اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ

0
629

یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ افغان طالبان کے سربراہ نے اپنے گروپ کے افراد کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے سے احتراز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تین طالبان عہدے داروں نے اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس ہدایت کا مقصد عسکری گروپ پر مالی بوجھ کم کرنا ہے کیونکہ عموماً طالبان عہدے دار اپنی دوسری یا تیسری شادی کے لیے اپنے گروپ سے مالی امداد لیتے ہیں۔

طالبان چیف مولوی ہیبت اللہ اخوندزادہ کی طرف سے 9 جنوری کو جاری ہونے والے ایک تحریری پیغام میں کہا گیا ہے کہ ” ہم اسلامی امارات کے عہدے داروں کو اسلامی شریعت کی روشنی میں ہم ہدایت کرتے ہیں اگر ضرورت نہ ہو تو دوسری، تیسری اور چوتھی شادی سےاجتناب کیا جائے۔”

دو طالبان عہدے داروں نے طالبان عہدے داروں کے درمیان بڑے پیمانے پر تقسیم کیے جانے والے پشتو زبان میں تحریر کردہ اس بیان کو ، وائس آف امریکہ کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

طالبان عہدے داروں کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ یہ بیان اپنے ماتحتوں میں تقسیم کریں۔

وائس آف امریکہ کے ایک ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ ہدایت نامہ ان بہت سی شکائتوں کے بعد جاری کیا گیا ہے کہ کچھ طالبان عہدے داروں نے اپنے گروپ سے دلہن کی قیمت ادا کرنے کے لیے مالی مدد طلب کی تھی۔

افغانستان کے بعض حصوں میں شادی کے لیے لڑکی والوں کو تقریباً 20 لاکھ افغانی یعنی 26 ہزار امریکی ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان عہدے دار اپنے عسکری گروپ سے عموماً شادی کے لیے مالی مدد طلب کرتے ہیں۔

ذرائع نے وائس آف امریکہ کو یہ بھی بتایا کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے طالبان عہدے دار اپنی بیویوں کو الگ الگ گھروں میں رکھتے ہیں اور ان کے اخراجات کے لیے رقم بھی اپنی تنظیم سے مانگتے ہیں۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت حالیہ عرصے میں افغان میڈیا پر شائع ہونے والی بعض طالبان لیڈروں کی شادیوں پر بڑے پیمانے پر اسراف کی خبروں پر فکر مند ہیں، جن سے گروپ کی بدنامی ہوئی۔

ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ بہت سے طالبان عہدے داروں کے پاس زیادہ مالی وسائل نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے سے ان پر مالی بوجھ پڑتا ہے اور ان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

افغان چیف کے پیغام میں آفیشلز سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک سے زیادہ شادی کی اجازت اس صورت میں دی جا سکتی ہے اگر وہ اپنے خرچ پر کی جائے یا اگر وہ اولاد نرینہ کے لئے، یا بہت زیادہ خرچ کئے بغیر یا کسی بیوہ سے کی جائے۔ تاہم اگر وہ اپنے خرچ پر بھی شادی کریں تو بھی انہیں لازمی طور پر اپنی مالی حیثیت کے بارے میں قیادت کو ثبوت فراہم کرنے ہوں گے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے جب اس پیغام کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا اور کہا کہ وہ اس موضوع پر معلومات اکٹھی کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے پیغام کے وجود سے انکار نہیں کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY