’قطری شہزادے کے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں‘ماہرین قانون

0
1152

معروف قانون دانوں کا کہنا ہے کہ قطری شہزادہ حماد بن جاسم بن جابر الثانی کو سپریم کورٹ میں ’مطلوبہ شواہد‘ پیش کرنے ہوں گے اور پاناما پیپرز کیس میں خود کو عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا ورنہ ان کے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔

معروف وکیل سلمان اکرم راجہ نے ڈان کو بتایا کہ ’پاناما گیٹ کیس میں قطری شہزادے کے کا خظ کوئی قانونی وزن نہیں رکھتا ، انہیں سپریم کورٹ میں مطلوبہ شواہد پیش کرنے ہوں گے اور عدالت کے سامنے پیش بھی ہونا ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ قطری شہزادے کو سوالات کا سامنے کرنے کے لیے بذات خود عدالت میں پیش ہونا ہوگا یا پھر مجوزہ کمیشن کو ان کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے قطر جانا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ قطری شہزادے کے خط کو کس طرح دیکھتی ہے لیکن قانون کی نظر میں یہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔

جانے مانے وکیل اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے بھی قطری شہزادے کے خط کو ’ردی کا ٹکڑا‘ قرار دیا، صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر قطری شہزادے عدالت میں پیش ہوئے تو جرح کے دوران ان پر لرزاں طاری ہوجائے گا، 10 سوالوں کے بعد وہ کانپنے لگیں گے۔

اعتزاز احسن نے موقف اختیار کیا کہ وزیر اعظم نواز شریف مشکل میں پھنس گئے ہیں اور ان کے لیے اس کیس سے بچ نکلنا آسان نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ’نواز شریف کے لیے 8 ارب روپے کی جائیداد کے حوالے سے کیس سے بچنا آسان نہیں ہوگا، نواز شریف پر بھی وہی قانون لاگو ہونا چاہیے جو سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر لاگو کیا گیا تھا‘۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ ’یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف (پیپلز پارٹی کے دو سابق وزرائے اعظم) عدالت میں پیش ہوئے تھے اور اب حسن ، حسین نواز کو بھی پاناما پیپرز کیس میں عدالت عظمیٰ میں پیش ہونا چاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی پیروی کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی نے مشاورت کے لیے رابطہ کیا تو ان کی معاونت ضرور کریں گے۔

اعتزاز احسن نے پاناما کیس سے دستبردار ہونے والے پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان کی بات سے اتفاق کیا کہ میڈیا نے اس معاملے میں مخالفانہ ماحول پیدا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’میڈیا نے حامد خان کا کیس بگاڑا، حامد خان کو نہیں بلکہ شریف برادران کو یہ ثابت کرنا ہے کہ انہوں نے یہ جائیداد قانونی طریقے سے بنائی ہیں‘۔

عدالت میں پیش کیے گئے قطری شہزادے حماد بن جاسم بن جابر الثانی کے تحریری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے والد اور نواز شریف کے والد کے درمیان طویل عرصے سے کاروباری تعلقات تھے، میرے بڑے بھائی شریف فیملی اور ہمارے کاروبار کے منتظم تھے۔’

‘1980 میں نواز شریف کے والد نے قطر کی الثانی فیملی کے رئیل اسٹیٹ بزنس میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش ظاہر کی، میرے خیال میں 12 ملین درہم نواز شریف کے والد نے ہمارے کاروبار میں لگائے، جو انھوں نے دبئی میں اپنے بزنس کو فروخت کرکے حاصل کیے تھے۔’

حماد بن جاسم بن جابر الثانی نے خط میں مزید کہا کہ ‘لندن کے 4 فلیٹس (16، 16اے ، 17 اور 17 اے ایون فیلڈ ہاؤس، پارک لین ، لندن)دو آف شور کمپنیوں کے نام رجسٹرڈ تھے، ان آف شور کمپنیوں کے شیئر سرٹیفکیٹ قطر میں موجود تھے، لندن کے فلیٹس قطر کے رئیل اسٹیٹ بزنس کے منافع سے خریدے گئے اور دونوں خاندانوں کے تعلقات کی بناء پر یہ فلیٹس شریف خاندان کے زیر استعمال تھے جس کا وہ کرایہ دیتے تھے۔’

پاناما گیٹ کیس کی سپریم کورٹ میں آئندہ سماعت 30 نومبر کو ہوگی۔

بشکریہ ڈان

SHARE

LEAVE A REPLY