یہ کتاب پاکستان اور بھارت کے نامور ادیبوں ، شاعروں اورناقدوں کی نگارشات کا گلدستہ ہے، جسے اولڈ بوائز ایسو سی ایشن مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے ترتیب دیا اور کتابی صورت میں شائع کیا ہے۔ پبلشر کی ذمےداریاں عالمی اخبار نے بطریق ِ احسن انجام دی ہیں ۔ اب آپ ملاحظہ فرمائیے ، اس کتاب کی فہرست، جسے اشارئیے کا نام دیا گیا ہے۔
بَلّے بَلّے کے بعد ایک اور خوبصورت کتاب “سید فخرالدین بَلّے۔ ایک آدرش ۔ ایک انجمن ” منظرعام پر آگئی ہے ۔ جو مایہ ء ناز شاعر، ادیب ، دانشور،خطیب، اسکالر، صوفی ، محقق ، محسن ِ فن ،ماہرتعلقات ِعامہ ،صحافی اور مولف سید فخرالدین بَلّے کی شخصیت ، فن اورثقافتی و ادبی خدمات کے حوالے سے اولڈ بوائز ایسوسی ایشن مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نےترتیب دی ہے۔ اس کتاب میں سید فخرالدین بَلّے کی شخصیت کے بہت سے رنگ موجود ہیں ۔دراصل معروف کالم نگارجمیل الدین عالی نے قسط وار تین کالم روزنامہ جنگ میں لکھے تھے،اور ان کے اسی کالم کاعنوان ادب دوستوں کواتنا پسند آیاکہ انہوں نے اپنی تالیف کواسی عنوان کے تحت مرتب کرلیاہے ۔یعنی “سید فخرالدین بَلّے۔ ایک آدرش ۔ ایک انجمن ” ۔یہ کتاب پاک و ہند کے نامور ادیبوں ،شاعروں ، نقادوں اور دانشوروں کی نگارشات یا ان کے مقالات کے اقتباسات سے آراستہ ہے ۔بابائے اردومولوی عبدالحق ،ڈاکٹرجگن ناتھ آزاد، گوپی چند نارنگ،آل احمد سرور،فراق گورکھپوری، کنورمہندرسنگھ بیدی سحر ، اشفاق احمد، بانو قدسیہ ، احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹروزیرآغا، انتظار حسین ،فیض احمد فیض، محسن بھوپالی، افتخارعارف ، جون ایلیا ، جگر مراد آبادی ، مجروح سلطان پوری ، کمال احمدرضوی، پروفیسرمنظرایوبی، پروفیسر جاذب قریشی،اصغر ندیم سید،ڈاکٹر خواجہ زکریا،ڈاکٹر انورسدید،اسرارزیدی،پروفیسر خالدپرویز ،جاوید احمدقریشی،غزالی ء زماں رازیء دوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی، خواجہ نصیرالدین نصیرآف گولڑہ شریف ،علامہ طالب جوہری ، طفیل ہوشیارپوری ، اور شبنم رومانی نے بَلّے صاحب کی شخصیت اورشاعری کواپنےاپنےاندازسے دیکھا اور ان کی مختلف جہتوں کواپنے اپنے اندازمیں بڑی خوبصورتی کےساتھ اجاگر کیاہے ۔ امیرخسرو کے سات سو سال بعد قوالی کی دنیا میں سید فخرالدین بَلّے نےمن کنت مولاہ فھٰذا علی مولا کی بنیاد پر نیا قول ترانہ اور نیارنگ بھی تخلیق کیا تھا۔ اس حوالے سے بھی آپ کو اس کتاب میں بہت کچھ ملےگا۔بلکہ ایران کے شہر قم کے علامہ کلب ِ حسن نے تو اس پر بڑاتحقیقی کام کیا ہے اور ایک کتاب ہی مرتب کرڈالی ہے ، جس کا عنوان ہے” سیدفخرالدین بلے کاقول ترانہ ۔معرفت کاانمول خزانہ “۔لیکن اس وقت تو بات ہورہی ہے زیرنظرکتاب “سید فخرالدین بلے ۔ ایک آدرش ۔ایک انجمن” کی ، جس کامقدمہ نامور ادیبہ اور شعبہ اردو، یونیورسٹی آف تہران کی ڈاکٹر وفا یزدان منش نے لکھا ہے اور کتاب میں چھپے موتیوں کی جھلکیاں دکھا کر قارئین ِ کرام کے دلوں میں آتش ِ شوق بھڑکانے کاسامان بہم پہنچایاہے ۔پہلے آپ یونیورسٹی آف تہران کی ڈاکٹر وفا یزدان منش کا لکھا ہوا مقدمہ ملاحظہ فرمائیں۔اور اس کے بعد اس کتاب کے تمام اوراق آپ کے ذوق کی تسکین کیلئے دستیاب ہیں ۔
] ادارہ ]
اشاریہ
نمبر شمار عنوانات لکھنے والے
1۔ سید فخرالدین بلے کا سوانحی خاکہ ۔ تحریر: علامہ سید غلام شبیر بخاری علیگ
2۔ سید فخرالدین بلے۔ ایک متحرک شخصیت ۔یہ سید کام کرتا ہے: انتظار حسین
3۔ سید فخرالدین بلے ۔ایک فرد ۔ایک روایت ۔۔ افتخار عارف 4۔ سید فخرالدین بلے ، بلند پایہ کلام کا خالق سیدآل احمد سرور
5۔دیکھئے ، اِس شخص میں کتنے جہاں آباد ہیں پروفیسر منظر ایوبی
6۔ سید فخرالدین بلے ۔ بڑے حلم و آبرو والے پروفیسر ڈاکٹر خواجہ زکریا
7۔ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے پروفیسر قیصر نجفی
8۔ سید فخرالدین بلے ۔ ایک آدرش ۔ ایک انجمن ۔ جمیل الدین عالی
9۔ سید فخرالدین بلے۔ تصوف پراہم اتھارٹی ڈاکٹروزیرآغا
10۔ سید فخرالدین بلے ۔ ایک قادرالکلام شاعر ڈاکٹر انور سدید
11۔ فخر ِ ادب ۔ علی گڑھ کا بلے ڈاکٹر فوق کریمی، علیگ، علی گڑھ
12۔ سید فخرالدین بلے۔ علی گڑھ سے ملتان تک پروفیسر جاذب قریشی
13۔ سید فخرالدین بلے۔ کئی دنیائوں کاایک بڑا آدمی طفیل ہوشیار پوری
14۔ سید فخرالدین بلے۔ ایک تہذیبی ادارہ ۔ ایک یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹر عاصی کرنالی
15۔ سید فخرالدین بلے۔ ایک تہذیب ساز ہستی اصغر ندیم سید
16۔ سید فخرالدین بلے۔ ایک داستان ۔ ایک دبستان پروفیسر افتخاراجمل شاہین
17۔ صوفی بلے اور ان کی صوفیانہ شاعری ظفر علی راجہ
18۔قول اور رنگ ۔ بلے بلے سید سعیداحمد جعفری ،علیگ
19۔ بلے صاحب کا قول ترانہ۔ قابل ِ قدرتخلیقی کارنامہ سید احمد سعید کاظمی
20۔ نیا قول ترانہ،سات صدیوں بعد ایک نئی تخلیق۔ سید فخرالدین بلے
21۔ نیارنگ ۔ امیرخسرو کے بعد ایک نئی تخلیق ۔ سیدفخرالدین بلے
22۔ سید فخرالدین بلے۔ علم و ادب کااثاثہ ۔۔ کمال احمد رضوی
23۔ سید فخرالدین بلے ۔ مین آف دا اسٹیج ۔۔پروفیسر خالد پرویز
24۔ لاہور میں سید فخرالدین بلے کےقافلے کاسفر ۔۔ڈاکٹر انور سدید
25۔ قافلے کے پڑاءو ۔ ایک مستحکم روایت ۔۔۔ اسرار زیدی
26۔ سید فخرالدین بلے کےادبی نقوش۔ شبنم رومانی
۔شعری تخلیقات ۔۔نعتیں، مناقب ، غزلیں اور نظمیں ۔ سید فخرالدین بلے کا منتخب کلام
27۔نعت ۔ ہے خوف ِ خدا اُن کو خدا کہہ نہیں سکتے
28۔ نعت ِ رسول ِ مقبول ۔ صلی اللہ علیہ وسلم
29۔ حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کےلئے
30۔نزول ِ قرآن ۔ایک نظم
31۔ آگ ۔ مسجد اقصیٰ کی آتش زدگی کے سانحے پر ایک نظم
32۔ مٹی کا قرض ۔ایک نظم
33۔ بازیافت ۔ ایک نظم
34۔ سالگرہ کا تحفہ ۔ ایک نظم
35۔ چھے ستمبر۔ پاک بھارت جنگ پر ایک نظم
36۔ ملتان ِ ما۔ ایک نظم
37۔ تسخیر۔ ایک نظم ۔ خلا کی تسخیر کرنے والو
38۔ ڈسپلن ۔ ایک نظم
39۔ باران ِ کرم ۔وادی بولان میں برفباری سے متاثر ہوکرایک نظم
40۔ ہنگام ِ محشر ۔برفباری سے متاثر ہوکرتصویر کا دوسرارخ
41۔ سید فخرالدین بلے کی خوبصورت غزلیں
42۔ سید فخرالدین بلے کے ہائیکو اور قطعات
اس کتاب “سید فخرالدین بَلّے۔ ایک آدرش ۔ ایک انجمن ” کے مقدمے کاعنوان ہے ” ہم سید فخرالدین بلے کے قرض دار ہیں”۔
کتاب کا مقدمہ ” ہم سید فخرالدین بلے کے قرض دار ہیں”۔
مقدمہ نگار: ڈاکٹر وفا یزدان منش ، شعبہءاردو، یونیورسٹی آف تہران
زبان ِاردو مسلمانوں کی برصغیر میں آمد سے وجود میں آئی اورصدیوں کا شعری اور نثری سفر طے کرکےارتقائی منازل سے ہم کنارہوئی۔ کلاسیکی اردو شعرا ءکا اس زبان پر بہت احسان ہے۔اٹھارہویں صدی سے انیسویں صدی تک شاعری کے ذریعے اصلاح ِزبان کی تحریک چلی ،پلی،بڑھی اور بڑی بارآور ثابت ہوئی۔الفاظ کاذخیرہ بڑھ گیا۔ محاورات کا دامن پھیلا اور مالامالبھی ہوگیا۔طرح طرح کے مضامین اردو شاعری میں سمولئے گئے۔ انیسویں صدی سے بیسویں صدی تک بڑی شخصیات نے اردو شاعری اور نثرنگاری کے ذریعے قوم کی بیداری میں تاریخ ساز کردار ادا کیا۔ ادیبوں ،شاعروں اور تخلیق کاروں نے آزادی کا جذبہ جگانے ،آتش شوق کوبھڑکانےاور معاشرتی اصلاحات لانے کےلئے فکرانگیز مضامین باندھے۔ استحصال سے نجات پانے کے بعد اسی اردو ادب نے لوگوں کو الجھنیں دورکرنے کےرستےسُجھائے۔ اردو میں افسانوی اور واقعاتی اصناف ادب پوری کامیابی سے منظرعام پر آگئیں۔اعلی ٰ پائے کاادب تخلیق کیا گیا اور اردو زبان و ادب کی خوشبو جغرافیائی سرحدوں کوعبور کرکےدنیاکے بہت سے ملکوں کو مہکاتی نظرآئی۔ اردو ادب کا ارتقائی سفر بھرپور انداز میں جاری ہے۔عالمی سطح پر دوسری زبانوں کے ماہرین ادب بھی اس کی اثرآفرینی کاکھلے دل سے اعتراف کرتے نہیں تھکتے ۔ دنیا کی دوسری زبانوں کے ادب کے ساتھ اردو ادب اپنا سفر تمام تر توانائیوں اوررعنائیوں کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔ بلاشبہ اس نے اتنی کامیابیاں سمیٹ لی ہیں کہ پورے اعتماد کے ساتھ اردو زبان و ادب کا تقابلی جائزہ دوسری زبانوں کے ادب عالیہ کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ادب پاروں میں فن کاروں کے خون جگر سے قطرہ قطرہ ٹپک کرایک سمندر بن گیا ہے۔جس میں لعل و جواہر بھی ہیں ، نایاب موتی بھی اور اتنے خزائن کے جہان، جو کسی بحر بیکراں ہی میں ہوسکتے ہیں ۔یہ سب ہمارے ان قد آور ادیبوں اور شاعروں کی کاوشوں کاثمر ہے ،جنہوں نے ادب کواپنا اوڑھنابچھونا بنائے رکھا ۔سوال یہ ہے کہ کیا ایسے تمام عظیم فنکاروں کو ان کا حق ملا ہے؟ اکثر ایسا ہوتا ہےکہ فنکاروں کی زندگی میں ان کو داد نہیں ملتی ،جب وہ نذر خاک ہوتے ہیں بلکہ ان کی موت کی دہائیوں کے بعد ان کی قدر کی جانے لگتی ہے۔ بہت کم ایسے تخلیق کار ہوتے ہیں، جنہیں قید حیات میں خراج تحسین پیش کیاجاتا ہے۔خاص طور پر معاصر ادبا و شعرا کے ہجوم میںبڑے بڑے ادیب اور شاعر گمنام ہی رہ جاتے ہیں ۔ کلاسیکی ادب کےحوالے سے تحقیق اورانکشافات تو ہروقت ضروری ہوتےہیں مگر ساتھ ساتھ زیادہ توجہ معاصرادب پر مرکوز ہونی چاہیے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ادبا وشعرا کے سوانحی حالات کا تعارف کرایا جائے؛ ان کے ہر ایک بلکہ ایک ایک فن پارے کاجائزہ لیا جائے۔ایسی کاوشیں جاری رہیں تو اس کے مثبت اثرات حاصل ہوں گے۔سب سے اہم کام یہ ہوگا کہ ادیب یا شاعر کی حوصلہ افزائی ہوگی۔دوسری بات یہ کہ ادب کا میدان اور پھیل جائے گا۔یہ پتا چل جائے گا کہ کیا خامیاں ادب میں رہ گئی ہیں اورانہیں دور کرنے کے لئے کیسے کیسے راستے نکالے جاسکتے ہیں اور اسی طرح علمی کام کے لیے نئے نئے مآخذتک رسائی ممکن ہوسکتی ہے۔
ہر زبان کے ادب میں فن کاروں یاان کے فن پاروں پر بکھرے بکھرے مقالات اور مسودے موجود ہیں ،جن تک رسائی بہت مشکل ہوتی ،اگر انہیں یکجا نہ کیاجاتا۔ البتہ ایک ہی شخصیت یا ایک ہی موضوع پر ساری چھپی ہوئی تحریریں اور معلومات اکٹھی کرنا مقبول اور قابل قدر کاوش ہے، اس کے لیے ایک حوصلہ مند مرتبہ کی ضرورت ہے ،جو پوری ذمہ داری سے ایک ایک ماخذ کا سراغ لگائے اور سلیقہ مندی سے انہیں ترتیب دے۔ سید فخرالدین بلے ایک ایسی شخصیت ہیں ،جوادبی دنیا میں جانی پہچانی ہی نہیں جاتی بلکہ علمی، ادبی،ثقافتی اور صحافتی حلقوں میں معروف اور مقبول بھی ہیں ۔ انہیں اپنی زندگی ہی میں بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں نے پہچان لیاتھا اور یہ جان لیاتھاکہ ان کے اندر معرفت اور علم کاایک جہان آبادہے۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے ان کے عہدجوانی ہی میں یہ کہہ دیاتھا کہ بلے صاحب کی نظم ہو یا نثر اس میں کوئی نقص نکالنا محال ہے۔آل احمد سرور نے انہیں بلند پایہ کلام کاخالق قراردیا۔ سید فخرالدین بلے ایک سو پچاس سے زیادہ مطبوعات تالیف کرچکے ہیں اوریہ سب ایسی کتابیں ،بروشرز، سووینئیرز،اور کتابچے طرح طرح کے موضوعات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں ۔وہ لاہور،اسلام آباد ،کراچی،سرگودھا،بہاولپور، ملتان، اور علی گڑھ سمیت مختلف شہروں میں کئی رسائل اور جرائد کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں اور چند رسالے خود بھی نکال چکے ہیں ، وسیع پیمانے پر مختلف نوعیت کے جرائد کی ادارت ان کی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں کی غمازی کرتی ہے۔
دنیائے ادب میں یہ امر مسلمہ ہے کہ وہ لوگ جو صحافت میں سرگرم ہوتےہیں، ان کے مشاہدات و تجربات کا کینوس بھی بڑا وسیع اور وقیع ہوتاہے۔ اس تناظر میں آپ سید فخرالدین بلے کے صحافتی ،تصنیفی اور تالیفی کام کو دیکھیں تو علمی و ادبی رنگا رنگی ان کی تالیفات کی جان اور پہچان نظرآتی ہے۔ یہ تنوع ایسا ہے، جس نے ان کی شاعری اور نثرپاروں کی دلکشی بڑھا دی ہے ۔ وہ مذہبی میدان میں بھی لکھتےرہےہیں،۔”ولایت پناہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ و تعالیٰ وجہہ الکریم” اور ” فنون لطیفہ اور اسلام” ان کی دوایسی تحقیقی کتابیں ہیں ، جن میں ان کا تبحر علمی بولتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔یہی نہیں انہوں نے علمی ، ادبی ،ثفاقتی ، اورروحانی شعبوں میں جوکام کئے ،باکمال کئے اور ارباب عرفان و ادب کو حیران کردیا۔
تصوف، تاریخ اور سیاست کے موضوعات پر بھی قلم اٹھاتے ہیں۔ راقمہ کا یہ تجربہ بھی ہے اور مشاہدہ بھی کہ وہ لوگ ، جن کا تعلق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہوتاہے،یا رہا ہے ، ان کی ایک مضبوط علمی شخصیت بنتی ہے۔ یہ ایسا ماحول ہے ،جس جس کواس ماحول اور دھرتی نے پالا،وہ ہمہ گیر شخصیت کا مالک نکل آیا۔سرسید اور ان کے رفقا کی کوشش و شفقت سے جوروح علی گڑھ کے تعلیمی نظام میں پھونکی گئی ،وہ ابھی تک وہاں کی فضا ؤں میں موجود ہے اور محسوس بھی کی جاسکتی ہے۔ یہ روح و عظمت سید فخر الدین بلے میں رچ بس گئی ہے۔ وہ اس روح کو پاکستان ہجرت کر کے ساتھ لے آتے ہیں۔ یہاں ان کا ایک ہی جگہ پر ٹھہراؤ نہیں ، وہ مختلف شہروں میں رہائش پذیر ہوتےہیں ، وہ تعلقات عامہ اور صحافت سے وابستہ رہتےہیں ، انہی وجوہات کی بناء پر ان کے مختلف پہلوؤں میں گہرائی اورگیرائی پیدا ہوتی ہے۔ ہر فن کار کی تخلیقات ، اس کی شخصیت کا آئینہ ہوتی ہیں ۔ چنانچہ دیکھتے ہیں، بلے صاحب روشن دماغ اور مستقل مزاج آدمی تھے، وہ کسی تحریک سے وابستہ نہیں ہوتے، محترمہ بانو قدسیہ اور اسرار زیدی کے بقول:” وہ اپنی ذات میں انجمن ہی نہیں ، قافلہ بھی ہیں” یہی آزاد خیالی، یہی وسیع العلمی ان کی نثر ی اورنظمی تخلیقات میں نمایاں ہیں۔ اسی طرح ان کا مطالعہ مختلف میدانوں میں ہے ،جیسے علم نفسیات، علم الفلکیات، علم الاعداد ۔علم البشریات، علم المعدنیات وغیرہ وغیرہ اور ان تمام علوم و فنون کی چھاپ ان کے فن پاروں میں دکھائی دیتی ہے ۔ ان کی نظمیں اور غزلیات جدت پسندی کی مظہر ہیں اور ایک الگ راستے میں ان کا شعری سفر نظرآتاہے ،جسے انہوں نے خود اپنے لیے تراشا ہے ۔اس لئے پورے اعتماد کے ساتھ آپ انہیں صاحب طرز شاعر قراردےسکتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے غزل کو وطن دوستی اور جمالیات سے ہم کنار کردیاہے۔ وہ عالمی واقعات سے بھی متاثر ہوکراپنے تاثرات کا شاعری میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے عہد کے بڑےبڑے لوگوں نے بھی ان کی ادبی عظمت کوتسلیم کیا ہے ۔
“سید فخرالدین بلے ۔ایک آدرش، ایک انجمن” ایک خوبصورت کتاب ،نادر تالیف اور ایک ایسی کاوش کا نتیجہ ہے ،جس میں سید فخرالدین بلے کے بارے میں بہت سی اہم معلومات کویکجاکردیاگیا ہے۔
بلے صاحب کی ذاتی شخصیت اور ان کی وسیع علمی خصوصیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ اس کتاب کا عنوان ہی نہیں بلکہ اس میں شامل تمام مضامین کے عنوانات بھی بڑی مہارت اورسلیقہ مندی سے چنے گئے ہیں ۔بلاشبہ کتاب کا یہ عنوان بلے صاحب کی ہمہ گیریت کو زیب دیتا ہے۔روزنامہ جنگ میں جمیل الدین عالی نے اپنے سلسلہ وار کالم ”نقارخانے میں ”بلے صاحب پر ایک یا دو نہیں، قسط وار تین کالم لکھےاور۔”سید فخرالدین بلے ۔ایک آدرش، ایک انجمن” کےتحت انہوں نے اپنی یادداشتوں کومرتب کردیا۔اہل ادب اور مرتبین کو یہ عنوان اتنا پسند آیا کہ انہوں نے اپنی کتاب کو اسی عنوان کےتحت یکجاکردیا۔ اس کتاب میں تمام مشہورزمانہ علمی اور ادبی شخصیات کےمضامین شامل ہیں ۔ اس کتاب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ علامہ سید غلام شبیر بخاری نے جو نصف صدی کی رفاقت بلے صاحب سے رکھتے تھے، ا یسا جامع خاکہ قلمبند کیا ہے, جسے پڑھنے کے بعد قاری کی تشنگی نہیں رہتی ۔ ان کے آبا و اجداد سے لے کر ان کی پیدائش ، ان کے نام کی وجہ تسمیہ ، تعلیم، معاشرتی اور علمی سرگرمیوں کو تفصیلی بیان کیا ہے اور سوانحی حالات کے ساتھ ساتھ ان کی دل کش شخصیت کے خدوخال کی بھی تصویر کشی کی ہے ۔ یہ سوانحی خاکہ اتنی جزئیات کے ساتھ قلم بند کیا گیا ہے کہ باقی تمام مضامین ان کی شخصیت اور خدمات کی شرح معلوم ہوتے ہیں ۔اس سوانحی خاکے کوپڑھ کر بلے صاحب کی مینارقامت شخصیت قارئین کی آنکھوں کے سامنے آکر کھڑی ہوجاتی ہے۔ الفاظ و مضامین ہی نے اس کتاب کی وقعت اور قیمت نہیں بڑھائی بلکہ سجاوٹ،لے آئوٹ اور کچھ اور عناصر بھی کتاب کی قدر بڑھاتے نظر آتے ہیں ۔ یہ عناصر کتاب کی علمی و معلوماتی سطح پر اہمیت رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے یادگار اور تاریخی تصویریں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور یہ مجموعہ اسی کا مصداق ہے۔
اب ذرا کتاب میں شامل مضامین کے عنوانات دیکھئے۔پاک و ہندکے معروف افسانہ نگار انتظارحسین نے” یہ سید کام کرتاہے”کےعنوان کےتحت بلےصاحب کوایک متحرک شخصیت قراردیاہے۔افتخارعارف نے ”سیدفخرالدین بلے۔ایک فرد۔ ایک روایت ”کاعنوان اپنے مضمون کیلئے منتخب کرکے مختصر سی عبارت میں سید فخرالدین کا بھرپورتعارف کرادیا ہے۔ سیدآل احمد سرور نے انہیں” بلندپایہ کلام کاخالق ” ماناہے۔ پروفیسرمنظرایوبی کےمضمون کاعنوان قاری کو سوچنے پر اکساتا ہے اور اس عنوان “دیکھئے ،اس شخص میں کتنے جہاں آباد ہیں ” میں جہان ِمعانی آباد نظرآتاہے ۔ڈاکٹرخواجہ زکریا نے” سیدفخرالدین بلے۔ بڑے حلم و آبرووالے ” کےعنوان کےتحت انہیں محبت اور عقیدت کانذرانہ پیش کیاہے اورمجیدامجد کی شاعری کاسہارا لے کر انہیں بڑے احترام کےساتھ یاد کیاہے۔”ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے”،یہ عنوان ہے پروفیسر قیصرنجفی کے مضمون کا۔ ”سید فخرالدین بلے،تصوف پرایک اہم اتھارٹی ”کا عنوان دے کر ڈاکٹروزیرآغانے دریاکوکوزے میں بند کردیا ہے۔یہ عنوان ہی بتارہاہےکہ ان کی نظر میں تصوف کےحوالے سے سیدفخرالدین بلےکا مرتبہ اور مقام کیا ہے؟۔ڈاکٹرانورسدیدکےمضمونکاعنوان ہی سیدفخرالدینبلے کو” ایک قادرالکلام شاعر ” قراردے رہا ہے۔ ڈاکٹر فوق کریمی علیگ نے” فخرادب۔ علی گڑھ کا بلے” کا عنوان دے کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ سید فخرالدین بلے کی یادوں کو اپنے مخصوص انداز میں تازہ کیا ہے اور بتایاہے کہ یونیورسٹی کےتلامذہ ہی نہیں اساتذہ بھی ان کی علمیت، ذہانت اور فطانت کے معترف اور مداح تھے۔طفیل ہوشیارپوری نے” کئی دنیائوں کا ایک بڑا آدمی” کو موضوع بناکر اپنے تاثرات اور مشاہدات کو پینٹ کیاہے۔”فخرالدین بلے علی گڑھ سے ملتان تک”عنوان ہے پروفیسر جاذب قریشی کے فکرانگیز مقالے کا، ڈاکٹرعاصی کرنالی نے” فخرالدین بلے۔ ایک تہذیبی ادارہ، ایک یونیورسٹی”کوعنوان بناکر حرف ستائش بڑی محبت کے ساتھ پیش کیاہے۔اصغرندیم سید نے”سیدفخرالدین بلے۔ایک تہذیب سازہستی”کےعنوان کی بنیادپران کی شخصیت اور خدمات کی تصویر کشی کی ہے۔”ایک داستان ۔ایک دبستان ” ہے پروفیسر افتخاراجمل شاہین کے مبسوط مقالے کا خوبصورت عنوان ۔ ظفرعلی راجہنے” صوفی بلے اوران کی صوفیانہ شاعری”کےموضوع پر صرف لکھاہی نہیں ،اس موضوع سےخوب خوب انصاف بھی کیاہے ۔”قول اور رنگ ۔بلے بلے” کو موضوع بناکر سید سعیداحمد جعفری علیگ نے سید فخرالدین بلے کی قوالی کےحوالے سے تاریخی اور تاریخ ساز خدمات کااحاطہ کرنے کی سعی ءمشکور کی ہے۔غزالی ء زماں، رازی ء دوراں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی مرحوم نے امیرخسرو کے سات سو سال بعد سید فخرالدین بلے کےقول ترانے کوایک قابل قدرکارنامہ قراردیاہے ۔امیرخسرونے ساڑھے سات سوسال پہلے جنوبی ایشیامیں قوالی کی بنیادرکھی تھی ،ان کے بعد کسی نے قول کی تصریحی تہذیب کی جسارت نہیں کی،یہ سہرا بھی سید فخرالدین بلے کےسرہےکہ انہوں نے نیا رنگ تخلیق کیا اور نیاقول ترانہ بھی۔ اس کتاب میں ان کانیارنگ اور نیاقول ترانہ بھی شامل کرلیاگیاہے ۔سید فخرالدین بلے کی کثیرالوصف اور کثیرالجہت شخصیت درحقیقت ان گنت شخصیات کاخوبصورت گلستاں نظرآتی ہے۔کمال احمدرضوی جیسی باکمال شخصیت نے انہیں” علم و ادب کااثاثہ ”لکھا،پروفیسرخالد پرویز نے سید فخرالدین بلے کوبجاطور پر مین آف دا اسٹیج کی حیثیت سے محبت اور عقیدت کاخراج پیش کیا ۔اس لئے کہ سید فخرالدین بلےنے پچیس روزہ جشن تمثیل کااہتمام کرکے ڈائریکٹر ملتان آرٹس کونسل کی حیثیت سے جو ثقافتی دھماکہ کیا تھا ،اس کی گونج سرحد پار بھی سنی گئی،اوراسٹیج کےجو فن کار سامنے آئے، وہ ٹی وی اسٹار بن گئے ۔اسی لئے ان کے ساتھ ایک خوبصورت شام کااہتمام کرکے انہیں محسن فن اور مین آف دا اسٹیج کےخطابات سے نوازا گیا۔شبنم رومانی نے”سید فخرالدین بلےکےادبی نقوش ”کواپنا موضوع بھی بنایا اورانہیں اختصار کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں اجاگربھی کیاہے ۔ڈاکٹرانورسدید نے ”لاہورمیں قافلے کاسفر” لکھا ،جوسید فخرالدین بلےکی ادبی ہنگامہ آرائیوں کی بڑی دلکش داستان ہے ،اسی طرح اسرارزیدی نے ”قافلے کےپڑائو ۔ایک مستحکم روایت ”میں بلے صاحب کی ادبی اورثقافتی تنظیم قافلہ کی عالمی بیٹھکوں کی تصویر کشی کی اور بھولی بسری یادوں کو نئی زندگی بخشی ہے ۔ یہ کتاب مرتب کرکے سید فخرالدین بلےکی تخلیقی جہتوں ،ان کے فکری آفاق کی وسعتوں، ان کے کارناموں ،اورقافلےکی سرگرمیوں کااحاطہ کرنے کےلئے قابل تحسین قدم اٹھایا گیا ہے۔مشہور زمانہ اور یگانہ ء روزگار شخصیات کے فکرانگیز مقالات اوربصیرت زا تاثرات اکٹھے کرنے سےیہ کتاب سید فخرالدین بلے کےفن ،سخن ،افکار،خیالات اورخدمات کےحوالے سے اہم مرقع اور ایک کلیدی ماخذ کی حیثیت سے سامنے آئی ہے ۔انٹرنیٹ پربھی لوگ اس سے مستفیض ہوئے ہیں ۔اور اب منتظمین نے “سید فخرالدین بلے ۔ایک آدرش، ایک انجمن” کو سپردقرطاس و قلم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسے لائبریریوں کی زینت بھی بنایا جاسکے۔
بلے صاحب اپنی نگارشات ،تخلیقات اور تالیفات ہمارے پاس چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔اب وقت کو ہاتھ سے کھونے نہیں دینا چاہیے۔ ان کی تخلیقات کو نشان تنقید بناناچاہیے اور ان کے فن پاروں کو مختلف زاویوں سے جانچنا چاہیے۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ یہاں جن بڑے نقادوں ، محققوں اورادیبوں نے ان کی شخصیت اور فن کے مختلف پہلوؤں کو سراہاہے اور ان کےلئے جو خیالات پیش کئے ہیں، ان کو مد نظر رکھ کر انہی عنوانات پر مضامین لکھے جائیں، مثا ل کے طور پر وزیر آغا نے فرمایا: “وہ تصوف پر ایک اہم اتھارٹی ہیں” اور “بلے صاحب کے چلے جانے کے بعد دبستان سرگودھا کی کمر ہی ٹوٹ گئی ہے” یہ بات قابل غور ہے اور اس پر تحقیق کی جانی چاہیے اور دلائل کے ساتھ اس بات کا ثبوت دیا جانا چاہیے۔اور اسی طرح فراق گورکھپوری نے بلےصاحب کو لفظوں کا مصور قرار دیا ہے؛ عاصی کرنالی کی یہ رائے:” بلے صاحب ملتان کو حیات نو عطا کرنا چاہتے تھے”؛ یہ بھی کہاگیا کہ بلے صاحب عصری تقاضوں اور عصری مسائل سے بخوبی واقف تھے، پھر ان کے مسودوں میں عصری حالات کی جھلکیاں اور حالات بہتر بنانے کے لیے مشورے ملتے ہوں گے۔
ہر زبان کی جڑ اور پیدائش کےبارے میں کبھی کوئی قطعی نظریہ ثابت نہیں ہوا ۔ اسی طرح حافظ محمد شیرانی، نصیرالدین ہاشمی، سلیمان ندوی، مسعود حسین خان اور محمد حسین آزاد جیسے ماہر لسانیات کےاردو زبان کی جڑ اور اس کے تاریخی پس منظر پر خیالات، بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ، چاہے ان کا کوئی نظریہ ابھی تک ثابت شدہ نظریہ کے طورپر سمجھا نہ گیا ہو۔ چنانچہ بلےصاحب کی اردو زبان کی پیدائش کے بارے میں رائے جوانوکھا انکشاف ہے، انہی نظریات میں شامل ہونا چاہیے اور دوسرے نظریات سمیت مآخذ میں اپنی جگہ بناناچاہیے۔
بلے صاحب کو فارسی زبان پر اتنا عبور تھا کہ اس زبان میں روانی سے گفتگو کیا کرتے تھے۔ فارسی صرف ان کی زبان میں نہیں ،ان کی شاعری میں بھی روانی سے جاری ہے۔ و ہ انوکھی فارسی تراکیب و الفاظ جیسے رعنائی و شوخی گل تر، دامن برگ ،زندہ داران شب، کو برتتے ہوئے اردو شاعری کو موسیقی اور بحر سے جوڑدیتے ہیں۔ ان کی شاعری پر فارسی کے اثرات کا جائزہ بھی اہم نتائج مرتب کرسکتا ہے۔
اس کتاب کے آخری صفحات میں سیدفخرالدین بلے کی نعتیں،منقبت علی ،سلام بحضور امام عالی مقام کےساتھ ساتھ بلے صاحب کی کچھ شاہکار نظمیں اور غزلیں بھی شامل کی گئی ہیں ، جواس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ انہوں نے تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی اوراپنے عہد کے استادان فن و سخن سے دادو تحسین ہی نہیں سمیٹی ،بلکہ اپنی شاعرانہ عظمت کا لوہا بھی منوایا ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بلے صاحب کی بکھری ہوئی تخلیقات پر کاوشیں جاری رہیں اور ان کو طباعت تک پہنچا دیا جائے۔بلا شبہ ان کی تحریروں سے تاریخ ، ثقافت اور ادب کے تمام گوشے لاعلمی کے اندھیروں سے نکل کر علم پر روشنی ڈالیں گے۔بلے صاحب کے وسیع المشربی اور ملنساری کے بارے میں اصغر ندیم سید کایہ کہنا کہ ” ان کا دسترخوان ان کی آخری سانس تک بے حد وسیع رہا”، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سید فخرالدین بلےصاحب کی علمی اور ادبی شخصیت ایک دسترخوان ہے، جس میں طرح طرح اور رنگ برنگ کلیاں کھل گئی ہیں اور ان کی مہک سے اردو ادب کو مہکایا جائے گا۔
میں بعد مرگ بھی بزم وفا میں زندہ ہوں
تلاش کر مری محفل ، مرا مزار نہ پوچھ
آئیے مل کر ان کے وفادار رہیں اورایک دوسرے سے عہد کریں کہ ان کی تخلیقات کوزندہ رکھنے اور ان پر کاوشیں جاری رکھے جانے سے ان کی محفل کو آباد رکھیں گے اور یہ چلن اپناکر ہم ارد و زبان و ادب کےبھی وفادار رہیں گے ۔
سیّد فخر الدین بَلّے کا سوانحی خاکہ
تحریر و تحقیق : علامہ سید غلام شبیر بخاری ، علیگ
میں ایک ایسی شخصیت کا سوانحی خاکہ ترتیب دے رہاہوں ،جس کے ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بنیاد پر محبت کاتعلق قائم ہوا ۔یہ رفاقت نصف صدی کاقصہ ہے،دوچار برس کی بات نہیں۔وہ ایک شاعر،ادیب،صوفی، دانشور،تخلیق کار، مقرر،صحافی، مولف،ماہر ِ تعلقات ِ عامہ ، محقق اور اسکالر کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے تھے اور دنیائے علم و ادب میں یہی حوالے آ ج بھی ان کی پہچان ہیں۔ساری زندگی خود چین سے بیٹھے نہ دوسروں کو چین سے بیٹھنے دیا۔بزم آرائی ان کا مشغلہ بھی رہا اور شوق بھی ۔قافلے کےپڑاوکے شرکاءبھی یقیناً میری تائید کریں گے۔اور وہ تمام ارباب ِ ادب بھی جو اُن کی ادبی اور ثقافتی ہنگامہ خیزیوں میں شریک رہے ہیں۔وہ اپنی ذات میں کائنات اورایک اچھے انسان توتھے ہی،ایک مکمل داستان بھی ہیں ۔انہوں نے بڑی بھرپور زندگی گزاری ۔اب ہم میں نہیں لیکن آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ مولوی عبدالحق ،فراقگورکھپوری،ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد،آل ِ احمد سرور،جوش ملیح آبادی،ڈاکٹر وزیرآغا،ڈاکٹر خواجہ زکریا،اشفاق احمد،این میری شمل،پیر حسام الدین راشدی،فیض احمد فیض،انتظار حسین،ڈاکٹرسید حامد سابق وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ،خواجہ نصیرالدین نصیر آف گولڑہ شریف،علامہ سید نصیرالاجتہادی،میرزاادیب،پریشان خٹک،علامہ سید احمد سعید کاظمی ، ڈاکٹر اسلم انصاری، رئیس امروہوی، ڈاکٹر عنوان چشتی،احمد ندیم قاسمی، اورجون ایلیا سمیت کس کس کا نام لوں؟ اور کس کس کو چھوڑ دوں ؟نامور ارباب ِ ادب اس شخصیت کا کام اور کلام دیکھ کر اپنے اپنے انداز میں بَلّے بَلّے کہتے دکھائی دئیے۔اور ان کی سوچ،شخصیت،خدمات اور فن کے مخفی گوشے اجاگر کئے۔کل کو اگر اس حوالے سے کوئی تحقیقی کام ہوتا ہے تو ارباب ِ علم و دانش کے یہی ستائشی کلمات اس کی بنیاد بنیں گے۔
نام و نسب
نام: سیدفخرالدین بَلّے
مکمل نام: سیدفخرالدین محمد بَلّے
قلمی نام: سیدفخرالدین بَلّے
تخلّص اور عرفیت ؛ بَلّے
ازل سے عالمِ موجود تک سفر کر کے
تھکے تو جسم کے حجرے میں اعتکاف کیا
سیدفخرالدین بَلّے بوقتِ صبح ِ صادق عالم ِ وجود میں آئے۔
تاریخ ِ ولادت :15 دسمبر 1930ء
یہ تاریخ ِ ولادت سرکاری دستاویزات کے مطابق ہے۔
اصل تاریخ ولادت 6 اپریل 1930 ہے۔
دن : اتوار
مقام ِ ولادت: ہاپوڑ (میرٹھ ) متحدہ ہندوستان
عمر :73سال،9ماہ،22دن
یہ مدت عیسوی ماہ و سال کے اعتبار سے ہے۔
ہجری کیلنڈر کے اعتبار سے عمر76سال ،ایک ماہ بنتی ہے۔
بَلّے کی وجہ ِ تسمیہ
سلطان الہند ،غریب نواز حضرت خواجہ معین الدین چشتی سنجری اجمیری ؒ نے اپنے صاحبزادے کا نام فخر الدین رکھا تھا اور انہیں پیار سے”بَلّے” کہتے تھے۔ اسی مناسبت سے آپ کے والد بزرگوارسید غلام ِ معین الدین چشتی نے اپنے بیٹے کا نام فخر الدین رکھا اور انہیں پیار سے ہمیشہ ”بَلّے“ کہہ کر پکارا۔ یوں سیّد فخر الدین ۔۔ “بَلّے” مشہور ہو گئے۔
والد ِ بزرگوار کانام : سید غلام ِمعین الدین چشتی
والدہ ماجدہ کا نام: امۃ اللطیف بیگم
دادا حضور:سید غلامِ محی الدین چشتی
دین: اسلام
مسلک : چشتیہ سلسلہء عالیہ
شہریت: پاکستانی
پہچان: اسلامی جمہوریہ پاکستان
خاندانی پس منظر
خواجہ ء خواجگان حضرت معین الدین چشتی سنجری اجمیری ؒ سے ہوتا ہوا آپ کا سلسلہ نسب 43 واسطوں سے مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔
اجداد کی سیاسی خدمات:
سید فخرالدین بلے کے اسلاف نے قربانیوں کی کئی داستانیں رقم کیں ۔کوئی دور ایسا نظرنہیں آتا کہ وہ غیر متحرک رہے ہوں۔سماجی سطح پر بھی اہم خدمات انجام دیں۔ستائش کی تمنا اور صلے کی پرواکئے بغیر رفاہی کام کئے اور محروم طبقات کے دکھوں کامداواکرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ آپ کے والد بزرگوار سید غلامِ معین الدین چشتی 1942کے انتخابات میں شہید ِملت نواب زادہ لیاقت علی خان کی انتخابی مہم کے نگران تھے۔ جد ِ امجدسید غلام ِمحی الدین چشتی نے 1906 میں ڈھاکہ میں ہونے والے مسلم اکابر کے تاریخ ساز اجتماع میں صوبہ آگرہ کے مندوب کی حیثیت سے شرکت کی۔ اسی اجتماع میں مسلم لیگ کے قیام کا اعلان کیاگیا۔ آپ کے پردادا میرقادرعلی نے بھی مسلم کاز کے لئے اہم خدمات انجام دیں۔ وہ سرسید احمد خان کی قائم کردہ آل انڈیا مسلم ڈیفنس کمیٹی کے ممبر تھے۔ جو 1893میں بنی تھی۔ میر قادرعلی کے والدمحترم میر نظام علی نے 1857 کی جنگ آزادی میں میرٹھ کے محاذ پر جامِ شہادت نوش کیا۔
بچپن میں بزرگوں کی صحبتیں
آپ کو بچپن میں ابوالکلام آزاد،ڈاکٹر ذاکر حسین،مولاناحسرت موہانی،مولوی عبدالحق،رشید احمد صدیقی،جگر مراد آبادی،تلوک چند محروم،علامہ نیاز فتح پوری،سیماب اکبرآبادی،سر شاہ نواز بھٹو،اور مولانا عبدالسلام نیازی سمیت نامور قد آور شخصیات کی صحبتوں میں بیٹھنے اور ان سے فیض پانے کے مواقع ملے۔
تحریک پاکستان کا ایک چائلڈ سپیکر
1944-47 تحریک ِ پاکستان کے دوران انہوں نے سیاسی اجتماعات میں چائلڈ اسپیکر کی حیثیت سے حصہ لیا۔ جن میں کےدوران قائد اعظم محمد علی جناح ، خان لیاقت علی خان، نواب اسماعیل خان، چوہدری خلیق الزماں، سردار عبدالرب نشتر‘ آئی آئی چندریگر اور حسین شہید سہروردی نے خطاب کیا۔
تحصیل ِ علم اور تعلیمی ادارے
میٹرک:الہ آباد تعلیمی بورڈ الہ آباد
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘ علی گڑھ
ایف ۔ایس ۔ سی ۔
بی ۔ ایس ۔ سی
اور ایم ایس سی (جیالوجی)
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘ علی گڑھ سے کیا
ادیب ِ کامل
ادیب ِ فاضل
جامعہ الاردو‘ علی گڑھ سے کیا
شعری سفر کاآغاز1944 میں ہوا۔
پہلا شعر:
پوچھتا ہے جب بھی کوئی مجھ سے خاموشی کی بات
آسماں کو دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہوں میں
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہم نصابی سرگرمیاں:
سیدفخرالدین بَلّے نے ہم نصابی سرگرمیوں میں گرم جوشی سے بھر پور حصہ لیا۔بیت بازی کے مقابلوں ،مباحثوں ،مشاعروں اورتقریری مقابلوں میں جوہر دکھائے۔سینئر اساتذہ سے بھی خوب داد سمیٹی ۔مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے جوائنٹ سیکریٹری منتخب ہوئے۔یونیورسٹی کے مجلے دی یونین کے مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنا مجلہ ماہنامہ جھلک ،علی گڑھ جاری کیا۔حلقہ یاراں بڑا وسیع رہا۔اساتذہ اور تلامذہ میں یکساں مقبول رہے۔
ترک ِ سکونت کافیصلہ:
اپنی خوبصورت یادوں کو سمیٹ کر بھارت کو ہمیشہ کیلئے خیرباد کہنے کے لئے پرتول لئے۔
ہجرت:
لاہور میں پہلاپڑائوڈالا۔
کراچی میں کچھ عرصہ قیام کیااور روزگار کے امکانات کاجائزہ لینے کے بعد بالآخر ستلج کنارے پڑاو ڈالنے کافیصلہ کرلیا۔
ڈومیسائل: بہاول پور
بہاول پور ہی سے سرکاری کیرئیر کا آغازکیا۔
سراپا:
علمی اعتبار سے قدآورلیکن ظاہری اعتبار سے میانہ قامت۔
سر بڑا تھا۔جیسے کسی سردار کاہوتاہے۔
گھنگھریالے بال۔درمیان میں مانگ ۔یہ اس وقت کی بات ہے،جب آتش جوان تھا۔ڈھلتی عمرکے ساتھ انہوں نے مانگ نکالنا بند کردی تھی ،البتہ کنگھاکرتے تو تھوڑی دیر بعد خود بخود مانگ نکل آتی تھی۔
بڑی بڑی دلکش آنکھیں ۔
آنکھوں میں سرخ ڈورے۔جن سے سفیدی اور سیاہی مزید نمایاں ہوگئی تھی۔
کشادہ پیشانی ۔پیشانی پر سوچوں کی تین چار محرابیں ۔
وہ گہری سوچ میں ہوتے تو یہ محرابیں اور گہری ہوجاتیں۔
خوبصورت نقش و نگار کے مالک تھے ۔
کلین شیوڈ۔بڑھے ہوئے شیو کے ساتھ کسی محفل میں کبھی نظر نہیں آئے۔
سینے پر بال اور بالوں کی ایک لکیر ناف تک موجودتھی۔
نسبتاً لانبی کلائیاں ۔گداز ہتھیلیاں ۔
ہاتھ ملاتے تو لگتا کہ ان ہاتھوں نے کبھی مشقت نہیں کی۔حالانکہ ساری زندگی مشق ِ سخن جاری رکھی۔
شخصیت:
باوقار اور باغ و بہار شخصیت کا نام سید فخرالدین محمد بلے ہے۔خوش لباسی ان کی خوش مزاجی کاآئینہ تھی۔طبیعت میں نفاست کوٹ کوٹ کربھری ہوئی محسوس ہوتی ۔جو ملے اسے اپنا گرویدہ بنالیتے ۔گفتگو میں طنز نہیں ،البتہ مزاح ضرور جھلکتاتھا۔دوسروں کو آگے بڑھتادیکھ کر جی اٹھتے ۔دل میں کسی کے لئے میل نہیں۔اعلیٰ ظرف ،دریا دل اور کشادہ نظر تھے۔تواضع ان کا خاصا اور مروت و رواداری ان کا شعار رہی۔
لباس:
خوش لباسی بھی عالم ِ نوجوانی میں ان کی مقبولیت کاسبب بنی۔
تھری پیس سوٹ،اور شوخ رنگ کی ٹائی۔ اس پر میچنگ شوز۔کبھی کبھار جواہر کٹ واسکٹ ،کرتہ شلوار، ۔
شیروانی کے کالر والی بوشرٹ اور پینٹ۔
شیروانی ۔کرتہ شلوار کے ساتھ کھسہ،میچنگ پینٹ شرٹ کے ساتھ میچنگ شوز۔
زندگی کے آخری دور میں صرف سفید قمیض شلوار اور سفید شوزکو ترجیح دی۔
سرد موسم میں کالی،سفید یا سلیٹی رنگ کی چادر اوڑھنا پسند کرتے تھے۔ساتویں محرم الحرام کو سبزکرتا اور سفید شلوار اور دسویں محرم الحرام کو کالا کرتا اور سفید شلوار اُن کاپہناوا ہوتا۔یہ روایت عمر بھر برقرار رہی ۔
چلن: فقیرانہ
انداز : شاہانہ
فکر:صوفیانہ
شیوہ:انسانیت سے محبت اور احترام ِ ِآدمیت
فطرت :
مسکرانا۔برائی کابدلہ بھلائی سے دینا۔پریشاں حال لوگوں کی دلجوئی کرنا،بائیں ہاتھ کو خبردئیے بغیر دائیں ہاتھ سے ضرورت مندوں کی مدد کرنا۔مثبت پہلووں پر ہمیشہ نظر رکھا۔
شوق:
کتب بینی ،بزم آرائی اورشب بیداری
شعبے:
علم و ادب،فنون ،ثقافت،تصوف،آثار ِقدیمہ،مذاہبِ ِ عالم،تحقیق،سیاحت،معدنی وسائل،صحافت،تعلقات عامہ
محکمے:
اطلاعات،تعلقات عامہ،سیاحت،پروٹوکول،آرٹس کونسل،سوشل ویلفئیر،بلدیات،وزارت مذہبی امور،وزارت ِ اقلیتی امور،اور وزارت سمندرپار پاکستانیز
غیر ملکی سرکاری دورے:
ایران، چین ،سری لنکا،افغانستان ،بنگلہ دیش اور بھارت۔
بھارت کادورہ ذوالفقار علی بھٹو وزیرخارجہ پاکستان کے ساتھ کیا۔واپسی پر بھٹو صاحب نے ان کی کارکردگی کوبے مثال قراردیااورجوریمارکس دئیے،وہ بلاشبہ ایسے ہیں ،جن پرفخرہی کیاجاسکتاہے۔اس کی تفصیل میری یادداشتوں میں محفوظ ہے۔
کھیل اور مشاغل:
مختلف ادوار میں مختلف میدانوںمیں نظرآئے۔کرکٹ،بیڈمنٹن،رِنگ،ٹیبل ٹینس، اسکریبل، کیرم، لڈو، شطرنج، اور بریج ۔
تالیفات و مطبوعات
جن شعبوں‘ اداروں اور محکموں سے وابستہ رہے ۔ان سے متعلق (150) سے زیادہ مطبوعات تالیف و تدوین کیں اور ان کی اشاعت کا اہتمام کیا۔ ان میں کتابیں‘ کتابچے ،سووینئیرز،اوربروشرز شامل ہیں۔ یہ تالیفات انگریزی، اردو، ہندی اور فارسی زبانوں میں مرتب کی گئیں۔ان میں سید فخرالدین بلے کی علمی وسعت،فکر کی رفعت ،پاکستانیت،پاکستانیات سے متعلق علمیت، زبان و بیان پر قدرت اور وطن ِعزیز سے محبت نظرآتی ہے۔
دوتحقیقی کتابیں
ولایت پناہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم
آپ نے باب العلم حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ و تعالیٰ وجہہ ا لکریم کی سیرت و شخصیت پر ایک تحقیقی کتاب ولایت پناہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم لکھی۔
فنون ِ لطیفہ اور اسلام
مندرجہ بالاعنوان کے تحت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کی تحقیقی کتاب بڑاعلمی سرمایہ ہے ،جو دل کشا بھی ہے اور چشم کشا بھی۔
سات صدیوں بعد،دو تخلیقی کارنامے
امیر خسروؒ کے بعدسیّد فخر الدین بَلّے نے قول ترانہ اور “نیا رنگ” تخلیق کیا۔ جس کی دُھنیں ریڈیو پاکستان ملتان نے تیار کیں۔ ان دونوں تخلیقات کو جید علما،صوفیااور مشائخ نے7 صدیوں بعد اہم تاریخی اور تاریخ ساز کارنامہ قرار دیا ہے۔
محسنِ فن ….”مین آف دی سٹیج”۔ اسٹیج کیلئے خدمات پر دو خطابات سے نوازا گیا
فنون و ثقافت کے فروغ اور 1982ءمیں ملتان میں 25 روزہ جشنِ تمثیل کرانے پر ثقافتی تنظیموں اور اسٹیج فنکاروں کی طرف سے آپ کو ”محسنِ فن“ کا خطاب دینے کے ساتھ ساتھ مین آف دی اسٹیج قرار دیا گیا۔
سکونت
سرکاری ملازمت نے خانہ بدوش بناکر رکھ دیا۔کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، سرگودھا، ملتان،کوئٹہ ، قلات، خضدار اور بہاولپور میں دورانِ ملازمت قیام رہا۔ ان شہروں میں آپ کا وسیع حلقہء یاراں موجود ہے۔
ریٹائرمنٹ
ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ ،حکومت پنجاب ۔گریڈ 20
دسمبر۔199015
روزگار بعد از ریٹائرمنٹ
فری لانس (جرنلسٹ )‘ میڈیا کنسلٹنٹ۔ پبلک ریلیشنز پریکٹیشنر
جادہ ءصحافت پر انمٹ نقوش :
سید فخرالدین بلے نے دنیائے صحافت میں بھی انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔اخبارات و جرائد میں کالم بھی لکھے۔ سیاسی اور سماجی مسائل و معاملات پر ان کے قطعات بھی توجہ کامرکزبنے۔پاکستان کے صدور،وزرائے اعظم،صوبائی گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کےلئے جتنی تقریریں لکھیں ،انہیں شمارمیں نہیں لایاجاسکتا۔دوست احباب ان کے پاس آ کر مضامین لکھوایاکرتے تھے اور پھرانہیں اپنے نام سے چھپواکر خوش ہوتے تھے۔ایسا کبھی کبھارنہیں اکثر ہوتاتھا۔ان کی عنایات کی بنیاد پر بہت سے لوگ صاحب ِ کتاب بنے۔
سید فخرالدین بلّے نے صحافتی دنیامیں کچھ جرائد کے بانی مدیرِاعلیٰ یا مدیر کی حیثیت سے قابل ِ قدرکام کیا۔سرکاری جرائد پر بھی ان کی شخصیت کے دستخط ثبت نظرآتے ہیں۔جو جرائد آپ کے زیرادارت شائع ہوئے،ان کی تفصیل یہ ہے۔
ایڈیٹر پندرہ روزہ دی یونین علی گڑھ٭
٭بانی ایڈیٹر ماہنامہ جھلک علی گڑھ
٭جوائنٹ ایڈیٹر روزنامہ نو روز، کراچی
٭جوائنٹ ایڈیٹر بہاولپور ریویو‘ بہاولپور
٭ایڈیٹر ماہنامہ لاہور افیئرز، لاہور
٭ایڈیٹر ہفت روزہ استقلال ،لاہور
٭ایڈیٹر ماہنامہ ویسٹ پاکستان، لاہور
٭بانی چیف ایڈیٹر ماہنامہ فلاح لاہور
٭بانی چیف ایڈیٹر ماہنامہ اوقاف اسلام آباد
٭بانی چیف ایڈیٹر ماہنامہ ہم وطن، اسلام آباد
٭بانی چیف ایڈیٹر ماہنامہ یارانِ وطن، اسلام آباد
٭بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ آوازِ جرس‘ لاہور
٭بانی چیف ایڈیٹر پندرہ روزہ مسلم لیگ نیوز ، لاہور
٭بانی چیف ایڈیٹر ماہنامہ نوائے بلدیات لاہور
٭بانی چیف ایڈیٹر ماہنامہ ہمارا ملتان ، ملتان
ادبی تنظیمیں اور ادارے
ادبی تنظیم قافلہ کے بانی
تخلیق کاروں، فنکاروں،شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں کی تنظیم ”قافلہ“ بنائی۔ جس کے ”پڑاﺅ“ لاہور اور ملتان میں سیّد فخر الدین بَلّے کی اقامت گاہ پر بڑے تسلسل اور تواتر کے ساتھ ہوئے۔ ان کی خواہش پر ہی ”قافلے“ کے پڑاﺅ بہاولپور میں نامور علمی ادبی شخصیت سیدتابش الوری کی رہائش گاہ پر ہوتے ہیں۔
پنجند اکادمی
سرائیکی وسیب کی تہذیب و ثقافت کے تحفظ،فنکاروں کی حوصلہ افزائی، مختلف شعبوں میں ”جوہرِ قابل“ کی دریافت اور پذیرائی کےلئے آپ نے نئی راہیں تلاش کیں۔پنجند اکادمی بنائی اور اس کے قیام پرجو کتابچہ شائع کیا،اس کی ایک ایک سطر میں فخرالدین بلے کے خواب دکھائی دیتے ہیں۔ان کے خوابوں میں اب بھی حقیقت کے رنگ بھرے جاسکتے ہیں۔
معین اکادمی
اپنے بزرگوں کے نام پر معین اکادمی کی بنیاد رکھی۔ اس اشاعتی ادارے کے تحت متعدد ادیبوں کی کتابیں شائع کیں۔
دل کی بیماری سے دل لگی:
اگست 1980 میں انہیں دل کادورہ پڑا۔ڈاکٹروں نے آرام کے ساتھ سگریٹ نوشی ترک کرنے کامشورہ دیالیکن انہوں نے آرام کیا نہ سگریٹ نوشی ترک کی۔دل کی بیماری کے ساتھ ایسی دل لگی شاید ہی کسی نے کی ہو۔ دل کی اس بیماری کے ساتھ وہ چوبیس برس تک زندہ رہے۔جب دورہ پڑتاتودوچار دن بچوں کی دل جوئی کےلئے مصروفیات ضرور ترک کردیتے اور پھر ان کی دن رات جاری رہنے والی سرگرمیاں زیادہ زور شور کے ساتھ نظرآتیں۔معا لجین کاکہناتھا ان کاصرف ایک چوتھائی دل کام کررہاہے ۔آخری ایام میں اٹھارہ، اٹھارہ گھنٹے آکسیجن کی نالی ناک سے لگی رہتی لیکن یہ بیماری بھی انہیں غیر فعال کرنے میں ناکام رہی۔ایسی قوت ِ ارادی اور خود اعتمادی کم کم ہی دکھائی دیتی ہے۔جنوری2004کے دوسرے ہفتے میں انہیں نشتراسپتال داخل کرادیاگیا۔شدید علالت میں بھی کلمہء شکر زبان پر رہا۔ہرحال میں شکر بجالاناان کے مزاج کاحصہ تھا۔
وفات:آئی ۔سی ۔یو،نشتراسپتال ،ملتان
تاریخ ِ وفات:
جنوری 200428
6ذوالحج ۔بدھ ؛رات 8 بج کر 5 منٹ پرخالق حقیقی سے جاملے۔
بہاولپورمیں تدفین : جمعرات 29جنوری 2004
آخری ”پڑاﺅ“
قبرستان نور شاہ بخاری ‘ بہاولپور
جیتے جی ہے اس مٹی کا قرض چکانا مشکل
بڑھ جائے گا قبرمیں جاکے اِس مٹی کا قرض
سیدفخرالدین بلے
یہ سید کام کرتا ہے
فخرالدین بَلّے۔ادب اور ثقافت کی ایک متحرک شخصیت
تحریر : انتظار حسین
فخر الدین بلّے بڑی متحرک قسم کی شخصیت تھے۔ جتنا بھی ان کے متعلق سنا ، جانا اور دیکھا ،انہیں سرگرم ِعمل ہی پایا۔ بظاہر سرکاری ملازمت کر رہے تھے مگر سرکاری ملازمت کو انہوں نے قومی فریضہ کی ادائیگی سے عبارت جانا۔ ہماری قومی زندگی میں جو شعبہ سب سے زیادہ توجہ کا محتاج تھا اور جس کی اہمیت کا کم لوگوں کو احساس تھا، اسے ہی انہوں نے اپنی سرگرمی کا میدان بنایا۔ یہ ادب، فنون اور تہذیب کا شعبہ تھا۔
