امریکا نے فلسطین کے ’بعض حصوں‘ پر اسرائیلی ’حق‘ جائز قرار دےدیا

0
675

امریکی سفارتکار نے مقبوضہ مغربی پٹی کے ’بعض‘ حصوں پراسرائیل سے ’الحاق کا حق‘جائز قرار دے دیا۔

خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اسرائیل میں امریکی سفارتکار ڈیوڈ فرائڈمین نے کہا کہ مغربی پٹی پر کسی حد تک ’الحاق‘ جائز ہے۔

نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’موجودہ صورتحال کے پیش نظر، میرا خیال ہے کہ اسرائیل کو مغربی پٹی کے بعض حصے رکھنے کا حق ہے لیکن تمام حصے نہیں‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس وقت دنیا جو چاہتی ہے وہ اسرائیل اور اردن کے درمیان ناکام فلسطینی ریاست ہے‘۔

امریکی سفارتکار نے مزید کہا کہ ’امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطینوں کی زندگی میں بہتری لانے کے خواہش مند ہیں لیکن مذکورہ پلان ’تنازعے کا مستقل حل‘ پیش نہیں کرسکے گا۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے لیے ’صدی کا معاہدہ ‘ سے تعبیر کیا گیا امریکی معاہدے میں فلسطینیوں کی زندگی میں عملی بہتری لانے کی تجاویز شامل ہیں لیکن اس میں محفوظ فلسطینی ریاست کا قیام شامل نہیں۔

امریکی سفارتکار کا کہنا تھا کہ ’انہیں یقین ہے کہ امریکی صدر کا پیش کردہ منصوبہ فلسطین میں تشدد کو ہوا نہیں دے گا‘۔

ڈیوڈ فرائڈمین نے واضح کیا کہ امریکا عرب اتحادی اردن کو لازمی طور مشاورت میں شامل کرے گا جہاں فلسطینوں کی بڑی تعداد آباد ہے اور وہ ممکنہ طور پر منصوبے کی مخالفت کریں گے۔

خیال رہے کہ عالمی برادری مغربی پٹی میں اسرائیلی تسلط کو غیرقانونی اور پرامن حل کے لیے بڑی رکاوٹ سمجھتی ہے۔

اس سے قبل 6 اپریل کو اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے کہا تھا کہ ‘عرب دنیا اسرائیل کی موجودگی پر اس کے حقوق کو تسلیم کرچکی ہے اور فلسطینی بھی ان کے حقوق کا اعتراف کرچکے ہیں، لیکن مسئلہ یہ نہیں ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ مسئلہ قبضے کا ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا یہ قبضہ ختم ہونے جارہا ہے یا نہیں، اسرائیل کو عرب سرزمین سے دست بردار ہونا پڑے گا جس پر وہ 1967 سے قابض ہے اور فلسطینی ریاست کے وجود کی اجازت دے اور حقیقی مسئلہ یہی ہے’۔

ایمن الصفدی نے کہا تھا کہ ‘اگر اسرائیل یہ کہتا ہے کہ وہ آرام محسوس نہیں کر رہا تو یہ میرا مسئلہ نہیں ہے’۔

SHARE

LEAVE A REPLY