پاکستان کا آئی ایم ایف قرض رکوانے کیلئے امریکا میں بھارتی لابی سرگرم

0
711

رواں ہفتے وزیر خزانہ اسد عمر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) سمیت عالمی بینک گروپ کے موسم بہار کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکا پہنچیں گے جہاں وہ عالمی مالیاتی ادارے کے بیل آؤٹ پیکج پر خصوصی گفتگو کریں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسد عمر نے جمعہ کو پریس بریفنگ کے دوران بیان میں کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ امریکا سے مذاکرات سودمند رہیں گے اور اس ماہ کے آخر تک پاکستان آئی ایم یاف کے بیل آؤٹ پیکج پر دستخط کر دے گا۔

اسد عمر 8اپریل کو شروع ہونے والے موسم بہار کے اجلاس کے آغاز کے ایک دن بعد منگل کو امریکا پہنچیں گے جہاں یہ اجلاس 8سے 14 اپریل تک منعقد ہوں گے۔

آئی ایم ایف مشن ممکنہ طور پر رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ پیکج کو حتمی شکل دے سکے۔

تاہم پاکستان کو ممکنہ طور پر آئی ایم ایف سے ملنے والی امداد کو روکنے کے لیے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں بھارتی لابی نے پاکستان مخالف مہم شروع کردی ہے۔

جمعہ کو امریکی کانگریس کے تین اراکین نے ٹیڈ ایس یوہو، ایمی بیرا اور جیورج ہولڈنگ نے امریکی سیکریٹریز آف اسٹیٹ اور ٹریژری کو خط لکھ کر ان سے کہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کو پاکستان سے معاہدہ کرنے سے روکیں۔

کانگریس کے اراکین نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف کا قرض پاک چین اقتصادی راہداری کے لیے چین سے لیے گئے قرض کو چکانے کے لیے استعمال کرے گا، ان میں سے دو اراکین بیرا اور ہولڈنگ کانگریس میں بھارتی امور کو دیکھتے ہیں۔

پاکستان نے گزشتہ سال اکتوبر میں آئی ایم ایف سے باقاعدہ قرض کی درخواست کی تھی اور اس کے بعد سے اب تک پاکستان اور آئی ایم ایف کے سینئر حکام کے درمیان کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں تاکہ قرض کو حتمی شکل دی جا سکے۔

بڑھتے ہوا خسارہ، کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر، کم برآمدات، گرتے ہوا ٹیکس ریونیو، کمزور کرنسی اور غیرملکی قرض کی ادائیگی کے دباؤ کے سبب پاکستان کے معاشی حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں جس کے سبب پاکستان کو ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف پیکج کے لیے رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔

اب تک معاشی بحران سے نکلنے کے لیے کیے گئے تمام تر اقدامات ناکام ثابت ہوئے ہیں اور سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات سے قرض کے باوجود روپے کی قدر مستقل کم ہوتی جا رہی ہے جس کے سبب پاکستان مطلوبہ نتائج کے حصول میں ناکام رہا اور اسے آئی ایم ایف پیکج کے لیے رجوع کرنا پڑا۔

SHARE

LEAVE A REPLY