صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں عسکریت پسندوں نے پاکستان میں آئل اور گیس سروے کرنے والی پولینڈ کی کمپنی کے 6 پاکستانی ورکرز کو اغوا کرلیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق مقامی سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے ان 6 افراد کو ڈیرہ اسماعیل خان سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر درازندہ گاوں کے قریب سے ان کی گاڑی سے نکالا اور اغوا کرکے ساتھ لے گئے۔
جیوفیزیکا کراکوو نامی کمپنی پولینڈ کی سرکاری کمپنی پی جی این آئی جی کی ذیلی کمپنی ہے تاہم ان کی جانب سے مذکورہ واقعے کے حوالے سے موقف سامنے نہیں آیا۔
پی جی این آئی جی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘اغوا کیے جانے والے افراد جیوفیزیکا کراکوو کمپنی کے کانٹریکٹرز تھے، جو کاروبار ختم کرچکی ہے اور وہ پولینڈ کے شہری نہیں تھے’۔
انھوں نے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا۔
ادھر پولینڈ کی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ مذکورہ گروپ میں کوئی بھی پولینڈ کا شہری شامل نہیں تھا اور اسلام آباد میں قائم پولینڈ کا سفارت خانہ مذکورہ صورت حال کی مانئٹرنگ کررہا ہے۔
فوری طور پر کسی بھی عسکریت پسند تنظیم یا گروپ نے جیوفیزیکا کراکوو کمپنی کے ورکرز کو اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم ماضی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجووں نے اس علاقے میں متعدد افراد کو تاوان کیلئے اغوا کیا تھا۔
خیال رہے کہ یہ علاقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کی ایجنسی جنوبی وزیرستان سے منسلک ہے جس کی سرحدی افغانستان کے ساتھ جا لگاتی ہیں، اس علاقے میں اکثر و بیشتر کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے شدت پسند کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔
سال 2008 میں غیرملکی فرم میں کام کرنے والے انجینئر کو ٹی ٹی پی نے اٹک سے اغوا کیا تھا اور کئی ماہ کے بعد ان کا سرقلم کردیا تھا۔
خیال رہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی صورت حال میں حالیہ کچھ سالوں میں بہتری آئی ہے تاہم افغان سرحد سے منسلک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اب بھی بدامنی پائی جاتی ہے اور یہ علاقے اب بھی غیرملکی کمپنیوں اور غیرملکی باشندوں کیلئے خطرناک تصور کیے جاتے ہیں۔












