’طالبان کو افغان معاشرے میں ضم کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا‘

0
791

امریکی ایوانِ زیریں (کانگریس) میں پیش کی گئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ طالبان جنگجوؤں اور ان کے خاندان کو افغان معاشرے میں ضم کرنے میں ناکامی سے امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اسپیشل انسپکٹر جنرل برائے افغانستان بحالی (ایس آئی جی اے آر) کی سالانہ رپورٹ میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن سمجھوتہ ہونے کی صورت میں 3 خطرات کی جانب نشاندہی کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو افغان معاشرے میں ضم کرنے میں ناکامی، قانون نافذ کرنے والے شہری اداروں کی بہتری میں ناکامی، غیر ملکی امداد کی تسلسل پر موثر نگرانی کو یقینی بنانے میں ناکامی کے باعث کس بھی متوقع امن معاہدے کا استحکام کمزور ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا-طالبان مذاکرات میں ‘بڑی کامیابی’ کا دعویٰ

خیال رہے کہ 2014 سے ایس آئی جی اے آر افغانستان میں امریکی سرمایہ کاری کو لاحق خطرات مثلاً عدم تحفظ،بدعنوانی اور غیر قانونی منشیات کی تجارت پر ہر نو تشکیل شدہ کانگریس کو شدید خطرات کی فہرست فراہم کرتا ہے۔

2019 میں پیش کی گئی اس رپورٹ میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن معاہدے ہونے کی صورت میں متوقع طور پر پیدا ہونے والے خطرات کے حوالے سے بتایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ طالبان اور امریکا کے مابین مذاکراتی عمل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY