گھر وہ جنت ہے جہاں معاشرے تکمیل پاتے ہیں…. مگر اج بات گھر کی توہین پہ… ا کر رکی ہے جسکی وجہ گھروں میں ہونے والے ظلم اور خاندانی عورتوں کی رسمیں، مفادات اور سیاست ہیں…. مگر ہمیں اس بھنور سے نکلنا ہے اور…
… معاشرے میں نکاح کو سادہ اور اسان بنانا چاہییے….
پر المیہ یہ ہے کہ بچوں کی پاکیزگی نکاح سے پہلے ہی برباد ہو چکی ہوتی ہے….
اور اسکے بعد… خاندانی سیاست…. اور محکومیت و فرعونیت کے جزبوں نے ہمارے خاندانی نظام کی تباہی….
کا باعثِ ہیں…
اج خاندان اور اسکی اقدار کو بچانے کی ضرورت ہے…..
پر مختلف قوتیں مختلف چیزوں کو مکس کر رہی ہیں…
ہمارے اخلاقی مسائل…. دولت کی یوس… جییز کے بوجھ… نے رشتوں کو تجارت بنا رکھا ہے….
مغرب میں بھی عورتوں مردوں کے کمو بیش ویسے ہی مسائل ہءں جو بھی تعلقات میں ہیں بھلے شادی کر کے یا بنا شادی کے اگر کوئی لالچی اور مفاد پرست ہے اور خود غرض ہے تو وہ عورت یا مرد محکومیت اور اعصاب پر سوار ہونے کو ترجیح دیتا ہے اور اینڈ رزلٹ بریک اپ ہوتا ہے…..
سو اصل مسئلہ رشتے میں خود غری اور دوسرے کے استعمال کی نیت کا ہے جسے درست کرنے کی ضرورت ہے….
غیر زمہ دار مرد یا عورت اپنی کمزوریوں کو اہنی اونچی اواز اور وسائل ہر قبضہ کرنے اور سازشوں کے زریعے چھپانے کی کوشش کرتے ہین تو ان مسائل کو درست رخ دینے کی ضرورت ہے کہ عورت یا مرد اگر ایسے مسایل کی عجہ سے دوسرے کو ازیت دے رہا ہے تو کیا حل کیا جائے ہے….
شادیوں سے پہلے بچے اور بچی کے ساتھ ساتھ دونوں خاندانوں کی اقدار کو دیکھنا چاہییے…
لڑکے لڑکی کے لائف motives یا مقاصد حیات کیا ہین…
عزاب تو یہ ہے کہ شادی کو مقصد حیات سمجھا دیا گیا ہے کہ جسکے بعد زیادہ تر عورت کی زاتی ترجیحات ہونا ناقابل معافی جرم ہیں اور اس سب میں بھی خواتین زیادہ سازشیں کرتی دکھائی دیتی ہیں…
یعنی ایکدوسرے کے خلاف ابگارنا… سازشیں… بھڑکانہ… میں بغیر جہیز لڑکی کیوں لاوں….
معاشی وسائل پر کنٹرول اور دولت کا لالچ، حرص وغیرہ…..
پھر دباو رکھنا کہ لڑکی یا مرد ہاتھ سے نہ نکل جائے یعنی جو بھی تھوڑا طاقت ور ہے وہ دوست ساتھی یا ساتھی بننے کی بجائے خاوند یا بیوی کو کسی ظالم، بے حس اور خود غرض انسان کا خول پہنا کر دوسرے شخص یا خاندان کو دباو میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے….
پھر دوسروں سے تقابل کرنا، طعنہ زنی، دوسرے کے خاندان کی تضحیک، گالی گلوچ، کہیں ہاتھ تک اٹھانا….
اپنی بیوی یا شوہر کو دوسرے کی بیوی یا شوہر سے توابل انتہائی سنگین غلطی اور برائی ہے کہ فلاں کی بیوی، شوہر، ساس یا نند نے یوں کیا، اتنا کمایا، ایسے پریگنینسی میں گھر کے کام کیے، اخری دن تک جھاڑو دیتی رہی،
سب ہریگگننٹ ہوتی ہیں فلاں کی بیوی کو نہیں دیکھا جاب بھی کر رہی ہے، پریگننٹ بھی ہے…. تم کوئی خاص نہیں ہو کہ واحد تم ہی یہ جھیل رہی ہو…..
