لاہور میں منعقدہ خدائے سخن میر انیس کانفرنس۔ روما رضوی

0
1526

غالب ندیمِ دوست سے آتی ہے بوئے دوست ۔۔۔”
ذرا دیکھئے تو غالب نے بھی دوست کی قربت حاصل کرنے کے لئیے دوست کی نسبتوں کا سہارا لیا ہے۔۔
شاید درست بھی ہے کہ دوست تک فوری رسائی نہ بھی ہو مگر اس کی دیرپا یاد اس کے حالات و واقعات اس کی زیارت سے محروم رہنے کے باوجود بھی اس کی قربت سے محروم نہیں رکھتے ۔

گذشتہ ہفتے ایک ایسی ہی تقریب بصورت کانفرنس سلیمان فارسی آڈیٹوریم متصل محمدی مسجد میں منعقد ہوئی کہ جہاں میر انیس کے چاہنے والوں نے جوق در جوق اس محفل میں شرکت کی اور کئی گھنٹے محوِ سماعت رہے ۔
یہ موقع دراصل میر انیس کے ایک سو پچاسویں برسی پر مرثیے گوئی اور تحت خوانی کی معروف و فعال
انجمن بزمِ راحتِ سخن / خیالِ نَو Ideas 9 سماجی تنظیم / عروسِ سخن (تنظیم برائے فروغ مرثیہ) کے زیرِ اہتمام “میر اَنیس کانفرنس” عمل میں آئی ۔۔
یہ آڈیٹوریم اس کے ساتھ موجود لائبریری یہاں کا منتظمین استقبالیہ پر موجود اراکین اور ان کی دیگر علمی سرگرمیاں بذاتِ خود ایک قابلِ ستائش کارنامہ ہے-
اس کانفرنس کے شرکاء ناصرف پاکستان کے مختلف شہروں سے شہر لاہور ایک روز قبل پہنچے بلکہ امریکہ سے ممتاز شاعرہ و کالم نگار محترمہ تسنیم عابدی صاحبہ بھی تشریف لائیں ۔
شہر لاہور کی بیشمار سیاسی ، سماجی ادبی اور دینی شخصیات بھی حاضرین میں موجود تھیں۔
خصوصی شرکت کے لئے موجود مہمانوں نے پابندی وقت سے آڈیٹوریم میں پہنچ کر پروگرام کو آخر وقت تک سنا ۔
مقالہ نگاروں نے انیس کی علمی خدمات اودھی تہذیب کی ترویج اور امام عالی مقام کے اظہار عقیدت کو پر منفرد نکات پیش کئیے گاہے بگاہے کلام انیس سے انتخاب پیش کیا جاتا رہا۔
کانفرنس کا آغاز تلاوت پھر نعت خوانی سے ہوا ۔ جناب محمد علی ظاہر صدر بزم راحت سخن نے مہمانان گرامی کو خوش آمدید کہا ۔۔

پہلا مقالہ جناب عادل مختار صاحب نے پیش کیا جس کا عنوان انیس کی شاعری میں negative capability تھا
جس سے چند سطور پیش خدمت ہیں کہ
یہ اصطلاح مغرب سے مستعار لی گئی پر اسرار اصطلاح ہے. نیگیٹیو کیپبلٹی شدت سے محسوس کرنے کی صلاحیت ہے. دوسروں کے درد اور دکھ کے ساتھ خود کو شریک کرنے کی صلاحیت ہے. یعنی ان کی آنکھوں سے دنیا کو دیکھنے کی منفرد صلاحیت ہے. مایوسی, خوشی کو محسوس کرنے کی صلاحیت ہے. اس صلاحیت کا حامل شاعر خود کو نفی کرتے ہوئے اپنے خیالات اور احساسات کو محض تخلیقِ فکری کے تحت تحریر کرتا ہے میر انیس ایک آفاقی شاعر ہونے کے باوجود اس صلاحیت میں بدرجہ اتم کمال رکھتے ہیں
وہ کرداروں ، فطرت ، حشرات چرند و پرند حتٰ ی کہ اشیاء میں بھی خود نفوذ کر جاتے ہیں ۔

بزم راحتِ سخن کے روح رواں اور جنرل سیکرٹری جناب کاظم ناصری صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں مرثیے کے کچھ بند حاضرین کی خدمت میں ہدیہ کئے جسے سن کے چاروں طرف سے داد و تحسین کا شور بلند رہا ۔

