ہم سے اکثر لوگ ہمیشہ سے چا ہتے رہے ہیں کہ ہم ان کا دل رکھنے لیےاس مفروضہ پر کی طرح مہر تصدیق ثبت کردیں کہ اب پاکستان کے اچھے دن آ نے والے ہیں؟ جیسے کہ ہم کوئی روشن ضمیر ہوں؟ مگر ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کےآ ئین کو پڑھ کر اسے مد ِ نظر رکھتے ہوئے اسی ترازو میں تول کر کہتے ہیں؟ جو ہر مسلمان کےگھر کی الماری میں یا طاق میں رکھا ہوا ملتا ہے۔ اگر وہ ا سے معنوں کے ساتھ پڑھنا شروع کردیں تو وہ بھی سمجھنے لگیں گے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا دستور کیا ہے۔ ا گراس کا عملی نمونہ دیکھنا چاہیں تو حضور (ص) کی سیرت ِ مبارکہ پڑھ لیں ۔ پھر کسی اور سےا نہیں کوئی مسئلہ پوچھنے ضرورت نہیں پڑے گی؟ اور ہر کلمہ گو کی زندگی خوشگوار اور ہر اسلامی ملک بھی مالا مال ہوجا ئے گا۔ گو کہ وہ مالدار تو ابھی بھی ہیں۔ مگر اسی طرح جس طرح کہ وہ تمام گروہ جودولت کو خدا مانتے ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام پر عمل کرتے ہیں؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِن دونوں گروہوں میں فرق کیاہے؟ فرق یہ ہے کہ ایک اللہ کی بات مانتا ہے؟ دوسرے نہیں مانتے ؟ جبکہ ایک تیسرا گروہ بھی موجود ہے جو خود ساختہ ہے اور سلام کی کوکھ سے ہی پیدا ہوا ہےوہ کہتا ہے کہ “ہمیں اجازت ہے کہ ہم وہ مانیں جو ہمیں پسند ہے اور وہ نہ مانیں جو ہمارا جی نہ چاہے ؟ جبکہ اللہ کے آئین کے مطابق پہلا گروہ جب ہی فلاح حاصل کرسکتا ہے۔جبکہ وہ اللہ سبحانہ تعالٰی کو ماننے کے ساتھ ساتھ اس کے نبی (ص) کا بھی پوری طرح اتباع کرے؟ تو اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کی بارش ان کے اوپرکردے گا۔ اور ساتھ میں ہر طرح کی اپنی رحمتوں سے بھی نوازے گا؟ اور یہ بھی قر آن میں واضح کردیا ہے کہ“ اس پرعمل کرنے والے اور بے عمل برابر نہیں ہوسکتے جیسے کہ اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہوسکتا“ ایک آیت میں یہ بھی فرمادیا کہ“ میں اپنی سنت کبھی تبدیل نہیں کرتا“
چونکہ میری عادت صاف گوئی کی ہے میں کسی کا دل رکھنے کو کیسے جھوٹ کہدوں کہ اچھے دن آنے والےہیں؟ جبکہ میں نے نہ قوم کو توبہ کرتے دیکھا ، نہ موجودہ قائد کو توبہ تو بڑی بات ہے نماز پڑھتے دیکھا ؟ جبکہ مسلمان کا وصف حضور (ص) نے یہ ہی بتایا ہے کہ“ مسلمان نماز پرھتا ہے اور غیر مسلم نہیں پڑھتا“ جبکہ دووسری بھلایاں تو ظاہر میں کرنا ریا کاری میں آتا ہے لہذا چھپا کر کرنے کا حکم ہے جبکہ نماز باجماعت پڑھنے اور حاکم وقت کو پڑھا نے کا حکم ہے؟ شاید انہوں نے غلطی سےالٹا پڑھ لیا ہوتو میرا مشورہ یہ ہے کہ اسے سیدھا کرلیں ؟ جیسے کپڑا اگر الٹا پہن لیا جا ئے تو اسے سیدھا کر لیتے ہیں ورنہ اس کا بخیہ نظرآنے لگتا ہے اور ہر دیکھنا والا اسے ٹوکتا ہے؟
