رسول اور آل رسول پر گفتگو تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔ڈاکٹر نگہت نسیم

0
716

رسول اور آل رسول پر گفتگو تلوار کی دھار پر چلنا ہے ۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم

ابھی چند روز پہلے فیس بک پر جبہ و دستار والے ایک مولانا کی وڈیو نظر سے گزری جو لندن سے زیارات کے لیئے قافلہ لے جانے والے زائرین کو ایک غیر عقلی اور انتہائی ضیف حکایت سنا کر شاید اپنی علمیت کا رعب ڈال رہے تھے ۔ لیکن وہ باب شہر علم کا یہ قول بھول گئے کہ کلام کرو تاکہ تم پہچانے جاؤ ۔ کم از کم میں نے تو ان اعلی حضرت کو مولا کے قول کی روشنی میں بخوبی پہچان لیا ہے ۔

مولانا نے جو حکایت بیان کی ہے وہ یہ ہے “ حضرت امام حسین علیہ السلام نے ایک شیر پالا تھا جس کا نام حارث تھا ۔ اللہ کے رسول کے حکم کے مطابق کنیز سیدہ جناب فضہ نے شہادت حسین کے بعد لاشوں کی پامالی کو رکوانے کے لیئے اس شیر کو طلب کیا ۔

شیر بقول مولانا صآحب کے رات بھر لاش حسین پر بیٹھا رہا اور روتا رہا ۔ اور گیارہ محرم کو بیمار کربلا سید سجاد نے شیر کو واپس جانے کا حکم دیا ۔“

میں نے بہت سوچ سمجھ کر اس وڈیو کا لنک اس لیئے نہیں لگا رہی کہ میں اس خود ساختہ اور میزان عقل پر پوری نہ اترنے والی کسی حکایت کو اور اسے بیان کرنے والے کسی مولانا کو مفت میں اہمیت اور مشہوری کیوں دی ۔ آپ میں سے جو لوگ براہ راست اسے سننا چاہے وہ فیس بک پر جناب سید حسنی کے مندرجہ زیل لنک پر ان مولانا کی وڈیو اور اس ضمن میں ہونے والی بحث کو خود بھی پڑھ سکتے ہیں ۔

لنک پڑھنے کے لیئے کلک کیجئے

اور اب آیئے میرے استدلال کی جانب ۔۔۔۔۔۔

مجھے اس پر فخر ہے میں اہل سنت خاندان سے تعلق رکھتی ہوں جہاں اہل بیت خاص طور پر مولا علی ، بی بی فاطمہ ، اور امام حسن اور حسین علیہ السلام کے زکر کو قران کی تلاوت اور کلمے کے اقرار کے بعد اسلام کا سب سے اہم جزو تصور کیا جاتا ہے ۔ میں ان اہل سنت میں سے ہوں جن کا ایمان یہ ہے کہ امام حسین ع سے محبت وہ سنت رسول ہے جس کو ادا کیئے بغیر بھلا کوئی کیسے جنت کے ان سرداروں کی اجازت کے بنا جنت میں داخلے کا سوچ بھی سکتا ہے ۔ میں ان مولوی صآحب کو زاتی طور پر نہیں جانتی لیکن اتنا مجھے معلوم ہے کہ اب شائد ہی کوئی مولوی ایسا ہو جو کربلا کی زیارات ایران کے سفر اور حج و عمرہ کا کاروبار نہ کرتا ہو ۔ اس منافع بخش کاروبار کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں کوئی انکم ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا اور ایسے قافلے لے جاتے ہوئے مولوی صاحب اور ان کی بیگم کا تکٹ مفت نکل آتا ہے ۔

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین فروشی کو اپنا دھندا بنا رکھا ہے ۔ یہ اسی قسم کی جھوٹی کہانیوں سے معصوم لیکن کم علم انسان کو بے وقوف بنا کر مولا علی کے قبر میں آنے کی بشارت دیتے ہیں اور جنت کے خواب دکھلاتے ہیں ۔ جو کہانی ان مولانا صآحب نے ابھی سنائی یہ سچی ہے یا جھوٹی مجھے اس سے کوئی بحث نہیں ، میری ایک عقلی اور فکری دلیل ہے جس کا مجھے جواب چاہیئے ۔ شیرحضرت امام حسین علیہ السلام کے لاشے کے پاس رات بھر بیٹھا رہا ۔ کہانی لکھنے والے نے یہ نہیں سوچا کہ شہادت امام کے بعد رات پڑنے پر خیموں کو آگ لگائی گئی ، سید زادیوں کے سروں سے چادریں چھینی گئیں ، سید سجاد بیمار کو خمے سے باہر نکالا گیا ، حسین کے لاڈلی سکینہ کے منہ پر طامنچے مارے گئے اور سادات کے تبرکات کو لوٹا گیا ۔ مجھے کون جواب دے گا کہ امام حسین کا پالا ہوا یہ شیر کیا کھلی آنکھوں سے یہ سب تماشا دیکھتا رہا ۔ دوسری اہم بات یہ کہ جتنا میرا مطالعہ ہے شہدا کے لاشوں کی پامالی شہادت امام حسین کے بعد ہوئی تھی ۔ اور اسی پامالی کو رکوانے کے لیئے شیر صآحب کو بلوایا گیا تھا ۔اور آخری بات بقول مولانا صاحب کے 11 محرم کو امام سجاد نے شیر کو واپس جانے کا حکم دیا آخر اس کی وجہ ؟ ۔۔

باب شہر علم سیدہ فاطمہ کے شوہر اور حسن حسین کے بابا امام علی نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ بات کہی کہ ہمارے حوالے سے جو بات تمہیں کہی جائے اور اسے تمہاری عقل تسلیم نہ کرے تو اسے دیوار پر مار دو ۔۔۔ آپ میرے بارے میں جو بھی رائے قائم کریں میری عقل اس کہانی کو تسلیم نہیں کرتی ۔ ہاں فی الحال میں اسے دیوار پر نہیں مار رہی ۔ میری حسنی صآحب سے درخواست ہے کہ ان گالیاں دینے والوں سے نام نہاد عاشقانہ علی کے حق میں دعا کریں کہ کم از کم اللہ پاک انہیں سوچنے سمجھنے اور تجزیئے کی توفیق عنایت فرمائے ۔۔ اور یہ آل رسول کی بدنامی کی بجائے ان کی نیک نامی کا موجب بنیں ۔

جاتے جاتے میرے ایمان کی یہ دلیل بھی سن لیجئے کہ میرے نزدیک جو شخص علم سے عاری ہے اور جسے دین کی معلومات نہیں ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی آل کے فرامین پر عمل نہیں کرتا اسے عاشقان علی اور اہلبیت کہلوانے کا کوئی حق نہیں ہے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY