عبادت ہم کیوں کرتے ہیں؟ خدا کیلئے ؟ یا اپنے لیے؟

0
1203

ٹنمیں نے ایک چھوٹی سے تحریر لکھی جس کا بنیادی مقدمہ یہ تھا کہ انسان جو کچھ بھی کرتا ہے ، اپنی ذات کیلئے کرتا ہے ، اور اپنی ذات سے باہر کسی اور چیز کیلئے کچھ نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اپنی آپ کے بارے میں سوچنا اس کی فطرت ہے اور فطرت نہیں بدلتی۔
اس پر کئی افراد نے اعتراض کیا اور یہ موقف پیش کیا کہ پھر جو لوگ دوسروں پر جان قربان کرتے ہیں ، ایسا کام کرتے ہیں جس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

میں زیادہ تفصیل اور پیچیدگی میں جائے بغیر سب سے پہلے یہ کہوں گا کہ انسان کا بے غرض ہونا ، یا انسان کو مکمل بےغرض سمجھنا ایک میتھ اور مِس کانسیپشن ہے۔ اور اس کے بعد یہ مشورہ دینا چاہوں کہ وہ اس کے بارے میں سائنسٹیفیک ریسرچز کو بھی سٹڈی کریں ، خاص کر ” سائیکالوجیکل ایگوئزم (Psychological egoism)” ، ” ڈز سیلف لیس ڈیڈ ایگزیزٹ ” اور ” الٹروئزم (Altruism) ” کے بارے میں سائنسی تحقیق کا مطالعہ اس کے بارے میں جاننے کی شروعات ہو سکتی ہے ، سوشل سائنسدانوں کی تحقیقات میں بھی ایمپیریکلی یہی بات ثابت ہے ۔ کیونکہ فلسفے اور سائنس دونوں میں یہ موضوع خاصا دلچسپ اور گرم رہا ہے ، اور اس بات پر بحث جاری ہے کہ کیا واقعی کوئی ایسا کام موجود ہے جسے ہم ” سیلف لیس (selfless) ” کہہ سکیں ، یعنی جس کے کرنے سے ہمارا ذاتی کوئی فائدہ نہ ہو اور جس کا مقصد ہماری اپنی ذات نہ ہو۔ بحث کے نتیجے میں ابھی تک پلڑا ” نہیں ” کا بھاری رہا ہے۔ یعنی نہیں ایسا کوئی کام حقیقت میں موجود نہیں ہے۔
.
جرمن فلسفی فریڈریک نطشے ( Friedrich Nietzsche) نے بھی اپنی کتاب ” دا ٖڈان ( The Dawn) ” میں اس کی حمایے کی ہے.
.
ڈیویڈ ہیوم (David Hume) نے ” انکوائری آف کنسرننگ دا پرسیپلز آف مورلز ” (An Enquiry Concerning the Principles of Morals.) میں ماں کی مثال دے کر اس کی مخالفت کی ہے ، لیکن سائیکالوجیکل ایگوئسٹس نے ہیوم کے خلاف یہ دلیل دی ہے کہ ماں اگرچہ کسی مادی فائدے کیلئے ایسا نہیں کرتی ، نہ وہ اپنے بچوں سے کوئی انعام کی خواہش مند ہوتی ہے ، لیکن وہ اپنی ” ممتا ” کے ہاتھوں مجبور ہوتی ہے ، ممتا عورت کا فطری رحجان ہے ، چنانچہ ماں یہ سب کچھ ” سکون ” کیلئے کرتی ہے ، بچے کو اذیت میں دیکھ کر وہ : بے سکون ” اور ” تڑپ ” جاتی ہے ، اور اس بے سکونی اور تڑپ ” سے بچنے کیلئے وہ ” ممتا ” کا مظاہرہ کرتی ہے۔ کیونکہ وہ فطری طور پر اس کی طرف مائل ہوتی ہے۔ چونکہ خود انسان کے اپنے کام کا الٹیمیٹ مقصد ” سکون ” ہی ہوتا ہے۔ وہ پیشہ کماتا ، رشتے بناتا ، انجوائے کرتا ، لوگوں سے تعلقات بڑھاتا وغیرہ ہے اور یہ سب کچھ وہ ” سکون ” کیلئے کرتا ہے کیونکہ فطری طور پر انسان اپنی ذات میں ایک خالی پن ، ادھورے پن اور خلا کا احساس کرتا ہے۔

