، کشمیریوں کے خلاف نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیری بچے دہشت گردوں کی وجہ سے پریشان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’کشمیر کا بچہ بچہ دہشت گردوں سے پریشان ہے، وہ بھی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ہمارا ساتھ دینے کو تیار ہے، ہمیں اس کو رکھنا ہے‘۔

بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہندو یاتری جو کشمیر کے امرناتھ مندر جاتے ہیں ان پر بھی حملے کیے گئے تھے جس پر کشمیر کے مسلمانوں نے انہیں خون دینے کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور لائنوں میں بھی لگے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ کشمیریوں کا تحفظ کرے۔

پلوامہ حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’صرف بھارت ہی نہیں پوری دنیا آپ کے ساتھ کھڑی ہے‘۔

نریندر مودی نے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے پلوامہ حملے کے ماسٹرمائنڈ کو ہلاک کرنے کے دعوے پر ان کی تعریف کی۔

انہوں نے کانگریس کے حکومت پر تنقید پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ چند لوگ بھارت میں رہتے ہوئے پاکستان کی زبان بول رہے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جو پاکستان جائیں گے اور کہیں گے کہ مودی کی حکومت کو ختم کرو، اور یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے میں ناکام ہوئے تھے‘۔

ان کی تقریر کے بعد بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے امید کا اظہار کیا کہ کشمیری طالب علموں پر ہونے والے حملے اب رک جائیں گے۔

ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پلوامہ حملے کو ایک ہفتے زائد ہوچکا ہے لیکن کشمیری عوام کو اب بھی عوامی غصے کا سامنا ہے، نریندر مودی کے اس بارے میں بات کرنے کے بعد کشمیوں پر حملے کرنے والے شاید اب رک جائیں گے‘۔

واضح رہے کہ جمعے کے روز عدالت عظمیٰ نے وفاق اور 10 ریاستوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا تھا۔

یہ ریاست وہی ہیں جہاں کشمیریوں کے خلاف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تشدد سامنے آیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY