بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی بےحیائی،،،صفدر ھمدانی

0
1158

نریندر مودی کے دور حکومت میں بھارتی مسلمان خواتین کا حجاب پہننا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

مسلم دشمنی اور تنگ نظری کا حالیہ واقعہ بھارتی ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں پیش آیا ہے جہاں بی جے پی کے اتحادی بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک تقریب میں مسلمان خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچ دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں روایتی اور دیسی طریقہ علاج کی وزارت ‘آیوش’ کی جانب سے آیوش ڈاکٹروں کو ملازمت کا  دینے کی تقریب رکھی گئی تھی جس میں وزیراعلیٰ بہار آیوش ڈاکٹروں کو تقرر نامہ دے رہے تھے۔

اس دوران جب ایک مسلمان خاتون نصرت پروین کی باری آئی جنہوں نے چہرے پر نقاب ڈال رکھا تھا اور مکمل برقعہ میں ملبوس تھیں، خاتون کو تقرر نامہ حوالے کرتے ہوئے نتیش کمار نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ یہ کیا ہے اور ان کا نقاب کھینچ دیا۔ اس موقع پر ان کے ساتھ موجود نائب وزیراعلیٰ سمراٹ چوہدری نے انہیں روکنے کی کوشش بھی کی۔

مہذب معاشروں کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہاں ریاستی اختیار عوامی وقار کے تحفظ کا ضامن بنتا ہے، نہ کہ اس کی پامالی کا ذریعہ۔ لیکن جب اقتدار کے ایوانوں سے ایسے مناظر سامنے آئیں جو انسانی وقار، نسوانی حرمت اور آئینی قدروں کو پامال کریں تو سوال صرف ایک فرد یا ایک واقعے تک محدود نہیں رہتا، پورا نظامِ فکر کٹہرے میں آ کھڑا ہوتا ہے۔ بھارت میں ایک وزیراعلیٰ کی جانب سے ایک خاتون کا نقاب زبردستی اتارنے کا واقعہ اسی زمرے میں آتا ہے—یہ محض بدتہذیبی نہیں، اقتدار کی بے لگام ذہنیت کی علامت ہے۔

نقاب، حجاب یا کسی بھی لباس کا انتخاب فرد کا بنیادی حق ہے۔ یہ حق مذہبی آزادی، ذاتی وقار اور آئینی ضمانتوں سے جڑا ہوتا ہے۔ جب ایک منتخب عہدیدار، وہ بھی وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز، اس حق کو سرِعام پامال کرے تو پیغام واضح ہوتا ہے: طاقت قانون سے بالاتر ہے۔ یہ طرزِ عمل خواتین کے خلاف سماجی تعصب کو ریاستی سرپرستی فراہم کرتا ہے اور معاشرے میں عدم تحفظ کو فروغ دیتا ہے۔

یہ واقعہ اس حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمان خواتین، کے ساتھ امتیازی سلوک محض سماجی رویہ نہیں رہا بلکہ بعض اوقات حکومتی سطح پر معمول بنتا جا رہا ہے۔ عورت کے لباس کو سیاست کا میدان بنانا، اس کی شناخت کو تماشہ بنانا اور اسے ’’اصلاح‘‘ کے نام پر ذلیل کرنا دراصل جمہوری اقدار کی نفی ہے۔ اگر واقعی عورت کی آزادی مطلوب ہے تو اس کا آغاز اس کے انتخاب کے احترام سے ہونا چاہیے، نہ کہ زبردستی سے۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدے، جن پر بھارت دستخط کنندہ ہے، مذہبی آزادی اور ذاتی وقار کی واضح ضمانت دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان دستاویزات کی حیثیت محض رسمی رہ گئی ہے؟ یا پھر اقتدار کے نشے میں قانون اور اخلاق دونوں کو پسِ پشت ڈال دینا قابلِ قبول سمجھ لیا گیا ہے؟

اس واقعے پر خاموشی بھی اتنی ہی خطرناک ہے جتنی خود یہ حرکت۔ سول سوسائٹی، عدلیہ اور ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے رویّوں کا سختی سے محاسبہ کریں۔ اگر آج ایک خاتون کا نقاب اتارا گیا ہے تو کل کسی اور کی شناخت، کسی اور کا حق نشانہ بن سکتا ہے۔

ریاست کی طاقت کا اصل امتحان کمزور کے تحفظ میں ہوتا ہے، نہ کہ اس کی تذلیل میں۔ بھارت اگر واقعی خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانا چاہتا ہے تو اسے ایسے واقعات پر محض بیانات نہیں، عملی احتساب دکھانا ہوگا۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب وقار پامال ہوتا ہے تو جمہوریت صرف نام رہ جاتی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY