وقتِ سحر , کہ جب کائناتِ درد کی ڈگمگاتی ہوئی کشتی کرب کے طوفانوں کے طُغیان زدہ تھپیڑوں سے نکل کر سکونِ عارضی کے ساحل پر لنگر انداز ہوتی ہے۔
وقتِ سحر کہ جب فراقِ یوسف کے کرب میں یعقوب نُما چشمے بھی خشک ہو جاتے ہیں۔
وقتِ سحر کہ جب شمع رات کی تاریکیوں سے برسرِ پیکار رہ چکنے کے بعد لشکرِ آفتاب کی گود میں دم توڑ دیتی ہے۔ وقتِ سحر کہ جب بے قراری کو بھی قرار آجائے۔
ان قرارآور خزانوں کے حامِل وقتِ سحر کو وہ پاگل لڑکی اپنے آپ کو بے قرار کیے رات بھر نیند کو اپنے یوسف کی راہ تکتے تکتے تڑپ چکیں بڑی بڑی سُرخ آنکھیں لیے اپنا تمام جسم سراپا محوِ انتظار و امید کیے ہوئے سیڑھیوں پر دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ اُس کی سماعتیں راستے پر قدموں کی چھاپ کی منتظر تھیں اور دل سماعتوں سے ملنے والی اطلاع پر کان دھرے منتظر تھا ، کہ اطلاع ملتے ہی دھڑکن کی جھنکار سے سراپا انتظار بنے ہوئے تمام وجود کو مِل رہی کربناک تلخی کو قند و شہد کی شیرنی میں بدل دے۔
۔
رات کا کھانا کھائے بغیر یہاں بیٹھی ہوئی تھی ، کبھی تھک کر کھڑی ہو جاتی ، کبھی تھک کر بیٹھ جاتی۔ کچھ خبر نہ تھی کہ جسم میں جابجا بجتے ہوئے درد کی ٹھیسوں سے اٹھتی بیٹھتی تھی ، یا دل میں بسیرا کیے ہوئے کربناک آہوں سے۔
آنکھیں تنگ کرتیں تو سیڑھیوں سے اُتر کر راستے پر چھائی تاریکی اور ہُو کے عالم سے کسی بِن ماں باپ کے یتیم و یسیر بچی کی طرح سہم کر واپس سیڑھیوں کی طرف دوڑ پڑتی۔ تاریکی میں بھی چاند نُما اُس کی نرم و نازک ہتھیلی ، جو سردی سے یوں ہو چلی تھی کہ بارہا کسی نے انتہا کی نفرت سے کوڑے مارے ہوں ، پر گھڑی بندھی ہوئی تھی لیکن وہ گھڑی کی طرف نہ دیکھتی۔ وقت دیکھنے سے اُسے ڈر لگتا تھا ، اُسے تو اِس گُھپ اَندھیرے سے بھی ڈر لگتا تھا ، جس میں وہ رات سے یتیم بنی سرد سیڑھیوں پر بنا چادر کے اٹھتی بیٹھتی رہی تھی ، اُس تتلی کو تو تنہائی سے بھی ڈر لگتا تھا ، جس کے ساتھ وہ سِحر تک آئی تھی۔ اور بار بار ہاتھ جوڑ کر خون آلود آنکھوں سے ماں کے لہجے میں روہانسی ہو کر یہ تنہائی اُسے سمجھا رہی تھی۔
” کانچ کی پری ! یہ پتھروں کا شہر ہے ! واپس گھر چلی جا ” ۔
نیند تو درد کے بستر پہ بھی آسکتی ہے ۔ ۔ ۔
اُن کی آغوش میں سر ہو ، یہ ضروری تو نہیں ۔ ۔ ۔
۔
لیکن کانچ کی پری کے سینے میں سُرخ احساس سے تراشیدہ گیا دل تھا ، کہتا تھا ۔ ۔ ۔
” بکھر جا ! لیکن واپس نہ جا “۔
اور پھر یہ خلق کرنے والے سے بھی تو جڑا تھا ، اُس کی روح لیے ہوئے تھا ، سہنے کو خلق کیا گیا تھا ، کیونکر نہ سہتا۔
۔
تنہائی کو چیرتی ہوئی اچانک قدموں کی چور چُکی چھاپ سنائی دی ، خاموش چھاپ ، بے بس چھاپ ، چھاپ سنائی دیتی پھر سکوت طاری ہوتا ، پھر سنائی دیتی پھر سکوت طاری ہوتا ، جیسے کوئی اپنے تھکے ہوئے دل کے بکھرے ہوئے ٹکڑے گٹھڑی میں سمیٹے کندھے پر لٹکائے ہوئے چل رہا ہو۔
چھاپ سن کر وہ جلدی سے اُٹھ کھڑی ہوئی ، بے فکری میں غیر ارادی طور پر رات بھر سردی جھیلنے کے بعد اُس کے ہاتھ اُس کی زُلفوں سے ہوتے ہوئے پریشاں گیسو سنوار کر رُخساروں پر دل سے بے لگام ہو چکے دریا کو خشک کرنے لگے۔
اتنے میں چھاپ کی جھنکار مچائے ہوئے قدم پہلی سیڑھی تک آئے ، سیڑھیاں بلکل سیدھی تھیں ، کوئی موڑ نہیں تھا ، سیدھی چڑھتی ہوئی کوریڈور پر تمام ہوتیں ، جہاں تین فلیٹس چھوڑ کر بائیں طرف یعقوبی نگاہوں والی پاگل پری کا فلیٹ تھا ، جس کے عین سامنے دائیں طرف اُس کے یوسف کا فلیٹ تھا۔