جناب عابد مرتضی جو مولانا فاضل لکھنوی صاحب کے فرزند ہیں انہوں نے اپنے والد کا تعارف پیش کیا ان کی تحریر کا عنوان تھا “انیس کی شاعری مرتضٰی حسین فاضل لکھنوی کی نظر میں.
آپ نے آغاز میں اپنے والد کے علمی اور ادبی کارناموں کا حوالہ دیا اور مرحوم کا مشہور و معروف کارنامہ کلیاتِ کی تالیف و تدوین اور انیس کے ہر مرثیے کا تعارف بیان کرنا بتایا. جو کچھ دہائیوں سے شائع کئے گئے مرثیوں میں شامل نہیں کیا جاتا جس پر انہوں نے عوام الناس کی عدم توجہی پر افسوس کا اظہار کیا ۔
انہوں نے میر انیس کے دور اور اس وقت جنگ آزادی کے مخصوص ماحول کا تذکرہ کیا کہ انیس نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہاں جنگِ آزادی کے بعد یاسیت اور شدید نفسا نفسی کا دور دورہ تھا. اس دور میں انیس کے خاندان نے اس وقت اس درد کو محسوس کیا اور شاعری میں منفرد طرز سخن اپنایا ۔ اس دور میں مرثیے کو محض رونے رلانے اور مصائب و گریہ کا سبب جانا جاتا تھا جبکہ انیس نے مرثیے میں, حریت, خودی اور خوداری جیسے جذبات کو ابھارا اور عوام میں امید کی کرن دکھائی۔۔ وہ عوام جو تیر و تلوار سپاہ، گھوڑے سے سہمے ہوئے تھے. انہیں جینے کا سلیقہ سکھایا.
آج بھی انیس کے مرثیہ عجب جوش کا سبب بنتے ہیں
اور اگر یوں کہا جائے کہ انیس ہر دور کے شاعر ہیں. تو بے جا نہ ہوگا.

جناب جوہر عباس کی گفتگو کا عنوان تھا
“انیس کی شاعری میں ایہام کی جلوہ آفرینی” ۔۔ آپ کا کہنا تھا کہ ایہام عربی زبان کا لفظ ہے. جس کے معنی ہیں وہم میں ڈالنا. یہ ثنائے معنوی کی ایک ایسی قسم ہے یعنی ایسی بات یا کلام میں ایسا لفظ برتنا جس کے دو صفات ہوں یعنی جس میں ماضیِ قریب یا ماضی بعید کو بیان کیا گیا ہو.
سننے والا ظاہری معنی پر غور کرتا ہو اور معنی کئی رنگ کے نکل آئیں ۔۔
جیسے انیس نے کہا

گلدستۂ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں
اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں ۔۔
یہاں رنگ محض پھولوں کا رنگ نہیں بلکہ کئی اشکال سے مراد ہے ۔

محترم استاد رضا علی خان صاحب نے کلامِ انیس سے انتخاب لحن سے پیش کیا
استاد صاحب کا کہنا تھا کہ فنِ گائیکی میں ان کی یہ چھٹی پشت ہے اور کلامِ انیس ، شاعری میں وہ محبوب کلام رہا ہے جسے ان کے آباء و اجداد نے بھی طرح طرح کی بندشوں کے ساتھ ترتیب دیا اور برسہا برس محافل میں پڑھا..

پوچھے کوئی پتہ تو یہ کہہ دیجیو انیس
ہے وادئ السلام میں بستر فقیر کا۔

دوسرا سلام حاضرین کی فرمائش پر

سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو
ہم آسمان سے لائے ہیں ان زمینوں کو
پڑھیں درود نہ کیوں دیکھ کر حسینوں کو
خیال صنعت صانع ہے پاک بینوں کو
لحدمیں سوئےہیں چھوڑا ہے شہ نشینوں کو
قضا کہاں سے کہاں لے گئی مکینوں کو

استاد رضا علی خان صاحب کی آواز میں کلام انیس کی گونج نے پورے مجمع پر ایک سحر طاری کردیا۔۔

مقررین میں شامل علامہ ارتضٰی عباس نقوی جنہوں کلیات انیس چار جلدوں میں اسی برس مرتب کیا ہے اور انیس کے مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کلام کو بتحقیق مجموعی شائع کیا ہے ۔
آپ نے سامعین اور مقررین میں جوانوں کی بیشتر تعداد کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ آج اس وقت تین نسلیں مل کر میر انیس کو خراج تحسین پیش کررہی ہیں۔
آپکا کہنا تھا کہ انیس تہذیب کے سب سے بڑے شاعر ہیں اگر فطرت ، جمالیات ، اور حفظِ مراتب کو سمجھنا ہو تو کلامِ انیس کی تلاوت کی جائے اور جس جوان کے ذہن میں کلامِ انیس حفظ ہو اسکی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہوسکے گی ۔کربلا اگر برصغیر میں رائج تہذیب کے پیرائے میں نہ لکھی جاتی تو یہاں بسنے والوں کے دلوں میں کس طرح آباد کی جاسکتی تھی ۔انیس کی شاعری کو اگر اردو ادب سے نکال دیا جائے تو اردو ادب تہی داماں رہ جائے گا ۔
یعنی بلامبالغہ انیس وہ مرثیہ گو شاعر ہیں جن کو ہر عہد میں یاد رکھا جائے گا ۔۔

