یہ سال سب کو بہت بہت مبارک ہو ۔سب ہی پچھلے سال میں ہونے والے واقعات پر بات چیت کرتے نظر آرہے ہیں ۔لیکن ہم کچھ نئی بات کرنا چاہتے ہیں ،ویسے تو ہمارے کالم پڑھنے والے بہت کم بلکہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں لیکن ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ نمک کے بغیر زائقہ نہیں آتا ۔اور یہ ہی بات ہمیں لکھتے رہنے پر اُکساتی ہے ۔بات تھی گزرتے سال کی اُس میں تو وہ کچھ ہوا جو ہمارے خواب اور خیال میں بھی نہیں تھا ۔بلکہ اکثر تو ہم اُن خواہشات پر کہ، کبھی احتساب ہوگا یا ہم بھی دیکھ سکینگے کہ عدلیہ بھاری ہے ۔فوج اور حکومت ایک ساتھ ہیں ایک سی سوچ رکھتے ہیں اختلاف نہیں ہیں تو ہم ٹھنڈی ٹھار سانس لے کر رہ جاتے تھے ۔لیکن دو ہزار آٹھارہ نے جو سب سے بڑی تقویت ہمیں دی وہ ہے اں تین اداروں کی مثلث جو ایک بنی اور ملک کے اُن معاملات پر ڈٹ کر کھڑی ہوگئی جنہوں نے ہمیں دکھوں تکلیف اور شرمندگی کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ہماری دعا ہے کہ آنے والے سالوں میں بھی یہ مثلث اسی طرح بنی رہے تاکہ کم از کم وہ مسائل جو کرپشن اور برائیوں کے فروغ سے پیدا ہوتے ہیں اُن میں کمی آئے ۔
بات یہ بھی حق ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ بے ایمانی اور کرپشن جڑ سے ختم ہو جائیگی یہ ناممکن بات ہے لیکن کم ضرور ہونی چاہئے۔ اور اداروں سے نکل جانی چاہئے تاکہ صرف افراد تک محدود ہو جائے جنہیں پکڑنا بھی آسان ہو اور سزا بھی سخت سے سخت دی جا سکے ۔۔ہماری تو ایک ہی سوچ ہے کہ جب تک سزائیں نہیں دی جائینگی سب کو محترم بنائے رکھا جائے گا یہ طوفان تہمے گا نہیں ۔کیونکہ جب ناسور پھیل جاتا ہے تو اُسے جسم سے کاٹ کر پھینکنا پڑتا ہے ورنہ وہ دوسرے اعضاء کو بھی نقصآن پہنچاتا ہے ۔اس لئے سرجری لازم ہے سخت اور بے رحمانہ سرجری ۔صرف بیانات یا باتیں کسی بھی برائی کو نہ ختم کر سکتی ہیں نہ اُن میں کمی آسکتی ہے ۔اس لئے عدلیہ کو فعا ل ہونا بہت ضروری ہے کہ اُن مقدمات پر جو ملک اور قوم کے سامنے کُھل کر آرہے ہیں زیادہ وقت نہ لگائے ۔اکثر انصاف دینے یا سزا دینے میں وقت لگانے سے بجائے مثبت کے منفی نتائج بھی بر آمد ہوتے ہیں ۔کیونکہ عوام اکثر بہت ہلکی یاد داشت رکھتے ہیں اور ایک جیسے بیانات سُن سُن کر وہ اُن بیاننات پر ہی بھروسہ کرنے لگتے ہیں جو مجُرمان کی طرف سے میڈیا پر بڑھ چڑھ کر بیان کئے جاتے ہیں ۔عوام معصوم تو ہے لیکن بے وقوف نہیں ۔لیکن اکثر اُسے جاگنے میں تھوڑا وقت لگ جاتا ہے جو ملزموں کو بہت کچھ فائدہ دے دیتا ہے ۔
ایک بات جو ہم بہت عرصے سے محسوس کر رہے ہیں جس پر ہماری نئی حکموت نے بھی کچھ توجہ نہیں دی وہ ہے افواہیں ۔اگر میڈیا کو سختی سے اس بات کا پا بند کر دیا جائے کہ جب تک خبر کی بالکل تصدیق نہ کر لی جائے وہ نشر نہیں ہوگی اور جو کوئی بھی ایسا کرے گا اُس کے لئے کوئی جرمانہ بھی رکھ دیا جائے تو شاید یہ جو ہم ہر روز ایک نئے انتشار اور بلا وجہ کے شکوک اور شبھات میں مبتلا ہوتے ہیں اس سے نجات مل جائیگی ۔ملک میں ہر شعبے کے لئے قانون سازی بہت ضروری ہے وہ قانون بنائے جائیں جو ملک اور عوام کے لئے بہترین ہوں جن سے ملک کی ترقی اور خوشحالی کی طرف قدم بڑھائے جا سکیں ۔کیونکہ جب تک قانون نہیں بنائے جائینگے ،اُن پر عمل نہیں کرایا جائیگا یہ مشکلیں کم نہیں ہونگی بلکہ بڑحتی رہینگی ۔
ایک دم سے ایسا لگ رہا تھا کہ زرداری صاحب بس اب گئے اور جب گئے یہ بھی میڈیا کی کرم نوازی تھی لیکن جب عدلیہ پہنچے تو بہت ساری سرزنشوں کے ساتھ یہ بھی کہا گیا جیسا کہ ہم نے میڈیا میں پڑھا کہ ایک وزیرِ اعلیٰ کو کیسے ای سی ایل پر ڈالا جا سکتا ہے ؟ ہم بہت ہی کم عقل اور نا فہم قسم کے انسان ہیں ہماری سمجھ ہی میں نہیں اآیا کہ جس ملک سے ایک سابق وزیرِ اعظم اپنے وزیرِ خزانہ کو جہاز میں بٹھا کر رخصت کرتا ہے کہ ۔“کبھی بھول کر نہ آنا ملک کی عدلیہ کی جانب “ جہاں ایک سفیر بھاگ لیتا ہے کچھ عرصہ مزے سے ایوانِ صدر میں گزار کر ۔جہاں ایک صاحبزادے چلے جاتے ہیں ملک چھوڑ کر ۔جہاں اتنے سارے لوگ صرف اس وجہ سے عدلیہ کے ہتھے نہیں اآتے کہ اُن کے نام ای سی ایل میں نہیں ہوتے تو پھر جناب جسٹس صاحب کیا کیا جائے ۔یا پھر بڑے واقعئی بڑے ہیں ان پر کوئی سختی نہیں ہونی چاہئے ؟؟؟؟یا پھر معیار۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے سابق وزیرِ اعظم آج کل بچوں کو پڑھا رہے ہیں کیونکہ قید با مشقت ہے ،اب یہ کتنی مشقت ہے ہمیں نہیں پتہ اور یہ مشقت اُٹھائی بھی جارہی ہے یا نہیں یہ بھی ہم نہیں جانتے مگر اتنی دعا ضرور ہے کہ وہ بچے واقعئی کچھ اچھا پڑھ لکھ لیں ۔لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ بڑوں کے لئے جیل کی کلاس بھی بڑی ہوتی ہے انہیں وہاں ائیر کنڈیشن بھی ملتا ہے سردیوں میں ہیٹر بھی مہیا ہوتا ہے ،کھانا بھی گھر کا ،اخبار بھی مئیسر۔ کرسی میز بھی موجود ۔ہمارا سوال ہے کہ کیا ملک کے ہر قیدی کو یہ سہولتیں حاصل ہیں ؟ ہماری تو سوچ یہ ہے کہ ان بڑے قیدیوں کو تو کچھ بھی سہولت نہ ملنی چاہئے کیونکہ یہ زیادہ مجرم ہیں کیونکہ ملک اور قوم کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں عوام کو بھینٹ چڑھاتے ہیں اپنی دولت کے لئے ۔ان کا جرم تو ایک چھوٹے مجرم سے کہیں زیادہ بڑا ہے پھر انہیں یہ سہولتیں کیسی ۔جب ہی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ قید سے جب اسمبلی میں آتے ہیں تو بالکل ہشاش بشاش ہوتے ہیں کہیں پتہ نہیں چلتا کہ کوئی قیدی ہے ۔یہ بھی ایک مزاق ہی ہے قوم کے ساتھ ۔
فیصلے عجیب و غریب ہیں جو کہتے ہیں کہ نیب نے شواہد پیش نہیں کئے اب کیا نیب سے سوال نہیں ہونا چاہئے یا اُن نیب کے ارکان سے نہیں پوچھنا چاہئے جو مقدمات کے لئے کام کرتے ہیں کہ وہ شواہد جو میڈیا چیخ چیخ کر دیتا ہے جو لوگ سامنے لاتے ہیں جن پر آپ خود بات کرتے ہیں وہ جج کے سامنے کہاں چلے جاتے ہیں کہ ملزم صاف ستھرا ہو جاتا ہے ۔ہم کسی کے بھی خلاف نہیں ہیں اور ہر دم یہ ہی دعا کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں لوگ اپنی حیثیت اور اپنے عہدے کے لئے کسی بھی ہیرا پھیری کی طرف نہ جائیں بلکہ انتہائی ایمانداری سے اپنے کام سر انجام دیں تاکہ اُن کے بعد آنے والے بھی ایمانداری اور سچائی کو اپنائیں یہ صرف اخلاقی زمے داری نہیں ہے مزہبی زمے داری بھی ہے ۔پھر کیسے یہ الزام ختم ہو جاتے ہیں اور اگر غلط بات کی گئی تھی تو اس کے شواہد بھی پیش کئے جانے چاہئیں تاکہ لوگ بلا وجہ امیدیں نہ باندھیں کہ کرپشن ختم ہورہی ہے ۔
امید ہے کہ نئے سال میں بھی کچھ اچھی اور مثبت باتیں ہونگی ۔لوگ اپنی کمزوریوں کو دور کرینگے ۔ملک اور قوم کے ساتھ ساتھ اپنے لئے بھی اچھے راستے کا انتخاب کریں گے ۔اور حکومت اس مثلث کو ٹوٹنے نہیں دے گی جوبڑی خواہش کے بعد ملک میں بنی ہے ۔
ہماری دعا ہے کہ یہ سال آپ سب کے لئے بھی خوشیاں ،صحت اور ترقی ساتھ لے کر آئے ۔آمین

SHARE

LEAVE A REPLY