جبکہ پاکستان کی تاریخ یہ رہی ہے کہ جو بھی آیا وہ اسلام کے نام پر آیا؟ کیونکہ یہ ملک اسلام کے نام پر ہی بنا تھا؟ ورنہ یہ بھانت بھانت کے لوگ کیسے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوسکتے تھے۔ مگر جو بھی حکمراں آئے وہ اللہ کوتو مانتے تھے مگر سب میں کمی یہ تھی کہ وہ اللہ کی بات نہیں مانتے تھے کیونکہ اسے مانتے ہوئے انہیں دنیا سے ڈرلگتاتھا اور وہ اوروں سےالگ نہیں ہونا چاہتے تھے؟ وہ دنیا اسی طریقہ سے کمانااور اسی طریقے سے خرچ کرنا چاہتے تھے، جس طرح سےدوسرے کماتے ہیں۔ جبکہ اسلام دنیا کمانے کو منع نہیں کرتا ہے؟ مگر حلال اور حرام کی تمیز کرنے کو کہتا ہے؟ جو انہیں دنیا کے ساتھ چلنے میں مانع تھی۔اس لیے کہ وہ حرام کمائی میں سے نہ بندوں کو کھانے دینا پسند کرتا ہے؟ نہ خود کچھ قبول کرتا ہے لبتہ ا لٹا وہ دینے والے کے منہ پر ماردیتا ہے، پھر بات بنے تو کیسے بنے؟
بندا حلال کیسے کماسکتا ہے اس نے وہ طریقے بھی بتا دیئے ہیں۔اس لیے کہ اس نے زندگی کا کوئی شعبہ نہیں چھوڑا جہاں ہدایت نہ چھوڑی ہو؟
پہلا دور تووہ تھا جو میں نے اوپر بیان کیا پھر حکمرانوں کا دوسرا دور آنا شروع ہوا یعنی شراب وہی رہی بوتلیں بدلتے رہے۔ایک صاحب روٹی کپڑا اور مکان لیکر آئے اوراسلام میں سوشیل ازم تلاش کرلیا وہ پنے انجام کوپہنچے ؟ پھر ان کے بعد جو صاحب تشریف لائے وہ اسلام نافذ کرنے کا وعدہ کرکے آئے اور انہوں نے اسلامی حدود آرڈیننس نافذ بھی کردیا ؟ مگرانہوں نے اس کے تحت صرف اپنے سیاسی مخالفین کو کؤرے لگوائے اور اسلام کو بدنام کرنے کاباعث ہوئے وہ بھی اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچے؟ قصہ مختصر عمران خان بھی مدینہ کی ریاست قائم کرنے کا وعدہ کرکے تشریف لائے ، شروع میں چند قدم چلے بھی یعنی کچھ سادگی اپنا ئی اور اللہ تعالیٰ نے مدد بھی فرمائی ؟ مگروہ اسی پر اکتفا کرکے بیٹھ گئے ؟ انہوں نے اپنے پیش رؤں کے انجام سے بھی کوئی عبرت حاصل نہیں کی؟ اللہ خیر کرے کہ وہ یہ بھی بھول گئےہیں؟ کہ ہم نے قوم سے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ سے کیا کیا وعدے کیئے تھے۔ ابھی مدنی ریاست کی پہلی اینٹ کہں نظر نہیں آر ہی ہے۔ کہ کلچر کے نام پر پتنگ اڑنے لگی روزانہ دو چارآدمی جان دیر ہے ہیں یہ کس کے کھاتے میں لکھا جائے گا خود اس کانام لکھ لیں؟ پارلیمان میں امتناع شراب کا بل انہیں کے ایک وزیر رمیش کمار نے پیش کیا، مگر پاس نہیں ہوسکا؟ ایسے اور بہت سے واقعات ہیں جنہیں گنانے سے کوئی فائدہ نہیں ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مدینہ کے نظام کے مشینری کہاں سے آئے گی۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما تا ہے کہ مسلمانوں تم وہ بات کہتے کیوں ہو جو کر نہیں سکتے ۔ یہ بات للہ کو سخت ناپسند ہے۔ عوام کو چاہیئے کہ توبہ کریں تاکہ یہ بارشوں کے سیلاب رک جا ئیں؟













