مردہ خاتون کےرحم کی پیوند کاری سےبچے کی پیدائش۔ڈاکٹر نگہت نسیم

0
40

دو روز قبل یہ خبر سُنی بھی پڑھی بھی اور دیکھی بھی اور مسلسل سوچتی رہی کہ اس پر لکھوں یا نہ لکھوں لیکن جستجو والی فکر نے اپنے حصے کا چراغ جلانے کو کہا

ابھی چند روز پہلے چین کی ایک ڈاکٹر کے خبر آئی تھی کہ
ایک چینی سائنس دان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جڑواں بچیوں کے ڈی این اے میں تبدیلی کی ہے۔

پروفیسر ہے جیانکوئی کا کہنا ہے کہ چند ہفتے پہلے پیدا ہونے والی جڑواں بچیوں کے ڈی این اے میں ایسی تبدیلیاں کی گئی تھیں کہ ایچ آئی وی کا انفیکشن لاحق نہ ہو سکے

ابھی اس پر تبادلہ خیال کے لیئے سوچ ہی رہی تھی اب یہ خبر آ گئی ہے کہ برازیل میں رحم کے بغیر پیداہونے والی 32 سالہ خاتون کو دو سال قبل دس گھنٹے طویل آپریشن کے بعد ایک آنجہانی خاتون کے عطیہ کردہ رحم کی پیوند کاری کی گئی تھی، جس کےبعد خاتون کے ہاں صحت مند بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔

مردہ خاتون کےرحم کی پیوند کاری سے صحت مند بچے کی پیدائش طبی سائنس کی تاریخ میں پہلا کامیاب تجربہ ہے، اس سے قبل ایسے 10 تجربات کیے گئے تھے لیکن حمل ٹھہر نہیں پایا تھا۔اب اس پیوندکاری کے بعد مذکورہ بالا خاتون کے ہاں ایک صحت مند بچی کی ولادت ہوئی ہے۔

ان دونوں خبروں کا براہ راست تعلق ہے سائینس سے طب سے تحقیق سے اور میں خود ڈاکٹر ہونے کے ناطے یہ سوچ رہی ہوں کہ سائینسی تجربات اور تحقیق کا بلاشبہ نوع انسانی کو فائدہ پہنچتا ہے لیکن سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ انسان کو کس حد تک فطرت کے ساتھ دست درازی کی اجازت ہے۔ میں اس معاملے کو دین مذہب سے منسلک نہیں کر رہی لیکن طب اور سائینس میں انسانی اور پیشہ وارانہ اخلاقی حدود کے تعین کی بات کر رہی ہوں
کیا اس سلسلے میں آپ اپنے خیالات کے اظہار سے میری مدد کریں گے؟

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY