کہیں قوم کے ساتھ ایک بار پھر ہاتھ نہ ہوجائے۔ محمدثقلین رضا

0
111

باہر کی دنیا سے آیاہوا کوئی بھی شخص جب پہلی بار پاکستان آئے اور اسے اخبارات ، ٹی وی چینلز کو کھنگالنے کا موقع ملے تو وہ یہی سمجھے گا کہ پاکستان میں سیاست بڑی ہی وافرمقدار میں پائی جاتی ہے ،کیونکہ سیاستدانوں سے لیکر عام آدمی تک، سرکاری ملازمین سے لیکر بس ڈرائیور تک ،ہرکوئی سیاست کرتا نظرآتا ہے ، یعنی بات یوں کہی جاسکتی ہے کہ اب سیاست کاکھیل اس میدان کے کھلاڑی یعنی سیاستدان ہی نہیں ہرچھوٹا بڑا ،مردخواتین سبھی کھیل رہے ہیں۔ دوسری با ت کہ اگر کوئی شخص حکمرانوں کی پانامہ کہانیوں کو ذکر چھیڑے تو جواب میں ایسے ایسے دلائل سننے کو ملتے ہیں، ایسے دلائل کہ بس، ہمیں یقین ہے کہ اگر عدالت میں وہ دلائل دئیے جائیں تو یقینا نوازشریف ہی کیا ،کوئی بھی نہیں بچے گا ، لیکن اسے بدقسمتی قرار دیاجاسکتا ہے کہ ان دلائل کے آگے پیچھے ثبوت نظر نہیں آتے۔ اب یہ بھی مت سمجھئے گاکہ ہم سوشل میڈیا کی بات کررہے ہیں، ارے نہیں صاحب، سوشل میڈیا ہی کیا آپ الیکٹرانک میڈیا پر نظردوڑالیں، یا پھر اخبارات کو پڑھ لیں ، ہرکوئی سیاست سیاست کھیلتا نظرآتا ہے، صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ ٹی وی اینکر بھی سیاستدان ہے بلکہ ہرمعاملہ میں ”ماہر” قرا ر پاتا ہے یعنی معاملہ دہشتگردی کا ہو، یا پھر صحت صفائی کے معاملات ہوں یا پھر لوگوں کے مسائل ہوں، گرمی کی شدت میں اضافہ ہو یا لوڈشیڈنگ کا آزاد گھومنے والا جن ہو ، سبھی معاملات میں اینکر پرسن یوں فرفر بولیں گے کہ بس یہی لگتا ہے کہ ان کے علاوہ کوئی اور مخلوق بستی ہی نہیں۔

ملک میں سیاست کی فراوانی کے ذکر سے یادآیا کہ یہاں کوئی بھی معاملہ ہو (چاہے اس کا تعلق قومی سلامتی سے ہی کیوں نہ ہو ) سیاست کی مداخلت لازمی قرار پاچکی ہے، یعنی یہ دیکھے بنا کہ یہ حساس موضوع کس توجہ کا طالب ہے ہمارے چھوٹے ،موٹے ، درمیانے ،بڑے ،لنگڑے یعنی سبھی سیاستدان اس پر”طبع آزمائی ” ہی نہیں کرتے بلکہ ایسے ایسے ”طعنے ” ایجاد کئے جاتے ہیں کہ الامان والحفیظ ۔اب آپ یہ بھی مت سمجھئے گا کہ ہم ڈان لیکس کے معاملہ کو اچھال رہے ہیں، ارے صاحب یہ معاملہ قومی سلامتی کا تھا یانہیں؟ اس حوالے سے سوچنا قومی حساس اداروں کی ذمہ داری ہے اورہونی بھی چاہئے لیکن لگتا ہے کہ حکومتی ایوانوں سے منسلک چھوٹے موٹے ،لنگڑے لولے سیاستدان بھی بیان بازی سے باز نہیں آئے تو دوسری جانب سے ایک سواری والے تانگہ نما سیاستدان بھی یوں بڑھ چڑھ کر بولے کہ قوم کی بس ہوگئی بلکہ بقول بھولا قوم کی بس کیاہونی ہے، سیاستدانوں کے ایک جملے پرپھر قوم سیاست کرتی ہے، بعض لوگ اسے شعور کا نام دیتے ہیں اوربعض کے خیال میں یہ عمران خان کی بدولت ہوا ہے کہ ہرشخص نفرت میں مبتلا ہے، یعنی ن لیگ والوں کو پی ٹی آئی سے نفرت ہے اورپی ٹی آئی کو ن لیگ کے بعد پیپلزپارٹی سے نفرت کا احساس ہونے لگاہے، پیپلزپارٹی سے یاد آیا کہ چار سالہ نیند کے بعد اب اس جماعت کے لیڈران کو بھی احسا س ہونے لگا ہے کہ سیاست سیاست کھیلنی چاہئے سو وہ بھی میدان میں آگئے۔ اس جماعت نے فی الوقت ”نیاخون” سامنے لاکر امید کی ڈالی تھام رکھی ہے کہ شاید قوم 2008سے 2013تک کا پنج رتہ بھول گئی ہے ۔ہوسکتاہے کہ حب علی میں نہ سہی بغض معاویہ میں ہی لوگ اس جماعت کو ووٹ دیدیں کیونکہ کچھ حکومت مخالفین کاخیال ہے کہ جس قسم کی ”سیاست” عمران خان کھیل رہے ہیں اس میں نفرت کا رنگ زیادہ آگیا ہے لیکن ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ نفرت کا یہ رنگ تو روز اول سے ہی پاکستانی سیاست کا مقدر رہا ہے ،بھٹوکادور ہو یا پھر بینظیر بھٹو، نوازمقابلہ کی بات ہو، ہردور میں سیاست نفرت آمیزہی نظرآتی ہے۔

ویسے ایک عجب لطیفہ ہے کہ سیاستدان (پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے) ایک دوسرے کو چور ،لٹیرا، کرپٹ قرار دیتے رہے اوریہ اتنے تواتر کے ساتھ ہوا کہ پوری قوم نے بھی جان لیا کہ کوئی لٹیرا ہے تو کوئی چور اور کوئی کرپٹ ہے تو کوئی بدکردا ر ، یعنی سارے اوصاف ”جمیلہ” انہی حضرات میں موجود ہیں لیکن جب کبھی بھی عوام کی طر ف سے ان مقدس مورتیوں کو انہی القاب سے یاد کیاجائے تو کہا جاتا ہے کہ ” ملک کے سب سے مقدس ایوان میں بیٹھے لوگوں کی توہین کی جاتی ہے” لیکن حضرات یہ کیسا مقدس ایوان ہے کہ جس کے تقدس کی مثال ایک طوائف سے دی جاتی ہے یعنی دن را ت جسم فروشی کرنیوالی طوائف بھی اگر خود کو پاک وپوتر قرار دے تو پھر اس سے بڑھ کر اورکیا مذاق ہوگا ؟ سو جب دھرنے والوں نے کہا کہ اندر سارے چور بیٹھے ہیں تو ”اندر” بڑا ہی واویلا ہوا اور اندر والوں کو خیال آہی کہ یہ ایوان بڑا ہی مقدس ہے اور اس میں بیٹھے مقدس لوگوں کے بارے ایسے جملے کہنا ملکی سلامتی کیلئے خطر ہ ہے لیکن حضرات ان جملوں کی گونج ختم نہیں ہوئی کہ اب وہی اندر والے خود انگلیاں اٹھائے کہہ رہے ہیں کہ فلاں ایسا چور ، فلاں ویسا چور، بلکہ اب تو حد ہوگئی کہ ایک خوبرو ماڈل بھی کرپشن کااستعارہ بنادی گئی ہے یعنی کھیل سیاستدانوں کا اور بدنام ”منی” ہوگئی ہے لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ منی کو کیا پڑی تھی کہ وہ ”سیاست” کے کھیل میں اور سیاستدان کی حویلی کا حصہ بنتی ۔خیر کچھ لوگ منی کو بدنا م کرنے پرتلے ہو ئے ہیںاوراب تو یہ تک پوچھ لیاگیا ہے کہ منی کا منے سے کیا تعلق ہے؟منا کیا جواب دے کہ اب تو ”کاکا” بھی جوان ہوچکا ہے اوروہ بھی جواب دینے کی پوزیشن میں ہے لیکن خاموش اس لئے ہے کہ ”منی” مزید بدنام ہوجائیگی ،دوسری جانب منی والے بھی بھلا خاموش رہتے انہیں تو پانامہ بھیا یاد آرہے ہیں اور وہ بھی پانامہ بھیا سے جڑے لوگوں کو ایسی بے نقط سنانے پر لگے ہوئے ہیں کہ بس اللہ دے اوربندہ لے۔ یعنی اب سیاست کی منی ،پانامہ بھیا کامقابلہ کرنے کو پر تول رہی ہے تو دوسری جانب بلے والے بھی بھلا کب خاموش رہیں گے کیونکہ سیاست کے کھیل کے اصل ترپ پتے تو انہوں نے ہی شو کرائے یعنی کہانی کسی اور کی ہے اور کھیلنا کوئی دوسرا چاہتاہے ، ایک بات بہرحال ذہن میں رکھنے کی ہے اور اس پر غور بھی کرناہوگا کہ کہیں منی اور پانامہ بھیا کی آپس کی ”ڈیل” میں قوم کے ساتھ ایک بار پھر ہاتھ نہ ہوجائے

SHARE

LEAVE A REPLY