سب سے پہلے تو ہماری ایک سوچ ہے کہ ہمیں اپنے ملک میں اپنے نظام کو لانا چاہئے نہ چین کا نہ جاپان کا نہ ملائیشیا کا اور نہ مصر شام یا مغربی ممالک کا ۔ہمیں پتہ ہونا چاہئے کہ ہمارے ملک کے لئے کیا فائدہ مند ہے کیوں ہم اپنی سوچ اور اپنی طاقت پر بھروسہ نہیں کرتے کیا ہمارے یہاں دماغوں کی کمی ہے ؟کیا صلاحیت کی کمی ہے ؟کیا سوچ کی کمی ہے َ کیا زہانت کی کمی ہے ؟ نہیں ہر گز نہیں ہمارے دماغ دوسرے ملکوں میں جاکر وہاں کی معشت کو سہارا دیتے ہیں وہاں کے اداروں میں کام کرتے اور اپنی شخصیت منواتے ہیں تو کیوں ہم اپنے لوگوں کی عقل اور فہم کو اپنے ملک کے لئے استعمال کرنے سے ہچکچاتے ہیں کیوں ہم اُن دماغوں کو استعمال نہیں کرتے جو شاید ساری دنیا سے بہتر ہیں اگر انہیں صحیح استعمال کیا جائے ۔ اس لئے تبدیلیاں اپنے لئے ضروری ہیں ۔خود کو طاقتور بناؤ تو کوئی بھی ہمارے آگے کچھ نہیں بیچتا ۔ہماری تو خواہش تھی کہ اس دفعہ پیٹ پر پتھر باندھ لئے جاتے اور ان شرمندگیوں سے نجات پا لی جاتی جو ہمارا مقدر بنا دی گئی ہیں ۔
ہمارے ملک میں جمہوریت کا جھنڈا جن لوگوں نے اُٹھایا ہوا ہے وہ جب چاہے جس طرح چاہے جمہوریت کو استعمال کرتے ہیں ۔جس کا مظاہرہ ہم ہر روز ہی دیکھتے ہیں ۔لیکن ہمارے یہ جوان جو نئے نئے سیاست میں قدم رنجہ فرما رہے ہیں جنہیں شاید یہ بھی نہیں پتہ کہ جمہوریت ہے کس چڑیا کا نام وہ جس کر و فَر سے جمہوریت کی بات کرتے ہیں وہ بھی ایک تماشہ ہی ہے ۔وہ لوگ جنہوں نے کبھی نہ کمایا نہ کوئی جد و جہد کی نہ ملک کے کسی ادرے کے ساتھ وابستہ رہے نہ ہی ملک کے لئے کوئی کام کیا بس اپنے والد بزرگوار کی چھتری تلے سیاست دیکھی اور اُن ہی کی سیاست کو سیاست سمجھا ،جس میں عیش و عشرت کے سوا کچھ نہیں ہے،جس میں لوٹ کھسوٹ جائز ہے ،جس میں اقدار کی کوئی بات نہیں ہے ،جو صرف اور صرف مفادات پر مبنی ہے وہ جس طرح جمہوریت کے بارے میں بیانات دیتے ہیں اُن پر قہقہے لگانے کو جی چاہتا ہے ۔
زرداری نے اپنے بچوں اور نوازی بچوں اور فضلی بچوں کو جس طرح جمہوریت سونپنے کا اعلان کیا ہے وہ بھی ایک بیمار زہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔شاید زرداریوں کو یہ نہیں پتہ کہ یہ اکیسویں صدی ہے اور عوام کی آنے والی نسلیں پچھلی نسلوں سے ہر طرح بہتر اور زہین ہوتی ہیں کیونکہ وہ ایک نئے دور میں جنم لیتی ہیں جب ریڈیو ماضی کی بات ہو جاتی ہے، جب اخبار ہر کسی کے فون پر آجاتا ہے ۔جب ایک لمحے میں خبریں ساری دنیا میں پھیل جاتی ہیں، جب سب کچھ سامنے آجاتا ہے بغیر کسی تردُد کے ،بغیر کسی محنت کے ،
یہ اولادیں جنہیں زرداری صاحب ملک بھی شاید وراثت سمجھ کر بانٹ دینا چاہتے ہیں، کیونکہ انہیں یہ خوش فہمی ہے کہ ملک بس اُن کے اور اُن کے خاندان کے لئے بنایا گیا تھا ۔ہمارا مشورہ ہے زرداریوں ۔شریفوں اور فضلیوں کو کہ خوابِ خرگوش سے جاگ جائیں ۔اب عوام بہت باشعور اور سوچ سمجھ رکھنے والی ہے ۔اب وہ ان باتوں میں نہیں اآئیگی ۔
