عجوبہ واقعات شاید وطن عزیز پاکستان کی قمست میں لکھ دیئے گئے ہیں اور اس سے کوئی شعبہ محفوظ نہیں۔ سرکار کے اداروں میں ایسا ایسا افلاطون اور بزرج مہر بیٹھا ہوا ہے کہ اصل افلاطون پر جعلی ہونے کا شک ہونے لگتا ہے
لیجئے تازہ ترین فساد کشمالہ طارق نے مچا دیا ہے اور خود ہی سوشل میڈیا کے ریڈار پر نشانہ بنی ہوئی ہیں
خواتین کو ہراساں کرنے پاکستان تک محدود نہیں یہ ایک آفاقی مسلہ ہے لیکن شاید ہی کسی ملک میں کسی خاتون کو گڈ مارننگ کہنا یا لکھنا ہراساں کرنے کا جرم ہو
خبر کچھ اس طرح ہے
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ خواتین کو گڈ مارننگ پیغام بھیجنا بھی ہراسمنٹ ہے، ہراسگی سے متعلق قوانین کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، مقام کار، پروقار سلوگن کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
کشمالہ طارق کا کہنا تھا ہراسگی کے خلاف انکوائری دو ماہ میں مکمل کر لی جاتی ہے، ہر ادارے میں انسداد ہراسمنٹ کمیٹی ہونی چاہیے، ہراسیت صرف جنسی طور پر ہی کرنا نہیں ہوتا بلکہ خواتین کو گھورنا، چھونا، موبائل فون اور سوشل میڈیا اپلیکیشن پر قابل اعتراض پیغامات، کالز اور ہر وہ کام جس سے کسی کا کام حر ج ہو اس زمرے میں آتا ہے۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں ویمن ڈے کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے انکے خیالات سے اتفاق نہیں اور نہ ہی میرے اختلاف سے کوئی فرق پڑتا ہے لیکن میرے نزدیک انہوں نے سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک دیا ہے۔ انہوں نے خواتین کا لفظ کہہ کر ماں بہن بیٹی بہو کی تخصیص ہی ختم کر دی ہے۔ بھئی کشمالہ بی بی کیا کوئی اپنی بیوی اپنی بیٹی کو سوشل میڈیا پر چائے کی دعوت نہیں دے سکتا یا پھر گڈ مارننگ نہیں کہہ سکتا۔ ہراساں کرنے والے لوگوں کا تدارک بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے۔آپ جانتی ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں جعلی اکاونٹ ہیں۔ کوئی بھی آسانی سے تنگ کرنے والے کو بلاک کر سکتا ہے متعلقہ سوشل میڈیا سے اسکی شکایت کر سکتا ہے۔
بات کشمالہ بی بی کی غلط نہیں لیکن سوچ کا دھارا غلط ہے اور جلد بازی کی سوچ ہے۔ اگر سوچ سمجھ کر یہ بیان دیا جاتا تو اس کا تاثر مثبت ہوتا
ویسے جو خواتین مردوں کو ہراساں کرتی ہیں انکے بارے میں کیا خیال ہے؟
ویسے گڈ مارننگ کشمالہ اور کیا چائے کا موڈ ہے؟
صفدر ھمدانی













