چار جون کی صبح ہو چکی تھی ۔۔ ہفتے کادن تھا ۔۔ منیب ، جیسیکا اور ایمیلیا کینبرا سے چل پڑے تھے ۔۔ واٹس اپ میسج میں آیا تھا کہ ایمیلیا کی وجہ سے رکتے رکاتے دوپہر تک پہنچ جائیںگے اور نجیب اپنی یونیورسٹی کی اسائنمنٹ جمع کرواتے ہی اپنی فرینڈ نیکول کے ساتھ گھر آجائے گا ۔
ناشتہ ہم تینوں کر چکے تھے ۔۔ کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے یہی باتیں کر رہے تھے ۔۔۔ میں سوچ رہی تھی کہ ان سب کے آنے تک آمنہ کے ساتھ مل کر آپریشن کے لئے لے کر جانے والا بیگ تیار کر لیتی ہوں۔
آمنہ جانی ۔۔ آؤ کچھ باتیں کریں ۔۔ مدر ڈاٹر ٹائم ۔۔ لیکن اس بار ہم تمہارے فیورٹ ایکس ایس رسٹورینٹ پر کھانا نہیں کھائیں گے بلکہ نجیب کے کمرے میں چلتے ہیں ۔۔ نجیب کا کمرہ تو بس اب نام ہی کا تھا کہ جب سے وہ نیوٹاؤن شفٹ ہوا تھا اس کے ڈیسک پر میری کتابیں آگئیں تھیں اور اس کی الماری میں میرے کپڑوں نے جگہ بنا لی تھی ۔ میں آمنہ کوبتا رہی تھی کہ آجکل تمہارے پاپا نے اس کمرے کو اب گودام بھی سمجھ لیا ہے ۔۔ بلیوں کے کھانے سے لے کر ہمارے چپس ، بسکٹ اور نوڈلز کے ڈبے بھی یہیں رکھ دیئے ہیں۔ ۔۔۔چلو وہیں باتیں بھی کریں گے اور ساتھ ساتھ آپریشن کے لئے بیگ بھی تیار کر لیتے ہیں ۔۔ ڈاکٹر برلنگ بتا رہے تھے کہ تین دن تو رہنا ہی ہوگا۔
جی امی ۔۔۔ یہ ٹھیک ہے ۔۔ بھائیوںکے آنے سے پہلے پہلے جتنا کام کر لیں اچھا ہے۔۔ پھر تو ایمیلیا ہوگی اور کچھ بھی نہیں۔
ہم دونوں کنگ سنگل بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے ۔
ہم دونوں کے ساتھ چپکے سے ایک خاموشی بھی ساتھ ہی آ گئی تھی ۔۔ جسے درمیان سے ہٹانا میری ہی زمہ داری تھی۔
آمنہ بیٹی میں جانتی ہوں تم بہت اداس ہو ۔۔تمہیں ڈر بھی لگ رہا ہے ۔۔۔ اور بلکل صحیح لگ رہا ہے ۔۔۔آمنہ نےخاموشی سے مجھے دیکھا ۔۔اس کی بڑی بڑی پلکوں والی کالی آنکھوںمیں آنسو تیر رہے تھے ۔
میری بچی ۔۔ میری جان شہزادی ۔۔ ماںصدقے ۔۔ حوصلہ بیٹی ۔۔ میں نے اسے گلے لگا لیا
آمنہ کون ہے ؟ میں نے دلار سے پوچھا
میںمحمد آفتاب کی بیٹی ہوں ۔۔ وہ رندھی ہوئی آواز میں ہنس رہی تھی
اور آپ کون ہیں ؟
میں محمد نسیم احمد اشرفی کی بیٹی ہوں
تو ممو فرق ہے ناں ۔۔۔ آپ میں اور مجھ میں
بس تھوڑا سا ۔۔ کہ تم زیادہ ڈر گئی ہو اور میں تھوڑا سا کم
ہم دونوں ہنس رہے تھے ۔۔۔ یہ یاد دہانی ایک تسلی تھی جو ہم دونوں کی سیکرٹ رہتی تھی ۔

میںمحمد آفتاب کی بیٹی ہوں۔میں محمد نسیم احمد اشرفی کی بیٹی ہوں
میری بیٹی اس دنیا کو بس ایک عالمی ڈرامہ سمجھو ۔۔ شکسپیئر نے کہا تھا نا کہ یہ دنیا ایک سٹیج ہے جہاں ہم سب اپنا اپنا کردار ادا کر کے چلے جاتے ہیں اور پھر بالکل ایسے جیسے ہم نیٹ فلیکس پر سیریز دیکھتے ہیں۔ اربوں روحیں اس عالمی ڈرامے کا حصہ ہیں۔ دنیاوی طور پر ہم ایک دوسرے سے دور دور رہتے ہیں ۔۔۔ کچھ لوگ منافقت کرتے نظر آتے ہیں ۔۔ کچھ لوگ نفرت کا کھیل کھیل رہے ہوتے ہیں تو اس کایہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا صرف منفی لوگوں سے بھری ہوئی ہے ۔ دنیا میں زیادہ تر لوگ ایک دوسرے کی عزت اور محبت کرنے والے ہوتے ہیں کیونکہ ہم سب ایک دوسرے سے روحانی طور پر پیار کرتے ہیں ۔۔۔ جانتی ہو کیوں ۔۔ میرے سوال پر آمنہ نے نہیں میں سر ہلایا ۔۔ میں نے اس کا نرم ہاتھ سہلاتے ہوئے کہا ۔۔بیٹی اس لیئے کہ ہم سب کا رب ایک ہی ہے ۔۔ جب اس نے حضرت آدم کومٹی سے بنایا تھا تو اس میں پھونک ماری تو وہ زندہ ہو گئے ۔۔ تمام روحیں اس کی ایک سانس کاکرشمہ ہی تو ہیں ۔
