پاکستان میں جس طرح میڈیا فوجی سربراہ کی تقرری کے بارے میں خیال آرائیاں کرتا ہے اس طرح دنیا کے اکثر ملکوں میں نہیں ہوتا۔ اس مرتبہ بھی جنرل راحیل شریف کی جگہ لینے والے فوجی جرنیل کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں۔ کیا پاکستان کا میڈیا کسی غیر معمولی جنون میں مبتلا ہے؟ ہمارا خیال ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ پاکستانی ریاست کے اہم ترین فیصلے اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو میڈیا جائز طور پر فوجی رہنماؤں کی تقرری کے بارے میں اظہار خیال کرتا رہتا ہے۔ در اصل پاکستان ایک سیکورٹی ریاست ہے جس میں سویلین حکمرانوں کی آراء اور پالیسیاں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ نظریاتی طور پر دیکھیں تو پاکستان کے سماج کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بنیادی تضاد ہے۔ پاکستانی سماج کا اندرونی ارتقا ایک خاص سمت میں ہورہا ہے جسے سیکورٹی ریاست اپنی نظریاتی ضرورتوں کے تابع کرنے کی مسلسل کوششیں کرتی رہتی ہے۔

پاکستان جب معرض وجود میں آیاتھا تو اس میں سماجی اور سیاسی ادارے نہ ہونے کے برابر تھے۔ ہندوئوں اور سکھوں پر مشتمل شہری درمیانے طبقے کی ہندوستان منتقلی کے بعد ایک بہت بڑا اداراتی خلا پیدا ہوگیا تھا۔ یہ خلا حکومت کو چلانے والے اداروں کا بھی تھا اور نظریاتی بھی۔ اس خلا کو ریاستی سطح پر فوج نے پر کیا اور نظریاتی سطح پر یوپی سے آنے والے مہاجرین نے۔ یہ کوئی سازش نہیں تھی بلکہ صورت حال ایسی تھی کہ سویلین ادارے ریاست کو چلانے کی اہلیت سے عاری تھے لہٰذا اسٹیبلشمنٹ کی دراندازی عین فطری تھی۔ اسی طرح سے چونکہ پاکستان کی مختلف قومیتوں میں خواندگی کی شرح بہت کم تھی لہذا اردو بولنے والے مہاجرین نے نظری ساخت کی تعمیر میں رہنما کردار ادا کرنا شروع کردیا تھا۔ ان دونوں طاقتوں کے سنگم سے مخصوص طرز کا نظریہ پاکستان وجود میں آیا جس میں مذہب اور مخصوص زبان نئی ریاست کی پہچان بن گئے۔ پاکستان کی بقیہ تاریخ اسی مخصوص نظریہ پاکستان کے گرد گھومتی رہی ہے۔

پاکستان میں مخصوص نظریہ پاکستان کی تشکیل بظاہر ستر کی دہائی کے بعد کھل کر سامنے آئی لیکن اس کی بنیاد قرارداد مقاصد سے رکھ دی گئی تھی۔ برسبیل تذکرہ یہ بھی مدنظر رہے کہ قرار داد مقاصد سیکورٹی اداروں کی بجائے سویلین حکمرانوں نے متعارف کروائی تھی۔ ایوب خان کے 1958کے مارشل لاء کے بعد بظاہر سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اور مذہبی جماعتوں کے درمیان گہرا تضاد نظر آتا ہے (جماعت اسلامی کا معتوب ہونا) لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی: ایوب خان بھی پاکستان کی شناخت کو ہندوستان دشمنی کے حوالے سے دیکھتے تھے۔ یہی وہ نظریاتی اساس تھی جس کے تحت پاکستان کو کشمیر کے حوالے سے پالیسی بنانا پڑی۔

میدان جنگ میں جو بھی نتیجہ برآمد ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے لیکن یہ بات اکثر اوقات نظر انداز کردی جاتی ہے کہ 1965کی جنگ کے بعد پاکستانی معیشت کو ایک زور کا دھکا لگا اور ایوب کے پہلے سات سالوں کی معاشی ترقی معاشی بحران میں ڈھل گئی۔ دنیا کی سپر پاورز پاکستان کے بارے میں مشکوک ہو گئیں اور ملک بحرانی دور میں داخل ہو گیا۔ یحییٰ خان کے دور میں نہ صرف مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا بلکہ ملک کے تمامتر ادارے انحطاط کا شکار ہو گئے۔جب ذوالفقار علی بھٹو نے حکومت سنبھالی تو ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہو چکا تھا۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ یحییٰ خان کے دور میں اسلامائزیشن کو کافی بڑھاوا ملا۔لیکن بھٹو دور میں سویلین اداروں کی ترتیب و تدوین کی بہت کوششیں کی گئیں لیکن اسلامائزیشن کا عمل بھی تیز تر ہو گیا۔ یہ وہ دور ہے جب فوج اور مذہبی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ ملا۔ چنانچہ ضیاء الحق دور کے آتے آتے پاکستان میں سیکورٹی ریاست اپنی جڑیں بہت گہری کر چکی تھی۔ ضیاء الحق کے دور میں جس رفتار سے سیکورٹی ریاست کا دائرہ کار بڑھا اسی رفتار سے سویلین اداروں کا انحطاط بھی ہوا۔ ضیاء الحق کے دور کے خاتمے تک سول اداروں کی اکثریت ترقی معکوس کا شکار ہو چکی تھی۔

یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ بہت سے ترقی پسند حلقے بھی سیکورٹی ریاست کے مخصوص ارتقاکو نظرانداز کرتے رہے ہیں۔ ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ پاکستان کے عوام کا ہندوستان کی توسیع پسندی کے ساتھ بنیادی تضاد ہے۔ اگرچہ ہندوستان کے توسیع پسندانہ رجحانات واضح ہوتے جا رہے ہیں لیکن پاکستان کی سیکورٹی ریاست اس پہلو کو اپنے گروہی مفادات کے لئے استعمال کرتی ہے۔ پاکستان کی نیوکلیئر اہلیت کی وجہ سے ہندوستان کے توسیع پسندانہ عزائم محض نصابی بحث ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم تاریخ کے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں سیکورٹی ریاست کے اندرون ملک اثرات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جنرل ضیاء الحق سے لے کر اب تک سویلین اداروں اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تضاد گہرا ہوتا چلا گیا ہے۔ اس عرصے میں اگرچہ جنرل مشرف نے آٹھ سال براہ راست حکومت کی لیکن سویلین حکومتوں کے ادوار میں بھی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کا پلڑا بھاری رہا۔آج بھی ملک کے سویلین ادارے بالغ نظری سے قاصر ہیں۔ جب بھی سویلین ادارے اپنی جڑیں پکڑنا شروع کرتے ہیں سیکورٹی ریاست ان کے راستے میں آجاتی ہے۔ پچھلے آٹھ سالوں کے جمہوری دور میں سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ مختلف پہلوئوں سے حاوی رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان خطے میں سب سے پیچھے رہ جانے والا ملک بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان کی نجات اسی میں ہے کہ سیکورٹی ریاست ایک سویلین فلاحی نظام میں ڈھل جائے۔ خود سیکورٹی اداروں کا مفاداس حقیقت میں مضمر ہے کہ سول ادارے تیزی سے ترقی کریں تاکہ ملک میں معاشی اور سماجی ترقی کا عمل تیز ہو

بشکریہ جنگ

SHARE

LEAVE A REPLY