وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ نواز شریف کے پاس پلی بارگین کا آپشن موجود ہے ،نوازشریف پاکستان میں اور پاکستان کے ڈاکٹروں سے علاج نہیں کرانا چاہتے، نوازشریف کی فیملی اصرارکررہی ہے کہ انھیں علاج کےلیے لندن بھیجا جائے،انھوں نے یہ بات پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انکا مزید کہناتھا کہ وزیراعظم نے نوازشریف کےعلاج سےمتعلق پنجاب حکومت کوہدایات دی ہیں۔

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف نےپاکستان میں اپنی مرضی کا علاج کرانے کی پیشکش مستردکردی ہے،انکا کہنا ہے کہ نوازشریف پاکستان سے علاج ہی نہیں کرانا چاہتے ، اسی لیئے انجیوگرافی سے بھی انکار کیا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا ایک حصہ نواز شریف کی صحت پر سیاست کر رہا ہے ، صحت پر کھیلنے سے احتساب نہیں رُکے گا ۔ کیونکہ پیسا عوام کا ہے ۔نواز شریف لازماً باہر جانا چاہتے ہیں تو پلی بارگین کرائیں ۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نواز شریف کی بیماری میں پیچیدگی لندن کے ڈاکٹروں کی وجہ سے ہوئی پھر بھی شریف خاندان کا اصرار ہے کہ علاج کے لیے لندن بھیجا جائے ۔ شریف خاندان نے جس نظام پر تیس سال حکمرانی کی اُسی کے اسپتالوں پر ہی اعتبار نہیں ۔

انکا کہناہے کہ نواز شریف اگر سیاست سیاست کھیلنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی مرضی ہے تاہم حکومت نے ان کے علاج کےلئے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں ، لندن میں فراری کیمپ کھلا ہوا ہے جو بھی علاج کے لیے جاتا ہے واپس نہیں آتا۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے لاہور میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی صحت اور علاج کے حوالےسےاجلاس کے بعدمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف بدعنوانی کے کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں ۔

انسانیت کے ناطے وزیراعظم نےان کے مکمل علاج کی ہدایت کر رکھی ہے،تاہم نوازشریف اوران کی فیملی انہیں علاج کے لیےلندن لےجاناچاہتی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ نوازشریف کا مسئلہ دل کے ساتھ ساتھ گردے ، شوگر اورہائپرٹینشن کا بھی ہے، ابتدائی ٹیسٹوں کے بعد پتہ چلا کہ انہیں بظاہر کوئی بڑا مسئلہ نہیں،میڈیکل بورڈ نےانہیں انجیو گرافی کا مشورہ دیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔فواد چودھری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان جب 2013 ءمیں اسٹیج پرسے گرے تھےتوانہوں نے شوکت خانم اسپتال میں ہی علاج کو ترجیح دی تھی، نواز شریف نیب سے پلی بار گینگ کرکے باہر چلے جائیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔

SHARE

LEAVE A REPLY