انہوں نے لاہور سے دور کے مقامات پر جا کر بھی فنون کے لئے بہت کام کیا۔ خاص طور پر تھیڑ پر ان کی توجہ تھی ۔اس کا تھوڑا تجربہ مجھے بھی ہے ۔میرا ان سے ربط و ضبط ویسے تو بہت کم تھا مگر اتفاق ایسا ہوا کہ لاہور میں جب وہ سوشل ویلفیئر کے محکمہ سے وابستہ تھے تو وہ اسی محلہ میں آکر رہے ،جہاں پہلے سے میرا بسیرا تھا۔ تو جتنے عرصے وہ اس محلہ میں رہے ،اتنے عرصے میری ان سے ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔اسی دوران انہوں نے سوشل ویلفیئر کے حساب سے تھیڑ کو فروغ دینے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یا یوں کہہ لیجئے کہ تھیڑ کے ذریعہ سوشل ویلفیئر کے مقاصد کو پروان چڑھانے کا منصوبہ، اس سلسلہ میں انہو ں نے مجھے ڈرامہ لکھنے پر اکسایا۔ میں نے سوچا کہ لاہور میں چونی والا تھیڑ تو زور شور سے چل رہا ہے لیکن بامعنی سنجیدہ تھیڑ کی سرگرمی نہ ہونے کے برابر ہے ۔کیا مضائقہ ہے کہ میں اپنی اس بھولی ہوئی سرگرمی کو یاد کروں اور کوئی ایسا سٹیج پلے لکھوں ،جو فنی اعتبار سے بھی معیاری سمجھا جائے اور کوئی سماجی مقصد بھی پورا کرتا نظر آئے۔بہرحال میں نے اس عزیز کی تحریک پر ایک سٹیج پلے لکھا۔ ایک نامور سٹیج ڈائریکٹر سے معاملہ بھی طے پاگیا۔ مگر وہی ہوا جو ہمارے یہاں اکثر ایسے معاملات میں ہوتا چلا آیا ہے ۔ بلے نے مجھے بتایا کہ ہم نے تو انہیں ڈائریکٹ کرنے کی فیس اور جملہ اخراجات کے پیش نظر رقم بھی ادا کر دی تھی مگر اس کے چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔سکرپٹ بھی گیا اور بلے صاحب نے لاہور میں تھیڑ کے فروغ کا جو منصوبہ اس طرح بنایا تھا کہ اس سے سماجی مقاصد بھی پورے ہوتے نظر آئیں ،وہ بھی دھرے کا دھرا رہ گیا۔
ملتان اورراولپنڈی میں جا کر انہوں نے اس مقصد میں زیادہ کامیابی حاصل کی۔ اصل میں ان میں ایک ایسا وصف تھا ،جس کی وجہ سے وہ حالات کی ناسازگاری کے باوجود کسی نہ کسی طور کامیابی حاصل کرلیتے تھے ۔جس واقعہ کا میں نے ابھی ذکر کیا ۔ ایسے تجربے سے گزرنے کے بعد آدمی مایوس اور بددل ہو جاتا ہے اور یوں اس کے سارے عزائم ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ بلے صاحب ایسے تجربوں سے پہلے بھی ضرور گزرے ہوں گے کیونکہ ہمارے یہاں فضا ہی کچھ اس قسم کی ہے مگر وہ ہمت نہیں ہارتے تھے۔ لاہور میں وہ اپنے منصوبے کو پروان نہ چڑھا سکے تو ملتان ،راولپنڈی اوردیگر شہروں میں جا کر انہوں نے حالات کو زیادہ ساز گار پایا اور اپنے ارمان پورے کئے۔
جن کے اندر کوئی لگن ہوتی ہے، ان میں ایک یہ صفت بھی ہوتی ہے کہ حالات کیسے بھی ہوں انہیں وہ اس طرح برتتے ہیں کہ ان کی لگن کی تسکین کی صورت پیدا ہوتی رہتی ہے۔ بلے صاحب میں یہ صفت بہرحال تھی۔ انہوں نے کس طرح ملازمت کی کہ ملازمت والے فرائض بھی پورے کئے اور جس کام کی انہیں چیٹک لگی ہوئی تھی، اسے بھی ملازمت کے ذریعہ پروان چڑھانے کا کام لیا۔ پھر ساتھ میں شاعری بھی کی، جتنی شاعری کی، اس کے ساتھ انصاف کیا۔ اس پر ان کا علمی کام مستزاد۔
مختصر یہ کہ اس ملک کو سب سے بڑھ کر ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے ،جو اپنے آپ کو کسی بھلے کام کے لئے وقف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں مگر پاکستان میں اس نام کی مخلوق عنقا ہے۔ بلے صاحب نے اس ملک کے تہذیبی فروغ کے لئے اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا ،اپنی حد تک انہوں نے یہ کام جوش و جذبے کے ساتھ انجام دیا۔ ان کے اس جذبے اور اس کام کی ہمیں قدر کرنی چاہئے۔
نام نیک رفتگاں ضائع مکن
سید فخر الدین بلّے۔ ایک فرد۔ ایک روایت
تحریر: افتخار عارف
سید فخر الدین بلے ہمارے زمانے کے ان یگانہ ءروزگار شخصیتوں میں تھے کہ جن کی ذات گرامی بے شمار کمالات کی جامع تھی۔شاعر، ادیب، نقاد، محقق، سکالر۔ پروردگار ِعالم نے سید گرامی کو بہت نواز تھا۔ پھر بھی شخصی طور پر وہ ایک انتہائی ملنسار، خوش مزاج، کشادہ ذہن، کشادہ نظر آدمی تھے کہ ایک بار جو بھی ان سے مل لیتا ،وہ ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ محمدﷺ اور آل ِمحمد ﷺسے ان کی تمام و کمال عقیدت ان کے اشعار میں بھی ان کے دل کی ترجمانی کرتی نظر آتی تھی۔ آج بھی ان کا منقبتی نوعیت کا کلام اہل ِ محبت میں عقیدت کے ساتھ پڑھا اور پسند کیا جاتا ہے۔ اپنے اہل ِ کمال کو یاد رکھنا اور ان کی خدمات ِ جلیلہ کا اعتراف کرنا زندہ قوموں کی روایت میں شامل ہوتا ہے۔ لازم آتا ہے کہ ہم سید فخر الدین بلّے کی علمی و ادبی خدمات کو یاد رکھیں اور زیادہ سے زیادہ حلقوں تک ان کے فیضان کو عام کریں۔ اپنے ایک محسن کا یہ کم سے کم حق ہے ،جو ہم ادا کر سکتے ہیں۔
افتخار عارف
سَیّد فخرالدین بَلّے ۔بلندپایہ اور گراں مایہ کلام کاخالق
تحریر:آل ِ احمد سرور
سَیّد فخرالدین بَلّے نے ادب ،تصوف اورتاریخ کابڑاگہرامطالعہ کیاہے۔
جس نے انہیں حقیقت کاعرفان بخشااوربصیرت عطاکی ہے،جس کی جھلک ان کی غزلوں،نظموں اور نثرپاروں میں دیکھی جاسکتی ہے۔
انہوں نے دانشوری اور پُرسوزعقلیت کی جوشمعیں جلائیں،ان کی روشنی سرحدپاربھی پہنچی ہے۔
میری نظرسے ان کاجوکلام گزراہے،وہ بلندپایہ بھی ہے اورگراں مایہ بھی۔
ایک زندہ شخصیت۔ایک تابندہ تاریخ
سیّد فخرالدین بَلّے۔دیکھئے!اس شخص میں کتنے جہاں آباد ہیں
تحریر:پروفیسر منظر ایوبی
سیّد فخر الدین بَلّے 1930ءمیں ہاپوڑ ضلع میرٹھ (یو پی) بھارت میں پیدا ہوئے۔ تقریباً 74 برس زندگی کی بہاریں دیکھیں۔ تخلیقی سفر 58 برس پر محیط ہے۔ عمر کا بیشتر حصہ پاکستان کے بڑے صوبہ پنجاب میں گزرا ۔جو تقسیم ِہند سے قبل بھی علمی‘ ادبی اور ثقافتی اعتبار سے شہرت کا حامل تھا۔ بٹوارے کے بعد بھارت کے مردم خیز علاقوں سے ترکِ وطن کرنے والے ادیبوں ‘ شاعروں اور فنکاروں کی اکثریت نے پنجاب اور سندھ کو اپنا مستقل مستقر بنایا ۔جس کے نتیجے میں پاکستان کے قدیم علمی او ادبی دبستانوں کو روز افزوں ترقی و ترویج کے مواقع میسر آئے۔اسی طرح بَلّے صاحب نصف صدی سے زیادہ مدت تک پاکستان کی اس خوشگوار ادبی فضا پر چھائے رہے۔
سیّد فخر الدین بَلّے کا تعلق ایک ایسے علمی و ادبی خانوادے سے تھا ۔جس کی فضیلت گذشتہ کئی نسلوں سے مثالی حیثیت کی حامل تھی۔ ذہن کی ابتدائی نشوونما میں گھر کے تربیتی ماحول اور ترکِ وطن کے بعد پنجاب کی خوشگوار ادبی فضاءنے ان کی شخصیت سازی میں بہت اہم رول ادا کیا۔ ویسے اللہ تعالیٰ نے انہیں جو قابلیت، لیاقت،سوجھ بوجھ اور استعداد عطا کیں۔ بلے صاحب نے ان سے بطریقِ احسن کام لینے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔ تنہا اپنی ذات سے ایسے ایسے کمالات ِ ہنر دکھلائے اور معجزاتی امور سر انجام دیئے کہ دنیائے ادب میں انہیں ایک ادارے، ایک انسٹی ٹیوشن کے معتبر حوالےکی حیثیت حاصل ہو گئی۔
بلے صاحب مجھ سے دو برس بڑے تھے لیکن اسے اتفاق کہیے یا حالات کا جبر کہ تمام عمر مشاعروں، مذاکروں اور علمی و ادبی مجلسوں میں شرکت کے باوجود مجھے ان سے بالمشافہ گفتگو کا شرف حاصل نہ ہو سکا۔ البتہ میں نے انہیں کبھی نادیدہ رفیقِ ذہن نہیں گردانا۔ اربابِ علم و فن اور اہلِ سخن کی زبانی بلے صاحب کی ادبی سرگرمیوں اور علمی مشاغل سے آگاہی ہوتی رہی اور مطبوعہ لٹریچر میں بھی ان کا ذکر اور تحریریں نظر سے گزرتی رہیں۔ یوں بھی زمانہء طالب علمی سے لےکرتادم ِمرگ ان کے شب و روز کسی سے پوشیدہ نہیں ۔
ادیب ِ کامل ، انٹراور بی ایس سی کی اسناد عالمی شہرت یافتہ بھارتی درسگارہ مسلم علی گڑھ یونیورسٹی سے حاصل کیں۔ جہاں تحریک پاکستان کے دوران طلباء کی تنظیم مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشنمیں بھرپور حصہ لیا۔ ترکِ وطن کے بعد پاکستان کی آزاد فضا تو انہیں خوب ہی راس آئی۔ ان کی پہلو دار شخصیت کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ادیب‘ شاعر‘ صحافی‘ تجزیہ نگار‘ محقق‘ تخلیق کار ہی نہیں تھے بلکہ دینی عالم‘ دانشور اور بہ اعتبارِ مشرب تصوف کے علمبردار بھی تھے۔ سائنس کے گریجوایٹ ہونے کے باوجود انہوں نے سائنسدان کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے بجائے ذرائع ابلاغ کے سرکاری محکموں میں ملازمت اختیار کرنے کو ترجیح دی۔ گویا تعلقاتِ عامہ اور محکمہ اطلاعات کو روزی کا ذریعہ بنایا۔ عمر بھر متعلقہ ادارات اور دیگر عوامی فلاحی دفاتر سے منسلک رہے اور اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا کر مہارتِ کاملہ کا لوہا منوایا۔
بلے صاحب کی شخصیت اور فن پر اردو کے نامور اور مستند قلمکاروں کی بے شمار آراءمیری نظر سے گزری ہیں ۔لیکن مقالہ ہذا میں ان سب کااحاطہ ممکن نہیں۔ البتہ بعض ناقدینِ ادب کے گراں قدر اظہار یوں اور اپنے مطالعہ کی روشنی میں ہم بڑی حد تک بلے صاحب کے قدو قامت کا تعین کر سکتے ہیں۔ سو اس مقصد کی تکمیل کےلئے ادب کے حوالہ سے تحریر کردہ ان پچاس مقالوں کا ذکر کرنا ضروری ہے ،جن میں مضمون نگاروں نے اپنے اپنے انداز میں بلے صاحب کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی ان تین مضامین کی تشریح بھی لابدی ہے ،جن میں فنونِ لطیفہ سے متعلق بلے صاحب کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔سیّد فخر الدین
بلے پرخامہ فرسائی کرنے والوں میں جو پہلا نام میرے لوحِ ذہن پر ابھرتا ہے، وہ طفیل ہشیار پوری کا ہے،جن کے چند لفظوں میں بلے صاحب کی شخصیت کا بہت ہی اہم پہلو نظر آتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ”فخر الدین بلے نے چَھپنے کی بجائے چُھپنے کو زیادہ پسند کیا” ۔ میرے خیال میں طفیل صاحب نے قارئین ِکرام کو باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ بلے صاحب نے اپنی تخلیقات (خواہ وہ نثر کی صورت میں پائی جاتی ہیں یا منظوم ہیں) کی اشاعت اور طباعت پر بہت کم توجہ دی اور یہ حقیقت بھی ہے کہ تقریباً تمام اصنافِ سخن پر غیر معمولی قدرت حاصل ہونے کے باوجود بلے صاحب نے اپنا سرمایہ ءسخن مجموعوں اور بیاضوں یا کلیات کی شکل میں منظرِ عام پر لانے کی سعی نہیں کی۔ میری نظر میں اس کی بنیادی وجہ ایک تو یہ ہے کہ وطنِ عزیز اور بیرون ملک جگہ جگہ بلے صاحب کی تخلیقات بکھری پڑی ہیں۔ ان کو یک جا کرنا سہل نہیں۔ دوسرا سبب میرے نزدیک بلے صاحب کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو خود سے بے نیاز صرف اور صرف دوسروں کےلئے زندہ رہتے ہیں۔ جنہیں نہ اپنی نیک نامی کا خیال‘ نہ صلہ کی پروا اور نہ نام و نمود کا شوق ہوتا ہے۔ ان دونوں اسباب سے ہٹ کر بھی غور کیا جائے تو یہ بات کتنی اہمیت کی حامل ہے کہ بلے صاحب کسی ناشر کے محتاج بھی نہیں تھے کہ خداوندِ قدوس نے انہیں مالی وسائل سے نوازا تھا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے ان ضرورت مندوں اور فطری و حقیقی تخلیق کاروں کی تحریروں کو زیورِ طباعت سے آراستہ کرنے میں ہمیشہ گہری دلچسپی لی ۔جن کی ادبی کاوشوں کو نہ تو ناشرین نے قابلِ اعتناءسمجھااور نہ وطنِ عزیز کے اہلِ ثروت نے۔ اس موقع پر میں اپنے ذاتی تجربوں میں سے صرف ایک مثال پر اکتفا کروں گا۔ میں نے ملک کے گوشے گوشے اور کونوں کھدروں میں معیار ی ادب کے بیسیوں تحقیق کاروں کو کسمپرسی کی زندگی گزارتے اور دیوان یامجموعہ کی اشاعت کی حسرت دل میں لئے دنیا سے سدھارتے دیکھا ہے۔ تعلقاتِ عامہ کے فن سے ناواقف ان جیسے قلمکاروں کی مثالیں ملک کے پسماندہ اور چھوٹے علاقوں تک محدود نہیں بلکہ بڑے بڑے شہر وں میں بھی نادار اور مفلس قلمکاروں کے کمالاتِ فن بے توقیری و ناقدری پر نوحہ خوانی کرتے نظر آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلے صاحب نے ایسے ہی فنکاروں اور ادیبوں شاعروں کےلئے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ حقوق العباد کی ادائی میں انہیں اپنا ہوش ہی کہاں تھا؟ جو اپنے بارے میں کچھ سوچتے۔ ؟؟؟ فراق گورکھپوری دنیائے سخن ہی کی عظیم شخصیت نہیں، انگریزی اور اردو ادبیات کے بہت بڑے نقاد بھی ہیں۔ ہم عصر اور ہم عمر قلمکاروں پر دیانتداری کے ساتھ اظہار رائے کرنا آسان نہیں۔ پھر فراق تو اس حوالہ سے بہت کٹر قسم کے ناقد تصور کئے جاتے تھے۔ ادبی دنیامیں کسی کے بارے میں ان کی ایک سطر پتھر کی لکیرخیال کی جاتی ہے۔ بلے صاحب کے بارے میں فراق کا بے باکانہ انداز ملاحظہ کیجئے۔ فرماتے ہیں “بلے رنگوں کی بجائے الفاظ سے تصویریں بنانے کا فن جانتے ہیں”۔ قارئین کرام ! دیکھا آپ نے کتنی جچی تلی بات کہی ،حضرت فراق نے۔
علاوہ ازیں ‘ فراق کے ایک اور ہم عصر بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق کا ارشاد گرامی ہے کہ “بلے کی نثر یا نظم میں کوئی نقص نکالنا محال ہے”۔ کیا خوبصورت انداز اختیار کیا بابائے اردو نے بلے صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے کا اور یہ صلہ ہے بلے صاحب کی اس فنی احتیاط اور شعری تقاضوں کے خیال رکھنے کا کہ جس کا ایک ایک لفظ مظہر تصدیق ہے۔
عہد ِ موجود کے عظیم نقاد‘ ادب میں جدیدیت کے رجحان کے علم بردار ڈاکٹر وزیر آغا جو اپنی تحریروں میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں نہ بے جا رعایت دینے کے قائل ہیں۔ بلے صاحب کے بارے میں فرماتے ہیں “ان کے کسی جملے پر تو کجا ان کے استعمال کردہ کسی لفظ پر بھی انگلی رکھنا مشکل ہے”۔ اس سے ملتے جلتے جذبات و احساسات بلے صاحب کے ہم عصروں میں جناب مصطفےٰ زیدی اور جوش ملیح آبادی کے ہیں ،جن کی صداقت شک و شبہ سے بالاتر ہے۔
اردو کے معروف تذکرہ نگار جناب نور احمد میرٹھی کا ایک مضمون سیّد فخر الدین بَلّے کی ادبی و علمی خدمات کے حوالہ سے “تذکرہ شعرائے میرٹھ “میں شامل ہے۔ جس میں نور میرٹھی نے بلے صاحب کے دیگر کوائف کے ساتھ عہد موجود کے ہم عصر شعرا اور علمی و ادبی شخصیتوں سے بلے صاحب کی قربت کا ذکر کیا ہے۔ تذکرے کے صفحہ نمبر 309پر لکھتے ہیں کہ ”عمر کے ابتدائی اور تعلیمی ادوار میں انہیں مولانا ابوالکلام آزاد‘ ڈاکٹر ذاکر حسین‘ مولانا حسرت موہانی‘ مولوی عبدالحق‘ رشید احمد صدیقی ‘ جگر مراد آبادی ‘ تلوک چند محروم‘ علامہ نیاز فتحپوری‘ سیماب اکبر آبادی‘ سر شاہنواز بھٹو اور مولانا عبدالسلام نیازی جیسے اکابرین کی محبتیں حاصل رہیں۔ ہم عصر صاحبانِ علم میں احمد ندیم قاسمی ، سعادت حسن منٹو،فیض احمد فیض‘ میرزا دیب، ڈاکٹر سیّد عبداللہ، احسان دانش، قدرت اللہ شہاب، صہبا لکھنوی‘ ڈاکٹر وحید قریشی‘ جگن ناتھ آزاد‘ عطاءالحق قاسمی‘ صادقین‘ حفیظ جالندھری اور مشکور حسین یاد وغیرہ سے خصوصی مراسم رہے ہیں۔
اسی طرح ملک کے ممتاز صحافیوںحمید نظامی، میر خلیل الرحمن، عبدالقادر حسن ، زیڈ اے سلہری‘ منو بھائی اور مجیب الرحمان شامی صاحبان سے قریبی تعلق رہا۔ آگے چل کر اسی تذکرے میں بلے صاحب کی کتب کے حوالے سے لکھا ہے کہ “آپ کی متعدد تالیفات اور مجموعے (نثر) منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ بے شمار مقالات ان کے علاوہ ہیں ۔جو ابھی یک جا نہیں ہوئے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی مشاعروں اور اجتماعات میں بھی شرکت کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ گزشتہ دنوں میں بلے صاحب کے فرزند ارجمندکے بارے میں اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ آنس معین تو جدید اردو شاعری کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ باقی بیٹیاں اوربیٹے بھی بلے صاحب کا نام روشن کر رہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ع ایں خانہ تمام آفتاب است ۔۔صاحبو ! یہ تھے بلے صاحب کی زندگی کے چند اہم پہلو جن کا اب تک آپ نے مطالعہ کیا۔
اب میں آپ کی توجہ کا مرکز سیّد فخر الدین بلے کی صحافتی زندگی کو بناتا ہوں۔ ان کی زندگی کی یہ جہت بھی کچھ کم اہم نہیں ۔ علی گڑھ کے مجلے دی یونین کی ادارت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔علی گڑھ میں ہی قیام کے دوران ماہنامہ جھلک جاری کیا اور پنجاب کے دل لاہور کی رنگین فضاءمیں لیلائے سخن کے گیسو سنوارنے کے ساتھ ساتھ ماہنامہ فلاح، نوائے بلدیات ، ویسٹ پاکستان ، ہفت روزہ آوازِ جرس، ماہنامہ مسلم لیگ نیوزکی اشاعتوں میں اپنا خون رچاتے رہے۔ یہاں تک کہ اس زمانے کامقبول پندرہ روزہ استقلال کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ اسلام آباد میں ماہنامہ ہم وطن، ماہنامہ یارانِ وطن اور ماہنامہ اوقاف کو سنوارنے اور نکھارنے کا فریضہ انجام دیا۔
بلے صاحب سے قریبی تعلق رکھنے والوں کے اندازے کے مطابق ڈیڑھ سو (150) سے زیادہ کتابیں‘ سووینیر‘ بروشرز‘ کتابچے انہوں نے مرتب یا مدوّن کئے۔ علاوہ ازیں ملک کی انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ ا فسروں، سرکاری اہلکاروں، چوٹی کے حکمرانوں جن میں صدور، وزراء، سیکرٹریز بھی شامل ہیں ، کے لئے مختلف موضوعات پر مبنی تقریریں لکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ دماغ کی ساری چولیں ہل جاتی ہیں۔ مگر بلے صاحب نے یہ”شغل” بڑے انہماک کے ساتھ تمام عمر جاری رکھا۔ یہاں تک کہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر خطاب کرنے والی اعلیٰ شخصیتوں نے بھی بلے صاحب کی تخلیقی صلاحیتوں سے خوب خوب فیض حاصل کیا۔ اسلام اور فنونِ لطیفہ کے حوالے سے اور حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ پر لکھی جانے والی ان کی کتاب ہنوز میری نظر سے نہیں گزری۔
صاحبو! انسانی تاریخ ہزاروں نوع کی تہذیبوں، تمدنوں، ثقافتوں اور سماجوں کا لامحدود حوالہ رکھتی ہے۔ اردو ادب کے تبصرہ نگار صغیر حسن صغیر نے کسی میگزین میں انسان کے حوالے سے نہایت خوبصورت اور معنی خیز گفتگو کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے (مجھے میگزین کا نام یاد نہیں رہا) کہ انسان رب کی ایسی تخلیق ہے کہ باہم مطابقت ناممکن ہے۔ نہ عقلاً نہ شکلاً ہر ایک کا ذہن،سوچ‘ خیالات ‘ نقطہ نظر اور تخیل کی پرواز جدا جدا ہے اور ہماری قوم کا المیہ بھی جدا۔ اس کی معاشرت، تہذیب،کردار اور اخلاق بھی جدا۔ تنقید کا یہ عالم کہ اگر شخصیت مرحوم ہے تو ہمارا قومی نظریہ ہے کہ مرے ہوئے کی خامیاں یا برائیاں کیا بیان کرنا ؟باقاعدہ دورانِ گفتگو ٹوک دیا جاتا ہے کہ مرے ہوئے کی برائی کرنا گناہ ہے۔ اللہ رحمت کرے اور اگر شخصیت زندہ ہے تو بھی دل آزاری گناہ عظیم ہے۔ چنانچہ اس سبب ہم تنقید کا حق ادا نہیں کر پائے۔
بلے صاحب کی شخصیت اور فن کے مختلف پہلوﺅں کو اجاگر کرتے وقت ان پر لکھنے والوں نے واقعی تنقید و تبصرہ کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ ان جیسی کثیر الجہات شخصیت (جو سراپا خلوص و محبت ہو) پر اظہار خیال کرتے وقت دامنِ احتیاط سے ہاتھ چھوٹ جانے کا احتمال رہتا ہے۔
آج بلے صاحب ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن ان کی زندگی کی کوئی جہت ایسی نہیں کہ جس پر ان کی حیات کے دوران روشنی نہ ڈالی گئی ہو اور اب عہدِ موجود میں بھی ان پر اہلِ قلم اپنی اپنی رائے دیتے وقت کسی تامل یا مصلحت سے کام نہیں لے رہے۔ ان کی باغ و بہار شخصیت کا یہ پہلو کتنا حیرت انگیز ہے کہ انہوں نے تصوف جیسے نازک اور مشکل موضوع کو مرکزی خیال بنا کر دریا کو کوزے میں بند کرنے کی مثال قائم کی ہے۔ ایک نہیں اس موضوع پر بلے صاحب نے درجنوں گراں قدر مقالے لکھے۔ جنہیں نہ صرف صوفیائے کرام نے سراہا بلکہ دریائے تصوف کے غواصوں نے بھی تحسین و آفرین سے نوازا۔ پیرحسام الدین راشدی، جرمن اسکالر اینی میری شمل اور ڈاکٹر وزیر آغا نے اسلامی تصوف اور بزرگان ِ دین کے حوالے سے ان کے تحقیقی کام پر انہیں مقبولیت و پسندیدگی کی سند عطا کی ہے۔
ثقافت و سیاحت کا تعلق کتنا گہرا ہے۔ اس حوالہ سے بھی ان کی نگارشات اپنی الگ الگ شان رکھتی ہیں۔ پاکستان کے پہاڑی، تاریخی مقامات ہوں یا آثارِ قدیمہ‘ مجسمہ سازی‘ نقاشی‘ مصوری ہو یا سنگ تراشی اور خطاطی کس کس کی ماہیت ، اصلیت، اہمیت اور افادیت پر انہوں نے خامہ فرسائی نہیں کی؟ سیاحوں کی رہنمائی اور تاریخی و ثقافتی اسکالرز کی آگاہی کےلئے ڈاکو منٹری اورفیچر فلمیں بھی بنائیں اور متعلقہ معلوماتی مواد بھی فراہم کیا۔ سماجی ورکر کی حیثیت سے بھی بلے صاحب کے کارہائے نمایاں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وطنِ عزیز کے محنت کشوں کے مسائل ہوں یا شاعروں، نثر نگاروں، وکیلوں، عالموں، استادوں،اورطالب علموں کے کے مسائل ۔انہیں حل کرنے میں وہ گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ در اصل انہیں پیچیدہ سماجی مسائل اورتاجروں کی پرابلمز حل کرنے کاہنرآتاتھا۔ اس کا زندہ ثبوت سیمیناروں اور کانفرنسوں میں ان کی باقاعدہ شرکت تھی۔ موسیقی اور ڈراموں کی نمائش‘ کھیلوں کے مقابلے، جگہ جگہ آرٹ گیلریوں کا قیام، وابستگانِ مراکز ثقافت و سیاحت کی حوصلہ افزائی اور ان کی ہر قسم کی معاونت ان کے نزدیک عبادت کا درجہ رکھتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بلے صاحب نے تا دم ِمرگ ارباب ِ فن کے باہمی تعلقات پر ہمیشہ فخر کیا۔ پروفیسر حمید رضا صدیقی نے اپنے ایک مضمون (مطبوعہ نوائے وقت ملتان 3 فروری 2009) میں ایک جگہ بڑی سچی بات کہی ہے ۔ اور وہ یہ کہ ان کا حلقہءاحباب بھی وسیع تھا اور ان کا دسترخوان بھی ۔ وہ وسیع القلب انسان تھے۔ انکساری کوٹ کوٹ کر ان میں بھری ہوئی تھی۔ ان کی شخصیت، ان کی نثر اور شاعری کی طرح معتبر تھی۔ وہ تہذیب کا ایک چلتا پھرتا استعارہ تھے۔ اسی تناظر میں اردو کے ممتاز شاعر و ادیب اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر عاصی کرنالی کی یہ چند سطور ملاحظہ کیجئے۔ ان میں بلے صاحب کی شخصیت کی تقریباً تمام جہتیں بولتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ۔ ارشادِ گرامی ہے ”فخر الدین بَلّے ایک شخص کا نہیں ایک یونیورسٹی اور ایک تہذیبی ادارہ کا نام ہے، جس شخص کے زرخیز دماغ میں ایک کمپیوٹر نصب ہے ‘ جس میں حکمتِ الٰہی نے ان گنت اور بے حدو شمار علوم فیڈ کر دیئے ہیں ،جن کا ظہور حسبِ ضرورت ہوتا رہتا ہے۔ ہم ان مظاہر کو دیکھتے ہیں اور حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ وہ عالم ہیں، ادیب ہیں، شاعر ہیں، ناقدہیں ، محقق ہیں، صحافی ہیں اور بیکراں علوم و فنون کے حامل ہیں۔ لیکن بنیادی طور پر وہ ایک انسان ہیں۔ شریف، مہذب ، وضعدار، بامروت، مخلص،خیر خواہ اور سراپا صداقت و محبت۔ اسی لئے ان کی انسانی شخصیت پر اوصاف و صفاتِ عالیہ کے تمام لباس خوبصورت لگتے ہیں۔.
