ایتھوپیا میں طیارہ حادثے کی خصوصی تحقیقات کے لیے امریکا نے ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق ایتھوپین ایئر لائن کا طیارہ بوئنگ 737 کینیا جاتے ہوئے گر کر تباہ ہوگیا، متاثرہ طیارے میں 157 افراد سوار تھے جن میں سے 150 کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ امریکا نے چار رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جو مقامی اداروں کے ساتھ مل کر ایتھوپیا طیارے کے حادثے کی تحقیقات کرے گی۔
ایتھوپیا کے دارالحکومت اددیس آبابا کے ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے والا ایتھوپین ایئر لائن کا مسافر بردار طیارہ نامعلوم وجوہات کے باعث ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد اچانک ایتھوپین ٹاؤن بِس ہوفتو میں گر کر تباہ ہوگیا۔
امریکی تحقیقاتی ٹیم جلد افریقی ملک ایتھوپیا جائے گی، اور حادثے کا باریک بینی سے مشاہدہ کرے گی۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
ان کے مطابق طیارے میں اقوام متحدہ کے کارکن بھی تھے جو سفر کے دوران حادثے کا شکار ہوگئے۔
علاوہ ازیں ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابھی احمد نے سماجی احمد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کیا کہ ’حادثے کا شکار ہونے افراد کے اہلخانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے‘۔
اس سے پہلے کی خبر
ایتھوپین ائیر لائن کا عدیس ابابا سے نیروبی جانے والا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا جس میں 157 افراد سوار تھے۔
ایتھوپین وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں طیارے کے حادثے کی تصدیق کی کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایتھوپین ائیر لائن کا طیارہ بوئنگ 737 معمول کی پرواز پر تھا جو گر کر تباہ ہوگیا۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے مسافروں کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق بوئنگ 737 طیارے میں 149 مسافروں سمیت عملے کے 8 ارکان موجود تھے تاہم حادثے کی فوری طور پر وجوہات سامنے نہیں آسکیں۔
ائیرلائن حکام کا کہنا ہے کہ ایدس ابابا سے نیروبی جانے والی پرواز ای ٹی 302 حادثے کا شکار ہوئی، مسافر طیارے کے اڑان بھرنے کے 6 منٹ بعد رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔













