حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے بہاولپور اور کراچی کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی. پاکستان کو بھارت اور اسرائیل کی مشترکہ کاروائی کا پہلے سے علم ہوگیا تھا۔ بھارت کو ہر فورم پر اس طرح کے اقدام نہ کرنے کی تنبیہ کی جاتی رہی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ہر سطح پر امن کی کوششیں کر رہا ہے تاہم کسی نے جارحیت کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کے حوالے سے عالمی برادری کو آگاہ رکھے ہوئے ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور بھارتی حکومت کے درمیان براہ راست کوئی رابطہ نہیں ہوا لیکن بھارت کو بتا دیا گیا تھا کہ حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ پاکستان کو بھارت کے حملے کی انٹیلی جنس اطلاع مل چکی تھی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے اندر غیر ریاستی عناصر کو غیر مسلح کرنے کے لیے مربوط حکمت بنائی جا رہی ہے۔ پاکستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا، نینشل ایکشن پلان پر بھرپورعمل کیا جائے گا اور کسی بھی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔
دوسری جانب بھارتی فضائیہ کے چیف بریندر سنگھ دھانووا کا کہنا ہے بالاکوٹ میں ہدف کو نشانہ بنایا، ہلاکتیں کتنی ہوئیں، کچھ معلوم نہیں، یہ حکومت بتائے گی، ابھی نندن جہاز اڑانے کے لئے فٹ ہے بھی یا نہیں فیصلہ تفصیلی طبی معائنے کے بعد کیا جائے گا۔
بھارتی فضائیہ کے چیف بریندر سنگھ دھانووا 6 روز بعد آئے لیکن میڈیا کے سوالوں کے جواب نہ دے پائے، کئی سوالات پر انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ بالاکوٹ میں کتنی ہلاکتیں ہوئیں، میڈیا کے اس سوال پر بھارتی فضائیہ کے چیف ہڑبڑا گئے اور کہا کہ یہ حکومت بتائے گی۔
ابھی نندن کے ان فٹ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے انہوں نے کہا فیصلہ تفصیلی طبی معائنے کے بعد کیا جائے گا کہ ابھی نندن جہاز اڑانے کے لئے فٹ ہے بھی یا نہیں۔ میڈیا کے تابڑ توڑ سوالوں سے بچنے کے لئے ایئر چیف بریندر سنگھ دھانووا نو مور کوسچن کی گونج میں دم دبا کر بھاگ نکلے۔