اور تو اور قوالی کے حوالے سے بھی بلے صاحب کی خدمات ہماری ثقافتی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ طفیل ہشیار پوری نے اس موضوع پر کھل کر گفتگو کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ “قوالی کا آغاز ”قول“ سے اور “اختتام ”رنگ“ پر ہوتا ہے۔ اب تک بر صغیر میں امیر خسروؒکا قول اور رنگ رائج ہے۔ “قول” کی نئی تصریحی تہذیب اور نئے رنگ کی تخلیق کا سہرا فخر الدین بَلّے کے سر ہے۔ جن کی دُھنیں ریڈیو پاکستان نے تیار کی ہیں۔ ممتاز عالم دین علامہ سید احمدسعید کاظمی کی رائے میں “قول”کی تصریحی تہذیب کا جو کام حضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ نے امیر خسرو کے سپرد فرمایا تھا ،بلے صاحب کی یہ کاوش اس کا تکملہ نظر آتی ہے”۔ اسی طرح ”رنگ“ کے بارے میں پروفیسر اسلم انصاری نے فخر الدین بلے کو عہد آفریں شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ “فخر الدینبلے صاحب نے سات صدیوں کے بعد نیا رنگ دے کر تاریخی کارنامہ سر انجام دیاہے
سیّد فخر الدین بلے گریڈ 20 کے سرکاری ا فسر تھے۔ انہیں اعلیٰ ترین حکمرانوں کی قربت‘ محبت اور چاہت حاصل تھی۔ اس کے باوصف وہ ذاتی رہائش کےلئے مکان تعمیر نہ کر سکے۔ انہیں وطنِ عزیز کا مفاد اتنا عزیز تھا کہ سرکار کی طرف سے الاٹ کردہ پلاٹ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ قارئین کرام غور فرمائیے سرکاری پیشکش کے انکار پر ۔پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ۔
مفاد پرستی ‘ ہوس پسندی اور منافقت کے عہد موجود میں ایسے قلندر اور فرشتہ صفات لوگوں کا فقدان ہے۔ ڈاکٹر فوق کریمی نے ”جہان ادب“ جنگ مڈویک میگزین 4 فروری 2009 میں ہمارے اس خیال کی تائید کی ہے کہ ان کی شخصیت طلسماتی تھی۔ وہ عجزو انکسار و محبت ‘ خلوص و ایثار کا پیکر تھے۔
سیّد فخر الدین بلے کی شاعرانہ شخصیت پر روشنی ڈالنے سے قبل میں ایک ایسے حقیقی واقعہ کو یہاں سپردِ قرطاس کرنا چاہتا ہوں جو بلے صاحب کی انسان دوستی اور عزیز پروری کا مظہر ہے۔ یہ کوئی سنی سنائی حکایت نہیں ہے۔ نہ من گھڑت ہے نہ افسانہ ہے‘ نہ میں اپنی واقعہ نگاری کا کوئی حسین نمونہ نذرِ قارئین کرنے کا خواہشمند ہوں۔ بٹوارے سے قبل تحریک آزادی کے حوالہ سے بھارتی شعرا سیاسی جلسوں میں عوامی سیاسی شعور بیدا رکرنے کی غرض سے اپنا کلام شرکائے جلسہ کی نذر کیا کرتے تھے۔ تشکیل پاکستان کا مطالبہ بھی زوروں پرتھا۔ مسلم لیگ کے بڑے بڑے جلسوں میں جن میں قائد اعظمبانیپاکستان اور ان کے ساتھی خطابت کے جوہر دکھایا کرتے تھے۔ اردو کے معروف انقلابی شاعر جناب افضل ہاپوڑی اپنے کلام سے شرکاءمیں جوش و جذبہ ابھارنے کا فریضہ ادا کرتے تھے۔ تشکیل پاکستان کے بعد افضل ہا پوڑی نے اپنے متعلقین کے ساتھ (ہجرت کے بعد پنجاب میں اپنا مستقل مستقر بنا لیا تھا) مسلم لیگ کے ورکروں اور سرکاری اہلکاروں نے نہایت جارحانہ و سفاکانہ رویہ اختیار کیا ۔جس کی وجہ سے انہیں شکم و نان کا رشتہ برقرار رکھنے کےلئے برے دن دیکھنا نصیب ہوئے اور کسی نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔ افضل ہاپوڑی صاحب کی زندگی نہایت عسرت میں گزری۔ اس کے باوصف انہوں نے اپنا شغلِ شعر گوئی جاری رکھا۔ جب خاصا مواد جمع ہو گیا تو لواحقین نے ان کی اشاعت کےلئے ذرائع تلاش کئے مگر پورے صوبہ پنجاب اور ملک کے کسی علاقہ میں کسی شخص ‘ کسی ادارے یا کسی مخیر فرد نے دیوانِ افضل کی اشاعت و طباعت کوممکن نہیں بنایا۔ آخر میں متعلقین کی نظر اسی ایک مردِ قلندر پر پڑی جو اس باب میں خاصی شہرت کا حامل تھا۔ سیّد فخر الدین بلے کے ہر قسم کے تعاون کے سبب دیوان شائع ہوا تو اس پر تنقیدی و تجزیاتی مضامین اور تبصرے لکھنے والوں کی اس طرح تلاش جاری رہی، جس طرح دیوان کی اشاعت میں لواحقین نے در در کی خاک چھانی تھی۔ کراچی والوں نے بھی انہیں مایوس کیا۔ 1979ءکے لگ بھگ (جب میں گورنمنٹ ڈگری سائنس کالج‘ قاسم آباد ‘لیاقت آباد) میں فرائض منصبی ادا کررہا تھا۔ دیوانِ افضل میرے ایک شاگرد کی وساطت سے مجھے ملا۔ تب بڑے بڑے ادب پرستوں، علم و فن کے محسنوں کے قول و فعل اور غریب و مستحق اہلِ قلم کی مدد کرنے کے دعوے داروں کے راز فاش ہوئے۔ میں نے بھی اپنے شاگر دسے دیوان کے مطالعہ کا وعدہ کر لیا۔ بغیر یہ سوچے کہ کلام ِ افضل میرے دل و دماغ کو چھوتا ہے یا نہیں۔ دیوان چونکہ صوری اعتبار سے دل کشی‘ دل آویزی اور خوبصورتی سے عاری تھا‘ کافی دنوں تک میں بھی ٹال مٹول سے کام لیتا رہا‘ آخر مجھے سیّد فخر الدین بلے کا پیغام (زبانی) ملا تو میں نے اس کے متن کا جائزہ لیا۔ معنوی لحاظ سے کلام بہت پسند آیا۔ لہٰذا میں نے بلے صاحب کے حکم کی تعمیل میں جم کر ایک مقالہ لکھا ،جو بعد میں جملہ تبصرہ نگاروں اور مضمون نویسوں کی بنیاد بن گیا۔ اس وقت سے ہمارے اور بلے صاحب کے درمیان قلم کا رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ گذشتہ بیس بائیس برس کے دوران افضل ہاپوڑی کے اہلِ خاندان میں جناب حامد علی نقوی سے میرے بہت خوشگوار تعلقات قائم رہے ہیں۔ مذکورہ واقعہ میری نظر میں اس باعث بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ انسان کے منفی رویہ کا مظہر ہے۔ قومی سطح پر دروغ گوئی‘ الزام تراشی‘ مفاد پرستی اور دیگر سماجی برائیوں نے جس طرح ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح چاٹا ہے، اس کی تلافی ممکن نظر نہیں آتی‘ مگر ابھی کچھ لوگ زندہ ہیں جہاں ہیں۔ دنیا اچھے لوگوں سے خالی نہیں ہوئی۔ سیّد فخر الدین بلے جیسی عظیم ہستیاں جب تک قوم و وطن کی آبرو بنی رہیں گی، دنیا کی کوئی طاقت ور قوم ہمیں بری نیت سے نہیں دیکھ سکتی۔
قارئین کرام! بلے صاحب کی مختلف جہتوں پر بحث و تمحیص کے بعد اب ہم ان کی شعر گوئی کے مسلک یا تکنیک اور فن کی طرف آتے ہیں۔ تاکہ ان کی فنکارانہ شخصیت کا یہ آخری پہلو بھی آشکار ہو جائے۔ یعنی ان کی شاعری کے مختلف زاویے اور ان کے فن کی مختلف جہتیں اگر ایک طرف داد و تحسین کی موجب بنیں تو دوسری طرف دنیائے ادب بلے صاحب کے بارے میں بھی وہی ریمارکس پاس کر سکے جو مولانا ظفر علی خان کی شخصیت کا طرہ امتیاز ہے۔ زمانے کے تغیرات کے باوصف آج تک یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ مولانا ظفر علی خان اگر سیاست کو شعارِ زندگی نہ بناتے یعنی سیاست کے جھمیلوں میں نہ پڑتے تو وہ علامہ اقبال سے بڑے شاعر ہوتے۔ گویا ان کی تمام تر ذہنی و فکری توانائیاں اور تخلیقی لیاقت و استعداد سیاست کی نذر ہو گئی۔ بلے صاحٍب پر بھی اس مقولہ کااطلاق ہوتا ہے۔ ہم اگر ان کی سوانح عمری کا عمیق مطالعہ کریں تو ان کے بارے میں ہم یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ بلے صاحب اگر اپنی تمام عمر صرف تخلیقِ شعر و سخن کی نذر کرتے تو یقینا ان کا مقام اقبال کے بعد جوش‘ فیض اور احمد ندیم قاسمی سے اونچا ہوتا۔جس شاعری کو بلے صاحب نے زندگی بھر اپنے گوناگوں مشاغل کے مقابلے میں زیادہ اہمیت نہیں دی اور نہ وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی میں اس کے افادی کردار پر نظر رکھی۔ آج اسی سرمایہ سخن کی اساس پر ان کی توقیر‘ شہرت اور عظمت کی عمارت استوار ہے۔
آئیے اب ہم اپنے دعوے کی دلیل کے لئے کلام بلے میں انفرادی محاسنِ شعری اور اور اوصافِ فنی کا سراغ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بلے صاحب کاشمار ان سخن وروں میں ہوتاہے، جن کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کسی خاص صنفِ سخن کے شاعر ہیں۔ یا فلاں صنف ان کی محبوب صنف ِشعری ہے۔ ان کے کلام کا مطالعہ اس امر کا غماز ہے کہ بلے صاحب شاعری کی جملہ مروجہ اصناف پر دسترس رکھتے ہیں۔ ان کے ذخیرہ ء سخن میں غزلیں بھی ہیں اور نظمیں بھی ہیں۔ (پابند اور آزاد بھی اورمعریٰ بھی) قطعات بھی ہیں اور مختلف ہئیتوں میں لکھے ہوئے گیت بھی ہیں۔ وہ کسی خاص خارجی شکل کے پابندبھی نہیں رہے۔ ان کے کلام کا ہر موضوع اپنے ساتھ خارجی شکل بھی عطا کرتا ہے۔شاعری میں ان کے قد و قامت کا تعین کرنے میں اس باعث دشواری پیش آتی ہے کہ انہوں نے سنجیدگی کے ساتھ نہ اپنی زندگی میں مجموعہ کی اشاعت کے بارے میں سوچا اور اتفاق سے نہ ان کے ورثاءنے اب تک اس سلسلے میں کسی طور کوئی اہتمام کیا ہے۔ عمر کے ہر حصہ میں جب کبھی ان کو گفتگو میں زور پیدا کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔انہوں نے فوراً اپنی زود نویسی کے بل پر اشعار کہہ لئے۔ مشاعروں میں شرکت سے گریز کرتے لیکن جہاں شرکت ضروری قرار پاتی، وہاں موقع محل کے لحاظ سے نظم یا شعر یا قطعہ تیار کرتے۔ کہنے کو مشقِ سخن کا سلسلہ ہر عہد میں جاری رہا لیکن ضرورت اور حالات کے پیشِ نظر شاعری تخلیق ہوتی رہتی تھی۔
متعدد مولفین نے ان کے کلام کا انتخاب ضرور شاملِ کتاب بھی کیا ہے۔ یہی وجہ ہے اصنافِ شاعری کی مختلف کتابوں میں کہیں ان کی حمد و نعت کے گل مہکتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ‘ کسی میں منقبت و سلام کی صورت میں عقیدت کا نذرانہ اپنی تمام خوبیوں کے ساتھ موجود ہے۔ کہیں کوئی نظم نغمہ سرا ہے ۔ کسی میں غزل تغزل کی بہار دکھا رہی ہے۔ کہیں رباعیاں حکمت و دانش کے مسائل کی عکاسی کر رہی ہیں ۔کسی میں زندگی کا کوئی رخ قطعہ کی صورت میں جلوہ افروز ہے۔
ڈاکٹر وزیر آغاز کا ارشاد ہے کہ ان کے ہاں دو رنگ ملتے ہیں۔ کلاسیکی اور جدید۔ وہ لکھتے ہیں ان کی بیاض دیکھنے کا اتفاق ہوا تو میں ان کے رنگ دیکھ کر دنگ رہ گیا ۔ لیکن میں چونکہ جدیدیت کا والا و شیدائی ہوں، اس لئے میں ان کی جدید رنگ کی غزلوں پر سردھنتا رہا اور ابھی تک ان کی غزلوں کے سحر سے باہر نہیں آسکا۔
بلے صاحب کی غزل گوئی کا ذکر چھڑ گیا ہے تو بات جوانی تک پہنچنی چاہئے۔ سو ان کی غزلیہ بیاض پر نظر پڑتے ہی کچھ جدید رنگ کے اشعار ہمارے دامنِ شوق کو اپنی جانب کھینچتے محسوس ہوتے ہیں۔ مثلاً
خود ارادی اور آزادی کی برکت دیکھئے
گھر کے آنگن میں نظر آتے ہیں اب چولہے کئی
چار آنکھیں چاہئیں اس کی حفاظت کے لئے
آنے جانے کےلئے جس گھر میں ہوں رستے کئی
……..
خلانورد ہیں ایسے بھی جو ستاروں میں
بنانے تیشہءفرہاد سے سرنگ چلے
……..
میرے گھر میں بھی کہکشاں کی طرح
ربط قائم ہے انتشار کے ساتھ
……..
سوچ کے آسماں سے اتری ہے
دل کے آنگن میں چاندنی چپ چاپ
……..
وہ حال پوچھنے آئے تو میں خموش رہا
سوال خوب تھا لیکن جواب کیساہے؟
……..
ہے آب آب موج بپھرنے کے باوجود
دنیا سمٹ رہی ہے بکھرنے کے باوجود
راہِ فنا پہ لوگ سدا گامزن رہے
ہر ہر نفس پہ موت سے ڈرنے کے باوجود
الفاظ و صوت و رنگ و تصور کے روپ میں
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود
……..
ان اشعار میں زندگی کے نئے نئے رخ اور کائنات کی دل نواز تصویریں پردہبلے صاحب فکرو شعور کو لفظوں کا ایسا پیراہن عطا
ذہن پر رقص فرما نظر آتی ہیں ، جو ہر جسم پر نور افشانی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے غزلوں کو منفرد اور انوکھا روپ عطا کرنے کےلئے ایسی ایسی خوبصورت لیکن مشکل ردیفیں تراشی ہیں کہ قارئین معنی و مفہوم کی گرہ کھولنے میں لذت محسوس کرتے ہیں۔ مندرجہ بالا اشعار میں ردیفوں کا نیا پن اپنے وجود کا احساس دلا رہا ہے۔ نئے نئے قوافی کا استعمال غزلوں میں موسیقی کے عنصر کو دوبالا کردیتا ہے۔ قافیوں کی کھنک سے قاری کے دل پر عجیب قسم کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
غزل کے قدیم رنگِ تغزل اور روایتی عشقیہ سحر سے بلے صاحب کا رشتہ تادمِ مرگ قائم رہا۔ چند اشعار قارئین کی ضیافت طبع کےلئے حاضرہیں۔
میں کیا بتاﺅں کہ قلب و نظر پہ کیا گزری
کرن نے قطرہ ءشبنم میں جب شگاف کیا
وہی تو ہوں میں کہ جس کے وجود سے پہلے
خود اپنے رب سے فرشتوں نے اختلاف کیا
رہیں گے قصرِ عقائد نہ فلسفوں کے محل
جو میں نے اپنی حقیقت کا انکشاف کیا
……..
ایک ہی جیسے لگے سننے میں افسانے کئی
ہو بھی سکتا ہے کہ اس دنیا میں ہوں ہم سے کئی
روایت کی اتباع کے باوجود ان شعروں پر کسی طور پر قدامت پرستی کی چھاپ نظر نہیں آتی بلکہ ذیل کے دو اشعار تو قدامت و جدیدیت کے حسین امتزاج کے عکاس ہیں۔
سر اٹھا کر زمیں پہ چلتا ہوں
سر چھپانے کو گھر نہیں‘ نہ سہی
پیڑ پودوں کی کچھ کمی تو نہیں
ایک سوکھا شجر نہیں‘ نہ سہی
امیر خسرو سے لے کر آج تک غزل کا بنیادی موضوع حسن و عشق اور اس کے متعلقات کی ترجمانی رہا ہے۔ تاریخِ ادب کا کوئی دور ایسا نظر نہیں آتا ،جس میں شعرائے کرام نے اس موضوع کو مرکزِ فکر نہ بنایا ہو یا بالخصوص غزل میں عشقیہ جذبات‘ حسن و جمال کی کیفیات اور قلبی واردات سے اغماض برتا ہو۔ لیکن جب غزل نگاری ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے عہدِ موجود میں داخل ہوئی تو حسن و جمال‘ عشق و محبت کا رجحان بڑی حد تک اپنا چولا بدل چکا تھا۔ اب غزلیں نہ عاشقوں کی بے بسی ‘ مجبوری اور وفاداری کی مکمل ترجمانی کا فریضہ ادا کرتی دکھائی دیتی ہیں اور نہ اس کا کوئی شعر محبو ب ِ دنیا کے حسن وجمال کا مثالی پیکر بن کر صنفِ مخالف پر اپنا رعب جھاڑتا اور دبدبہ دکھاتا محسوس ہوتا ہے۔ گویا وقت کے بدلتے ہوئے حالات‘ نظریات‘ رجحانات و میلانات کے ساتھ غزل نے بڑی حد تک اپنا وہ رنگ روپ قائم نہ رکھا۔ جس پر فن کے رسیا جان چھڑکتے اور سرشاری و مستی کے سہارے من کی دنیا میں ڈوبے رہتے تھے۔ جب سے شاعر بالخصوص غزل گو نے خارج سے داخل کا سفر طے کرنے کی ابتداءکی ہے۔حال پرستوں کو جدید اردو غزل مولانا الطاف حسین حالی کی خشک اور سپاٹ غزلوں کی طرح پھیکی اور بے جان محسوس ہونے لگی ہیں۔ مگر تغیرات زمانہ کے باوصف سیّد فخر الدین بلے کی غزلیں تازگی اور حکایات ِ دوراں کی مکمل تصاویر نظر آتی ہیں۔ ان پر فرسودگی اور کہنگی کا گماں تک نہیں گزرتا۔
اُفق سے نکلا ہے سورج‘ افق میں ڈوبے گا
جہاں بھی دھوپ ہے سایہ ضرور پھیلے گا
رتوں کی ریت یہی ہے‘ یہی ہوا کی روش
تپش بڑھے گی تو بادل ضرور برسے گا
کھڑا ہوں جادہء حیرت پہ آج بھی تنہا
کبھی تو کوئی مسافر ادھر سے گزرے گا
ہے فلسفوں کی گرد نگاہوں کے سامنے
ایسے میں خاک سوچ کو رستہ دکھائی دے
کر دیا دفن مجھے زیرِ زمیں یاروں نے
میں نے جب گردشِ دوراں سے نکلنا چاہا
وہ ایک شخص جو حالات کی پناہ میں ہے
یہ جان لے کہ ہر اک فرد کی نگاہ میں ہے
عجائبات کی دنیا میں کچھ کمی تو نہیں
یہ ہو بھی سکتا ہے مجھ سا کوئی ہوا ہی نہ ہو
میں کس سے پوچھوں کہ پھولوں نے کس لئے آخر
بسنت رُت کو چُنا چاک دامنی کے لئے
ان شعروں میں کوئی شعر ایسا نہیں کہ جس پر بلے صاحب کے کسی ہم عصر شاعر کے کلام کی چھاپ ہو۔ بعض مضامین ان کے ہم عمر شاعروں اور ماضی میں ضرور نظم ہو چکے ہیں لیکن بلے صاحب کے منفرد اسلوبِ بیان اور تیکھے لب و لہجہ نے انہیں انوکھا اور نیا پن عطا کیا ہے۔
موضوع کے اعتبار سے اگر ان کی شاعری بالخصوص نظموں کو پرکھا جائے تو بلے صاحب عہد حاضر کے ان معروف شاعروں کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں ،جن کا تعلق حلقہ اربابِ ذوق کی تراشی ہوئی راہوں پر گامزن ہونا تھا۔ اسکی وضاحت کے لئے سر سیّد‘ حالی اور شبلی کی اصلاحی تحریک کا حوالہ دینا ضروری ہے کیونکہ اسی کی کاوش و سعی کے نتیجے میں اردو کی جدید شاعری میں سے موضوعات کی تلاش اور ہئیت کے نئے تجربوں کا آغاز ہوا تھا۔ اس کے عمل میں تیزی کا رجحان انگریزی ادب کے مقلدین کی شعری سرگرمیوں کی وجہ سے ہوا۔ اس سلسلے کو آگے بڑھانے والوں میں ن۔م۔راشد‘ میراجی‘ تصدق حسین خالد سرِ فہرست نظر آتے ہیں۔حلقہ ارباب ذوق کے منشور کو عملی جامہ پہنانے میں ان شاعروں کی کاوشیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔
یہ دور وہ دورتھا جبفیض احمد فیض ، احمد ندیم قاسمی اور ترقی پسند تحریک کے دیگر اراکین ‘حلقہ ء ارباب ِ ذوق کے وابستگان اور زوال پسند ادیبوں کاٹولہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی غرض سے شب و روز سرگرم عمل رہتا تھا ۔جبکہ اوپر کہا گیا سیّد فخر الدین بلے بظاہر حلقہ ء ارباب ذوق سے وابستہ قلم کاروں سے ذاتی تعلقات کی بناء پر ان کے نظریاتی ساتھیوں میں شامل نظر آتے مگر حقیقتاً وہ ادب کی ہر تنظیم اور تحریک سے تمام عمر الگ تھلگ رہ کر ذاتی لائحہ عمل پر اپنے ادیبانہ فرائض ادا کرتے رہے۔ ان کا دستور و منشور غریب‘ مفلس‘ بیمار ‘ حاجت مند اور بنیادی حقوق سے محروم خلقِ خدا کو مسرت سے ہمکنار کرنا تھا۔ ان کی نظمیں ہوں یا غزلیں سب میں ایک ہی روح کار فرما نظر آتی ہے۔ خدمت۔ خدمت اور خدمت۔ ہر دکھی دل کو خوشیاں بانٹنا‘ یہی رضا ان کی جملہ شاعری پر چھائی ہوئی ہے۔ بلے صاحب کے کام کی اساس بھی مقصدیت پر استوار ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے بعض ناقدین نے انہیں ترقی پسند تحریک سے وابستہ قرار دیا ہے۔ یہی ان کی شخصیت کی ہر دلعزیزی اور مقبولیت کا سبب ہے کہ ہر انجمن ‘ ہر ادارہ‘ ہر حلقہ‘ بغیر امتیاز نظریہ و مسلک انہیں اپنا رفیق سمجھتا ہے۔ ویسے بھی گذشتہ پون صدی تک دنیائے ادب میں ادباءو شعراءکے غیر جانبدار رویہ کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ اس لئے قلمکاروں کی اکثریت خود کو کسی نہ کسی ادبی تحریک یا تنظیم سے وابستہ رکھتی مگر پھر چند ہی برس میں ایسی کایا پلٹی کہ عالمی سطح پر جغرافیائی تبدیلیوں اور اقتصادی بحرانوں نے جہاں ہر ملک و قوم کی اجتماعی زندگی کا نظام تہس نہس کیا، وہاں مختلف ادبی نظریات و تحریکات کے ستونوں پر تعمیر کردہ مضبوط عمارتوں کی شکست و انہدام سے اہلِ قلم اور فنکاروں کی وفاداریاں شکوک و شبہات کا شکار ہو گئیں اور کل کے دشمن آج کی صفِ دوستاں میں نظر آنے لگے۔ کسی کو اپنے کمٹمنٹ کا خیال نہ غیر جانبداری پر رسوائی کا خطرہ۔ جس طرح ایک زمانہ میں کسی شاعر کو ”بے استاد“ کہنا گالی دینے کے مترادف تصور کیا جاتا تھا ۔آج وہ اتنا ہی محترم ہے۔ جس نے کسی استاد کے سامنے زانوئے ادب طے نہیں کیا۔
سیّد فخر الدین بلے کے بارے میں قعطاً لا علم ہوں کہ انہیں کسی استاد کی شاگردی کا شرف حاصل ہے یا نہیں؟ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ ہر دلعزیزی اور مقبولیت کے زعم میں اپنے وقت کی کسی معروف ادبی تحریک یا رجحان سے صرف نظرکرنے پر پچھتائے ہوں اور علیحدگی کی روش پر لوگوں نے کبھی ان کے ساتھ سردرویہ اختیار کیا ہو؟ میں نے تو اپنی زندگی میں ان جیسی قابلِ تکریم و احترام اور لائق تحسین و آفریں شخصیت شاذو نادر ہی دیکھی۔
شاعری کی کوئی صنف نہ تنگ دامن ہے نہ وسعت و طوالت کے اعتبار سے زنبیل‘ غزل کے حوالے سے مرزا غالب کا شکوہ خود انہیں کی غزلوں سے قابل ابطال ٹھہرا۔ ان کی غزل کا ہر شعر “جزونظر” آتا ہے۔ جبکہ غالب نے اس میں “کل” سمویا ہوا ہے۔ غالب نے زندگی کے تمام رموز اور کائنات کے تمام اسرار کا اظہار غزل کے پیرایہ میں کر کے لوگوں کے اس دعویٰ کی نفی کر دی کہ نظم کا کینوس غزل سے وسیع ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر صنف کسی ایک قدآور اور قادر الکلام شاعر کی طلب گار ہے۔
