وفاقی کابینہ نےآفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 میں ترمیم کی منظوری دیدی۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی کابینہ نےآفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 میں ترمیم کی منظوری دی گئی۔
باخبرذرائع کے مطابق ترامیم کے مطابق اہم معلومات کی تحقیقات کیلئےجےآئی ٹی کی تشکیل کےکردارکوشامل کیاجائےگا،اورقومی سلامتی سے تعلق اہم معلومات کومزید محفوظ بنانےکے اقدامات کئےجائیں گے۔
یادرہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے کی بنیاد پر اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا۔ سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق سیکرٹری کے اعظم خان کی آڈیو لیک بھی سامنے آئی تھی جس کے بعد وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کی تھی۔
حالیہ دنوں سابق وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے سائفر ڈرامہ بے نقاب کرتے ہوئے نیب کو ریکارڈ کرائے گئے بیان میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے تمام تر حقائق کو چھپا کر سائفر کا جھوٹا اور بے بنیاد بیانیہ بنایا اور تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے لیے سائفر کو بیرونی سازش کا رنگ دیا۔چئیرمین پی ٹی آئی نے صرف اپنی حکومت بچانے کے لیے سائفر ڈرامہ رچایا۔
اعظم خان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر اپنے پاس رکھ لیا جو کہ قانون کی خلاف ورزی تھی، سائفر واپس مانگنے پراس کے گم ہونے کے متعلق بتایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے ان کے سامنے سائفر کو عوام کے سامنے بیرونی سازش کے ثبوت کے طورپرپیش کرنے کی بات کی۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ نے 19 جولائی کو پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سائفر کو لہرانا، گھمانا سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، سائفر معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی ، ایبسلوٹلی ناٹ کی حقیقت آج سب کے سامنے آگئی ۔