اسلامی فکر میں قتیبہ دینوری کے مطابق ابن حجم نے کہا تھا ” کوئی آپ کیلئے اگر کچھ کرتا ہے تو وہ شکریہ کا مستحق نہیں ہے ، کیونکہ یا تو آپ سے کسی انعام کی توقع رکھتا ہے یا خدا سے کوئی توقع رکھتا ہے۔ وہ سب کچھ اپنی ذات کے سکون اور اطمینان کی خاطر کرتا ہے”۔

دو ہزار دو کی ایک تھیسس میں رابرٹ لکھتا ہے کہ سوال یہ ہے کہ پھر جو فوجی اپنے ساتھیوں کی جان بچانے کیلئے گرینڈ پر کود کر اپنی جان دے دیتے ہیں ان کے بارے میں کیا؟ اور اس کا جواب بھی وہ یہی دیتا ہے ، ” سکون کیلئے ” ، مزید کہتا ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ ہمیں کسی کے کام میں کوئی مادی فائدہ بظاہر نظر آئے بلکہ ہمیں وہ فائدہ شاید سمجھ بھی نہ آئے کہ مثلاََ اس کام میں اس کا کیا فائدہ ہو گا؟ لیکن اس کا فائدہ ہوتا ہے بس یہ کہ ہمیں سمجھ نہیں آتا ، اگر اگر کسی شہید سے پوچھیں جس نے اپنی جان قربان کی ہو ، تو وہ آپ کو بتا دے گا کہ اسے جان قربان کرتے ہوئے کتنا ” سکون ” ملا ، یا کسی زخمی سے پوچھیں جس نے جنگ میں بغیر کسی مادی فائدے کے گولی کھائی ہو ، اسے اس کے احساس پوچھیں ، وہ ” اپنی خوشی ، اپنا سکون ، اپنے احساس کی خوبصورتی ” بیان کر کے آپ کو بتا دے گا کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔

مختصر یہ کہ ہم دوسروں پر اپنی جان بھی اپنی ہی ذات کیلئے قربان کرتے ہیں۔ بلاشبہ ملک کی سرحدوں پر کھڑے سب ہی جان قربان کرنے کی غرض سے فورسس کی نوکری جوائن نہیں کرتے ، لیکن ان میں سے خوش نصیب شہادت کا رتبہ پا لیتے ہیں۔
لیکن یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ چند ہزار کیلئے کوئی انسان جان قربان کر دے ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی ایسی چیز کیلئے جان قربان کرتے ہیں جو ان کے مطابق ان کی جان سے زیادہ قیمتی ہے۔ کیونکہ کوئی بھی انسان کسی ایسی چیز کیلئے جان قربان نہین کرتا جو خود اس سے قیمتی نہ ہو۔
آپ کسی بچہ کے پاس دس روپے دیکھیں ، تو اسے پانچ روپے دیں اور کہیں کہ اس کے بدلے میں وہ آپ کو دس روپے دے دے ، ہم سب کو معلوم ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے ، کیونکہ اسے معلوم کہ دس کے نوٹ کی قیمت پانچ کے سکے سے زیادہ ہے۔ تو انسان قیمت دیکھتا ہے ، اور جب قیمت دیکھتا تو ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ کام ” بےغرض ” ہے؟
یہ قیمتی چیز شہادت بھی ہو سکتی ہے ، لیکن شہادت کیلئے انسان کیوں تیار ہوتا ہے؟ کیونکہ اس کو اپنی آپ کیلئے بڑے اجر یعنی بہشت کے ملنے کی امید اور یقین ہوتا ہے ، یا وہ اسے باعثِ افتخار سمجھتا ہے کیونکہ شہادت انسان کو معتبر ، معزز اور بلند درجہ بناتی ہے۔ یا وہ یہ سوچتا ہے کہ ریاست کو مضبوط بنائے اور سلامت رکھے تاکہ اس کی نسلیں اور اس میں بسنے والے مسلمان امن و سکون سے زندگی گزار سکیں ، مسلمانوں کے امن و سکون سے زندگی گزارنے کا بلاواسطہ فائدہ قربان ہونے والے کو نہیں ہے ، بلکہ ایک تو وہ اپنے قریبی رشتوں سے محبت کے احساس کی وجہ سے ان کی محافظت کا سوچتا ہے ، یا وہ مسلمانوں کی خیرخواہی اور اسلام کی سربلندی کیلئے سوچتا ہے۔ قریبی رشتوں کی محافظت ہم اس لیے چاہتے ہیں کیونکہ ہم انہیں اذیت میں دیکھ کر تکلیف محسوس کرتے ہیں ، اس لیے اپنی اذیت دور کرنے کیلئے ہم ان کو ہر ممکن سکون میں دیکھنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کی خیرخواہی سے ہمارا مقصد خدا کی قربت ہوتا ہے ، اور خدا کی قربت کی چاہت مسلمان اپنی ذات کی سربلندی اور بلند اجر و انعام کیلئے کرتا ہے ، نہ کہ خدا کیلئے ، چونکہ خدا بےنیاز ہے۔
.
اگر غور کریں تو ہر صورت میں جان قربان کرنے کا آخرکار مقصد اور منزل انسان کی اپنی ذات ہے۔
ہم محبت کرتے ہیں کیونکہ ہمیں حُسن ” اچھا اور سکون بخش ” لگتا ہے ، حُسن سے مراد چہرے یا جسم کی خوبصورتی نہیں ہے ، بلکہ ” خیر اور اچھائی ” مراد ہے ، شخصیت کی خوبصورتی مراد ہے۔ ہم خوبصورت چہرے اور ہر خوبصورت چیز کیوں پسند کرتے ہیں؟ ہمیں کوئی کالا اور بد صورت چہرہ کیوں پسند نہیں آتا ؟ یا ہم سچے وفادار اچھے نیک اور پارسا انسان کو ہی کیوں پسند کرتے ہیں؟ کسی چور ڈاکو خیانت کار بے ایمان جھوٹۓ انسان سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟ اس لیے کیونکہ ہم فطرتاََ ” حُسن اور اچھائی ” کو پسند کرتے ہیں۔

