حرارت نے سنو ایمان کی موسم بدل ڈالے
لہو پھر بھی سلگتا ہے مسلماں کا۔
میرے مولا! میرے آقا ۔۔۔۔
لہو بہتا ھے مسلم کا
ٹھہٹھرتی سرد راہوں میں
سلگتے مرغزاروں میں
لرزتے سرد ہاتھوں میں
لرزتے خون آلودہ لبوں سے
دعائیں منجمد سی ھیں
کفن اوڑھے ہوئےبرفاب جسموں کو
کوئی ایسا مسیحا دے
جو ضامن ھوتیری روشن دلیلوں کا
مقدسہ بانو