پھر بیٹی ضروری تو نہیں ہے جولوگ ہمارے ساتھ برا سلوک کریں ہم بھی ان کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کریں ۔۔ سوچو اگر ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ ایسا ہی کریں تو یہ سرکل کون توڑے گا ۔ میں تمہیں سرکل توڑنے والوں میں دیکھنا چاہتی ہوں ۔ میری خواہش ہے کہ تم سب سے مثبت سوچ کے ساتھ ملو ۔ کوئی برا بھی لگے تو وقتی طور پر اس سے الگ ہو جاؤ لیکن ناراض یا جھگڑا کر کے نہیں ۔۔ بہت عزت اور احترام سے رخصت لے لینا ۔ کیونکہ بیٹی ہم انسان ہر لمحہ بدلتے رہتے ہیں ۔۔ اور زیادہ تر لوگ پودوں کی طرح ہرے بھرے ہونے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور کبھی کبھی تو ہماری سوچ سے بھی زیادہ اچھے اور ثمربار ہو جاتے ہیں ۔۔ تو پھر تم کو دکھ ہوگا کہ کیوں ناراض ہوئیں ۔۔ کبھی کبھی برے لوگ ہمیں سکھانے کے لئے بھی آتے ہیں پر ہمارے پرانے جھگڑے ہمیں ان سے کچھ سیکھنے ہی نہیں دیتے ۔۔
بیٹی تم جس سے بھی ملو اسے ایک خوبصورت روح سمجھو ۔۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ برے سے برے انسان میں بھی ایک ایسی خوبی ضرور ہوتی ہے جو اسے اچھا بننے میں مدد کر سکتی ہے ۔ بس تم خوبیاں ڈھونڈنے والوں میں رہنا ۔۔ ان کو اچھا بننے میں ان کی مدد کرنا ۔ جب تم ہر ایک کو ایک خوبصورت روح کے طور پر دیکھو گی تو تم ان کی کامیابی کی خواہش کرو گی تو وہ بھی تمہارے لیے بھلائی کی خواہش کریں گے اور تمہارا دل بے لوث پاکیزہ محبت سے بھرا رہے گا ۔
آج کل تم دیکھ رہی ہو ناں۔۔
ہمارا تعلق اپنے خدا سے زیادہ مضبوط نہیں ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خود میں اور اپنے ارد گرد لوگوں کو خدا سے محبت کا احساس دلائیں اور انہیں خدائی محبت، ایک دوسرے کی دیکھ بھال اور آپس میں مدد کرنے کو رواج دیں ۔۔ اور یہ سب اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک تم خود عمل نہیں کروگی ۔۔۔ یعنی محبت دیں اور محبت حاصل کریں والی بات ہے ۔
جی امی ۔۔۔ آمنہ میری باتیں معمول کی طرحسن رہی تھی ۔۔
آمنہ تمہاری نوکری بہت مشکل ہے میری جاب کی طرح ۔۔۔ تم بچوں کی جسمانی اور نفسیاتی صحت کاخیال رکھتی ہو اور میں بڑوں کو اس تکلیف سے بچانے کی کوشش کرتی ہوں ۔۔ ہم دونوں مسلسل اپنی زندگیوں میں ایک توازن رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔
ہمارا کردار ایسا ہے کہ کبھی ہمیں ماسٹر بن جانا چاہیئے اور کبھی ہمیں بچہ ہو جانا چاہیئے ۔۔
وہ کیسے ممو جان ۔۔ آمنہ نے حیرانگی سے پوچھا
بہت آسان ہے بیٹی ۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا
جب ہم کسی کو صلاح دیتے ہیں تو ہم ماسٹر ہوتے ہیں اس لیئے ہماری زمہ داری ہے کہ ہم اسے بہتر سے بہترین رائے دیں اور جب کوئی ہمیں صلاح دیتا ہے تو ہم کوکسی بچے کی طرح ایسے سننا چاہیئے جیسے پہلی بار سن رہے ہیں ۔۔ یوں جب ہم ماسٹر اور بچے کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو ہم اپنے تخلیقی خیالات کو اعتماد کے ساتھ پیش کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں ۔ اور پھر جب کوئی ہمارے خیالات پر تنقید کرتا ہے تو ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوتی اس لئے کہ ہمیں معلوم ہوتاہے بیٹی کہ مسلسل کامیابی کے لئے تنقید اور اصلاح بہت ضرروی ہے ۔
آمنہ تم میری بیٹی ہو ۔۔
جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم













