بہت دنوں سے اس موضوع کو چھیڑنا چاہ رہی تھی لیکن یہ سوچ کر رک جاتی تھی کہ ادب کی دنیا میں پہلے ہی اتنے مخالفین بنا چکی ہوں مزید اور کتنے نفوس کا اضافہ کروں ۔ لیکن خود اپنے آپ کو دلیل دیتے ہوئے آج لکھنے کا فیصلہ کیا میں جو دوسرے لوگوں کو ہر حال میں سچ کی صلیب اٹھانے اور حق بات کے لئے ڈٹ جانے کا مشورہ دیتی ہوں ۔ خود کیوں سچ بات کہنے سے رکوں یا حق بات کہنے سے اجتناب کروں ۔
میرا تین چار لوگوں کا جو محدود سا تخلیقی ، فکری اور مکالماتی حلقہ ہے ۔ یہ سب لوگو مروجہ ادبی لغت اور اصطلاح میں شاید شاعر ادیب نا ہوں لیکن حقیقی ادبی اصطلاع میں یہ بادشاہ گر لوگوں کی طرح شاعر ادیب بنانے والے لوگ ہیں جو دوسروں کو آگے بڑھا کر خود پیچھے رہ کر زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ ایسے لوگ عمومی اور وقتی شہرت سے بہت دور رہتے ہیں ۔ میں اکثر سوچتی ہوں ولی صرف دین مذہب میں نہیں ہوتے تخلیق کی دنیا کے اولیاء ہوتے ہیں ۔ جو سچ کہوں تو یہی سورہ قلم کے حقیقی وارث ہیں اور وہ لوگ ہیں جن کا ایمان اور اعتقاد ہے کہ روز محشر قلم ان کی گواہی بنے گا ۔
اس مفاد پرست عہد میں بیچنے کے حوالے سے منڈی میں جن کی سب سے زیادہ قیمت ہے اور جنہیں کسی تردد کے بغیر آسانی سے بیچا جا سکتا ہے ، ان میں دین ، ایمان کے بعد پہلا نمبر قلم کا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں اہل ادب کہلوانے والوں کی ایک غالب اکثریت مفادات کی دنیا میں بارٹر سسٹم کے تحت زندگی گزار رہی ہے ۔ مشاعرے جو کبھی تہذیب کا مرکز تھے اب تعلقات ، اقربہ پروری ، دوست داری اور اپنی جیب سے پیسے دے کر مشاعروں میں شرکت کرنے کازریعہ بن چکے ہیں ۔ اس بات کو یہیں تمام کرتی ہوں کہ اس نوحے کو پہلے بھی کئی بار لکھ چکی ہوں ۔ اور آئیندہ بھی جانے کتنی بار لکھتے رہنا پڑے گا کہ ادبی حالات بھی پاکستان کے حالات کی طرح سدھرتے دیکھائی نہیں دے رہے۔
میں اپنی ذاتی تجربے کی بات بتاؤں کہ افسانے کی دنیا میں کم لیکن شاعری کی دنیا میں وہ آدمی بھی آپ کااستاد بننے کو تیار ہوتا ہے جسے شاید کوئی حقیقی استاد اپنے طالب علم کے طور بھی قبول نا کرے ۔ ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو خود شعور شعر سے نا واقف ہے لیکن وہ آپ کو بقراطی مشورے دینے سے کبھی نہیں چوکتے ۔ اب اور کیا کہوں جتنی منافقت اور دو رخی نام نہاد ادیبوں اور شاعروں میں اس وقت ہے وہ شاید ہی زندگی کے دوسرے شعبوں میں ہو۔ ایسے حالات میں اگر آپ کو واقعی کوئی ایسا صاحب علم اور بلا مفاد علم منتقل کرنے والا کوشش بسیار کے بعد استاد کے طور پر میسر ہو جائے تو میں اسے رحمت پروردگار ہی سمجھوں گی ۔
آجکل ایک اور رویہ ادیبوں اور شاعروں میں دیکھنے میں آیا ہے جس نے مجھ سے یہ تحریر لکھوائی ہے کہ وہ پہلے جس معزز ہستیوں کو اپنا استاد محترم کہتے اور لکھتے نہیں تھکتے ، ان سے شعر کی اصلاح لیتے ہیں ، اپنی تحریریں درست کرواتے ہیں ، اپنی کتابوں پر نظر ثانی کرواتے ہیں پھر ان سے تبصرے بھی لکھواتے ہیں ۔۔پھر وہی ادیب اور شاعر مفادات کی چکی میں لفظوں کی گندم پس جانے کے بعد اپنے استاد محترم کا نام اپنی تحریروں سے حذف کر دیتے ہیں ۔۔۔!
سوچ رہی ہوں اس ادبی رویئے کو کیا نام دوں ؟
اس کو ناشکری سمجھوں کہ احسان فراموشی یا خود کو استاد کے درجے کا سمجھ لینا ۔۔۔ یعنی بزعم خویش ؟
ڈاکٹر نگہت نسیم














G. Husain
ڈاکٹر صاحبہ!
آپ کی پوسٹ کے حوالے سے پنجابیوں کا ایک قول سناتا ہوں۔۔۔شاید پھر آپ ایسے لوگوں کے لئے دل جلانا چھوڑ دیں۔ ایسے لوگوں کی فطرت نے ڈیزاننگ ہی مکمل نہیں کی ہوتی۔
“روڑیاں دے ڈھیر جگہ جگہ تے مشری لبھنی پیندی اے!”
Qamar Nasir Sheikh
بےقدرے, مفاد پرست, احسان فراموش, طوطا چشم, منافق, یہ سب نام دیۓ جاسکتے ہیں ایسے لوگوں کو.
Akbar Sheikh
اب اور کیا کہوں جتنی منافقت اور دو رخی نام نہاد ادیبوں اور شاعروں میں اس وقت ہے وہ شاید ہی زندگی کے دوسرے شعبوں میں ہو✍️?
3
Saniya Sheikh
بے شک اول تو ہر شخص استاد بننے کو تیار ہے صحیح معنوں میں استاد واقعی مل جانا نعمت ہے ،اور اس رویے کو جس کا آپ نے ذکر کیا اسے بدنصیبی کہیے جسے شکر کی توفیق نہ ملے۔
Saira Mumtaz
ڈاکٹر صاحبہ قحط الرجال اسی کا نام ہے، ہم ایک جملہ اگر اپنے تئیں اچھا لکھ دیں تو دس استاد ٹیگ کرتے ہیں اور ان سے داد سمیٹ کر جو خوشی ہوتی ہے جیسے کے ٹو سر کر لی ہو. ایک طالب علم کا ایک ادیب کا یہی رویہ اسے اس قابل بناتا ہے کہ استاد اس کی عزت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں. لیکن یہ نمود و نمائش کا دور ہے اس دور میں جب دین کے ولی بھی نمائشی دستیاب ہیں آپ طبیعت اور مزاج کے فقیر کہاں سے ڈھونڈ پائیں گی. باقی جب سے آپ کا حلقہ احباب میسر آیا ہے خود کو خوش قسمت تصور کرتی ہوں ہر پل دعاؤں میں رہتی ہوں اور کیا چاہئے
Kausar Islam
بے شک بجا فرمایا… نام حذف کرنا معمولی بات ہے… دشنام طرازی پر اتر آتے ہیں
Fida Shah
Fida Shah Nighat Nasim Sahiba! Mujhe afsos hai keh mere pass Urdu alphabets nahin hai. Isliye mein Roman Urdu istimal katya hun. Bahut aala comments aate hain.
Imran Sarwar Jabbi
جس معاشرے میں استاد سڑکوں پر اپنے حقوق کیلئے ماریں کھاتے پھرتے ہوں ڈاکٹر صاحبہ وہاں اس سے بڑھکر ۔۔۔۔۔۔
Shaheen Ashraf Ali
عزیزی ڈاکٹر نگہت نسیم اپ کی اس چشم کشا عمدہ تحریر کو پڑھ کر دل بہت اداس وافسردگی محسوس کر رھآ ھے کہ ھم پر تو اس کا بھی بھی احترام فرض ھے جو ایک لفظ بھی سکھا دے کہاں ایسا مخلص
استاد جو پوری کتاب کی اصلاح کرے اشعار کی درستگی کے ساتھ زبان و بیان کا سلیقہ بھی سکھاے
اور واقعی ایسے لوگوں کو منظر عام پر لانا چاھیے کہ جو کسی سے اس قدر استفادہ کرے کہ ایک نہیں دو تین کتابوں لکھ ڈالیں اسی استاد محترم کی مدد سے
اور پھر جب مطلوبہ فوائد حاصل ھو جایئں تو استاد کو چھوڑ کر کسی اور در کے سوالی بن جایئں
مفاد پرست لوگوں سے کیا توقع کر سکتے ھیں
Saif Urrehman
بلکل۔۔۔۔ یہ صرف ھمارے زوال پذیر معاشروں میں ھوتا ھے۔۔۔جہاں جھوٹ کی حکومت ھو اور منافعقت کا قانون چلتا ھو۔۔۔۔۔۔ورنہ کامیابی تو استادوں کے پاوں کی خاک سے ملتی ھے۔۔۔۔۔؟
1
Manage
Like · Reply · 4h
Shaheen Ashraf Ali
Shaheen Ashraf Ali
استاد کا احترام و ادب تو
کسی بھی تخلیق کار کا فرض ھوتا ھے
Saif Urrehman
Saif Urrehman Shaheen Ashraf Ali جی بلکل۔۔۔۔آقا علی کا قول ھے۔۔۔۔جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا ۔۔۔۔وہ میرے آقا ہیں۔۔۔
Shaheen Ashraf Ali
مولا سلامت رکھیں عزیزی برادر سیف الرحمان
بے شک استاد کا مرتبہ بہت بلند ھے
اور قول علی علیہ السلام
قول الحق ھے
Saif Urrehman Shaheen Ashraf Ali تندرستی اور سلامتی ھو۔۔۔تشکر
Shaheen Ashraf Ali
سلامت باشد برادر
Noshi Qaiser
پیاری نگہت یہ رویہ ادبی ہو ہی نہیں سکتا جو یہ رویہ رکھتے ہیں وہ بے ادب ہوتے ہیں ایسے رویوں کو خوش فہمی یا ناشُکری کا ہی نام دیا جا سکتا ہے کسی اُستاد کا ملنا خوش بختی ہوتی ہے اور کوئ بھی علم سیکھنے کے لیۓ عمر بھی کافی نہیں ہوتی
Syed Sadaqat Hussain
ڈاکٹر صاحبہ نے جتنی میری اصلاح اور مجھ سے محبت کی ہے میری رہنمائی کی ہے میں زندگی بھر انکا احسان نہیں بھلاسکتا۔
Shaheen Ashraf Ali
واقعی نگہت نسیم بہت مشفق اور محبت کرنے
والی شخصیت ھیں سید صداقت حسین
میری بھی اصلاح۔ کی ھے
مشکل وقتوں میں میرا سایہ بنی ھیں
میں بھی زندگی بھر انکے احسانات نہیں بھلا سکتی ھوں
رات دن کے ھر پہر میں وہ کبھی مجھ سے غافل نہیں ھویئں
مالک و خالق ڈاکٹر نگہت نسیم
کو بہترین صحت اور عمر طویل عطا فرماے آمین ثمہ آمین
Syed Sadaqat Hussain
آمین
Saleem Mirza
بیحد خوبصورت اور فکریہ تحریر ۔
مگر آپ نے خود ھی اس کو ناقابل حل بھی قرار دیدیا کہ پاکستان کے دیگر شعبہء زندگی کی طرح یہ حلقے بھی انسانیت اور اخلاقیات کے اس معیار کے نہیں رھے جس کا تقاضہ یہ منصب کرتا ھے ۔
مگر کیا کریں، ھوتا ھے، دنیا ھے، چلتا ھے ۔
مگر ایک امید افزا بات میں نے محسوس کی ھے کہ آپ جیسے لوگ اس طرف توجہ دلا رھے ھیں ۔
اور دھیان ھورھا ھے، انشاءاللہ جلد بہتری ھو گی ۔
اس سلسلے کی پہلی تحریر
Fakhra Noreen
نے لکھی تھی ۔اور دوسری آپ ھیں جنہوں نے یہ قابل ستائش کوشش کی ۔
Salma Jilani
گویا وہ سیڑھی سمجھ کر استعمال کیا کرتے ھیں استاد محترم کو
Shaheen Ashraf Ali
عزیزی سلمی جیلانی
کتنی تکلیف دہ بات ھے
Salma Jilani
اپنا اپنا ظرف ھے لیکن جو اپنے استاد کو استعمال کرتے ھیں اگلے آنے والے ان کے ساتھ یہی سلوک کرنے والے ھیں
Saeed Sahib
کوی بات نہیں ھے۔
Hyder Raza
محشر میں کافر کا مقام منافق سے بہتر ہوگا
Nadeem Malik
کیا اچھی تحریر اور پر فکر سچائی سے گوندھی ہوئی ایک ایک حرف سچ بات کی گواہی دے رہا ہے واقعی یہ ایک المیہ ہے