ججز کے خلاف ریفرنسز کی سماعت، جوڈیشل کونسل کا اعلان ابھی سامنے نہیں آیا

0
852

سپریم کورٹ آف پاکستان میں عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف دائر حکومتی ریفرنسز کے پہلے دن کی سماعت مکمل ہو گئی۔ لیکن، سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے ان ریفرنسز کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے یا جج صاحبان کو نوٹسز جاری کرنے کے حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے رات گئے تک کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

دو ججز کے خلاف حکومتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس جمعے کے روز دن دو بجے شروع ہوا جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کےکے آغا کے خلاف بھجوائے گئے حکومتی ریفرنسز پر سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں ہوا۔ اجلاس میں حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل پیش ہوئے جنہوں نے سماعت مکمل ہونے کے بعد میڈیا کے سوالوں کے باوجود کوئی جواب دینے سے انکار کیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ وقار سیٹھ اور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی شیخ شامل ہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی تمام کارروائی ان کیمرہ ہوتی ہے جس میں وکلا یا میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ لیکن، عموماً ریفرنس کی سماعت مکمل ہونے کے کچھ دیر کے بعد اعلامیہ جاری کر دیا جاتا ہے، جس میں تمام تر تفصیلات فراہم کر دی جاتی ہیں۔ لیکن ان دونوں ریفرنسز کے حوالے سے جمعے کی رات گئے کوئی پریس ریلیز جاری نہیں ہوئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY