شہر برباد تو ہوتے ہیں پر اتنا زریاب

0
1131

لاکھ چاہوں بھی تو قابو میں نہ آنا دل کا
پھر بھی دیتا ہے سکوں تم سے لگانا دل کا

ایسا نقصان کہ ہو نفع کی جس میں لذت
کتنا دیتا ہے مزہ ہاتھ سے جانا دل کا

ایک لمحے کے لٸے آگٸ دل کی شامت
کوٸ دیکھے تو ذرا، پل میں یہ آنا دل کا

اس کی ہر بات کے انکار میں ہے لطف خفی
اور وہ خود ہی کبھی مان بھی جانا دل کا

شہر برباد تو ہوتے ہیں پر اتنا زریاب
ہو نہ ہو گذرا ہے اس پہ بھی زمانہ دل کا

ہاجرہ نور زریاب آکولہ مہاراشٹر انڈیا

SHARE

LEAVE A REPLY