لاکھ چاہوں بھی تو قابو میں نہ آنا دل کا
پھر بھی دیتا ہے سکوں تم سے لگانا دل کا
ایسا نقصان کہ ہو نفع کی جس میں لذت
کتنا دیتا ہے مزہ ہاتھ سے جانا دل کا
ایک لمحے کے لٸے آگٸ دل کی شامت
کوٸ دیکھے تو ذرا، پل میں یہ آنا دل کا
اس کی ہر بات کے انکار میں ہے لطف خفی
اور وہ خود ہی کبھی مان بھی جانا دل کا
شہر برباد تو ہوتے ہیں پر اتنا زریاب
ہو نہ ہو گذرا ہے اس پہ بھی زمانہ دل کا
ہاجرہ نور زریاب آکولہ مہاراشٹر انڈیا