یہ سب رویے گھر کے لیے تباo کن ہیں……
بدلنا ہے تو انکو بدلیں…. رب کے بنایے اصول نہ غلط ہین نہ نقصان دہ….
البتہ انکے استعمال کون کس غرض اور انداز سے کر رہا ہے…. یہ انکے مفادات و مقاصد…. پہ منحصر ہے….
چھری کا کام کاٹنا ہے…. اب اس سے پھل بھی کاٹا جا سکتا ہے اور انسان کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے اگر ہم نے ہر چیز کا غلط استعمال شروع کر دیا ہے تو ہمیں ان وجوہات کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ
نکاح یا گھر کے انسٹیٹیوشن کو متنازعے بنا کر تباہی کے مزید راستے کھولنے کی…..
اگر اپ شجاع اور بابصیرت تو… مرد ہیں اپنے لیے بیوی نہیں…. اپنے بچوں کی ماں لائیں اپنے بچوں کی جو شجاع ہو، دیندار ہو، تعلیم یافتہ، خوش مزاج، سمجھدار ہو ….
جو سادگی سے نکاح کرے نہ اپ جہیز لیں اور نہ اسے چھ اٹھ لاک کا زیور کپڑوں کی حاجت ہو اپنی قدر بحیثیت انسان کیجیے دوسرے کی بھی اور قدم اٹھایے…. ماں باہ کو راضی کیجیے کہ گھر جہیز سے نہیں تربیت.، پیار طہارت سے بنتے ہیں….
انسان کی قیمت محبت خدا ہے…. اور جو محبت خدا رکھتا ہے وہ معاشرتی مسائل کو بہتر انداز سے ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے…
ہمیں خاندانی نظام کو سادہ اور بہتر کرنے کی ضرورت یے…. جہاں مرد ہو یا عورت کسی کا استعمال اور استحصال یے….
محبت اور اخلاقیات کی ترویج کریں اسکے لیے عملی قدم اٹھائیں…..
صرف مسئلے کومسئلہ نہ کہیں اسکے حل سوچیں جو کہ مثبت ہوں، تعمیری ہوں نہ کہ توہین امیز، متعصب، فقسیم کرنے والے، تقابلی اور جاھلانہ……
گھر کو استحکام دیں جہاں عورت ہو یا نرد دونوں کو سوچنے کی ازادی یو….
کرنے کی ازادی ہو…
ایکدوسرے کے طبعی اختلافات کو وجہ دشمنی نہ بنائیں بلکہ انکو سامنا کریں، قبول کریں اور طعنہ زنی کے بجایے دوسرے کی انفرادیت کو احترام دیں….
وجہ تنازعہ مت بنائیں….
ہمارے زیادہ تر مسائل اخلاقیات کے اور معاشی ہیں جنکے باعث گھروں میں انتشار ہے اور ایک دوسرے پہ حکم چلانے، وابو رکھنے کی وجہ بھی یہی سب ہیں…. سو ان سمیت فرسودہ رسموں رواجوں کو کو الوداع کہیں….اپنی سمیت ارد گرد رہنے والوں کو
انسان سمجھیں…اور ہر انسان منفرد اور بالکل الگ شناخت اور شخصیت ہے اس سے حسد نہ کریں…. بلکہ قبول کریں… تعریف کریں… سراہیں اور احترام دیں… ان صلاحیتوں کومزید پھلنے پھولنے میں مددگار بنیں…. ایکدوسرے کے مددگار، درد مند ساتھ بنیں…. نہ کے….
مفادات اور تجارت کا زریعہ بنیں یا بنائیں…پاکیزگی اعلی اخلاق، اور اعلی فکر کی ترویج کریں اور اپنی زات سے اسکا اظہار بھی کریں….
دکھاوے ریاکاری…. اور عمارت ثابت کرنے سے پرہیز کرنے میں ہی ہماری نجات ہے… ایکدوسرے کو نیچا نہ دکھائیں…. بلکہ ایکدوسرے کی اچھائیوں کو اونچا کر کے ایکدوسرے کے دلوں میں گھر بناییں…. پھر دیکھیں گھر جنت بنتے ہیں یا نہیں….
کوئی دھونس، زبردستی گالی غصہ نہیں…صرف عزت دینا سیکھیں اور عدل و انصاف کیساتھ تواز ہیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کریں اور اسکے ساتھ….. محبت… اور محبت… اور محبت….
ہمارے گھروں کو جنت بناسکتی ہے…..
زرا سوچیں….!!!
فائزہ عباس