نظم نگاری کے تعلق سے سیّد فخر الدین بلے اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں ۔جس کا ا ب تک کھل کر اس لئے اظہار نہ ہو سکا کہ ہم بھی ڈاکٹر وزیر آغا کے بقول بلے صاحب کی غزلوں کے سحر سے باہر نہیں نکلے۔ لیکن اس حوالہ سے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ بلے صاحب کو نظم و غزل دونوں اصناف پرقدرت کاملہ حاصل ہے۔ میں اپنے عمیق مطالعہ کی بنیاد پر بلے صاحب کو جملہ اصنافِ سخن کا تخلیق کار سمجھتا ہوں۔ مختلف موضوعات پر مبنی جتنی نظمیں میری آگاہی کا حصہ بنی ہیں، تمام کی تمام نظم نگاری کی تکنیک اور جدید فنی تقاضوں پر پوری اترتی ہیں۔ ان کی چند نظمیں بالکل تازہ اور انوکھے موضوعات کے ساتھ ساتھ “ہئیت”کے جدید تجربوں کی آئینہ دار بھی ہیں۔ پابند نظموں پر قدیم رنگ غالب ہے لیکن جدید طرزو رنگِ سخن سے وہ کسی طور سے بے تعلق بھی نہیں ہے۔
شاعر کا ہر خیال‘ تصور‘ جذبہ یا احساس اپنے ساتھ اظہار کا طریقہ یا پیرایہ اپنے ساتھ لاتا ہے۔ بلے صاحب کی ہر نظم کی ہئیت یا خارجی شکل موضوع کی مناسبت سے ظہور پذیر ہوئی ہے۔ بلے صاحب کی نظموں کے موضوعات میں رنگا رنگی ، ہمہ گیری یا بوقلمونی کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ اوصاف یا محاسن تو خود ان کی پر شکوہ ترنم ، ڈکشن، لہجہ کی مٹھاس، مصرعوں کی کاٹ،روانی طبع‘ مقصدیت اور تخلیقیت کے جواب سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ زندگی اور کائنات کی ان گنت جہتیں، زمانے کی تیز رفتاری،بدلتی دنیا کا اہم رخ، ان کی طویل نظموں اور مختصر نظمانوںمیں اپنی اپنی بہار دکھاتا محسوس ہوتا ہے۔ فرش تا عرش اور شرق سے غرب تک پھیلے ہوئے دامنِ قلب و نظر کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے قدرتی مناظر کی تصویر کشی بلے صاحب کی نظموں کا خاصہ ہے۔ ذیل میں سیّد فخر الدین بلے کی صرف ایک نظم بطور نمونہ قارئین کی نذر ہے۔
پنجاب کا ایک مردم خیز تاریخی شہر ملتان پر کہے گئے اشعار بلے صاحب کی عقیدت کے صحیح عکاس ہیں۔
تاریخ سے پہلے کے زمانوں میں بھی ملتاں
تھا زندہ و رخشندہ و تہذیب بداماں
دنیا کے ہنر مند و سلاطینِ زمانہ
صدیوں رہے اس شہر کے منت کشِ احساں
جو اس کی قدامت پر جھگڑتے ہیں ،وہ سن لیں
رگ وید ہے اس شہر کی تہذیب پہ نازاں
اور اس کی جلالت کا یہ عالم تھا کہ لاہور
تھا عہدمیں ہجویری کے اک قریہ ء ملتاں
ولیوں کا مدینہ اسے کہتے ہیں کہ یہ شہر
ہے جلوہ گہِ منزلتِ خاکِ نشیناں
یہ شہر بنا غزنوی سلطاں کے عہد میں
اردو سی جہانگیر زباں کا جنم استھاں
اِدخالِ سکندر ہو کہ تاتار کی یلغار
ہر عہد میں یہ شہر رہا آشتی ساماں
آزادی کی تحریک میں اس شہر کے فرزند
ایثار کا پیکر بنے ،ہوتے رہے قرباں
ملتان ہی میں کارگزارانِ وطن نے
دریافت کئے ایٹمی تسخیر کے ساماں
تصویر کا یہ رخ تو بہت خوب ہے لیکن
کر دیتا ہے پر دوسرا رخ سربہ گریباں
اسبابِ زبوں حالی پہ کچھ غور تو کیجے
ہم چار سو برسوں سے ہیں کیوں اشکِ بداماں
پنجند کے تموج کا تقاضہ ہے یہ ہم سے
یکجا کریں تاریخ کے اوراقِ پریشاں
دھرتی کو جو ہم اپنی عرق ریزی سے سینچیں
ہو سکتا ہے شاداب خزاں دیدہ گلستاں
بلے صاحب نے اپنی عمر عزیز کا بہترین حصہ ملتان میں گزارا تھا۔ اولیائے کرام اوربزرگانِ عظام کے مقدس شہر سے بلے صاحب کو کتنی عقیدت و محبت ملی۔ اس کا برملا اظہار نظم کے ایک ایک مصرعہ میں موجود ہے۔
آخر میں اگر ان کی ایک منفرد شعری خوبی کا ذکر نہ کیا جائے تو بڑی زیادتی ہو گی۔ وہ ہے ان کی شاعری، خصوصیت کے ساتھ ان کی غزلوں کے بیشتر اشعار میں تلوار کی طرح کاٹ رکھنے والا طنز‘ جس میں کہیں کہیں مزاح کی چاشنی بھی محسوس ہوتی ہے۔
تاریخ ِادب میں طنز و مزاح یا ظرافت کے موضوع کو مرکزِ فکر بنانے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے ۔ہر صاحبِ سخن کو فنی اعتبار سے مزاح و طنز کو برتنے کا ہنر نہیں آتا۔ بقول علامہ اقبال
انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد
غیر معمولی قدرت کا حامل قلمکار ہی ادب میں اس کی اہمیت و افادیت کو سمجھتا ہے۔ شعراءنے اس کی نشتریت سے وطنِ عزیز میں پھیلی ہوئی سماجی و معاشرتی برائیوں کا آپریشن کرنے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں، قطعِ نظر اردو کے مشہور طنز و مزاح نگار، سیّد فخر الدین بلے کے کلام سے چند اشعار بطور نمونہ پیش خدمت ہیں۔
دیدہ وروں کے شہر میں ہرایک پستہ قد
پنجوں کے بل کھڑا ہے کہ اونچا دکھائی دے
چمن کے دیدہ وروں سے سوال ہے میرا
بہار کا ہے یہ موسم تو پھر گھٹن کیوں ہے
ہم شب میں رند بن کے رہے، دن میں متقی
دنیا میں اس چلن سے بڑی آبرو رہی
اتنا بڑھا بشر کہ ستارے ہیں گردِ راہ
اتنا گھٹا کہ خاک پہ سایہ سا رہ گیا
مہر بلب ہیں گاﺅں کے گیانی، شہر کے دانشور
بچے سوکھے پیڑوں کی تصویر بناتے ہیں
یہ الگ بات لوگ بہرے ہیں
دل کبھی بے صدا نہیں ہوتا
اگلی صف میں جو لوگ بیٹھے ہیں
تن کے اجلے ہیں، من کے کالے ہیں
اسی طرح انکساری و عاجزی کے انداز میں طنزیہ حقیقت نگاری کے آئینہ دار اشعار دیکھئے۔
نفس کی آندھیاں چلتی رہیں مگر میں نے
تمام عمر گزاری ہے ریت کے گھر میں
ٹپکتی بوندوں سے ڈرتا ہوں جب سے دیکھا ہے
نشان ڈال دیئے بارشوں نے پتھر میں
یہ اور اس نوع کے اشعار بلے صاحب کے کلام میں جگہ جگہ بکھرے نظر آتے ہیں۔
سیّدفخرالدین بلے کی ہمہ جہت شخصیت اور ان کے کمالاتِ فن کی روشنی میں ارباب ِ نقدو نظر دنیائے ادب میں انہیں کسی اعلیٰ مقام کا مستحق قرار دیں۔ میری نظر میں ان کی ذات ایک ایسے باغ کی مانند ہے، جس میں انواع و اقسام کے گل بوٹے، طرح طرح کے پودے، سبزے کی روشیں، رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں اپنی اپنی بہار دکھا رہی ہیں۔ فضائیں مختلف رنگوں میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ ہوائیں خوشبوﺅں میں گندھی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ گویا بلے صاحب کی زندگی کا ہر گوشہ سیاحانِ ادیہ کے دل و دماغ کو معطر کرتا ، آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتا اور ذہنوں کو جلا عطا کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ان کی پوری شاعری کو خواہ لب و لہجہ ‘ اسلوب اور زبان و بیان کے اعتبار سے پرکھیں یا موضوعاتِ شعری کی میزان میں تولیں، ہر لحاظ سے ان کے یہاں دریاﺅں کی روانی‘ ہواﺅں کا شور‘ تپتے ریگزاروں کی حدت‘ سمندروں کے سکوت کے ساتھ حسن و جمال کی شگفتگی اور عشق و محبت کی رعنائی روح کو چھوتی اور دلوں کو موہ لیتی محسوس ہوتی ہے۔ مختصر یہ کہ سیّد فخر الدین بلے صرف حیات و کائنات کے ترجمان ہی نہیں، اپنے عہد کی ایک پوری تہذیب‘ تمدن‘ سماج اور معاشرت کی منہ بولتی تصویرنظر آتے ہیں۔ بے شک کسی بھی عہد کا مورخ ان کی پہلودار شخصیت اور ان کے ادبی و شعری کارناموں کا ذکر کئے بغیر ادبی تاریخ مکمل نہیں کر سکتا۔
سَیّد فخرالدین بَلّے۔بڑے حلم و آبرو والے
تحریر:ڈاکٹر خواجہ محمدز کریا
قدرت بعض لوگوں کو قلب و ذہن کی غیر معمولی صلاحیتیں ودیعت کر کے اس عرصہ گاہِ دہر میں بھیجتی ہے‘ ساتھ ہی انہیں ایک اور صلاحیت بھی عطا کرتی ہے اور وہ ہے اپنی تحلیلِ ذات سے بے نیاز ہو کر انسانیت اور انسانیت کی خدمت میں ہمہ تن منہمک رہنا۔ اس سے انہیں اپنی ذات کو پسِ پشت رکھ کر معاشرے کی خدمت کو اولیت دینی پڑتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ وہ شہرت کی ان بلندیوں پر فائز نہیں ہو پاتے ،جو ان کی صلاحیتوں کا تقاضا ہوتا ہے مگر وہ ان لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں، جن سے ان کا واسطہ پڑتا ہے۔ سیّد فخر الدین بَلّے ایسی ہی شخصیات میں شامل تھے۔ وہ اگر اپنی علمی اور ادبی صلاحیتوں کی آبیاری میں کچھ زیادہ وقت صرف کرتے تو نامور ادیب اور منفرد شاعر ہوتے مگر انہوں نے سماج ‘ قوم اور احباب کی خدمت کو ترجیح دی اور احباب ہی کے دلوں میں زندہ رہے۔
معروف انگریزی شاعر ٹامسن گرے نے اپنی مشہور نظم
Elegy Written in a Country Churchyard
میں ایسے ہی افراد کے بارے میں لکھا ہے۔ کے ایک بند
Full many a gem of purest ray serene,
The dark unfathomed caves of ocean bear:
Full many a flower is born to blush unseen,
And waste its sweetness on the desert air:
اسی خیال کو امیر مینائی مرحوم نے بڑی سادگی سے ذیل کے شعر میں یوں ادا کیا ہے
کون ویرانے میں دیکھے گا بہار؟
پھول جنگل میں کھلے کن کے لئے
سیّد فخر الدین بَلّے جنگل کی بجائے شہر میں کھِلنے والے پھول کی طرح تھے اور شہر کے لوگ اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ وہ روزانہ جن خوبصورت راستوں سے گزرتے ہیں، ان کے سبزہ و گل کی طرف نگاہِ غلط انداز کی فرصت بھی انہیں میسر نہیں ہوتی۔
ہو سکتا ہے میں بھی بَلّے مرحوم کی شخصیت ِ دل آرا و دلکش سے نا آشناہی رہتا مگر حسنِ اتفاق سے بیسویں صدی کی آخری دہائی کے چند برس میں نے ان کی ہمسائیگی میں گزارے ۔اس وجہ سے ان سے قرب کے مواقع میسر آئے اور ان کی وضع داری، شرافت، خوش مزاجی اور انسان دوستی کی خصوصیات کو قدرے قریب سے دیکھا۔
شادمان لاہور کے ایک سرکاری کوارٹر میں منتقل ہوا اور صدی کے اختتام تک وہیں رہا۔ سیّد فخر الدین بَلّے جی او آر تھری میںمیرے کوارٹر کے عین سامنے سکونت پذیر رہے۔ میرے کوارٹر اور ان کے سرکاری مکان کے بیچ میں صرف تیس فٹ کی ایک سڑک حائل تھی۔ میں نے اگرچہ ان کا نام پہلے سے سن رکھا تھا لیکن ملاقات سے محروم تھا۔ ایک روز ان کے فرزند ظفر معین بَلّے تشریف لائے اور اپنے ہاں منعقد ہونے والی کسی ادبی تقریب میں شمولیت کی دعوت دی۔ بعد ازاں اس قبیل کی متعدد تقریبات میں حاضر ہونے کے مواقع ملے۔ اگرچہ 1990 ءسے 1999ءکے درمیان میں نے پانچ سال بیرونِ پاکستان گزارے تاہم ان دو وقفوں کے باوجود بَلّے صاحب کے ہاں درجنوں ادبی محفلوں میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔
یہ محفلیں بالعموم غیر رسمی ہوتی تھیں ۔ حاضرین کی تعداد چالیس پچاس کے قریب ہوا کرتی تھی۔ شہر کے ممتاز شعراءاور ادباءباقاعدگی سے شریک ہوتے تھے۔ شرکاءمیں حکومت پنجاب کے بڑے بڑے اہم بیورو کریٹ بھی شامل ہوتے لیکن وہ اپنی ادبی اور شعری حیثیت کی بناءپر شرکت کرتے اور آدابِ محفل کا پوری طرح خیال رکھتے۔ہر ادب دوست اس بات سے شناسا ہے کہ بد قسمی سے ادب میں بھی دیگر سماجی اداروں کی طرح گروہ بندیاں موجود ہیں۔ بعض اوقات نوبت مخالفانہ تحریروں تک پہنچ جاتی ہے اور ایسی تلخیاں جنم لیتی ہیں کہ باہمی روابط منقطع ہو جاتے ہیں اور یہ حضرات کسی محفل میں یکجا بیٹھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ فخر الدین بَلّے کی محفلوں میں ہر مزاج اور ہر خیال کے ادیبوں کو بلایا جاتا تھا اور مختلف الخیال شریک ہوتے تھے اور وقتی طور پر تلخیاں بھلا دیتے تھے۔ بَلّے صاحب تمام ادیبوں کا یکساں احترام کرتے تھے۔ ان کے دروازے سب کےلئے کھلے تھے اور سب کو برابر اہمیت دیتے اور جس کسی نے بھی ادب کی خدمت کی ہے، اس کے وقار اور عزت کا پورا خیال رکھتے۔
ان کے ہاں منعقد ہونے والی ادبی محفلوں میں مشاعرے بھی ہوتے ‘ ادبی اور تنقیدی مضامین بھی پڑھے جاتے۔ سوال و جواب بھی ہوتے۔ بذلہ سنجی اور ذکاوت کے مظاہرے بھی ہوا کرتے لیکن یہ محافل تلخیوں اور کدورتوں سے پاک ہوتیں۔ ہر محفل کے اختتام پر خوردو نوش کا انتظام ہوتا۔ یہ اہتمام بَلّے صاحب اپنی جیب سے کرتے اور اشیائے خوردنی ان کی خواتینِ خانہ تیار کرتیں۔ اس طرح یہ دلچسپ محفلیں اختتام پذیر ہوتیں اور کسی آئندہ محفل کے انعقاد کا اشتیاق بڑھا دیتیں۔
سیّد فخر الدین بَلّے محکمہ اطلاعات حکومتِ پنجاب میں اعلیٰ افسر تھے۔ ایک مستعد اور فرض شناس افسر ہونے کی وجہ سے اہلِ اقتدار سے ان کا قریبی رابطہ رہتا۔ مثلاً مجھے خوب یاد ہے کہ پنجاب کے درویش صفت وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں ان کا بہت احترام کرتے اور ان کے مشوروں پر عمل کرتے۔ وائیں صاحب جب بھی کسی تقریب میں مدعو کئے جاتے تو وہ تیار شدہ تقریر پڑھنے کی بجائے زبانی گفتگو کو ترجیح دیتے۔ اس سلسلے میں فخر الدین بَلّے انہیں تیار ی کراتے۔ وزیرا علیٰ کے اس قدر قریب ہونے کے باوجود اپنی طبعی شرافت اور وضع داری کے باعث انہوں نے ذاتی فوائد حاصل کرنے سے احتراز کیا۔اپنے محکمے کے کاموں میں انہیں مہارت حاصل تھی اور جب وہ ریٹائر ہو گئے، اس وقت بھی حسبِ ضرورت محکمے کے لوگ ان سے رہنمائی حاصل کرنے ان کے ہاں آتے رہتے تھے۔ ایک روز میں ان کے ہاں حاضر تھا۔ اس رو ز پنجاب کا سالانہ بجٹ اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔ محکمہاطلاعات سے ایک سیکشن آفیسر آئے اور گزارش کی بجٹ کے بارے میں ایک خبر انگریزی زبان میں تیار کر دیں تاکہ پریس ریلیز کے طور پر بھجوائی جائے۔ بَلّے صاحب اس وقت اس موڈ میں تھے کہ یہ درخواست ان پر بار گزری۔ پہلے تو انہوں نے نرمی سے انکار کردیا لیکن سیکشن آفیسر کے اصرار پرکہامیں بجٹ کی تفصیلات سے بالکل ناواقف ہوں، تاہم چونکہ ہر سال ایک جیسا بجٹ پیش کیا جاتا ہے، اس لئے میں خبر تیار کر دیتا ہوں“۔
پھر سیکشن آفیسر کو روانی سے انگریزی میں نادیدہ بجٹ کے بارے میں خبر لکھوائی اور وہ مطمئن ہو کر چلا گیا۔
فخر الدین بَلّے ادیب‘ شاعر‘ صحافی اور دانشور تھے۔ بطور ِ صحافی انہوں نے بہت سے رسائل و جرائد کی ادارت کے فرائض انجام دیئے۔ جن دنوں میں ان کی ہمسائیگی میں رہتا تھا، اس زمانے میں دو پرچے ان کی ادارت میں باقاعدگی سے شائع ہوتے تھے ۔ ایک ”نوائے بلدیات“ تھا اور دوسرا ”آوازِ جرس“ ۔ نوائے بلدیات سرکاری پرچہ تھااور اس کا مزاج عام سرکاری پرچوں جیسا تھا ،جو ایک طرح سے مدیرانہ مجبوری تھی لیکن ”آوازِ جرس“ کا مزاج علمی اور ادبی تھا۔ اس میں ملک کے نامور ادیبوں اور شاعروں کی نگارشات باقاعدگی سے شائع ہوتی تھیں۔ شعراءاور ادباءکے بارے میں خاص نمبر نکالے جاتے تھے اور نادر و نایاب تخلیقات سے اس کے صفحات مزین کئے جاتے تھے۔ اس پرچے کی ترتیب و اشاعت میں بَلّے صاحب اور ان کا سٹاف بہت محنت کرتا تھا۔ چنانچہ یہ شمارے معنوی اور صوری حسن سے آراستہ ہوتے۔ ادیبوں کی تحریروں کے عکس شائع ہوتے اور تصویروں سے قارئین کی دلچسپی میں مزید اضافہ کیا جاتا۔ “آوازِ جرس” میں ادبی گروہ بندیوں سے بالاتر رہ کر مواد شائع کیا جاتا۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ شمارے محفوظ ہیں یا نہیں؟ اس بات کی بڑی ضرورت ہے کہ ان کی فائل تیار کر کے اہم کتب خانوں میں محفوظ کر دی جائے ورنہ بہت سی نادر چیزیں ضائع ہو جائیں گی۔
بَلّے صاحب تحمل کا پیکر تھے۔ ان کے بچوں نے بھی باپ ہی کے مزاج پر خود کو ڈھال رکھا تھا۔ ظفر معین بَلّے اکثر میرے ہاں تشریف لاتے رہتے تھے۔ بڑے شائستہ اور منکسر المزاج نوجوان تھے۔ معلوم نہیں آج کل کہاں ہیں؟ بَلّے صاحب کے احباب کے علم میں ہوگا کہ ان کے ایک نوجوان بیٹے آنس معین نے ملتان میں خود کشی کر لی تھی۔ نوجوان بیٹے کی موت باپ کےلئے کتنا بڑا صدمہ ہے، سب لوگ اس سے آگاہ ہیں۔ بَلّے اور ان کے ”فرزندان“ ہمت کے پہاڑ تھے، جنہوں نے یہ عظیم صدمہ حوصلے سے برداشت کر رکھا تھا۔ آنس معین بہت اچھے ابھرتے ہوئے شاعر تھے۔ بَلّے صاحب اپنے اس فرزند کے صدمے کو کم کرنے کےلئے ان کا کلام ” آوازِ جرس” میں شائع کرتے رہتے تھے اور ان کے کلام کے بارے میں تنقیدی مضامین بھی شاملِ اشاعت کیا کرتے تھے اور اس بہانے اپنے فرزند کو یاد کرتے اور دنیائے ادب سے انہیں متعارف کرانے کا سلسلہ جاری رکھتے۔
سیّد فخر الدین بَلّے کو اللہ نے حسنِ صورت سے نواز رکھا تھا۔ سرخ و سفید رنگ‘ تیکھے نین نقوش‘ خوبصورت گھنے بال اور متوازن و متناسب قد و جسم‘ وہ خوش رو ہی نہ تھے‘ بڑے خوش لباس بھی تھے اور ہر طرح کا لباس ان پر سجتا تھا لیکن وہ عوامی سوٹ اور واسکٹ پہننے میں سہولت محسوس کرتے تھے اور اس میں بھی بہت باوقار معلوم ہوتے تھے۔ علی گڑھ کے لہجے میں بات کرتے تھے اور علی گڑھ کے فارغ التحصیل حضرات کی طرح بڑی دلچسپ گفتگو کرتے تھے۔ بڑے شائستہ اور شُستہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے اس میں مزاح کی آمیزش کرتے تھے اور طنز سے اجتناب کرتے تھے، جو شرفاءکا طریقِ گفتار ہے۔ ان کی گفتگو مطالعے اور تجربے کا امتزاج ہوتی تھی مگر اتنی سہل اور رواں کہ کسی پر بار نہیں گزرتی تھی۔ ان سے ملنے والے ایک خوشگوار اور ہمدرد شخصیت کا نقش دل پر لئے ہوئے ان سے رخصت ہوتے تھے۔
بَلّے صاحب نے یقینا بہت کچھ لکھا۔ ”وفیاتِ نامورانِ پاکستان“ کے مرتب ڈاکٹر منیر احمد سلیچ نے لکھا ہے کہ فخر الدین بَلّے نے درجنوں کتابیں تصنیف کیں ۔ میں نے اس سلسلے میں بَلّے کے دوست اور نامور ادیب ڈاکٹر وزیر آغا سے استفسار کیا تو انہوں نے فرمایا کہ بَلّے صاحب یقینا کثیر التصانیف تھے لیکن ان کی بیشتر کتابیں محکمانہ ضروریات کی وجہ سے ”دوسروں“ کے نام سے شائع ہوئیں۔ بَلّے صاحب بہت اچھے شاعر تھے۔ ان کا جو کلام ان کی زبانی سننے کا موقع ملا، وہ متاثر کن تھا او ر پختگی ِ فن کا نمونہ ہونے کے ساتھ انفرادیت کا حامل بھی تھا۔ اسی طرح وہ ایسی نثر لکھنے پر قادر تھے جس میں اظہار و ابلاغ کا عنصر عمدگی سے جلوہ گر ہوتا تھا ۔۔ ان کی ذات میں جتنا تنوع تھا، اسی قدر رنگا رنگی ان کی نظم و نثرمیں بھی موجود تھی لیکن ان کی بہت کم تحریریں کتابی صورت میں طبع ہو سکیں۔ “آوازِ جرس” کے شماروں کے آخری صفحے پر ایک اشتہار شائع ہوا کرتا تھا ۔ “آوازِ جرس” پبلی کیشنز لاہور کی مطبوعات …. اس میں بَلّے صاحب کی جن کتابوں کا ذکر ہوتا تھا ،ان میں ولایت پناہ (سیرت حضرت علی ؑ) سوچ سفر (نظموں کا مجموعہ)‘ سوچ رنگ (غزلوں کا مجموعہ)‘ درِ ولایت پر دستک اوراسلام اور فنونِ لطیفہ شامل ہیں ،لیکن ہر کتاب کے ساتھ ”زیر طبع“ تحریر ہے۔ یقینا یہ میری کم علمی ہے کہ ان کی اشاعت یا عدمِ اشاعت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ بتانے سے قاصر ہوں۔ ریٹائر ہونے کے بعد بَلّے صاحب نے پھر سے ملتان میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ جہاں 28جنوری 2004ءکو وہ اس جہانِ فانی سے عالمِ جاودانی کو سدھار گئے ۔ غالباً انہیں اپنی بیشتر تحریروں کو یکجا کرنے کی فرصت نہ مل سکی۔
مرحوم فخر الدین بَلّے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کی اہم تحریروں کو منظرِ عام پر لایا جائے۔ تصانیف کی اشاعت کا کام تو سہل نہیں ہوگا لیکن ان کی منتخب نظم و نثر چند مجموعوں کی صورت میں شائع ہو جائے تو اہلِ ادب اور عام قارئین کو اندازہ ہو سکے گا کہ کتنا با صلاحیت شخص خاموشی سے چلا گیا۔ مجید امجد کے درج ذیل اشعار سیّد فخر الدین بَلّے جیسی شخصیات کو مدِ نظر رکھ کر کہے گئے تھے۔
ہمی نے دیکھا ہے اس کو ہمیں خبر ہے وہ شخص
دلوں کی روشنیاں تھا ‘ دلوں کی زندگیاں
ہمیں خبر ہے بڑے حلم و آبر و والے
ترا مقام کسی اور کو نصیب کہاں
جگہ جگہ تری موجودگی کو پاتے ہیں
ہمارے دردِ فراواں ہمارے اشکِ رواں
ترے لئے جھکے مینائے کوثر و تسنیم
ترے لئے کھلیں درہائے روضہ ءرضواں
تحریر:ڈاکٹر خواجہ محمدزکریا
ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے
سید فخرالدین بلے۔۔۔ایک جامع ِکمالات شخصیت
تحریر:پروفیسر قیصر نجفی
بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں، جن پر لکھنا قلم کار کے لئے باعث عزت ہوتا ہے۔ سید فخر الدین بلّے اسی قسم کی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، بلّے صاحب پر کچھ لکھنے سے پہلے تو یہ بھی سوچنا پڑتا ہے کہ جن قلمکاروں نے اُن کے فن اور شخصیت پر قلم اٹھایا ہے ، ان میں بیشتر یگانہ ء روز گار ہیں۔ ایک تو ان کا لکھا حرف ِآخر ہے، دوسرے انہوں نے کہیں بھی کسی اضافے کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ اربابِ دانش کی مندرجہ ذیل آراءہمارے دعوے پر دلیل ہیں۔
سید فخر الدین بلّے کی نظم ہو یا نثر، اس میں کوئی نقص نکالنا محال ہے۔
بابائے اردو مولوی عبدالحق
سیّد فخر الدین بلّے کے کلام میں دریا کی روانی اور جذبوں کی فراوانی ہے۔ تاریخ، ادب اورتصوف کا وسیع مطالعہ ان کے کلام میں بولتا ہوا اور سوچ کے درکھولتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
جوش ملیح آبادی
سیّد فخر الدین بلّے رنگوں کے بجائے الفاظ سے تصویریں بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔
فراق گور کھپوری
سیّد فخر الدین بلّے کے اندر نامعلوم جہان آباد ہیں، جو وقتاً فوقتاً ان کے کردار میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ وہ خواجہ غریب نوازؒ کی یادگار ہیں۔ اس لئے ان کی زندگی اور شاعری میں چشتیہ مسلک اور تصوف کا رنگ اور بھی ِکھلتا اور کُھلتا ہوا نظر آتا ہے۔
ڈاکٹر عنوان چشتی
تصوف کے موضوع پر ان کی نظر اتنی گہری ہے کہ آپ بلا تکلف انہیں اس سلسلے میں ایک اہم اتھارٹی قرار دے سکتے ہیں۔
ڈاکٹر وزیر آغا
سیّد فخر الدین بلّے کی ذات میں جتنا تنوع تھا۔ اسی قدر رنگا رنگی ان کی نظم و نثر میں بھی موجود تھی۔ ان کی گفتگو بھی مطالعہ اور تجربے کا امتزاج ہوتی ۔ ان سے ملنے والے ایک خوشگوار شخصیت کا نقش دل پر لئے ہوئے، اُن سے رخصت ہوتے ۔
ڈاکٹرخواجہ محمد زکریا
ہر ملاقات میں ان کی شخصیت کا ایک نیا رخ سامنے آیا، میں اس کثیر الجہت شخصیت کو پورے اعتماد کے ساتھ علم و ادب کی آبرو قرار دے سکتا ہوں۔
میرزا ادیب
سیّد فخر الدین بلّے کی خوبصورت شعری تخلیقات پڑھنے یا سننے کے بعد برسوں تک ان کے سحر سے آزاد ہونا مشکل ہے۔
جگن ناتھ آزاد
مجھے ان میں بیک وقت بہت سی شخصیات یکجا نظر آئیں۔ میں نے انہیں کبھی ایک شخصیت نہیں سمجھا۔ البتہ ان کا چہرہ ایک تھا۔
محمد طفیل ،مدیر ادبی جریدہ نقوش
ہمارا سیّد فخر الدین بلّے کی ذات سے عقیدت مندی کا سمبندھ ہے۔ لہٰذا اس کے باوصف کہ ان کے فن و شخصیت کا کوئی پہلو تشنہبیان نہیں، ہم طاق ِ اظہار میں عقیدت کی شمع ضرور روشن کریں گے۔
سیّد فخر الدین بلّے کے فن، شخصیت اور خدمات کا ایک مضمون میں احاطہ کرنا دشوار ہے، اس کے لئے دفتر کے دفتردرکار ہیں۔ حیرت ہے کہ ان کے مداحین نے تاحال ان کی پہلو دار شخصیت پر کوئی کتاب تصنیف یا تالیف نہیں کی ہے، جبکہ ان کی شخصیت کے متنوع رخوں میں اتنی رنگا رنگی، ہمہ گیری، تابناکی اور جاذبیت ہے کہ ہر رُخ بجائے خود ایک کتاب کا متقاضی ہے۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ سیّد فخر الدین بلّے ایک جامع الکمالات انسان تھے۔ وہ بیک وقت ایک شاعر، ادیب، محقق، صحافی، صاحب تصوف، دانشور، مذہبی اسکالر، شعلہ بیان مقرر اور فنون و ثقافت کے دلدادہ تھے۔ انہوں نے شعر و ادب کے علاوہ تہذیب و ثقافت، تاریخ و سیاحت، تصوف، بزرگان دین اور یادگار مقامات سمیت دیگر کئی اہم موضوعات پر اردو، انگریزی اور فارسی میں 150سے زائد مطبوعات تالیف و تدوین کیں۔ جبکہ اپنی 55سالہ صحافتی زندگی میں 18سے زائد جرائد و رسائل کے بانی ایڈیٹر، چیف ایڈیٹر اور ایڈیٹر رہے۔ ہم نے بلّے صاحب جیسی کثیر الجہت شخصیت خال خال دیکھی ہے، بلکہ بعض حوالوں سے تو وہ منفرد و یکتا اور تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔
سیّد فخر الدین بلّے کا یہ ایک تاریخی کارنامہ ہے کہ انہوں نے سات صدیوں کے بعد ”قول ترانہ“ اور ”رنگ“ کو نئے رنگ و آہنگ
کی معنویت و مقصدیت کو متنوع زاویہ ہائے فکر سے مزید اجاگر کیا۔ اہل علم جانتے ہیں کہ نصاب قوالی میں ”قول“ اور ”رنگ“ کو اساسی اہمیت حاصل ہے، سیّد سعید احمد جعفری(علیگ) ان کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
“قوالی کا لفظ قول سے مشتق ہے، اور معروف قول ہے ،قول ِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ یعنی من کنت مولاہ، فھٰذا علی مولا۔اسی قول میں مولائے کائنات ھضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس حدیث ِ ولایت کا ورد صوفیا اور اولیاءکے حلقوں میں عہدِ رسالت ﷺ سے جاری ہے۔ خواجہ ء خواجگاں سلطان الہند حضرت معین الدین چشتی سنجری اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے متحدہ ہندوستان میں اپنی روحانی سلطنت قائم ہوتے ہی قوالی کو بھی تبلیغ کا ذریعہ بنایا اور اسے آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کے ایما پر خواجہ نظام الدین اولیاءنے یہ کام خواجہ امیر خسروؒقوالی کا نیا نصاب تشکیل دیا۔ کی بنیاد پر قول ترانہ تخلیق کیا اور کو سونپا۔ انہوں نے قوالی کا نصاب تشکیل دیا ۔ اسی قول والی کے قوالی کے نصاب میں رنگ کو آخر میں شامل کیا اور اپنا رنگ بھی دیا۔ چنانچہ سات سو سال سے قوالی کی محفلوں میں حضرت امیر خسروؒ کا مقبول عام ”قول ترانہ“ اور ”رنگ“ ہی گایا جاتا ہے”۔
امیر خسروؒ بھی ہشت پہلو شخصیت کے حامل تھے۔ ہم اس موقع پر ان کی روحانیت کے مقام و مرتبہ کے ادراک کے لئے صرف دو واقعات کا ذکر کریں گے۔
روایت ہے کہ حضرت امیر حسروؒ کے والد کپڑے کے سوداگر تھے اور اکثر کاروبار کے سلسلے میں دہلی سے باہر جاتے تھے۔ وہ محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءکے مریدِ طریقت تھے۔ ایک دفعہ جب وہ سفر سے لوٹے اور مرشد کے یہاں حاضری دینے کے لئے جانے لگے تو اپنے فرزند امیر خسروؒ کو، جن کی عمر آٹھ برس تھی، ساتھ چلنے کو کہا۔ مگر بیٹے نے جانے سے انکار کردیا۔ اس پر والد نے ”زیارت بزرگاں کفارہ گناہ“ کی دلیل دیتے ہوئے انہیں زبردستی اپنے ہمراہ کرلیا۔ جب وہ دونوں خواجہ صاحب کے آستانے پر پہنچے تو امیر خسروؒ اندر جانے پر راضی نہ ہوئے۔ والد باامر مجبوری انہیں دروازے پر چھوڑ کے تنہا آستانے میں داخل ہوگئے۔ اسی اثناءمیں امیر خسروؒ نے درج ذیل چار مصرعے کاغذ پر لکھ کر خواجہ صاحب کو بھجوا دیئے۔
تو آں شا ہے کہ بر ایوانِ قصرت
کبوتر گر نشیند باز گردد
غریبے مستمندے بردر آمد
در آمد اندروں کہ باز گردد
خواجہ صاحب نے اسی کاغذ کی پشت پر برجستہ جواب لکھا اور امیر خسروؒ کو بھیج دیا۔
کسے کہ بردرِ ما آمدہ ای
در آمد اندروں ہمراز گردد
اگر ابلہ بود آں مرد ناراں
چہ راہے آمدہ ای باز گردد
اسی طرح کا ایک واقعہ اور ہے جو امیر خسروؒ کے روحانی ترفع پر دلالت کرتا ہے۔
امیر خسروؒ علاءالدین خلجی کی فوج کے سپہ سالار تھے۔ ایک مرتبہ کسی مہم سے وہ اپنے لشکر سمیت دلی واپس آ رہے تھے کہ اچانک ان پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی اور وہ ایک ہی جملہ ”بوئے پیری آید“ بار بار کہنے لگے تاآنکہ ان کی حالت غیر ہوگئی۔ بہر کیف!چند سپاہیوں کو جنگل کے چہار اطراف بھیجا گیا تاکہ وہ حضرت نظام الدین اولیاءکی موجودگی کا سراغ لگائیں۔ سپاہیوں کو خواجہ صاحب تو نہ ملے، البتہ انہیں بھرے جنگل میں ایک شخص نظر آیا، جسے وہ پکڑ کر لے آئے۔ استفسار پر اس شخص نے بتایا کہ وہ ایک غریب آدمی ہے اور کئی روز کے فاقوں کے بعد آج وہ خواجہ صاحب کی خدمت میں جاکر مدد کا طلبگار ہوا۔ خواجہ صاحب کا ہاتھ بھی تنگ تھا۔ انہوں نے اسے اپنے جوتے دے دیئے۔ تاکہ انہیں بیچ کر وہ اپنی حاجت پوری کرلے۔ امیر خسروؒ کے پاس 36ہزار ٹکے تھے، وہ سب اس شخص کو دے کر انہوں نے اپنے مرشد کے جوتے خرید لئے اور دلی جا کر ان کی خدمت میں پیش کر دیئے۔
ہم سیّد فخر الدین بلّے کا روحانی اعتبار سے حضرت امیر خسروؒ سے تقابل تو نہیں کرتے لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ ”قول ترانہ“ اور ”رنگ“ جیسی خالصتاً متصوفانہ تخلیقات کو منصہ شہود میں لانے کے لئے دروپش بے ریا اور صوفی با صفا ہونا ضروری ہے۔بالخصوص ایسا کارنامہ وہ شخص انجام دے سکتا ہے، جو فاضلِ اجل اور شاعرِ بے بدل ہونے کے ساتھ ساتھ دیدہبیدار اور دل ِ بینا کا حامل ہو۔ اس پر مستزاد وہ ولایت پناہ مولائے کائنات حضرت علی مرتضیٰ ؑ کی ذات و صفات کے اسرار و رموز کی معرفت رکھتا ہو۔ بحمد اللہ!بلّے صاحب ان سب اوصاف حمیدہ سے متصف تھے۔
سیّد فخر الدین بلّے کی علمی بصیرت کا ڈاکٹر عاصی کرنالی نے ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔
“سیّد فخر الدین بلّے ایک شخص نہیں، ایک یونیورسٹی اور ایک تہذیبی ادارہ کا نام ہے ۔ اس شخص کے زرخیز دماغ میں ایک کمپیوٹر جس میں حکمت الٰہی نے ان گنت اور بے حدو بے شمار علوم “فیڈ ” کر دیئے ہیں، جن کا ظہور حسب ضرورت ہوتا رہتا ہے۔ ہم ان مظاہر کو دیکھتے ہیں اور حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ وہ بے کراں علوم و فنون کے حامل ہیں”۔
ان کے صاحبِ تصوف ہونے کی شہادت دیتے ہوئے ڈاکٹر وزیر آغا رقمطراز ہیں۔
”تصوف کے موضوع پر ان کی نظر اتنی گہری ہے کہ آپ بلا تکلف انہیں اس سلسلے میں ایک اہم اتھارٹی قرار دے سکتے ہیں۔“
سیّد فخر الدین بلّے کو حضرت علی ؑ کی کس حد تک معرفت حاصل تھی۔ اس کا درجہ ذیل اقتباس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
“اخی ءرسول علی ابن ابی طالب کی شرافت و نجابت، مولود ِ کعبہ کی طہارت و معصومیت، ہم نفسِ خیر البشر کی بشریت و عبودیت، سابق العرب کی سبقت و اولیت، امام المتقین کی عبادت و ریاضت،راکب ِ دوش ِ رسولِمقبول ﷺ کی مرتبت و مقبولیت، ، داعی ء ذوالعشیر کی دعوت و اطاعت ، وصی ء رسول کی وصایت و نیابت، خلیفہ ء نبی کی خلافت و جلالت،جاں نثار ِ پیمبر کی حضریت و اقامت ،فدائے حق کی ہجرت و مراجعت، معمار مسجد کی افضلیت و منزلت، زوجِ بتولؑ کی شوکت و وجاہت، شریکِ مباہلہ کی ہمت و مباہلت، اقضاکمِ علیؑ کی نقادت و معادلت، کرارِ غیر فرار کی جرات و استقامت، خیبر شکن کی شجاعت و صلابت، رافع ِکعبہ کی عظمت و رفعت، مشکل کشا کی شفقت و اعانت، معطی ءزکوة کی فراست و بصیرت ، گنجینہءفقر کی صمدیت وقناعت،ہمرازِ رسول کی ذہانت و متانت، مشیرِ نبی کی فراست و بصیرت، امین آیات کی دیانت و امانت، مبلغ اسلام کی حجت و صداقت، نقیب حق کی روایت و صراحت، ترجمان ِ پیغمبر کی خطابت و کتابت، مفسرِ قرآن کی فصاحت و بلاغت، باب العلم کی قیادت و سیادت، مولائے کائنات کی امارت و ولایت ،یہاں تک کہ علی مرتضیٰ ؑ کی ولادت و شہادت کی ندرت و فضیلت اس درجہ ہمہ گیر ہے کہ احاطہتحریر میں لانا ممکن نہیں”۔
داستانِ حُسن جب پھیلی تو لا محدود تھی
اور جب سمٹی تو تیرا نام ہو کررہ گئی
سیّد فخر الدین بلّے نے غزل، نظم، حمد، نعت، منقبت، سلام تقریباً تمام اضاف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ ان کی غزل کو روایت اور جدت کا سنگم کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ شعراءویسے بھی عام لوگوں کی نسبت زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ لیکن بلّے صاحب شعراءسے بھی سوا حساس تھے، دراصل وہ راست فکر اور مثبت ذہن کے ایک شاعر تھے۔انہیں سماج و معاشرہ میں کسی نوع کی کجی گوارا نہیں تھی۔ قول و فعل اور فکر و عمل ہر سطح پر تضاد ان کی حسیّہ سوچ کو مضطرب کر دیتا تھا۔ یہ اضطراب ان کی عزل میں بطور خاص نمایاں ہے۔ ہمارے نزدیک غزل ایسی کافر صنف سخن کو ذریعہ اظہار بنانا بڑے جگر گردے کی بات ہے۔ کیونکہ غزل کی صنفی نزاکتوں پر پورا اترنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یہ ایک آزمائش ہے، جس میں بڑے بڑوں کو دانتوں پسینہ آجاتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ بلّے صاحب اس آزمائش میں پورے اترے ہیں۔ ان کا شمار ان غزل گو شعراءمیں کیا جانا چاہئے، جنہوں نے غزل کی صنفی ہیت اور کلاسیکی روایت کو مجروح کئے بغیر اسے جدّت سے ہم آہنگ رکھا۔ گویا انہوں نے غزل کو فنی لحاظ سے فروغ و ارتقاءکے عمل سے الگ نہ ہونے دیا۔
پیش آئی ہے نمی آج جو پیشانی پر
آئینہ دیکھئے تحریرِ ندامت ہوگی
دماغ عرش پہ ہیں اور چڑھی ہوئی آنکھیں
ابھینوشتہ ء دیوار کون دیکھے گا
کر لئے ہیں بند میں نے گھر کے روشن دان تک
جگ ہنسائی کے لئے باہر نہ جائے گھر کا شور
دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد
پنجوں کے بل کھڑا ہے کہ اونچا دکھائی دے
چمن کے دیدہ وروں سے سوال ہے میرا
بہار کا ہے یہ موسم تو پھر گھٹن کیوں ہے
دیکھی چمک جو سر پہ مرے آفتاب کی
پرچھائیں تک مری، مرے قدموں میں آگری
یہی ہے گردش ِ لیل و نہار کی تعبیر
کسی کا وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا
مہر بلب ہیں گاﺅں کے گیانی، شہر کے دانشور
بچے سوکھے پیڑوں کی تصویر بناتے ہیں
اٹھائے پھرتا ہوں سر اپنے تن کے نیزے پر
ہوئی ہے تنگ زمیں مجھ پہ کربلا کی طرح
وہ شعراء، انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو بیک وقت غزل اور نظم دونوں اصنافِ سخن پر دسترس رکھتے ہوں۔ بلّے صاحب انہی معدود ے چند شعراءمیں سے ایک ہیں۔ ہم بلا خوف ِ تردید یہ اعتراف کرتے ہیں کہ انہیں غزل اور نظم (پابند و آزاد) ہر دو اصناف سخن پر استادانہ گرفت حاصل تھی۔ عصری کرب کا اظہار غزلوں کی طرح ان کی نظموں میں بھی اپنی بھر پور معنویت کے ساتھ موجود ہے۔ وہ ایک خود دار و خود آگاہ شاعر تھے۔ ان کے ہاں تجربات و مشاہدات دانش و حکمت کی باتوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ ہمارے نزدیک وہ ایک عارف تھے اور مظاہرِ فطرت سے اسرارِ قدرت کا کھوج لگا لیتے تھے۔ بلّے صاحب کی نظموں میں ڈرامائی کیفیت سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ جو ان کے نظمیہ کرافٹ کا ایک قابل ستائش عنصر ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے تصوف کے حوالے سے بھی اپنی نظموں میں ایک فکر انگیز ماحول پیدا کیا ہے۔
رنگِ صحن چمن اک معما سا ہے
روئی شبنم کلی کو ہنسی آگئی
شدتِ غم سے غنچوں کے دل پھٹ گئے
ہم یہ سمجھے کہ شاید بہار آگئی
ہائے بدلا نہ شب کو بھی رنگ ِ چمن
چاند نکلا تو تاروں کو نیند آگئی
٭
ہے آب آب موج بپھرنے کےباوجود
دنیا سمٹ رہی ہے بکھرنے کے باوجود
اس بحرِ کائنات میں ہر کشتی ءانا
غرقاب ہو گئی ہے ابھرنے کے باوجود
الفاظ و صوت و رنگ و تصور کے روپ میں
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود
٭
سنسان گلی کوچے ہیں اجڑے ہوئے بازار
ہیں برف میں مدفون چمن سبزہ و گلزار
ہر چیز ہے ٹھٹھری ہوئی افسردہ و بے رنگ
ہر آن ہوئے جاتے ہیں دامان ِ نظر تنگ
ہے ساز نہ آواز نہ بربط ہے نہ دف ہے
ہر سلسلہء کون و مکاں برف بکف ہے
٭
یہ رتجگے، شب کی زندہ داری
ہے میرا مسلک، مری طریقت
وجود کی ان کہی حکایت
خود آگہی اور رقصِ حیرت
تلاش در پردہ ء مشیت
وصال کی کیف زا بشارت
بنی ہوئی ہے مری ضرورت
( نظم بازیافت ۔۔کی چندلائنیں)
نظامِ شمسی کے چاروں جانب
خلا کا وہ بحرِ بے کراں ہے
جو میرے اندر سمٹ گیا ہے
ہیں اس میں ایسے کئی جزیرے
نظامِ شمسی سے جو بڑے ہیں
مگر میں یہ بات جانتا ہوں
زمیں ہے چھوٹا سا اک جزیرہ
کہ جس کی سرحد پہ میں کھڑا ہوں
( نظم زمین، میں اور نظام شمسی کی چندلائنیں)
سوہنی نے انگڑائی لی اور ہنس کر بولی
تو نے یہ بھی دیکھا ہے کیا؟
پہلے میرے پاس فقط کچی گاگرتھی
لیکن میرے ہاتھوں میں اب
دیپک بھی ہے، تیشہ بھی ہے
(ونجلی، گاگر، دیپک تیشہ۔اس نظم سے چندلائنیں)
سیّد فخر الدین بلّے کے یہاں حمد نگاری کا یکسر ایک منفرد انداز نظر آیا ہے، ان کی نظم ”بارانِ کرم“ بظاہر کوئٹہ کی برف باری کا ایک تاثر پیش کرتی ہے۔ مگر بین السطور خالق اکبر کی حمدو ثناءکے نور سے معمور ہے۔
مطلوب بھی موجود ہے، طالب بھی، طلب بھی
پائل بھی ہے، جھنکار بھی، مطرب بھی، طرب بھی
منظر بھی ہے، منظور بھی، ناظر بھی، نظر بھی
ہے ناز بھی، انداز بھی، اندازِ دگر بھی
ہیں ارض و سما، کون و مکاں نور میں غلطاں
بارانِ کرم ہے کہ اترتا ہوا قرآں
ہر منظرِ پرکیف پہ جنت کا گماں ہے
سڑکوں پہ پڑی برف ہے یا کاہ کشاں ہے
حمد کی طرح بلّے صاحب نے نعت ِ رسول ِمقبول ﷺمیں بھی جدید اسلوب ِاظہار کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ ان کے اسلوب کا فیضان ہے کہ قرآن کی توصیف مدح ِ صاحبِ قرآن کے پیکر میں ڈھل گئی ہے ۔ردیف ”رقص میں ہے“ کی معنویت پر شاعر کو جتنی داددی جائے کم ہے۔
قلبِ اُمّی پہ اتر آئی کتاب ِ محفوظ
للہ الحمد براہیمی دعا رقص میں ہے
ذات سے اٹھ گئے جب سارے حجاباتِ صفات
دیکھا ”الاّ“ کو کہ درپردہ ء لا رقص میں ہے
جن کو ہونا ہے شرف یاب ِ ردائے تطہیر
خرقہ ءفقر پہ راضی بہ رضا رقص میں ہے
کا فتہ الناس ہے سر چشمہ عرفانِ وجود
دوش ِِرحمت پہ رسالت کی ردا رقص میں ہے
جھوم اٹھا تھا جسے دیکھ کے خود نورِ ازل
آج وہ حسنِ ازل صلِ علیٰ رقص میں سے
سلام نگاری میں بھی سیّد فخر الدین بلّے نے اپنی انفرادیت کا لوہا منوایا ہے، اس حوالے سے ان کی ایک تضمین کے دو بند پیش ہیں، ملاحظہ کیجئے۔
قیامِ فصلِ بہاراں کا کام باقی تھا
علاجِ تنگی ء داماں کا کام باقی تھا
ابھی رسالتِ ایماں کا کام باقی تھا
شعورِ حکمتِ قرآں کی انتہا کےلئے
حسینؑ ہی کی ضرورت تھی کربلا کے لئے
فنا سے دست و گریباں تھا زندگی کا وقار
ملا رہی تھی ہوس خاک میں خودی کا وقار
سوالِ عظمتِ خاکی تھا آدمی کا وقار
عروجِ آدمِ خاکی کی انتہا کے لئے
حسینؑ ہی کی ضرورت تھی کربلا کے لئے
المختصرسیّد فخر الدین بلّے کے فن، شخصیت اور خدمات کا جائزہ لیتے ہوئے ہمارے اندر جو احساس جاگزیں رہا ،ہم نے اسی کو اپنے مضمون کا عنوان بنا دیا ہے یعنی،
ایسا کہا ں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے
تحریر: پروفیسرقیصر نجفی
سیّد فخر الدین بَلّے،ایک آدرش ۔ایک انجمن
تحریر: جمیل الدین عالی
{ نقارخانے میں۔۔۔ جمیل الدین عالی کے تین کالم روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحات کی زینت بنے}
سیدفخرالدین بلے ایک شخصیت نہیںبلکہ ایک ادارے،ایک تنظیم ، ایک انجمن اور ایک جہان کا نام ہے۔وہ ایک گھنا اور سایہ دار پیڑ تھے۔جس کے سا ئے تلے آ کر بہت سے لوگ دھوپ سے بچے۔اور اس پیڑ کے پھل سے لطف اندوز ہوئے۔اس سے آ کسیجن بھی حاصل کی ۔اور اس کی خوشبوسے مشام ِ دل و جاں کو معطر بھی کیا۔انہیں اردو،فارسی، انگریزی،اور ہندی زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔ان زبانوں میں انہوں نے مختلف موضوعات پر ڈیڑھ سو مطبوعات مرتب کیں۔جن میں کتا بیں ، کتابچے اور بروشرز شامل ہیں۔اخلاق کا پیکر تھے۔کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا۔میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ اس لئے کہہ سکتا ہوں کہ میرے ان سے تعلقات دو چار برس کا قصہ نہیں ، نصف صدی سے زیادہ کی بات ہے۔علی گڑھ میں محبت کاجورشتہ قائم ہوا۔وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتاچلاگیا ۔لاہور،بہاولپور ،ملتان اور راولپنڈی اسلام آباد سمیت وہ جہاں جہاں بھی گئے۔ان سے ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔ بہاولپور میں ان کے ساتھ بڑااچھاوقت گزرا۔ خداجانے کتنی محفلوں میں ہم اکٹھے شریک ہوئے۔ان کی یادوں اور باتوں کو سمیٹنے کیلئے ایک مضمون ناکافی ہے ۔البتہ کسی ضخیم کتاب میں انہیں ضرور سمویا جاسکتاہے۔اتنی خوبیوں والے انسان میری نظر سے بہت کم گزرے ہیں۔انہوں نے اپنے کردار اور خدمات کی بنیاد پر بہت عزت اور محبت سمیٹی۔ارباب علم و دانش نے ان کے حوالے سے بہت کچھ لکھا۔یا کہا ہے۔جن سے ان کی فنکارانہ عظمت اور اوصاف و خصوصیات کا پتہ چلتا ہے۔جوانی ہی میں اپنے جوہر دکھا کر انہوں نے بڑوں بڑوں سے خود کو منوالیا تھا۔میں کیاکہوں ؟ آپ یہ دیکھئے کہ ان کے حوالے سے لوگ کیا کہتے ہیں ؟
