عوام دشمنی کی حد ہوتی ہے اور یہ کیا ظلم ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں اور دیگر ضروریات زندگی پر تو ٹیکس لگے ہی ہیں اور لگ بھی رہے ہیں لیکن کے پی کے سابقہ صوبہ سرحد میں انسانی جانوں سے کھیلنے کا اختیار کس نے حکومت کو دیا ہے کہ ظالموں نے نسوار پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے
کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی، اگر ضروری تھا تو ہوا پر ٹیکس لگا دیتے پانی پر لگا دیتے لیکن نسوار پر ٹیکس؟ یہ نسوار خور اگر اب بھی بیدار نہ ہوئے تو پھر کب ہوں گے
باقی تو خیر برداشت کر ہی لیا جائے گا لیکن ایف سولہ کی جو تضحیک کی گئی ہے اس پر یقینی طور پر امریکہ اپنا رد عمل ظاہر کرے گا کہ ایف سولہ نسوار کو بحی استثنا نہیں دیا گیا جس سے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے سرد تعلقات مزید منجمد ہو سکتے ہیں
پوری خبر اس طرح ہے
خیبر پختونخوا میں حکومت نے نسوار پر ٹیکس لگا دیا۔ دکاندار بھی نسوار کی قیمت دُگنی کرنے کے بارے میں سوچنے لگے جس کے بعد نسوار کے عادی افراد بھی پریشان ہو گئے۔
دنیا نیوز کے مطابق خیبر پختونخوا میں نسوار کا نشہ ثقافتی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ نسوار کے نشے کی بڑھتی ہوئی لت اور فروخت کنندگان کو صوبائی حکومت نے ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کر دیا۔ فی کلو پر اڑھائی روپے ٹیکس لگا دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق صوبے میں نسوار کے عادی افراد ٹیکس کے نفاذ کر سن کر مایوس ہو گئے، کہتے ہیں ایک سستا نشہ کرتے تھے حکومت نے اس کو بھی نہیں چھوڑا۔
دُکانداروں کا کہنا ہے کہ نسوار پر ٹیکس کی شرح بڑھانے سے فی بوری کی قیمت میں اڑھائی ہزار روپے اضافہ ہو گیا ہے یا تو پڑی میں مقدار کم کی جائے گی یا قیمت دس سے بڑھا کر پندرہ روپے کریں گے۔
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں نسوار کے 300 سے زائد کم و بیش کارخانے موجود ہیں جبکہ ہاتھ سے نسوار تیار کرنے والی دکانوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسی حکومت چل سکتی ہے جو ہوا پر ٹیکس لگا دے
ایسی حکومت چل سکتی ہے جو گیس پٹرول بجلی مہنگی کر دے
ایسی حکومت بھی چل سکتی ہے جو انصاف مہیا نہ کرے
ایسی حکومت بھی چل سکتی ہے جو پانی پر اضافی ٹیکس لگا دے
لیکن ایسی حکومت چل ہی نہیں سکتی اور اس پر عذاب الہی نازل ہو گا جو نسوار پر ٹیکس لگا دے
ہمارا مطالبہ ہے نسوار پر ٹیکس فوری ختم کیا جائے
صفدر ھمدانی













