سینیٹ میں سابق قائد حزب اختلاف بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی دیکھیں، شہباز تو پہلے سے ہی خاموشی کے حامی تھے، شہباز شریف تو وہ بھائی ہیں جنہوں نے نواز شریف کو لینے ائیر پورٹ پہنچنے کی بھی کوشش نہیں کی، نواز خاندان این آر او کرچکا ہے۔

انہوں نے ہم نیوز کے پروگرام بڑی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف ایک دن بھی اسپتال میں داخل نہیں ہوئے جبکہ انہوں نے سیاسی ملاقاتیں بھی کیں، میاں صاحب اپنے لیے حالات خراب کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت نہیں دے سکتی کیونکہ وہ سزا یافتہ ہیں، قانون بڑا بےدردر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے حق میں عدالتوں نے بہت فیصلے دیئے ہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر ن لیگ اور پیپلز پارٹی قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) مانگ بھی رہی ہے تو وہ حکومت ہی دے گی، انہوں نے کہا کہ نواز شریف ایوان فیلڈ میں جاکر رہتے ہیں۔

رہنما پیپلز پارٹی نے زرادری پر عائد الزامات سے متعلق کہا کہ جی آئی ٹی رپورٹ اتنی موثر نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال سے بلاول بھٹو کو پانچ برس پہلے ہی سب سنبھال لینا چاہیئے تھا اور پارٹی میں اصلاحات ہونی چاہیئے تھیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ پارٹی کو آصف علی زرداری کی ضرورت ہے، بلاول بھٹو کی شخصیت ابھر کر سامنے آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ این آر او دینے کےلیےقانون سازی کرنی ہوگی، شہبازشریف کواپوزیشن لیڈرکا عہدہ چھوڑنا چاہیے کیونکہ لگتا ہے ان کا جلدی پاکستان واپسی کا کوئی ارادہ نہیں لیکن عہدہ چھوڑنےپرشریف خاندان کوبہت سیاسی نقصان ہوناچاہیے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ بیرون ملک رہنے پرشہبازشریف عدالت سے مفرور ہوجائیں گے۔

کم عمری کی شادیوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ جب یہ ایکٹ پاس پونے کے لیے پیش ہوا تو ہندو مذہبی رہنماؤں اور کئی علما نے اس کی مخالفت کی اور محمد علی جناح نے اکیلے اس بل کو پاس کرایا۔

SHARE

LEAVE A REPLY