بابائے اردو مولوی عبدالحق کاکہناتھا “سیّد فخر الدین بَلّے کی نظم ہو یا نثر اس میں کوئی نقص نکالنا محال ہے”۔فراق گورکھپوری کے خیال میں “سیّد فخر الدین بَلّے رنگوں کے بجائے الفاظ سے تصویریں بنانے کا ہنر جانتے ہیں” ۔ڈاکٹر عنوان چشتی نے اپنے تحقیقی مضمون میں لکھاہے کہ “سیّد فخر الدین بَلّے کے اندر نامعلوم جہان آباد ہیں ۔جو وقتاً فوقتاً ان کے رویوں اور کردار میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ وہ خواجہ غریب نوازؒ کی یادگار ہیں۔ اس لئے ان کی زندگی اور شاعری میں چشتیہ مسلک اور تصوف کا رنگ اور بھی کھِلتا اور کھُلتا ہوا نظر آتا ہے”۔جوش ملیح آبادی نے بھری محفل میں کھل کر اپنے مخصوص انداز میں اعتراف کیاکہ ’سیّد فخر الدین بَلّے کے کلام میں دریا کی روانی اور جذبوں کی فراوانی ہے۔ تاریخ، ادب اور تصوف کا وسیع مطالعہ ان کے کلام میں بولتا ہوا اور سوچ کے در کھولتا ہوا دکھائی دیتا ہے”۔ میرزاادیب نے مانا ” ہر ملاقات میں ان کی شخصیت کا ایک نیا رُخ میرے سامنے آیا‘ میں اس کثیر الجہت شخصیت کو پورے اعتماد کے ساتھ علم و ادب کی آبرو قرار دے سکتا ہوں”۔ جگن ناتھ ٓزاد کہتے تھے” سیّد فخر الدین بَلّے کی خوبصورت شعری تخلیقات پڑھنے یا سننے کے بعد برسوں تک ان کے سحر سے آزاد ہونا مشکل ہے”۔ ڈاکٹر خواجہ زکریا نے لکھا ہے کہ ”سیّد فخر الدین بَلّے کی ذات میں جتنا تنوع تھا۔ اسی قدر رنگا رنگی ان کی نظم و نثر میں موجود تھی۔ ان کی گفتگو بھی مطالعہ اور تجربے کا امتزاج ہوتی۔ ان سے ملنے والے ایک خوشگوار شخصیت کا نقش دل پر لئے ہوئے ان سے رخصت ہوتے”۔ مدیر نقوش محمد طفیل نے بڑے مختلف انداز میں ان کی کثیر الجہت شخصیت کو تسلیم کیااورکہا” مجھے ان میں بیک وقت بہت سی شخصیات یکجا نظر آئیں‘ میں نے انہیں کبھی ایک شخصیت نہیں سمجھا‘ البتہ ان کا چہرہ ایک ہی ہے”۔ غزالی ءزماں رازی ءدوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی نے اپنے تاثرات قلمبند کرتے ہوئے لکھاہے “قولِ سیّد المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم “من کُنتُ مولاہ ،فھٰذا علی مولاہ“ کی تصریحی و صوتی تہذیب کا جو کام حضرت نظام الدین اولیاؒ نے امیر خسروؒ کے سپرد فرمایا تھا‘ بَلّے صاحب کی یہ نئی تصریحی تہذیب اسی کا تکملہ نظر آتی ہے۔ ان کا یہ کارنامہ بلا شبہ قابلِ داد اور موجبِ ستائش ہے۔ خواجہ نصیرالدین نصیرگولڑہ شریف نے دل کھول کر ان کے تاریخی کارنامے پر داد دی اور کہا”سبحان اللہ ! سبحان اللہ۔ سیّد فخر الدین بَلّے کا یہ قول ترانہ موجب ِ تحسین و آفرین اور لائق ِ صد ستائش تاریخی کارنامہ ہے اور سات صدیوں کے بعد دوسری بارقول کی نئی تصریحی تہذیب کا اعزاز ملتان کا مقدر بنا ہے”۔
ڈاکٹر اسلم انصاری نے اپنے ایک مضمون میں لکھاہے کہ ’سیّد فخر الدین بلے نے سات صدیوں کے بعد رنگ لکھ کر نہ صرف رنگ کی روایات کا تحفظ کیا ہے بلکہ اسے آگے بھی بڑھایا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اسے دوام کی سند حاصل ہو گی“ ۔ یہاں میں یہ بتاتاچلوں کہ قوالی میں قول اور رنگ دونوں امیر خسرو کے پیش ہوتے ہیں ۔لیکن سیدفخرالدین بلے نے سات صدیوں بعد نیا قول ترانہ تخلیق کیا۔جس کی دھنیں ریڈیوپاکستان ملتان نے ترتیب دیں۔اور نیارنگ تخلیق کیا۔یہ کارنامہ بھی سات صدیوں کے بعد انجام پایا۔
معرو ف مستشرقہ اینمیری شمل ‘ اشفاق خان‘ پیر آف ہالہ شریف مخدوم طالب المولیٰ ‘ مخدوم سجاد حسین قریشی ،ڈاکٹر برہان احمد فاروقی اور پیر حسام الدین راشدی نے سیّد فخر الدین بَلّے کو تصوف پر اہم اتھارٹی قرار دیا ہے۔اینی میری شمل سے تو سید فخرالدین بلے کی خط و کتابت بھی رہی۔ان کے کچھ خطوط بلے صاحب نے مجھے بھی دکھائے تھے۔وہ بلے صاحب کی علمیت اور ذہانت کی معترف تھیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے بھی سیّد فخر الدین بَلّے کی شخصیت اور فن کے حوالے سے اپنے مضمون میں یہی لکھا ہے کہ” تصوف پر ان کی نظر اتنی گہری ہے کہ آپ بلا تکلف انہیں اس سلسلے میں ایک اہم اتھارٹی قرار دے سکتے ہیں”۔
سیدفخرالدین بلے نے مولائے کائنات حضرت علی مرتضی ٰ کرم اللہ وجہہ کی سیرت و شخصیت پر تحقیقی کام کیا۔اور اس کامسودہ ڈاکٹر باقر رضوی کوبھی بھجوایا۔انہوں نے اسے بلے صاحب کاایک کارنامہ قراردیا۔اور حظ لکھ کر ستائشی کلمات پیش کئے۔
سیّد فخر الدین بَلّے نے ڈائریکٹر ملتان آرٹس کونسل کی حیثیت سے 25روزہ جشنِ تمثیل 82 کا اہتمام کیا۔ جسے ایک بڑے ثقافتی دھماکے کا نام دیا گیا۔ اس کامیابی پر انہیں “مین آف دی سٹیج” اور “محسنِ فن” کا خطاب دیا گیا۔مجھے یاد ہے کہ انیس سو اکانوے کی بات ہے۔ غلام حیدروائیں وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔اور سیدفخرالدین بلے پندرہ روزہ ۔مسلم لیگ نیوز ۔کے چیف ایڈیٹر تھے۔فلمی دنیاکاایک وفد مسلم لیگ ہاءوس میں وزیراعلیٰ سے ملنے کیلئے آیا۔میں اور سید فخرالدین بلے وہاں پہلے سے موجود تھے۔بلکہ مجھے بلے صاحب نے پیغام بھجواکربلوایاتھا۔اس موقع پر اداکار محمد علی نے وائیں صاحب سے کہاکہ “ہمیں بھی ایک سیّد فخر الدین بَلّے مل جائے تو فلم انڈسٹری کو زوال سے بچایا جا سکتا ہے”۔
پریشان خٹک نے سیّد فخر الدین بَلّے کو ادب کی دیو قامت شخصیت کا نام دیا اور کہا کہ انہوں نے ادب اور فنون کی دنیا میں جو کام کئے، وہ بہت سے اداروں کی مجموعی کارکردگی پر بھاری ہیں۔ ڈاکٹر عاصی کرنالی نے لکھا ہے کہ ”سیّد فخر الدین بَلّے ایک شخص کا نہیں‘ ایک یونیورسٹی اور ایک “تہذیبی ادارہ” کا نام ہے۔ اس شخص کے زرخیز دماغ میں ایک کمپیوٹر نصب ہے‘ جس میں حکمت ِ الٰہی نے اَن گنت اور بے حد و شمار علوم “فیڈ” کر دیئے ہیں‘ جن کا ظہور حسبِ ضرورت ہوتا رہتا ہے۔ ہم ان مظاہر کو دیکھتے ہیں اور حیرت زدہ رہ جاتے ہیں‘ وہ بے کراں علوم و فنون کے حامل ہیں”۔
بھائی جون ایلیا سیدفخرالدین بلے کو اکثر جان ِ جاناں کہا کرتے تھے۔میری موجودگی میں انہوں نے ڈاکٹر اجمل نیازی ،حسن رضوی سمیت کئی بار اخباری انٹرویو دئیے۔یا اسے اتفاق سمجھئے کہ میں ان کے انٹرویو کے وقت پہنچ جاتاتھا۔جون ایلیانے ایک سے زیادہ مواقع پر بلے صاحب کو جانِ جاناں قراردیااورکہاکہ ان کی شخصیت اور شاعری دونوں خوبصورت ہیں۔شاعری میں انکی شخصیت بولتی ہے۔انکی شاعری اور شخصیت کاایک ایسا جیون بندھن ہے کہ ان دونوں کو الگ الگ کرکے نہیں سمجھاجاسکتا۔ان دونوں میں تعمق ہے۔حسن ہے۔اور ایک ایسامخفی جمال ہے،جو خبر اور نظر کامقتضی ہے۔
اسلام آباد میں کچھ ادب دوست جوش ملیح آبادی کے صاحبزادے خروش صاحب کے گھر جمع تھے۔یہ ستر کی دہائی کے وسط کی بات ہے۔چائے کےساتھ شاعری کادور بھی چلا۔فخرالدین بلے کی غزل کو حاصل ِ محفل قرار دیا گیا۔ضمیرجعفری نے اپنے مخصو ص انداز میں داد دی۔اور بلے صاحب کی طرف تحسین بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
جے میں ویکھاں اوندے ولے،بلے، بلے ،بلے۔ اس سے خوبصورت داد اور کیا دی جاسکتی ہے؟
بھارت کے نامور ادیب رام لعل پاکستان آئے تولاہور میں مدیر نقوش محترم محمد طفیل کے صاحبزادے اور ادب دوست جاوید طفیل نے ادیبوں اور شاعروں کو اپنے گھر مدعو کیا۔ اس تقریب بہر ملاقات میں ادب کے بہت سے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔سید فخرالدین بلے سے گلے ملتے ہوئے رام لعل نے کہا بہت سے اہل ِ علم و ادب آپ کو بہت یاد کرتے ہیں۔چند روز پہلے بھی دلی میں کچھ احباب سے ملاقات ہوئی ۔اور میں نے انہیں بتایا کہ میں پاکستان جارہاہوں تو آپ کا ذکر چھڑ گیا۔ان میں آپ کے علی گڑھ یونیورسٹی کے ساتھی بھی تھے۔آ پ کی ذہانت کے نقوش ان کے دل و دماغ پر آج بھی موجود ہیں۔اس پر شریک ِ محفل ڈاکٹر آغا سہیل نے برجستہ کہا کہ فخرالدین بلے ایک شخصیت نہیں ،ایک قافلہ ہیں۔جہاں پڑا ءو ڈال دیں،محفل سج جاتی ہے۔اگر انہیں بھارت کے ادیب اور شاعر یاد کرتے ہیں تو اس میں اچھنبے کی کوئی بات نہیں ،یہ ادب کی آبرو اور صحافت کا وقار ہیں۔کسی کے دل میں گھر بنانا تو کوئی ان سے سیکھے۔اسی دوران جاوید طفیل صاحب سے گفتگو کرکے اندازہ ہواکہ فخرالدین بلے کے ان کے والد بزرگوار محمد طفیل سے بڑے گہرے مراسم تھے۔
دو دہائی پہلے کی بات ہے۔میں نے اپنے غریب خانے پر نعت کی ایک محفل کا اہتمام کیا۔خوبصورت نعتیں سننے کوملیں۔ایمان تازہ ہوگیا۔حفیظ تائب صاحب نے تو کمال کر دیا۔سبحان اللہ۔یقین کیجئے۔آنکھیں باوضو ہوگئیں۔ایسا لگا جیسے وہ ہمیں مدینہ منورہ لے گئے ہیں ۔اسی محفل میں سید فخرالدین بلے نے جب نعت کا نذرانہ پیش کیا تو حفیظ تائب کی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب رواں ہوگیا۔ان کے لب جنبش کرتے رہے۔اور محفل ختم ہونے کے بعد بھی وہ بلے صاحب کا ایک نعتیہ شعر بار بار پڑھتے رہے۔وہ شعر میرے حافظے میں آ ج بھی محفوظ ہے۔شعر یہ ہے۔
ہے خوف ِ خدا ان کو خدا کہہ نہیں سکتے
کچھ اور مگر اس کے سواکہہ نہیں سکتے
یہ غالباً پچاس کی دہائی کی بات ہے۔کراچی سے ایک اخبار نکلتا تھا۔نوروز۔ فخرالدین بلے اس کے جوائنٹ ایڈیٹر تھے۔انہوں نے ایک بڑاتیکھا مضمون لکھا۔یہ بتاتا چلوں کہ بلے صاحب کے دل میں وطن کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔مسلم لیگ کی محبت تو انہیں ورثے میں ملی تھی۔ان کی تقریروں اور تحریروں میں نظریہ پاکستان دھڑکتا اور سانس لیتا ہوا محسو س ہوتاتھا۔البتہ مسلم لیگی قیادت کی غلط سوچ کی حمایت نہیں کرتے تھے۔اکثر کہا کرتے تھے کہ مسلم لیگ کو کسی اور نے نہیں ،موسم لیگیوں نے نقصان پہنچایا ہے۔وہ علی گڑھ میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے جوائنٹ سیکرٹری بھی رہے۔جس مضمون کا میں نے ذکر کیا ۔یہ مخدوم حسن محمود کے خلاف تھا۔لیکن مسلم لیگ کی کھلی حمایت کے ساتھ۔۔مخدوم حسن محمود نے رئیس امروہوی سے پوچھا کہ یہ مضمون نگار کہاں مل سکتے ہیں؟۔انہوں نے کہا شام کو میرے گھر پر مدعو ہیں۔چنانچہ مخدوم صاحب بھی وہاں آ گئے۔انہوں نے بلے صاحب سے کہا کہ آپ نے مضمون بڑا تیکھا لکھا ہے،مجھ پر تنقید بھی کی ہے ۔اور مجھے سوچنے پر مجبورکردیا ہے۔آپ کا یہ تنقیدی انداز میرے دل میں گھر کر گیا ہے۔بہت سی باتیں ہوئیں ۔رئیس امروہوی نے کہا بلے صاحب عالم فاضل شخص ہیں۔ان کے اند ر تخلیقی صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں ۔دیکھئے ،یہ کہاں تک پہنچتے ہیں۔یہ واقعہ مدتوں پہلے خود رئیس امروہوی نے مجھے سنایا۔
جگن ناتھ آ زاد پاکستا ن آ ئے تو انہوں نے کسی کو کانوں کان خبرنہ ہونے دی۔ ایک دن بلے صاحب کے گھر قیام کیا ۔تاکہ کھل کر باتیں کرسکیں۔بلے صاحب نے ڈاکٹر اجمل نیازی صاحب کو بھی خبر کردی۔کیونکہ وہ ان کے علاقے کے تھے۔وہ بھی آ گئے ۔بلکہ ظفر معین بلے انہیں خود جاکر لائے۔میں بھی شامل باجہ تھا۔ادبی موضوعات پر کھل کر گفتگو ہوئی۔ پتہ نہیں کب کب کی باتیں ان لوگوں کو یاد آ نے لگیں۔مزہ آ گیا۔جگن ناتھ آزاد نے کہا کہ لاہور والوں کو میری آمد کا کل پتہ چلے گا۔دراصل بلے صاحب کی تخلیقات نے مجھے ان کا گرویدہ بنادیا ہے۔ان کا فکری کینوس بڑا وسیع ہے۔خیالات کے ترفع پر انہیں سلام پیش کرتاہوں ۔ان کا کہنا تھا بلے صاحب کی تخلیقات کے سحر سے برسوں میں بھی آ زاد ہونا مشکل ہے۔آزاد واقعی بلے صاحب کے قدردان تھے۔اس کے بعد موضوعات بدلتے رہے ۔چا ئے کے دور چلتے رہے۔اور میں وہاں سے اپنے دامن میں بہت کچھ سمیٹ کر اٹھا۔
ڈاکٹر فوق کریمی انڈیا سے لاہور آئے ،وہ علی گڑھ میں بلے صاحب کے کلاس فیلو تھے۔انہوں نے بھی یادوں کے دریچے کھول دئیے ۔ بلے صاحب کے گھر ادبی تنظیم قافلہ کے پڑاو بڑی باقاعدگی کے ساتھ برسوں ہوتے رہے۔جن میں ،میں بھی جاتا رہا۔ادیبوں سے ملاقاتوں کا ایک ایسا پلیٹ فارم تھا ، جسے اب آ نکھیں ڈھونڈتی ہیں۔قافلہ پڑاومیں بڑے بڑے ادیب آیاکرتے تھے۔ڈاکٹر فوق کریمی سے یہیں ملاقات ہوئی۔انہوں نے انڈیا کے کچھ ادیبوں کا بلے صاحب کو سلام پہنچایا اور بتایا کہ بھائی قمر رئیس تو آپ کوبہت یاد کرتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا بلے کو گلے لگا کر آنا۔ مگر میری طرف سے۔اس کی محبت کا مجھ پر بڑا قرض ہے ۔ کہنا کہ سود معاف کردیجئیے گا۔اور قرضہ میں چکانہیں سکوں گا۔رازداری کے ساتھ ڈاکٹر فوق کریمی نے یہ بھی بتایا کہ بھائی قمر رئیس نے بلے صاحب پر بڑی خاموشی کے ساتھ کچھ لکھنے پڑھنے کا کام شروع کررکھا ہے،اس لئے آ پ سمجھ جائیں کہ میں نے آپ کو یہ کیا؟ کچھ نہیں بتایا۔
معروف مستشرقہ اینی میری شمل سے سیدفخرالدین بلے کی خط و کتابت تھی۔ ان کے کچھ خط بلے صاحب نے مجھے بھی دکھائے تھے۔وہ فخرالدین بلے کی علمیت اور ذہانت کی معترف تھیں۔سید قاسم محمود کو شکوہ کرتے میں نے دیکھا ۔وہ بار بار اپنی ناراضگی کااظہارکرتے رہے کہ انہوں نے انسائیکلو پیڈیا پاکستانیکا مرتب کی اور اصرار اور مسلسل یاد دہانی کاسلسلہ جاری رکھنے کے باوجود بلے صاحب نے انہیں اپنے کوائف نہیں بھجوائے۔
منصورعاقل اور فخرالدین بلے میں بہت سے باتیں مجھے مشترک نظرآتی ہیں۔دونوں شاعر ،ادیب، دانشور،محبت کرنے اور محبت بانٹنے والی شخصیات اور دونوں کا تعلق انفارمیشن سروس سے رہا۔دونوں نے صحافت میں بھی اپنے جوہر دکھائے۔ان دونوں کا حلقہ بڑاوسیع نظرآیا۔ان دونوں کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ دونوں میرے دوست ہیں ۔اور مجھے ان کی دوستی پر فخرہے۔ان کی یادیں میری زندگی کا گراں قدر اور خوبصورت سرمایہ ہیں۔کتنا اچھا وقت گزرا ہے میرا، ان دونوں کے ساتھ۔سوچتاہوں تو دل کرتاہے،وقت پلٹ آئے۔پھر وہی محفلیں ہوں ، وہی بلے صاحب اور وہی منصور عاقل ۔ اور میں انہیں دیکھوں ،سنوں اور ان کی علمی اور ادبی باتوں سے محظوظ ہوسکوں ۔مگر گزراوقت کبھی واپس نہیں آتا۔یہ میں جانتاہوں مگر دل کو کیسے سمجھاوں ،وہ یہ بات سمجھنے کو تیار نہیں ۔بہاولپور سے میری اور فخرالدین بلے کی بہت سی یادیں جُڑی ہوئی ہیں۔حیات میرٹھی مرحوم نے ماجد قریشی ایم اے کو” دبستان ِ بہاولپور “لکھنے کی ترغیب دی۔جسے بہاولپور کی مستند ادبی تاریخ بھی کہاجاسکتاہے۔اس کتاب میں منصورعاقل اور سید فخرالدین بلے دونوں پرالگ الگ مضمون ہیں۔اُس وقت بہاولپورکے آسمان ِ ادب پر جوادبی ستارے روشن تھے،اور جن کی روشنی ملک کے کونے کونے تک پہنچی ہوئی تھی۔ان سب کا اس کتاب میں بڑی محبت کے ساتھ ذکرکیاگیاہے۔اس کتاب کاخیال ذہن میں آتے ہی یادوں کے دریچے کھل گئے ہیں۔شہاب دہلوی،علی احمد رفعت ،ظہور نظر،علامہ رحمت اللہ ارشد،مجید تمنا،سہیل اختر،ادیب وا ثقی،تابش الوری ،منصورعاقل ،سید فخرالدین بلے کس کس کا نام لوں۔ان ادبی ستاروں سے ایسی ایسی یادگار محفلیں سجیں ،ان میں ایسی ایسی خو بصورت باتیں ہوئیں کہ آج بھی سوچوں تو روح کو نئی زندگی مل جاتی ہے۔اُن دنوں طرحی مشاعروں کابڑارواج تھا۔یہ پچاس کی دہائی کے اوائل کی بات ہے۔طرحی مشاعرے میں فخرالدین بلے نے جو غزل پیش کی ،اس کاایک شعر مجھے ابھی تک یادہے۔
پینے والے تو ہمہ وقت پیاکرتے ہیں
رند ِ بدمست کو پابندی ءاوقات سے کیا
ملتان میں بلے صاحب نے اپنی زندگی گزاردی۔کشفی الاسدی اور حکیم عبدالمجید راحی،کیف انصاری ، ڈاکٹر عرش صدیقی ،ڈاکٹر اے بی اشرف ،ڈاکٹر اسلم انصاری ،مسعود اشعر،شمس ملک ،ڈاکٹربیدل حیدری ،سید سلطان احمد اورسردار رشید قیصرانی کومیں نے سیدفخرالدین بلے کاقدردان پایا۔ ڈاکٹر خیال امروہوی ایران سے واپس آئے توانہوں نے سیدفخرالدین بلے کی بیٹھک میں اپنے قیام ِ ایران کے دفتر کھول دئیے۔انہیں فارسی پردسترس تھی ۔سید فخرالدین بلے سے گفتگو کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ یہاں رہتے ہوئے بھی جدید فارسی پریدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔مجھے احساس ہی نہیں ہواکہ میں پاکستان میں واپس آگیاہوں۔یہ جدید فارسی کہاں سے سیکھی؟۔بلے صاحب مسکرائے اور کہاکہ میں تو ادب کا ایک ادنیٰ ساطالب ِ علم ہوں ۔البتہ اساتذہ کی جوتیاں سیدھی ضرورکی ہیں۔ان کایہ انکسارہی ان کے پھلدار شجرہونے کاغمازہے۔انہی کاایک شعرہے۔
پیڑ نعمت بدست و سرخم ہے
ہے تفاخر بھی انکسار کے ساتھ
صہبا اختر میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔ان کے بیان میں اتنی توانائی اور لہجے میں اتنی تاثیر ہے کہ یہ زور بہت کم شاعروں کو نصیب ہواہے۔خیالات کا ایسا بہاو ہے جو رکنے کانام نہیں لیتا۔وہ نظم کے بہت بڑے شاعر ہیں۔میں ان کی شاعری کا مداح ہوں ۔ایک محفل میں یہ دونوں شریک تھے۔بلے صاحب نے اپنی نظم باران ِ کرم سنائی ۔جو کوئٹہ میں برف باری سے متاثر ہوکرلکھی تھی۔اس نظم میں تشبیہات اور استعارات کی برسات دکھائی دی۔انہوں نے لفظوں سے ایسی تصویر کشی کی کہ مجھے ان کے بارے میں فراق گورکھپوری کے یہ ریمارکس یاد آگئے ،جس میں انہوں نے کہاتھاکہ بلے صاحب رنگوں کے بجائے الفاظ سے تصویریں بنانے کا ہنرجانتے ہیں۔انہوں نے بھی ان کا یقینا ایساہی کوئی کلام سناہوگا۔ اسی لئے تو دوٹوک رائے دیدی۔صہبا اختر نے دل کھول کرداد دی۔جون ایلیا نے کئی شعر بلے صاحب سے بار بار سنے۔مجھے اتنی خوشی ہوئی جیسے یہ نظم باران ِ کرم بلے صاحب نے نہیں ،میں نے کہی ہو ۔اور جیسے یہ داد انہیں نہیں، مجھے ملی ہو۔
سیدفخرالدین بلے محض ایک شخصیت نہیں ایک ادارہ ،ایک آدرش ،اورایک انجمن بلکہ ایک جہان تھے۔محبتیں بانٹیں ،محبتیں سمیٹیں۔محبتیں لٹائیں ۔علی گڑھ سے جوتربیت ملی ،وہ ان کی شخصیت میں بولتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔طفیل ہوشیارپوری نے لکھاہے کہ سید فخرالدین بلے نے چَھپنے کے بجائے ساری عمر چُھپنے کی کوشش کی ۔ لیکن اس کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ان کے اندر جو روشنی تھی،اسے وہ اپنے اندرسمیٹ کر نہیں رکھ سکے۔وہ روشنی پھیلی اور اتنی پھیلی کہ کوئی نہیں کہہ سکتاکہ فخرالدین بلے زندہ نہیں ہیں۔ان کا نام زندہ ہے ۔ان کا کام زندہ ہے ۔اور انہوں نے کیونکہ ہمیشہ چھوٹوں بڑوں کوعزت دی ۔اسلئے ان سے وابستہ لوگوں نے انہیں اپنے دلوں میں زندہ رکھاہے۔سید فخرالدین بلے کے کچھ زندہ اشعار لوح ِ دل پر ابھر آئے ہیں۔
اٹھائے پھرتاہوں سر اپنے تن کے نیزے پر
ہوئی ہے تنگ زمیں مجھ پہ کربلاکی طرح
……..
ہم نے اے دوست خودکشی کیلئے
ٓآ ستینوں میں سانپ پالے ہیں
……..
اپنے احساس کو معکوس نہ ہونے دوں گا
فکرکوشعر میں ملبوس نہ ہونے دوں گا
مجھ پہ جو کچھ بھی گزرتی ہے مری جان ِ وفا
انتقاماً تجھے محسوس نہ ہونے دوں گا
……..