یا اس کو مزید آسان کر کے بیان کریں ، جب انسان خدا راہ میں کچھ کرتا ہے یا مثلاً جان قربان کرتا ہے ، تو کیا وہ خدا کیلئے کرتا ہے؟ یعنی کیا خدا کو اس کی ضرورت اور احتیاج ہے؟ یا اس لیے کرتا ہے کہ انسان خدا کی قربت چاہتا اور یہ چاہتا ہے اس کی ذات خدا کے قریب ہو جائے اور خدا کے نزدیک وہ خود بلند مقام پائے ، اس لیے ہم ہر عبادت کی شروعات قربتہ الی اللہ سے کرتے ہیں یعنی اللہ کی قربت کیلئے ؟
.
صدقہ خیرات ، یتیموں غریبوں کی مدد ، رحمدلی ، جانثاری ، محبت ، الغرض ہر عبادت ہم قربتہ الی اللہ کی نیت سے شروع کرتے ہیں ، یعنی ہم یہ کام خدا کی قربت کیلئے کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کام کے زریعے خدا ہمیں اپنے قریب کرے۔ اگر خدا نے کسی انعام ثواب کا وعدہ نہ دیا ہوتا تو آپ نے نماز کیں پڑھنی تھی؟ یا سچ کیوں بولنا تھا؟ سخت گرمیوں میں اپنا روزہ کیوں رکھنا چاہیں گے اگر اس کا کوئی مقصد نہ ہو آپ کو اس سے کچھ حاصل نہ ہوتا ہو؟ یعنی روزہ سے کسی دوسرے انسان کو فائدہ ہے؟ یا خدا کو فائدہ ہے؟ تو پھر کس کو فائدہ ہے؟
انسان کی اسی فطرت کے پیش نظر خدا نے انسان کو انعام کا وعدہ دیا ہے کیونکہ اس نے انسان کو بنایا ہی ایسا ہے کہ وہ بغیر کسی ذاتی مقصد کے کوئی بھی کام انجام نہیں دیتا ، اس لیے وہ بار بار کہتا ہے کہ یہ کرو تو یہ ملے گا وہ کرو تو وہ ملے گا۔
یا اس پر غور کریں کہ انسان کی زندگی یا تخلیق کا الٹیمیٹ مقصد کیا ہے؟
یقیناََ مسلمان کا جواب عبادت ہو گا ، عبادت ہم کیوں کرتے ہیں؟ خدا کیلئے ؟ یا اپنے لیے؟
خدا کے لیے کیے گئے کام سے بڑھ کر کوئی سیلف لیس کام اور کوئی ہو سکتا ہے؟ اور جب خدا کیلئے کیے گئے کام کا مقصد تک انسان کی اپنی ذات ہوتی ہے تو باقی کسی اور کیلئے کیے گئے کسی کام کا مقصد اس کی ذات کے سوا کیسے ہو سکتا ہے۔

جسٹن سنو….
انتخاب… فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY