تشنگی۔ ۔ ۔کا حاصل” سفر “ہے۔ ۔ ۔
اور “سفر” کا حاصل اور” سفر”۔ ۔ ۔انسان کی تشنگی۔ ۔ ۔ انسان کے مقام کا تعین کرتی یے ۔ ۔ ۔انسان کو مقام پر لے آتی ہے یا پھر ہٹا دیتی ہے۔ ۔ ۔ ۔انسان کو اپنی تشنگی کو پروان چڑھانا چاہیے یہ زندگی کو زندگی کے اصل معنوں سے جوڑتی ہے۔ ۔ ۔تشنگی رہے تو انسان سفر میں رہتا ہے ۔ ۔ ۔اور اگر نہ رہے تو سفر ختم اور جمود کا آغاز ہو جاتا ہے۔ ۔ ۔اپنی تشنگی کو پروان چڑھانا ہی اصل میں انسانی کمالات کیجانب لیکرجاتا جاتا ہے۔ ۔ ۔
اور کمالات تک پہنچنا انسان کو جمالات اور پنہاں رازوں سے متعارف کرواتا ہے۔ ۔ ۔مگر انسان اس نقطہ عروج تک کبھی نہیں پہنچ پائے کیونکہ انکی زندگی۔ ۔ ۔ریاکاری۔ ۔ ۔اور خواہشات کی بھینٹ چڑھ گئی یا بے شعوری کے باعث چڑھا دی گئی۔ ۔ ۔
حالانکہ دنیا کو تسخیر کرنا اتنا اہم نہیں تھا جتنا کہ رب سے قریب رہنا۔ ۔ ۔مگر انسان نے اپنی تشنگی نہیں بڑھائی بلکہ معمولی خواہشات کو اپنی تشنگی سمجھکر جیتا گیا۔ ۔ ۔اور انکے پورا ہونے کو زندگی سمجھ بیٹھا۔ ۔ ۔اور اسی لیے کنویں کہ مینڈک کی طرح کنویں ہی کو سمندر کی گہرائیاں سمجھکر اپنی معمولی چھلانگ کو اپنی پرواز سمجھکر جی گیا۔ ۔ ۔ ۔پر انسان کا اوج اسکی پرواز میں تھی۔ ۔ ۔نہ کہ اس معمولی چھلانگ میں۔ ۔
مگر انسان جلد باز ہے اور کم فہم اس نے اپنی فہم سے وہ پردے کبھی ہٹائے ہی نہیں جو فہم کو تقویت دیتے اور اس میں سے ان خوبصورت اور قیمتی احساسات کی ترویج کا باعث بنتے جو کہ انسان کو بصیرت اور آگہی کی اس منزل پر لیکر جاتے ہیں جہاں دنیا بہت معمولی اور حقیر رہ جاتی ہے اور اسکے سامنے کائنات کی وسعتیں خود کو عیاں کرنے پر آمادہ دکھائی دینے لگتی ہیں۔ ۔ ۔
انسان کی تشنگی۔ ۔ ۔
تحریک کی مانند اسکو سفر پر آمادہ کرتی ہے۔ ۔ ۔اسے نوکیلے۔ ۔ ۔پتھریلے ۔ ۔ ۔اونچے۔ ۔ ۔نیچے راستوں پر چلنے کی طاقت فراہم کرتی ہے۔ ۔ ۔اور وہ راستے انسانی شعور پر سے جھالت ون کی تہیں اتارنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ ۔جب وہ ان تخیلاتی مناظر کو حقیقی آنکھ سے دیکھتا ہے تو تخیل کے حسن میں اضافہ ہوتا ہے اور انسانی سوچ اور فکر میں حقیقی رنگ پنپنے دکھائی دیتے ہیں۔ ۔ ۔
پھر انسان ان مناظر کی تہوں میں چھپے رازوں کو دریافت کرنے کی سعی کرنے لگتا ہے مگر کچھ لوگ ان مناظر ہی کو اپنا حاصل سمجھ بیٹھتے ہیں حالانکہ اصل حاصل تو مزید سفر کی تشنگی ہے نہ کہ منظر کو محظوظ دیکھکر درک کر لینا۔ ۔ ۔پر انسان نے تشنگی کو محدود رکھکر۔ ۔ ۔اپنے اوج کے رستوں پر دروازے بند کر دیے۔ ۔جس سے وہ ایک خاص حد سے آگے بڑھ ہی نہیں پایا۔ ۔ ۔سفر کی ٹھکانے کو سفر کے انجام کی وجہ بنا کر وہیں ٹھہر گیا حالانکہ ٹھکانے تو انسان کو آرام کی قدر و قیمت اور اپنی ہمت۔ ۔ ۔حوصلے۔ ۔ ۔اپنی صلاحیتوں کے ادراک کے لیے ہوتی ہے اکہ کہاں کمی ہے۔ ۔ ۔کہاں بھلائی ہے۔ ۔ ۔کہاں اور محنت درکار ہے۔ ۔ ۔کہاں رسوائی ہے۔ ۔ ۔
اصل رسوائی یہ نہیں کہ دنیا کیا کہے گی۔ ۔ ۔بلکہ اصل رسوائی تو یہ ہے کہ دنیا میں آیا انسان۔ ۔ ۔رہا اسمیں۔ ۔ ۔اور خود کو ہی نہ جانے پایا انسان۔ ۔ ۔ ۔اپنا عروج ہی نہ طے کر سکا ۔ ۔ ۔ ۔اپنے پر سے لا علمی اور جہالتوں کی تہون کو ہٹا ہی نہ پایا انسان۔ ۔ ۔غلط روشوں اور رواجوں کیخلاف کھڑا ہی نہ ہو سکا۔ ۔ ۔علم سے وہ طاقت ہی نہ کے سکا جو اسکے ہونے کو ہونا بناتی ہے۔ ۔ ۔ ۔اصل کامیابی تشنگی ہے۔ ۔ ۔
اور سفر میں رہتے ہوئے اپنے ہر سفر میں بہترین سیکھنا اور سیکھ کر مزید سیکھنے کی چاہ اور چاہے کر مزید کرنے کی راہ۔۔۔اور راہ میں رہتے ہوئے مزید راستوں کی تلاش اور تلاش کر کے مزید ڈھونڈنا۔ ۔ ۔اور ڈھونڈ کر مزید پانے کی جہد اور اس جہد کو ہمیشہ جہد رکھنا اور اس جہد کے قیام کیلئے ہر پل متحرک رہنا اور ہر پر کی تحریک میں تعصب۔ ۔ ۔جہالت ۔ ۔ ۔
اور حرص سے ہٹ کر سوچنا اور ہر طرح کی غریبی کو امیری سمجھکر اس میں سے اپنے خزانوں کی دریافت کرنا ۔ ۔ ۔اور ہمیشہ تشنہ رہنا۔ ۔ ۔
ہی اصل منزل ہے۔ ۔ ۔
۔فائزہ عباس