میڈیا پر جس طرح ان لوگوں کی بے وقوفیوں اور انداز کی تشہیر ہو رہی ہے وہ بھی کافی ہے ان کے عزائم بتانے کے لئے ۔جس طرح بلاول جواب دئے بغیر اُٹھ جاتے ہیں یا اُن کا دفاع کرتے ہیں جو ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں چوکیوں پر حملے کر رہے ہیں فوج کو بدنام کر رہے ہیں اس سے بھی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ لوگ کتنے عوام کے ساتھی ہیں ۔۔ حکومت اکثر مقامات پر کمزور محسوس کی جارہی ہے کیوں ؟ یہ وہ ہی کیوں ہے جو ہم پچھلی حکومتوں کے لئے بھی استعمال کرتے آئے ہیں ۔اس حکومت کے لئے استعمال کرنے کو دل تو نہیں چاہ رہا تھا لیکن جب محسوس ہوا کہ ضروری ہے تو اُجاگر ضرور کرنا چاہئے اس لئے ہم سوچ رہے ہیں کہ جب پشتون تحریک کے بارے میں اتنی باتیں سامنے لائی گئی تھیں تو کیوں انہیں نہیں پکڑا گیا ؟۔پھر جب داوڑ نے کہا کہ وہ افغانی ہے ،تھا اور رہے گا تو اُسکی رکنیت کیوں ختم نہیں کی گئی ۔؟ اب یا تو وزیرِ اعظم بے خبر ہیں یا انہیں ان معاملات سے بے خبر رکھا جارہا ہے ۔اگر ایسا ہے تو فرق کہاں سے دیکھیں ،ہم تو فرق دیکھنا چاہتے ہیں ہمیں تو وہ تبدیلی چاہئے جو ایسے عناصر کو پنپنے سے پہلے ختم کر دے ۔جو ملک دشمنوں کو موقے فراہم نہ کرے انہیں سزا دے ۔کیونکہ ہم نے جتنے دکھ ابھی تک سہے وہ صرف اور صرف اسی لئے سہے کہ ہم نے نرمی دکھائی ہر اُس معاملے میں جس میں سختی لازمی تھی اب بھی اگر مصلحتیں سامنے رکھیں تو پھر مشکل میں پڑ جائینگے ۔
مُخالف مُخلفت برائے کرپشن بچائو پر تیزی سے عمل پیرا ہیں اگر ہم اسمبلی دیکھیں تو نیب زدگان کا باراز سا لگا نظر آتا ہے ۔لیکن نیب کو متنازعہ بنانے والے کامیابی سے اپنی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں ۔کبھی انٹرویو کبھی ویڈیو کبھی اور اسی قسم کے حربے لیکن ان معاملات کو جتنی جلدی کیفرِ کردار تک پہنچانا چاہئے اتنی تیزی ہمیں ان معاملات میں نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے وہ لوگ جو تخریبی ذہن رکھتے ہیں طاقتور سے طاقتور ہو جاتے ہیں اور ہم ان لوگوں کے ہاتھوں میں اداروں کو بے بس دیکھتے ہیں کیونکہ ادارے ابھی شاید اپنے خول سے باہر نہیں نکلے لیکن ہمیں لگتا ہے کہ اگر سارے ادارے فیصلہ کر لیں کہ اب ہم کسی بھی دباؤ یا بے جا مداخلت کو قبول نہیں کریں گے تو شاید ہم جلدی بہتری کی طرف گامزن ہو جائیں گے انشاء اللہ
وہ قومیں جو اپنی ملکی سالمیت اور ملکی ترقی پر یقین رکھتی ہیں وہ ایلیکشن کے بعد ایک ہو جاتی ہیں ہر اُس معاملے پر جو ملک سے متعلق ہو جیسا کہ ہم نے ابھی اپنے پڑوسی ملک میں دیکھا کہ کس طرح سب نے مل کر ایلیکشن کو مانا بھی اور باوجود بے شمار تحفظات کے اُسے قبول بھی کیا ۔اسی لئے جمہوریت مظبوط ہوتی ہے کیونکہ وہ ملک کے لئے جمہوریت کی طاقت بنتے ہیں اپنی بے ایمانیاں اور کرپشن اور دھوکے چھپانے کے لئے نہیں ۔
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ,عالم آرا
676
0












