جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی بلکہ دونوں طرفین میں مزہد مسائل اور نفرت کی خیلج پیدا کرتی ہے۔ جنگ کو روکنے کے لیے دونوں پڑوسی ممالک کے شاعر، ادیب، گلوکار، فلم سٹار، موسیقار، رقاص، آرٹسٹ اور عام لوگ آگے آئیں اور اپنی اپنی حکومتوں پر اس حماقت کو ختم کرنے کے لیے زور ڈالیں “
میں بار بار اسی اتحآد کا کہہ رہی ہوں پر احباب مجھے کمزور اور بزدل جان رہے ہیں ۔ پر مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ میرے لیئے آنے والے سوسال سامنے کھڑے ہیں میں انہیں بنجر اور ویرانی سے بچانے کے لئے اپنی کمزور آواز اٹھاتی رہونگی ۔ میں اکیلی چلتی رہونگی ۔آخری سانس تک اکیلی چل سکتی ہوں کہ کیونکہ میرا یقین ہے کہ جیسے تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اس لیئے لڑائی و جنگ کے لئے بھی دو فریق چاہیئے ۔ اگر ایک بھی فریق تالی کے لئے ہاتھ نا اٹھائے تو تالی نہیں بجے گی ۔ اگر ایک بھی فریق صاف دلی اور سچائی سے یہ کہہ دے کہ میں جنگ کے خلاف ہوں لڑائی سے ہمارے مسلے حل نہیں ہو سکتے ۔۔۔ تو جنگ کبھی ہو ہی نہیں سکتی ۔
ڈاکٹر نگہت نسیم













