ازل کا متلاشی* منظور کلہوڑو .اردو ترجمہ , آکاش مغل

0
1622

سندھی ادب سے ترجمہ . . . *ازل کا متلاشی*
تحریر : منظور کلہوڑو . . . . اردو ترجمہ : آکاش مغل

”اس سماج میں میرا دم گھٹتا ہے روماسا ! یہاں نفرت ، تعصب پرستی اور انتہا پسندی کی آلودگی اس قدر غالب آ چکی ہے کہ میری نس نس ان زہريلے مادوں سے عفونت زدہ ہو چکی ہے .“
” یہاں کیسے جیا جائے ؟ جہاں نفرتوں کے الاؤ بھڑکتے ہوں جن میں محض وجود ہی سوختہ و برافروختہ نہیں ہوتے بلکہ دل اور روح بھی بے بقا ہوجاتے ہیں . ان احساسات کے قتلِ عام پر کون سا ماتم کیا جائے روماسا , جن کے وجود سے اس ظالم سماج کے بےدادگر ٹھیکے داروں نے اپنی آنکھیں موند رکھی ہیں ! “
” کیا زندگی کموڈٹی کا نام ہے جس کا مطمع نظر محض مال ومتاع اور اسٹیٹس کا حصول ہے؟ “
”زندگی تو فطرت کا آبشار ہے جس سے پيار ، محبت، رنگ روپ ،سنگيت اور لطیف احساسات کے جهرنے فطری طورپر از خود پھوٹ کر فنا و بقا اور بقا و فنا کی منزلوں کے متلاشی رہتے ہیں .“
” بتاؤ مجھے ! ہم اس قدر خود غرض کیوں ہو گئے ہیں ؟ ہم اپنی ادنی‛ اور بے وقعت ذات کے محدود خول میں ہی زندہ رہنے کو ترجیح کیوں دیتے ہیں ؟ ہم ذات پات، رنگ و نسل،اونچ نيچ، افضل و کم تر، اعلی‛ و ادنی‛ ، برہمن اور اچھوت کے فرسودہ و لایعنی بھنور میں مقیّد وجود کے انجرپنجر سے کڑاکے نکلوانے میں مست و مگن ہیں ۔ ہم اس گھٹیا جینے کو بھی جینا کہہ کر بڑے طمطراق سے جینے کے سوانگ رچاتے ہیں ۔ ”
“کیا ہم سوانگی نہیں ہیں ؟ بتاؤ مجھے ….! “
” آؤ میری بات کا جواب دو ، ورنہ میں چِلّا چِلّا کر مر جاؤں گا ۔ اس کمرے کے درو دیوار سے سر ٹکرا ٹکرا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلوں گا ۔“
”سمجهاؤ مجھے …،“
” یہ ڈھونگ اب بند نہیں ہونا چاہیے کہ ہم عظيم ہیں ۔ کیوں کہ ہم موہن جو دڑو کے وارث ہیں! “
”ارے ! موہن جو دڑو والوں نے تو سمبارا پر زندگیاں نثار کردی تھیں . مگر آج سندھ سوہنیوں کی سانسیں چھین رہی ہے .ان کی روحوں کو کچل رہی ہے ، ان کے احساسات کا قتل کررہی ہے , ان کے بدن پر موجود پیراہن وپوشاک کو تار تار کرکے دریدہ وفرسودہ چیتھڑوں میں تبدیل کیا جارہا ہے . پرستش کے قابل بتوں کا ماس بوٹی بوٹی کرکے مقدس لہو کا قطرہ قطرہ نالیوں اور گٹروں میں بہایا جارہا ہے .“
”کیا یہی ہیں عظمتوں کے امين؟“
”ہم تو ان عظمتوں کی بدروح ہیں. جن کے مکروہ چہرے دیکھ کر سمبارا منہ موڑ کر چلی گئی ہے !“
” کیا میں غلط کہہ رہا ہوں روماسا؟
بتاؤ کیا ہم ڈھونگی نہیں ہیں ؟. کیا تم نہیں سمجھتیں کہ ڈھونگی کسے کہا جاتا ہے ؟“
”اوہ …. ، تم تو شہری ماحول کی پروردہ لڑکی ہو نا ! شاید تم سمجھ نہ سکو کہ ڈھونگی بھی میری میٹھی بولی کی طرح ہمارے ہاں سے بتدریج متروک ہوتا جارہا ہے ۔ چلو میں تمہارے لیے ڈھونگی کے مترادف انگریزی کا مروجہ لفظ ” فراڈی ” استعمال کرتا ہوں ۔ “
”اب بتاؤ , ہم عظيم ہیں؟ اس لیے کہ لطيف سائيں کی شاعری جس میں امن و آشتی ، حسن وعشق ، حق ، سچ اور انقلابی فکر و فلسفہ سمایا ہوا ہے . یہ ہماری ميراث ہے ! “
” مگر روماسا ایک لمحے کے لیے سوچو کہ میں کہیں خواہ مخواہ صدا بہ صحرا کا مرتکب تو نہیں ہو رہا ؟ “
”اس وراثت کے گوہر و صدف اب کون چنتا ہے ! کون اس آفاقی اور لافانی فکری پيغام کو پس پشت ڈال کر اس سے منہ موڑے . ہم مزاروں کے مجاور تو بہت اچھے ثابت ہوئے ہیں مگر واعظ اور گریہ کناں بہت رذیل ثابت ہوئے ہیں .“
” اب سچ کی راہ میں سر کٹانے والے نہیں ، محض تماشائی بن کر رہ گئے ہیں ۔ ”