محترمہ تسنیم عابدی صاحبہ نے حاضرین اور منتظمین میں موجود نوجوانوں کو یہ کہہ کر بہت حوصلہ افزائی کی کہ میں آج کے نوجوانوں سے بہت پر امید ہوں اور ان کی ترقی و کامیابی پر یقین رکھتی ہوں
انہوں نے انیس کی شاعری میں گنگا جمنی تہذیب کے مظہر پر گفتگو کی ان کا کہنا تھا کہ انسان خواہ دنیا کے کسی خاص خطے میں بستا ہو اور وہ خواہ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہتے ہوئے شاعری یا نثر تحریر کرے اس کی تحریر میں اسکی اپنی ثقافت ، اپنی زبان ، رسم و رواج اور عقائد کا غلبہ فطری بات ہے ۔انیس مؤرخ نہیں شاعر تھے انہوں نے عرب تہذیب کو اودھ کے رنگ میں پیش کیا۔ تہذیب اور مذہب کو متصادم نہیں بلکہ متوازی ہونا چاہیئے ۔ ہر زبان کا لکھنے والا جانتا ہے کہ اس کے مخاطبین اسی کے ہم تہذیب اور ہم زبان ہیں انیس کا مرثیہ ایک ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے انیس کے کلام میں منظر نگاری کی تعریف کی جاتی ہے ساتھ ہی کیفیت نگاری کی تعریف نہ کی جائے تو بات مکمل نہیں ہوتی۔۔
انیس کا کلام اور واقعاتِ آلِ رسول کا بیان پڑھنے اور سننے والوں کی بہترین تربیت کرتے ہیں ۔۔

جناب ہلال نقوی نے مختصر مگر انتہائی جامع اور موثر گفتگو کی
ان کا عنوان تھا کہ “کیا انیس کے مرثیئے آج بھی ہمارے ہمسفر ہیں”
۔
انہوں نے مرثیے کو زندہ ادب کا خطاب دیا آپ نے کہا کہ مرثیہ ایسا زندہ ادب ہے کہ وہ جس دور میں بھی لکھا گیا ہو وہ ہر دور کے سیاسی و سماجی حالات سے الحاق کرلیتا ہے ۔
عوام الناس مرثیے کو محض رونے رلانے یا گریہ کا سبب سمجھتے ہیں اس دور میں بھی مرثیہ اپنے مرکزی کردار کی طرح تنہا اور مظلوم ہے جبکہ موجودہ دور کے منظر نامے میں مرثیہ ، عصری حالات سے رشتہ مزید مضبوط کرتا نظر آتا ہے۔
موجودہ دور میں زندگی کے جس قدر زاوئیے ہیں اسی قدر تعصبات چہرے بدل بدل کر سامنے آتے جا رہے ہیں ۔

آج کے دور کے تعصبات میں انیس اور مرثیہ دونوں ہی کو نافہمیوں کا سامنا ہے ۔
انیس کے مرثیے محض ثواب دارین کے لئے نہیں ہیں بلکہ ان میں جو ادبی ثواب اور انسانیت کے لئے فکری خیر و برکت کی قدریں پوشیدہ ہیں ان کی تفہیم بھی انسانی بصیرت کے لئے ایمان کا درجہ رکھتی ہے ۔
ایسی اصناف سخن کو محدود چوکھوٹوں سے نکالنا ضروری ہوگیا ہے ۔
کیا ایسے لوگوں کے مرثیے جنہوں نے انسانیت کو حیاتِ نو عطا کی مردہ افراد کے مرثیے ہیں ؟ جبکہ یہی وہ سربریدہ افراد ہیں جنہوں نے خون کا دریا عبور کرتے ہوئے زندگی کی قندلیں روشن کیں اور یہی لوگ ہر عہد کی تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے۔

انیس وہ پہلے تخلیق کار و مرثیہ نگار ہیں جنہوں نے کرداروں کو انکی زندگی کے ساتھ پیش کیا انہی کرداروں میں زندگی کی نوید و آگہی جھلکتی و چھلکتی ہے۔
محفل کے اختتام پر صدارتی خطبے میں جناب اسد اریب نے اہلِ لاہور کو مبارکباد دی کہ یہاں اردو سے گہرا لگاؤ اور اپنی زبان سے پُرخلوص عقیدت و محبت نظر آرہی ہے۔
زبان تہذیب کی زندگی ہے ۔ تہذیب کو انسان زندہ رکھتے ہیں اور میر انیس کو زندہ رکھنے کے لئے لازم ہے کہ اردو زبان سے محبت کی جائے ۔ ہم مرثیے کے طالبعلم ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ جب تک حسین علیہ السلام کا نام زندہ ہے نامِ انیس زندہ رہے گا ..

حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جناب باقر زیدی نے کہا کہ
یہاان موجود ہر فرد یعنی ہم انیس کے چاہنے والے ہیں اور اردو زبان ہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے۔۔۔

گو کہ اس کامیاب کانفرنس کو گزرے دوسرا ہفتہ ہے مگر اس کا سحر برسوں طاری رہے گا انیس کا اپنے بارے میں کہا یہ دعائیہ کلمہ یقیناً مقبولِ بارگاہِ ایزدی ہوگیا ہے ۔۔

جب تک یہ چمک مہر کے پرتو سے نہ جائے
اقلیم سخن میرے قلم رو سے نہ جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY