خواتین ہرملک کی ترقی کاستون ہوتی ہیں۔ثنا ظہیر

0
991

ہر ملک کی معاشی حالات کوتبدیل کرنے کیلٸے خواتین کوبھی اپنا حصہ ڈالناچاھیٸےاور بہترین سے بہترین سوچ اور مضبوطی کے ساتھ آگے قدم بڑھانے چاھیٸے
خواتین گھر سے لیکر باہر کی دنیا تک ہر ملک کا اک بہترین ستون سمجھی جاتی اور مانی بھی جاتی ہے اس لیٸےخواتین کوکمزورسمجھنے کے بجاٸے اک پتھر کی مثال کے طور پراجاگر ہونے کی ضرورت ہے

اپنے خاندان کی معاشی حالات کی بہتری میں خواتین کو اپنا کردار ضرور ادا کرنا چاہیے اگر آپ اپنے گھر یا فلیٹ کے ایک یا دو کمروں کو کاروبار کے لیۓ مختص کر لیں اور اس کے اندر روزمرہ کے استعمال کا منیاری کا سامان لا کر بھر دیں تو آپ اپنی گلی ، محلے , گاؤں ، قصبے یا شہر کی ان خواتین یا بچیوں کے لیۓ فرشتہ رحمت ثابت ہونگی جو بازار جا نہیں سکتیں یا جانا نہیں چاہتیں ۔ آپ بڑے شہروں سے تھوک سامان لا کر بازار سے کم قیمت پر یہ منیاری کا سامان بیچ سکتے ہیں کیونکہ نہ آپ نے دوکان کا کرایہ دینا ہے ، نہ ملازموں کی تنخواہیں ، خواتین ہی منیاری کے سامان کی 99۔99٪ خریدار ہوتی ہیں اور وہ خواتین سے ہی اشیاء خریدنے میں اطمینان یا ایزی محسوس کرتی ہیں جیسے میک اپ کا سامان یا زیر جامہ کپڑے ، سلائ کڑہائ کا سامن ، کپڑے دھونے کا صابن ، نہانے کا اور عورتوں کا مخصوص اور مخصوص دنوں کا سامان , سٹیشنری ، بچوں کے کپڑے، غرضیکہ جو بھی ایک منیاری کی دوکان پر سامان آب لا کر بیچ سکتی ہیں۔ یقین کریں کہ آپ کی سیل دنوں میں شہر یا قصبے کی کسی اچھی دوکان سے بھی زیادہ ہو جائیگی چونکہ اس سامان کی خریدار عورتیں ہیں اور وہ یہ چیزیں مردوں سے لینا پسند نہیں کرتیں پلس آپ کی قیمتیں بازار سے کم ہونگی اسمیں آپ ورائیٹی زیادہ رکھے تعداد بیشک کم ہو ، اپنے پڑوسیوں اپنے علاقے یا کسٹمرز کی قوت خرید کے حساب سے چیزوں کا معیار رکھیں کم بجٹ سے شروع کریں اور سیل کے منافع سے اپنی دوکان بڑی کرتے جائیں
مرد حضرات سامان کی خریداری میں اپنی خواتین کی مدد کریں۔
نوٹ : میں نے حضرو کے نواح میں ایک بیوہ عورت کو اس کام کا کوئ 6 ماہ قبل مشورہ دیا تھا جسے کھانے کےلالے پڑے تھے، اس نے کچھ زیور بیچ کر یہ کام شروع کیا تھا آج الحمدوللہ وہ اپنی یتیم بیٹیوں کے لیۓ جہیز کا سامان اکٹھا کر رہی ہیں
سوچیے نہیں عمل کیجیے
ثنا ظہیر

SHARE

LEAVE A REPLY