”روماسا اب ہم ایسے تماش بینوں کا گروہ بن چکے ہیں، جو خود اپنی جگ ہنسائی کا سامان کرتے ہیں۔ دنیا بھر کی حاشیہ برداری کرتے اور جگ میں دوسروں کو خود پر انگشت نمائی کا موقع دیتے ہیں .“
”مجھے تو یہ خوف کھائے جارہا ہے کہ ہمارا انجام کیا ہوگا ؟ جن کا شرم ناک ماضی غلامی کی ذِلّت سے داغ دار ، جن کا حال بھنبھور کی طرح تباہ حال اور مستقبل انويزبل ہے .
ہم کس شئے کے متلاشی ہیں ؟ ہمیں کس کا انتظار ہے ؟ ياد رکھو ، اور چاہو تو لکھ لو ، ہمارے مقدر کی سلیٹ پر اب کوئی مسیحا لکھا ہوا نہیں .“
” کیوں کہ ہم محسن کش ہیں . ہم اپنے مسیحاؤں کے قاتل ہیں۔ جنہیں ہم نے بےقدری کی صليب پر مصلوب کرکے تاريخ کے ادوار میں رسوا اور ذليل و خوار کرکے رکھ دیا ہے .“
”کیا میں غلط کہہ رہا ہوں …،؟ بکواس کر رہا ہوں ؟.“
”تم نے سنا ہے ، نہ تم نے پڑھا ہے . دیکھو ! داہر ، دودو ، دولھ ، ہوشو اور ہيموں …..، مزید کتنے نام گنواؤں ؟ کس کس کو یاد کروں روماسا ! میرا وجود تارتار ہوچکا ہے ۔ میرے اندر کا من مندر کبھی کا منہدم ہوکر زمین بوس ہو چکا ۔ اب وہاں بربادی کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں ۔ .“
” اس قوم کو بتاؤ روماسا ! تمہارے لیے اب کوئی مسیحا نہیں آنے والا ، اپنے مسيحا تم خود بنو . مافوق الفطرت پر تکیہ اور چشم داشت کے کھوکھلے خول سے باہر نکل آؤ۔ تلاش کرو اپنے مارکس کو ، نکالو اپنے اندر کے لینن کو ، بیدار کرو اپنے ہوچی منہ کو ، سنبھالو اپنے ماؤزے تنگ کو .
تمہارے اندر ہی سمائے ہوئے ہیں روسو، والٹيئر، رسل…..“
” ہنس رہی ہو مجھ پر روماسا ! ٹھٹھول کررہی ہو نا تم بھی مجھ پر ! مت ہنسو مجھ پر ، خدا کے لیے ، مت اڑاؤ میرا تمسخر !
میں فریبی نہیں ، میں ڈھونگی نہیں ہوں روماسا ، میں تو اپنے ازل کا متلاشی ہوں . مگر کیاکروں . . . میرا ابد میرے مقابل آن کھڑا ہوا ہے .“
”کس قدر اذیت ناک منظر ہے روماسا، جو ازل کی تلاش میں سرگرداں تھا اس کی ابد سے ملاقات ہوگئی ہے . میں کیا کروں اس ابد کا ، کیسے ٹالوں اسے .“
”میں تنہا ہوں روماسا، خواہ تم بھی میرا ساتھ دو , مگر ہم پھر بھی فقط دو ہی تو ہیں ، ناتواں ہیں , برافتادہ ہیں . اور دو کی ضرورت ہے اور مزید کی ضرورت ہوگی . متحد ہونے کاوقت آچکا ہے ۔ بس یہی ایک صورت ہے اس ابد سے پنڈ چھڑانے کی .“
” لیکن روماسا ہمیں قوت ادراک نہیں ، کوئی سیاسی شعور نہیں ۔ یہ ابد ہمیں پل پل گھاؤ دیتا ہے ۔ ہمیں اپنے سیاہ تاریک وجود میں ہڑپ کرتا جارہا ہے .“
”سڇ کہتا ہوں روماسا یہ ابد کالے رُمَ جیسا بےرحم ہے جو ہمیں نیست ونابود کررہا ہے .“
”بتاؤ روماسا میں کیا کروں ؟ میں جنگل جنگل بھٹکا ہوں ۔ میں نے در در صدا دی ہے ۔ مگر کوئی جواب دینے والا ہی نہیں .“
”اسی لیے کہتا ہوں مرجاؤں گا , چلا جاؤں گا اور کبھی لوٹ کر نہ آؤں گا .“
” بات کرو مجھ سے , تمہاری خاموشی آج مجھے مارڈالے گی .“
”بولو روماسا…..، میرا وجود پارہ پارہ ہوچکا , روح ريزہ ريزہ ہے . کیا میری روح کی صدائے پردرد تمہاری سماعت سے نہیں ٹکرا رہی ؟ً“
کمرا سسکیوں سے گونج اٹھا . باہر آسمان پر مہیب گڑگڑاہٹ ہوئی ، بادلوں کی گرج چمک شروع ہو گئی ۔ اچانک فليٹ نمبر 74 کا انٹر لاک باہر سے کھلا اور شہریار اندر داخل ہوا ۔ کمرے میں گہری تاریکی تھی ۔ اس نے سرمد کو تنہا آرام کرسی پر بیٹھے پایا جس کا دامن آنسوؤں سے تر تھا ۔
”کیا ہوا سرمد… ؟ .“
” کچھ نہیں شہريار.“ سرمد نے دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت اپنے ہونٹوں پر رکھ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔
” وہ کل والے ڈرامے کی ريہرسل ہورہی ہے ۔ مصنف ، اداکار اور ہدایت کار سرمد ! یار تم بھی بہت بڑے ڈھونگی ہو !!! “

SHARE

LEAVE A REPLY