اقوام متحدہ کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ شام کی ایک کروڑ 17 لاکھ کی آبادی یا ملک کی دوتہائی آبادی کو زندہ رہنے کے لیےبین الاقوامی اعانت کی فوری ضرورت ہے۔
انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عالمی ادارے نے خودساختہ منصوبہ تیار کیا ہے جس میں برسلز میں شام پر بین الاقوامی کانفرنس سے قبل غذائی ضروریات کی تفصیل درج ہے۔ یہ اجلاس 12 سے 14 مارچ تک منعقد ہوگا۔
اقوام متحدہ نے اب تک شام کے انسانی ہمدردی کے منصوبے پر ڈالر میں خرچ سے متعلق تفصیل نہیں پیش کی۔
لیکن گزشتہ سال ادارے نے 3.36 ارب ڈالر رقوم دینے کی اپیل کی تھی، جب کہ 2019ء میں پریشان حال شہری آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنا ارزاں معاملہ نہیں ہوگا۔
حکومت شام نے اپنے روسی حامیوں کی مدد سے بڑی سطح کی فوجی اور علاقائی برتری حاصل کی ہے۔ اس کے باوجود، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ لڑائی یا انسانی بحران جس نے شہری آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، ابھی ختم نہیں ہوا۔












