ترا سنگ تھا مرا رنگ تھا
جو بہار تھی وہ خزاں ہوئی
جو نکھار تھا وہ اجڑ گیا
مرے عشق کا وہ مدار تھی
مرے جان و دل کا قرار تھی
مرے زخم سارے ادھیڑ گئے
مرے سارے اپنے بچھڑ گئے
میں ادھر رہا نہ اُدھر رہا
میں تو لمحہ لمحہ بکھر گیا
مری ذات کا جو مزاج تھا
وہ رفتہ رفتہ بدل گیا
میں جو ہنستا رہتا تھا ہر گھڑی
وہ سکوت ذات میں ڈھل گیا
یہی زندگی سے سزا ملی
مجھے عمر بھر نہ وفا ملی
مری ہستی ساری پگِھل گئی
مجھے خوف مرا نگل گیا
امین کنجاہی