۔
جُھکائی ہوئی نگاہوں کے ساتھ وہ آہستہ آہستہ سیڑھیوں پر اوپر آنے لگا ، اگرچے اُس نے لمحہ بھر کو سردی سے ٹھٹھرتی ہوئی کانچ کی گڑیا کو دیکھ لیا تھا لیکن بدستور نگاہیں جُھکائے بے نیازی سے بڑھتا ہوا اوپر کو آرہا تھا۔ وہ سیڑھیوں پر ہی کھڑی اُس کی طرف بے لگام دھڑکنوں کو سنبھالتے ہوئے چمک آور آنکھوں اور مُسکاتے لبوں کے ساتھ تکتے جارہی تھی ، اُس کا رکھتا ہوا ہر قدم اوپر کی سیڑھی پر ، اِس کے دل کی ایک اور دھڑکن کی زیادتی کا سبب بنتا جا رہا تھا ، وہ جیسے ہی اس سے ایک سیڑھی نیچے تھا ، اِس نے ٹھٹھرتے ہوئے جسم کو ساکت کرتے ہوئے کپکپاتے لبوں سے ڈرتے ہوئے مگر امید کُناں لہجے میں جلدی سے کہا۔
” تمہارے لیے کھانا بنایا ہے ” ۔
اُس نے جیسے سنا ہی نہیں ، دیکھا بھی نہیں ، پاس سے بے حس بُت کی طرح گزر گیا۔
۔
وہ میرے سامنے ہی گیا اور میں ۔ ۔ ۔
راستے کی طرح دیکھتی رہ گئی ۔ ۔ ۔
۔
وہ جلدی سے مُڑی اور اُس کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں چڑھتی ہوئی کوریڈور تک آگئی ، کیسے آئی ، وہ بھی نہ جانتی تھی ، بس وہ جانتا تھا جس نے اُس کانچ میں احساس کا گرم دھڑکتا ہوا مجسم خون رکھا تھا۔ پہلے کہنے پر جواب میں مِل چکے سکوت کی ذلت بھول کر اُس نے پھر سے کہا۔
” میں نے بھی رات سے کچھ نہیں کھایا تمہارا انتظار کر رہی تھی ” ۔
قدموں کی چھاپ سکوت میں نہ بدلی ، بدستور جاری رہی ۔
“اچھا ایک کپ کافی بناتی ہوں ، پی لو ، تھک گئے ہو گے ” ۔
وہ جیسے احساس سے محروم تھا ، یا اپنے ضمیر سے مجبور تھا ، نہ سُنا ، نہ مُڑا ، نہ رُکا ، چلتا ہوا اپنے فلیٹ تک آیا۔ دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ صحرا میں گرم ریت پر تڑپتی ہوئی کسی بے آب مچھلی کے مانند لہجے میں میں اس نے کہا ، اُس کے لہجے ایسی آہیں پیوست تھیں ، جیسے کوئی ماں اپنے خون سے جوان کیے ہوئے کی لاش پر آہ بھرتی ہے ۔ ۔ ۔
۔
” صُبح ناشتہ کتنے بجے کرتے ہو میں بنا کے لے آؤں گی”۔
دروازہ بند ہو چکا تھا وہ جا چکا تھا۔
وہ جانے کیسے آئی ، کیسے اپنا ہاتھ اٹھا پائی ، کیسے دروازے پہ دستک دے پائی ، بہت دیر تک دروازہ کھلنے کا انتظار کرتی رہی ، اگرچے مکمل یقین تھا کہ نہ کھلے گا ۔ کہ وہ اُس شخص کے دروازے پر کھڑی تھی جو اُن سرد ہواؤں کی طرح تھا ، جو ساری رات سیڑھیوں پر بسیرا کیے ہوئی کانچ کی پاگل پری کو اپنی تیزی و تندی سے ستا ستا کر اُس کے انتظار کا مذاق اُڑاتی رہی تھیں۔
اُس کی حالت اُس بوڑھے انسان کی طرح ہو گئی تھی ، جو جان کَنی کے عالم میں کرب و رَنج و اَلم سے چھٹکارے کے واسطے موت کی بھیک مانگ رہا ہوتا ہے ، یا ایسے انسان کے مانند جس کے جسم سے تمام کا تمام خون نکال لیا جائے اور وہ پلکوں کی جپک کو بھی ترسے ۔
یوں ہو کر ، وہ مُڑی ، تو کرب بن چکی تنہائی آنکھوں میں دل کے خونی دریا لیے بے حد نالہ و آہ کے ساتھ اُس کی طرف تکتے ہوئے کہے جارہی تھی۔
” کہا تھا نہ ! تو کانچ کی پری ! یہ پتھر کا شہر ! گھر لوٹ جا ” ۔ ۔ ۔
لیکن یہ سوچ رہی تھی ، اب کیسے جائے ؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نجانے کتنے جہنم بدن میں اُتریں گے
ہمارے سر سے عذابِ حیات ٹلنے تک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تحریر :جسٹن سنو….












