موجودہ عمرانی حکومت میں اگر ارسطو اور افلاطون صفت لوگوں کا مقابلہ کروایا جائے تو پہلی تین پوزیشن کے لیئے انتخاب مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جائے۔ کیسا کیسا دماغ کیسے کیسے منصب پر ہے کہ منصب شرمائے
عمران کی حکومت میں اکثریت جنرل مشرف کی حکومت کے لوگوں کی ہے اور یہ صرف لوگ ہی نہیں بلکہ مشرف کی ذہنیت بھی موجود ہے۔ آپکو یاد ہو گا کہ مشرف نے
بھی ایک مرتبہ یہ بیان دیا تھا کہ اگر روٹی مہنگی ہے اور نہیں ملتی تو ڈبل روٹی کھایئے۔ اب باقیات مشرف میں سے ایک کے پی کے کی صوبائی اسمبلی کے اسپیکر مشتاق غنی نے عجب بوالعجبی کا بیان دیا ہے
اول تو موصوف مشتاق کیا اشتیاق بھی نہین اپنی اہلیت کے حوالے سے اور دوسرے غنی تو ہر گز نہیں کہ جس بخیلی کا بیان دیا ہے اس نے لفظ غنی کو شرمایا ہے
موصوف کے حوالے سے خبر آپ خود ملاحظہ فرما لیجئے
اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کا کہنا ہے کہ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے اس لیے عوام دو کے بجائے ایک روٹی کھا کر گزارا کریں۔
پاکستان اس وقت مشکل ترین معاشی حالات سے گزر رہا ہے اور اس کا اعتراف وزیراعظم عمران خان اور وزیر خزانہ اسد عمر بارہا اپنے بیانات میں بھی کر چکے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ان حالات کا ذمہ دار مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو قرار دیتی ہے جب کہ اپوزیشن جماعتیں ملک کی موجودہ معاشی صورت حال کا ذمہ دار تحریک انصاف کو ٹھہراتی ہے۔
خیبر یونین آف جرنلسٹ کے پروگرام میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر کے پی اسمبلی مشتاق غنی کا کہنا تھا کہ ملک مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے اور قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے اس لیے عوام دو کے بجائے ایک روٹی کھا کر گزارا کریں، آگے وقت آئے گا جب عوام کو ڈھائی روٹی کھانے کو ملے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ اکبر۔ اب اس بیان کے بعد عمران کی بجائے فلسفہ و حکمت کا بونل انعام ان بخیل صفت غنی کو ملنا چاہیئے
جہاں ایوان صدر میں مشاعرے پر پینتیس لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہوں، جہاں پہلی حکومتوں کی طرح مہنگے ظہرانے اور عشایئے ہو رہے ہوں وہاں عوام کو ایک روٹی کھانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے
ان سمیت حکمران خود کیوں نہیں اسکا آغاز کرتے
تبدیلی آ نہیں رہی واقعی آ چکی ہے
صفدر ھمدانی













