این اے 53 اسلام آباد سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی کیخلاف دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا، ریٹرننگ افسر کچھ دیر میں فیصلہ سنائیں گے۔
این اے 53 سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کی سماعت ہوئی۔ بابر اعوان نے اپنے دلائل میں کہا 3 نام نہاد الزامات لگائے گئے جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، یہ اعتراضات نہیں الزامات ہیں، اعتراضات کی تیسری بنیاد ٹویٹ کو بنایا گیا، ہم نے تحریری جواب میں اعتراضات کو 7 بار مسترد کر دیا۔ وکیل پی ٹی آئی نے کہا پاکستان میں سائبر کرائم قانون موجود ہے، جو فوٹو کاپیاں لگائی گئیں وہ سائبر کرائم کے زمرے میں آتی ہیں، ماں نے اور نہ ہی بیٹی نے پاکستان آکر دعویٰ دائر کیا۔
وکیل عبدالوہاب نے دلائل دیتے ہوئے کہا عدالت میں کہا گیا یہ کوئی اور عمران خان ہے، ہم نے دستاویزات دی ہیں جس میں عمران خان سابق کرکٹ ٹیم کپتان لکھا ہے، ہم نے کسی پر ذاتی الزام نہیں لگائے، عمران خان وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں، عمران خان کے پوری دنیا میں اسکینڈل ہیں، پی ٹی آئی نے ہر سیاستدان کی پگڑی اچھالی۔ بابر اعوان نے کہا آج کل کوئی بھی مشہور شخصیت کا جعلی ٹویٹر اکاؤنٹ بنا کر ٹویٹ کرتا ہے، ثبوت کے طور پر پیش کاغذات تصدیق شدہ نہیں، یہ اخبار کے تراشے فوٹو اسٹیٹ کاپیاں ہیں، ان اخباروں کے تراشے کو کوئی نہیں جانتا، قانون شہادت میں بیرون ملک سے دستاویزات منگوانے، بھیجنے کا طریقہ کار ہے۔ دونوں وکلاء نے دلائل مکمل کرلئے۔