اب کچھ تذکرہ ان جرائد کا جو فخرالدین بلے کے زیر ادارت مختلف وقتوں میں شائع ہوئے۔یہ تمام جرائد اپنے موضوع،مزاج ،اورمندرجات کے اعتبار سے بڑے مختلف ہیں ۔اس لئے انہیں دیکھ کر بلے صاحب کی پیشہ ورانہ مہارت اور کثیر الجہتی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ادب کے ساتھ ساتھ ان کی صحافتی زندگی کاسفر بھی علی گڑھ سے شروع ہوگیاتھا۔اوربانی ایڈیٹر ” جھلک “علی گڑھ کی حیثیت سے انہوں نے اپنے فنکارانہ جواہر کی جھلک دکھادی تھی۔بانی چیف ایڈیٹر / چیف ایڈیٹر/ ایڈیٹر٭ایڈیٹر پندرہ روزہ دی یونین علی گڑھ ٭بانی ایڈیٹر ماہنامہ جھلک علی گڑھ٭جوائنٹ ایڈیٹر روزنامہ نو روز‘ کراچی٭جوائنٹ ایڈیٹر بہاولپور ریویو‘ بہاولپور٭ایڈیٹر ماہنامہ لاہور افیئرز‘ لاہور٭ایڈیٹر ہفت روزہ استقلال ‘لاہور٭ایڈیٹر ماہنامہ ویسٹ پاکستان‘ لاہور٭بانی چیف ایڈیٹر ماہنامہ فلاح لاہور٭بانی چیف ایڈیٹر ماہنامہ اوقاف اسلام آباد٭بانی چیف ایڈیٹر ماہنامہ ہم وطن اسلام آباد٭بانی چیف ایڈیٹر ماہنامہ یارانِ وطن‘ اسلام آباد٭بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ آوازِ جرس‘ لاہور٭بانی چیف ایڈیٹر پندرہ روزہ مسلم لیگ نیوز ‘ لاہور٭بانی چیف ایڈیٹر ماہنامہ نوائے بلدیات لاہور٭بانی چیف ایڈیٹر ماہنامہ ہمارا ملتان ‘ ملتان۔
علامہ سید غلام شبیر بخاری (علیگ )کے تحقیقی مضمون بعنوان “سید فخر الدین بلے ، چند یادیں ، چند باتیں” سے بھی مددلی گئی ہے۔[جمیل الدین عالی کا یہ کالم ” نقارخانے میں” کےعنوان کےتحت تین قسطوں میں 15ویں،20ویں اور27ویں مارچ2011کو روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحات پرشائع ہوا۔}
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید فخر الدین بَلّے ….تصوف پرایک اہم اتھارٹی
تحریر: ڈاکٹر وزیر آغا
سیّد فخر الدین بَلّے دبستانِ اردو کے روح و رواں ہیں۔ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو رہے ہیں۔ مگر آپ یقین فرمائیں کہ ان کے دل کو اندر سے کوئی عارضہ نہیں ہے۔ البتہ عارضہ بصورت بَلّے صاحب اسے باہر سے ضرور لگا ہے۔ اگر آپ کسی ذی روح پر غلیظ دھوئیں کے دود کش مستقل طور پر کھول دیں تو کیا اس کا دم نہیں گھٹنے لگے گا۔ پچھلے تیس برسوں میں بَلّے صاحب نے کل سات لاکھ چھیاسٹھ ہزار پانچ سو گیارہ سگریٹ بحساب ستر سگریٹ یومیہ پئے ہیں اور ان سے نکلنے والی پونے چارمن نکوٹین دلِ نامراد کی نذر کی ہے۔ اب وہ بے چارہ مروت کا مارا احتجاج بزبان پنجابی کرنے سے تو رہا۔ اس نے بس یہ کیا کہ عدم تعاون، بائیکاٹ اور مکمل ہڑتال کی دھمکی دے دی۔ اس پر بَلّے صاحب نے مجبوراً زندگی میں پہلی بار بستر کو کچھ وقت دیا اور اب دل ان کا راضی ہے مگر یہ خود راضی نہیں۔ انہیں شک ہے کہ شاید ان کے دل نے اہلِ سرگودھا سے ساز باز کر کے ان سے غداری کی ہے۔ لہٰذا وہ اس دیار نا ہنجار ہی کو خیر باد کہنے پر اتر آئے ہیں۔
بہر حال حقیقت یہ ہے کہ بَلّے صاحب کے چلے جانے کے بعد دبستان سرگودھا کی کمر ہی ٹوٹ گئی ہے۔ میں اور جیلانی صاحب تو پہلے ہی کمر شکستہ ہیں۔ ہم کیسے اس کی مدد کر سکتے ہیں۔ البتہ ابھی سرگودھا میں کئی دانشور ایسے ضرور ہیں۔ جن سے دبستانِ سرگودھا کو آئندہ بھی تازہ لہو ملنے کا امکان ہے۔
میرے لئے بَلّے صاحب کی ذات اور شخصیت کے دریا کو کوزے میں بند کرنا بہت مشکل ہے۔ وہ اتنے اچھے ہیں اتنے اچھے ہیں کہ بہت ہی اچھے ہیں اور یہی شاید ان کا قصور بھی ہے۔ جب مہاتما گاندھی کو گاڈسے نے گولی کا نشانہ بنایا تو جارج برنارڈ شا نے برملا کہا تھا ۔دیکھا !اس دنیا میں اچھا ہونا کتنا خطرناک ہے۔
کچھ یہی بَلّے صاحب کا حال ہے۔ انہوں نے زمانے سے جو زخم کھائے ہیں۔ اس کی داستان طویل تو ہے لیکن لذیذ ہرگز نہیں۔ البتہ اس میں قطٰاً کوئی کمال نہیں ہے کہ ان چرکوں نے وہی کام کیا ہے، جو گاڈسے کی گولی نے کیا تھا۔ اب غلام جیلانی اصغر چاہیں تو برملا کہہ سکتے ہیں کہ ” بَلّے صاحب‘ میں نہ کہتا تھا کہ اتنا اچھا ہونا اچھا نہیں”۔
ادب کے لئے بَلّے صاحب کی لگن اور لگاﺅ مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ قدرت نے انہیں اعلیٰ ذوقِ نظر ہی عطا نہیں کیا۔ دل کی بات کو لفظوں میں ڈھالنے کا گُر بھی سکھایا ہے۔ اس کی نثر اتنی پختہ ‘ نین نقش کی اتنی صحیح اور لفظوں کے انتخاب کے معاملے میں اس قدر سخت مزاج ہے کہ کسی فقرے پر تو کجا ان کے استعمال کردہ لفظ پر بھی انگلی رکھنا بہت مشکل ہے۔ اس پر مستزاد ان کا وسیع مطالعہ ہے۔ انہوں نے کتابوں کو خود پر لادا نہیں بلکہ انہیں ہضم کیا ہے اور پھر ان کے مطالبہ کو اپنی سوچ سے ہم آہنگ کر کے بڑے خوبصورت انداز میں لفظوں کے حوالے کر دیا ہے۔ تصوف کے موضوع پر ان کی نظر اتنی گہری ہے کہ آپ بلا تکلف انہیں اس سلسلے میں ایک اہم اتھارٹی قرار دے سکتے ہیں۔ بَلّے صاحب شاعر بھی بہت اچھے ہیں۔ شاعری کے بھی ان کے ہاں دونوں رنگ ملتے ہیں۔ کلاسیکی بھی اور جدید بھی۔ پچھلے دنوں مجھے ان کی بیاض دیکھنے کا اتفاق ہوا تو میں ان کے رنگ دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ لیکن میں چونکہ جدیدیت کاوالا و شیدا ہوں۔ اس لئے میں ان کی جدید رنگ کی غزلوں پر سر دُھنتا رہا۔ ابھی تک میں ان کی غزلوں کے سحر سے باہر نہیں آ سکا۔ میں نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ جی کڑا کرکے اس رنگ میں مزید غزلیں کہہ ڈالیں۔ امید ہے کہ وہ میری اس فرمائش کو پورا کریں گے۔ ایک بار جب غلام جیلانی اصغر صاحب کا سرگودھا سے تبادلہ ہوا تو میں نے یہی مصرعہ پڑھا تھا کہ
بہ سلامت روی و باز آئی
مگر اُ س وقت باز آئی سے میری مراد تھی کہ باز آجائیں۔ اب اگر بَلّے صاحب کے معاملے میں بھی احباب اس مفہوم کو قبول کرنے پربضد ہوں تو میں کہوں گا ۔ ”قبلہ سگریٹ پینے سے باز آ جاﺅ“۔
{1979 میں سرگودھا سے سید فخر الدین بلے کے تبادلے کے موقع پر ان کے ساتھ ایک شام منائی گئی اور اسی شام میں ڈاکٹر وزیر آغا نے اپنا یہ مضمون پڑھ کر سنایا}
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید فخر الدین بلّے….ایک قادرالکلام شاعر
یہ جوہرِ قابل مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے دور ِ طالب علمی ہی میں دریافت کرلیاگیاتھا تحریر:انورسدید
آپ کو یقینا معلوم نہیں ہوگا کہ اردو کے قادر الکلام شاعر، تصوف کے سلسلہء چشتیہ کے مخلص ترین مقلد، قوالی کی محفل کو سمعی عروج پر پہنچانے کے بعد متوازن اختتام پر لانے والی صنف ِ شعر”رنگ“ کے مجدد، علی گڑھ میں طالب علم اور پاکستان میں ڈائریکٹر محکمہ تعلقات عامہ پنجاب میں اعلیٰ خدمات انجام دینے والے سید فخر الدین بلّے طبعی عمر میں مجھ سے دو سال اور گیارہ دن چھوٹے تھے۔ یعنی میری تاریخ پیدائش میٹرک کے سرٹیفکیٹ میں چار دسمبر 1928ءدرج ہے۔ سید فخر الدین بلّے پندرہ دسمبر 1930ءکو پیدا ہوئے لیکن میں انہیں اپنا بزرگ تسلیم کرتا تھا۔ میں نے ابتدائی تعلیم سرگودھا اور ڈیرہ غازی خان کے ٹاٹ مدرسوں میں حاصل کرنے کے بعد اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں داخلہ لیا، لیکن ایف ایس سی مکمل کئے بغیر ایک ادنیٰ سرکاری ملازمت اختیار کی، ناآسودگی محسوس ہوئی تو گورنمنٹ سول انجینئرنگ سکول (رسول) میں مقابلے کا امتحان پاس کرکے داخلہ لیا اور عملی زندگی کی ابتداءمحکمہ آبپاشی پنجاب سے کی اور اسی محکمے سے 1988ءمیں ایگزیکٹو انجینئر کے عہدے سے ریٹائر ہوا۔
سید فخر الدین بلّے کے کوائف نامے میں درج ہے کہ انہوں نے ایم ایس سی علی گڑھ یونیورسٹی سے کیا۔ لیکن ان کا مزاج ادب کی طرف راغب تھا۔ اس لئے انہوں نے عملی طور پر سائنس کی ڈگری سے استفادہ کرنے کےبجائے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیب کامل کا امتحان پاس کیا ۔اس دور میں علی گڑھ کی ادب پرورفضاءنے ان کے ذوق کی جہت شاعری کی طرف موڑ دی۔ انہوں نے علی گڑھ کی تربیت گاہ، میں ایک طالب علم کی حیثیت میں جو مشاعرے پڑھے، ان میں فراق گورگھپوری، جگر مراد آبادی، مجروح سلطان پوری، جگن ناتھ آزاد، مولانا حسرت موہانی، جوش ملیح آبادی، آل احمد سرور اور تمنا بجنوری جیسے مشاہیرِ ادب نے شرکت فرمائی، لیکن وہ علی گڑھ کی سیاسی جدوجہد سے بھی وابستہ تھے۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے جس کی سیاسی قیادت قائد اعظم محمد علی جناح کے ہاتھ میں تھی، پاکستان کی تحریک کو کامیاب بنا دیا، سید فخر الدین بلّے کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آگیا اور مستقل قیام کے لئے بہاولپور کی سرزمین کا انتخاب کیا ،جہاں سید مسعود حسن شہاب دہلوی پہلے پہنچ چکے ہیں۔ ان دو اصحاب نے اس سرائیکی خطے میں ،جہاں حضرت خواجہ غلام فرید کا نام اور کلام گونج رہا تھا ۔ اردو شاعری کی شمع روشن کی، بہاولپور میں شہاب دہلوی کا قیام مستقل تھا ۔سید فخر الدین بلّے کے پاﺅں میں چکر تھا اور ان کے دل میں اپنے مستقبل کو سنوارنے کی آرزو بھی تابندہ تھی۔ چنانچہ وہ لاہور آگئے اور پنجاب یونیورسٹی کے لاءکالج میں داخلہ لے لیا۔ قانون کے پہلے سال کے امتحان میں انہیں نمایاں کامیابی ہوئی، لیکن اسی دوران انہیں اپریل 1953ءمیں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ میں ملازمت مل گئی اور انہوں نے قانون کی تعلیم ترک کرکے اسی محکمے میں اپنی قسمت سنوارنے کا عہد کرلیا۔وہ متعدد کامیابیوں کے عروج پر پہنچ کر اور مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دینے کے بعد دسمبر انیس سو نوے ءمیں ریٹائر ہوگئے لیکن ان کے ادبی جنون نے انہیں فارغ نہ بیٹھنے دیا اور وہ ملتان جیسے مرکزی مقام پر اپنے ادھورے کاموں کی تکمیل کے علاوہ فنون ِ لطیفہ کی آبیاری اور نئی نسل کے ابھرتے ہوئے ذہین نوجوانوں کی تربیت میں مصروف ہوگئے۔
ان کی دلچسپی کا ایک زاویہ الجھے ہوئے قومی موضوعات پر سیمینار کروانا بھی تھا ،جن کی صدائے باز گشت پورے ملک میں سنی جاتی تھی۔ میں نے یہ تفصیل اس لئے بیان کی ہے کہ ہم دونوں کے محکمے مختلف تھے۔ میرے دائرہ عمل میں دور افتادہ دیہات آتے تھے جبکہ سید فخر الدین بلّے شہروں میں قیام کرتے تھے۔ میرا کام خالصتاً ٹیکنیکل نوعیت کا تھا لیکن بلے صاحب کے فرائض میں الفاظ کو خوبصورت ترتیب و تدوین سے حکومت کے نقطہ نظر سے پبلک کو مثبت آگہی فراہم کرنا تھا۔ میرے کام کا ادب سے دور کا واسطہ بھی نہیں تھا اور ایک حقیقی واقعہ ہے کہ میں نے سرگودھا کی ایک ادبی محفل میں جب قاسم رضوی صاحب کمشنر سرگودھا کی صدارت میں ایک مقالہ پڑھا اور رضوی صاحب نے جلسے میں اس کی تحسین کی تو میرے ایگزیکٹو انجینئر سید اقبال حسین شاہ جو قاسم رضوی کے ہم جماعت کی حیثیت سے اس محفل میں شریک تھے، میرے دشمن ہو گئے، اور اگلے دن دفتر میں اپنے کمرے میں بلا کر کہا “تم اپنا وقت بہت ضائع کرتے ہو، میں یہ بات تمہاری خفیہ رپورٹ میں لکھ دوں گا کہ تم انجینئرنگ کی بجائے ادب پر زیادہ توجہ دیتے ہو”۔ اب میری قسمت دیکھئے کہ ان کا نام ذوالفقار علی بھٹو کے حکم سے ملازمت سے جبری طور پر فارغ کر دیئے جانے والے افسروں میں شامل تھا اور مجھے ان کی جگہ ایگزیکٹو انجینئر کی پروموشن دے دی گئی تھی۔
خدا کی دین کہ موسیٰؑ سے پوچھئے احوال
کہ آگ لینے کو جائیں ،پیمبری مل جائے
یہ واقعہ ضمنی ہے، جسے آپ نظر انداز بھی کر سکتے ہیں۔ اصل بات میں یہ کرنا چاہتا تھا کہ بلے صاحب کی سرکاری عبارت آرائی ادب کے دائرے میں بھی جا پڑتی تھی، اب اتفاق دیکھئے کہ 1970ءکی دہائی میں بلے صاحب کی تقرری سرگودھا میں ہوگئی۔ جہاں ہر شام سول لائنز میں ڈاکٹر وزیر آغا ایک شامِِ دوستاں آباد کیا کرتے تھے۔ بلے صاحب کے کان میں اس ادبی محفل کی بھنک پڑی تو وہ بھی ایک دن خود ہی کھنچے چلے آئے۔ دیکھا کہ لان میں کرسیاں لگی ہوئی ہیں اور ان پر پروفیسر غلام جیلانی اصغر، ڈاکٹر خورشید رضوی، رحمن قریشی، ڈاکٹر سہیل بخاری، ریاض احمد شاد، پرویز بزمی، سجاد نقوی، عبدالرشید اشک، اخگر سرحدی اور ایم ڈی شاد جیسے ادیب اشرافیہ رکن تشریف فرما ہیں اور دنیا کے ہر موضوع پر بے تکلفی سے تبادلہ خیالات کر رہے ہیں ۔بلے صاحب آئے تو کسی کو ان کی اجنبیت کا احساس نہ ہوا بلکہ جس تہذیبی انداز میں انہوں نے بحث میں حصہ لیا ،اس سے تو یوں محسوس ہوا جیسے:
آملا ہے سینہ چاکانِ ادب سے سینہ چاک
ذاتی طور پر مجھے محسوس ہوا کہ اس محفل میں ایک ایسے بزرگ کا اضافہ ہوگیا ہے، جس کی شخصیت متنوع اور مطالعہ وسیع ہے۔ میں نے فوراً اپنے آپ کو ان کا “خورد” تسلیم کرلیا۔ جبکہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ عمر کے اعتبار سے وہ مجھ سے دو سال چھوٹے تھے۔ وہ تشریف لاتے تو میں کھڑا ہو جاتا اور ان کی نشست نشینی کے لئے کرسی خالی کر دیتا لیکن بلے صاحب میری پیش کی ہوئی کرسی قبول کرنے کے بجائے دور سے خالی کرسی کھینچ لاتے اور انکسار سے کہتے:۔
”مرشد ایسا نہ کیا کیجئے!“
یہ جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی میں جھک کر ان کے گھٹنوں کو اظہار تعظیم کے طور پر چھونے لگتا تو روک کر چھاتی سے لگا لیتے۔ ایک بڑے ادیب، شاعر اور دانشور کا ایک معمولی انجینئر سے یہ سلوک سب کے لئے حیرت انگیز ہوتا لیکن بہت جلد یہ معماکھل گیا کہ انکسار ان کے مزاج کا حصہ تھا اور قدرت نے فرو تنی کی وافر دولت انہیں عطا کی تھی۔ چنانچہ انہوں نے ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر خورشید رضوی، پرنسپل غلام جیلانی اصغر اور دیگر دوستوں سے مخاطب کرنے کے لئے الگ الگ اسمائے جلیل مقرر کر رکھے تھے اور انہیں استعمال کرتے تو ان کی آنکھوں کی چمک ظاہر کرتی کہ یہ الفاظ ان کے دل سے نکل رہے ہیں۔
سید فخر الدین بلے کی زندگی کی سب سے بامعنی سرگرمی ادب تھا۔ آغاز ِ شباب میں ہی انہوں نے اس میں اتنی دسترس حاصل کر لی تھی کہ علی گڑھ کے مشاعروں میں انہیں سینئر شعراءکی صف میں جگہ دی جاتی۔ سماجی اور سیاسی آگہی کا عالم یہ تھا کہ جب قائد اعظم، حسرت موہانی، محمد علی جوہر اور ظفر علی خان علی گڑھ میں جلسے سے خطاب کے لئے تشریف لاتے تو آغاز میں اس نوجوان کوتقریرکرنے کاموقع دیاجاتا۔ اور وہ سیاست ِ حاضرہ پراس باخبرانداز میں تبصرہ کرتے کہ سننے والے عش عش کر اٹھتے۔ شاعری کے زاویے سے انہیں علی گڑھ کے ایک مشاعرے میں مجروح سلطان پوری نے منظوم داد دی۔
وہی ہے فخرِ ادب، اور شہنشاہِ سخن
کہ بلے نام سے یہ سارا شہر جانے جسے
بلے صاحب ہجرت کرکے پاکستان آگئے تو علی گڑھ کی ایک محفل میں جگر مراد آبادی نے یہ شعر پڑھا۔
کیا کوئی شعر پڑھے آج کہ بلے کے بغیر
کاٹنے دوڑتی ہے محفلِ اشعار مجھے
مجلس آرائی بلے صاحب کی فطرت کا روشن زاویہ تھا۔ سرگودھا میں انہوں نے حلقہ ارباب ذوق کو آراستہ کیا۔ لاہور میں ہر ہفتے “قافلہ” نام کی مجلس آراستہ کرتے۔ ملتان گئے تو یہ انجمن ساتھ لے گئے اور ان کی وفات تک اس کے جلسے ہوتے رہے۔ ان کا دوسرا شوق ادب کی ترویج کے لئے رسائل جاری کرنا تھا۔ علی گڑھ کے یادگار رسائل میں “دی یونین” اور “جھلک”شامل ہیں۔ کراچی سے ”نو روز“ لاہور سے “استقلال”، “فلاح” اور “آواز جرس” اسلام آباد سے “اوقاف ” ، “ہم وطن” اور “یاران وطن” اور ملتان سے “مارا ملتان”جاری کئے۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے لکھا ہے۔
”ادب کے لئے بلے صاحب کی لگن مثالی ہے۔ قدرت نے انہیں اعلیٰ ذوق ِ نظر ہی عطا نہیں کیا بلکہ دل کی بات کو لفظوں میں ڈھالنے کا گر بھی سکھایا۔ اس پر مستزاد ان کا وسیع مطالعہ….“ افسوس کہ یہ جامع الصفات شخص جو میرا بزرگ تھا، 28جنوری 2004ءکو بہاول پور میں پیوند خاک ہوگیا۔
تحریر:ڈاکٹرانورسدید
فخرِ ادب ۔ علی گڑھ کا بَلّے
تحریر:ڈاکٹر فوق کریمی علیگ،علی گڑھ
آج میں جی اٹھا ہوں۔
دل کرتا ہے چلا چلا کر دنیا کو بتادوں کہ میراویزاآگیا ہے اور میں لاہور جا رہا ہوں ۔ڈھنڈورا پیٹوں۔ شادیانے بجائوں۔ کیا کروں؟اپنے جذبات کا انخلاءنہ ہوا تو میرا سینہ پھٹ جائے گا۔ کیا واقعی اب مجھے رختِ سفر باندھ لینا چاہئے۔ میں گھنٹوں خود کلامی کرتا رہا۔ خود ہی سوال کرتا اور پھر خود ہی جواب دیتا رہا۔ ہر جواب میں سے نئے سوال جنم لیتے رہے اور میری آنکھ لگ گئی۔ خواب میں بھی میں لاہور کے باغات کی سیر کرتا رہا۔ پرانے لاہورکے گلی محلوں میں گھومتا رہا۔ اپنے برسوں سے بچھڑے دوستوں سے گلے ملتا رہا۔ ان کے شکوے سنتا رہا۔ اپنی شکایتیں کرتا رہا۔ آنکھ کھلی تو میں اپنے بستر پر تھا۔ جاگ جانے پرلاہور نظر نہیں آیا۔
چند روز کی تیاری کے بعد آخر وہ گھڑی آ ہی گئی ،جس کا مجھے انتظار تھا۔ آج میرا برسوں پرانا خواب پورا ہو رہا ہے۔ میں لاہور میں کیسے دن گزاروں گا؟اشفاق احمد،بانوقدسیہ، شہزاد احمد، احمد ندیم قاسمی، منصورہ، ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر انورسدید، سید غلام شبیر بخاری، ڈاکٹر خورشید رضوی، ڈاکٹروحید قریشی ،مظفروارثی ،حفیظ تائب، طفیل ہوشیارپوری سمیت ادبی دنیا کے روشن ستارے میری آنکھوں کے سامنے جھلملانے لگے۔ کیا ان سب سے ملاقات ہو پائے گی؟لاہور تو اب بہت بدل چکا ہوگا۔میں دیر تک خیالات کے تانے بانے بُنتا رہا۔ اور یکایک مجھے اپنے دیرینہ دوست کا ہنستا مسکراتا چہرہ نظر آگیا۔ وہ بھی کتنابے وفا نکلا۔ جاکر پوچھابھی نہیں؟ مگر میں نے اُسے کب پوچھا؟فوراً میرے اندر کے فوق نے مجھ پر جوابی حملہ کردیا۔دوست پر حرف آنے سے پہلے ہی میرے اندر کے انسان نے اُسے بچانے کیلئے وار کردیا۔ مجھے اپنے دوست کی یاد ستانے لگی ۔میں جا تو اسی کے شہر میں رہا ہوں۔ پھر اب یہ بے تابی کیوں؟ میں نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی اور پھر یکایک خیالات کے بہاءونے ایک نیارخ اختیارکرلیا۔
اب زمانہ بدل گیا ہے۔ لوگ بدل گئے ہیں۔ ان کے رویئے دیکھتے ہی دیکھتے تبدیل ہوچکے ہیں۔ کیا میرا دوست فخرالدین بلے بھی بدل گیا ہوگا؟ کیا اس کی جوانی پر بڑھاپے نے اپنے پنجے گاڑ دیئے ہوں گے؟ کیا میں اُس کے سامنے جاکر کھڑا ہوگیا تو وہ مجھے پہچان پائے گا؟ کیا میں بھی اسے پہچان سکوں گا؟ میں ابھی انہی سوالوں میں الجھاہواتھا کہ مجھے فخرالدین بلے کی غزل کا ایک شعر یادآگیا۔ مجھے ایسا لگا کہ اُس نے میری خودکلامی سُن لی ہے اور اسی لئے مجھے یاد دلا رہا ہے کہ
میں بھی بدل گیا ہوں زمانے کے ساتھ ساتھ
آئینہ آجدیکھا تو خود دنگ رہ گیا
شعراور خوشبو کی خوب صورتی یہ ہے کہ یہ دونوں چشم ِزدن میں دیوارِ چمن عبور کرسکتے ہیں۔ انہیں پاسپورٹ اور ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی لئے تو رابطہ کٹ جانے کے باوجود مجھ تک اس کے شعروں کی خوشبو پہنچتی رہی۔
سیاہ گھنگھریالے بال، بڑی بڑی آنکھیں اور ان پرکشش آنکھوں میں سرخ ڈورے، میانہ قد، دامنِ دل کو اپنی طرف کھینچ لینے والے خال و خد، سیاہ شیروانی، علی گڑھ کٹ پاجامہ، چہرے پر مسکراہٹ، گفتگو میں بلا کر ٹھہراو، لفظوں کا خوبصورت چناواور ان میں معانی کا الائو ۔دھیما لب ولہجہ ، طبیعت میں نفاست،مزاج میں تحمل، فکر میں گہرائی، خیال میں رعنائی۔یہ ہے وہ سید فخرالدین بلے ،جس سے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں میری پہلی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات ہی میں اُس نے مجھے اپناکرلیا۔دوستی کے لئے برسوں کی رفاقت ضروری نہیں۔بعض اوقات صدیوں کے فاصلے لمحوں میں طے کرلئے جاتے ہیں اور کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ برسوں ملتے رہنے کے باوجود قربتوں میں فاصلے برقرار رہتے ہیں۔ سید فخرالدین بلے کی شخصیت میں کوئی ایسا مقناطیس ضرور تھا کہ ہم دوست احباب کیا؟ اساتذہ تک اس کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ جو اُس سے ایک بار مل لیتا، ملنے کا اشتیاق وہ اُس میں جگا دیا کرتاتھا اور دوچار ملاقاتوں میں ہی صدیوں کا سفر لمحوں یا دنوں میں طے ہوجاتا اور اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے فخرالدین بلے کا حلقہ احباب بڑھتا چلاگیا۔
ادب اس کی گُھٹی میں تھا۔ وہ کتابیں پڑھتا نہیں، اپنے اندر اتار لیا کرتا تھا۔ حافظہ بلا کا تھا، جو پڑھتا، اسکا بیشتر حصہ اُس کے ذہن کے نہاں خانوں میں گھرکرلیاکرتا تھا۔سگریٹ نوشی کی لت تو شاید بچپن ہی میں پڑ گئی تھی۔ وہ ہمیشہ سگریٹ کی دو ڈبیاں اور دو ماچسیں خریدتا۔ مالی آسودگی انسان کو بھٹکاسکتی ہے اور خصوصاً ایسے حالات میں کہ وسائل کی فراوانی ہو، جوانی ہو، انسان خوش شکل اور خوش کلام ہو اور خاندانی پس منظر ایسا جس پر رشک کیا جاسکے۔ یہ تمام خزانے فخرالدین بلے کے پاس رہے لیکن وہ کبھی بھٹکا نہیں۔ شراب کو کبھی منہ کیا ہاتھ تک نہیں لگایاحالانکہ بعض نواب گھرانوں کے کچھ بگڑے ہوئے نوجوانوں کی صحبت بھی چاہتا تو اُسے میسر آ سکتی تھی۔ مگر اس کی پارسائی کی قسم کھائی جا سکتی ہے۔
کتابیں پڑھنا اور ان میں نئے زاویئے تلاش کرنے کا وائرس مجھے بلے سے لگا۔ بلے بڑا عجیب وغریب ہے ۔ اُس پر مختلف وقتوں میں مختلف مشاغل اور میلانات کے دورے پڑتے ہیں۔ جب ادیبِ کامل کا امتحان بلے نے امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کیا تو اُس پر اقبال سوار ہوگیا۔ وہ اقبال کا حافظ تھا۔ یہ میرا نہیں،ان اساتذہ کا بھی خیال ہے ،جنہوں نے اقبالیات پر فخرالدین بلے سے گفتگو کی۔سید غلام شبیربخاری اور شکیل بدایونی مرحوم کہتے تھے کہ وہ شعر اقبال کا ہو ہی نہیں سکتا ،جوفخرالدین بلے کو یاد نہیں۔شکیل بدایونی جب بھی علی گڑھ آتے ،بلے سمیت ہم دوستوں سے بھی ملتے تھے اور بلے کی ادبی اٹھان دیکھ کر انہوں نے کئی باراسے گیت نگاری کی طرف آنے کی ترغیب بھی دی لیکن بلے نے اس پیشکش کی طرف کبھی رغبت کااظہار نہیں کیا۔اس کاکہناتھامیں کسی کے جذبوں کی ترجمانی نہیں کرسکتا،صرف اپنی فکر کوشعر کاملبوس دے سکتاہوں ۔ کوئی اور نوجوان ہوتاتو سوچتااب میرے گیت لتا ،آشا اور محمد رفیع کی زبان پر ہوں گے۔غیر معمولی شہرت میرے قدم چومے گی لیکن بلے اس طرح نہیں سوچتاتھا ۔نہ اس نے کبھی سوچا۔
ہم دوستوں میں فارسی زبان میں روانی کے ساتھ گفتگو کرنے میں فخرالدین بلے کو یدِطولیٰ حاصل تھا۔ کچھ ایرانی نوجوان جب مسلم یونیورسٹی علی گڑھ آئے تو وہ گھنٹوں ان سے فارسی میں تبادلہ خیال کرتا رہا اور ہم باقی دوست “زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم “کی تصویر بنے بیٹھے رہے۔ہمیں فارسی پڑھنی تو آتی تھی لیکن بول چال کی زبان سے ہم نابلدتھے۔ بیچ میں لقمہ دینے کیلئے کوئی فارسی جملہ سوجھتا بھی تو جب تک موضوع بدل چکا ہوتا تھا۔ میں سوچتا ہوں کہ ایسے لوگ دور کیوں چلے جاتے ہیں ،جنہیں یاد کرنے کی ہمت بھی اب ہم نہیں جُٹاپاتے۔ واہ ،فراق ۔کیا شعر کہہ دیا ہے تم نے۔
اب یادِ رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی
یاروں نے دور جا کے بسائی ہیں بستیاں
بلے نے واقعی بہت دورجاکر بستی بسالی ہے لیکن پاسپورٹ اور ویزے کا جھنجھٹ نہ ہو تو اتنا دور بھی نہیں کہ آدمی جا کر مل بھی نہ سکے۔ حالات انسان کو بعض اوقات اتنا بے بس کر دیتے ہیں کہ وہ کچھ کرنا بھی چاہے تو نہیں کرپاتا۔ میں نے کئی بار ارادہ کیا مگر کوئی نہ کوئی مجبوری ایسی تھی ،جس نے میرے بڑھتے قدموںکو روک لیا۔
آج سوچتا ہوں کہ کیا ہی اچھاہوتا کہ بلے پاکستان نہ جاتا ۔ہم اکٹھے رہتے مگر میرے اندر سے یہ آواز آتی مجھے سنائی دے رہی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ پاکستان نہ جاتا۔ وہ تو اس وقت بھی پاکستانی تھا، جب پاکستان بنا نہیں تھا ۔وہ بتاتاتھاکہ اس کے گھر میں مسلم لیگی زعما آکرٹھہرتے ہیں۔ اس کے بزرگ مسلم لیگی پرچم تلے اجتماعات کا اہتمام کرتے تھے۔ اُس نے جب ہوش سنبھالا”بٹ کے رہے گا ہندوستان،بن کے رہے گا پاکستان”کے نعرے سُنے تھے۔ جب اُس کے شعور نے آنکھ کھولی تو اپنے گھر میں نئے وطن کی تعمیر کی باتیں سنیں۔ لوگ بچپن میں اسکول یا دینی مدارس کا رخ کرتے ہیں ۔ وہ بھی اسکول جاتاتھا لیکن جب قائداعظم، لیاقت علی خان، آئی آئی چندری گر سمیت دیگرمسلم لیگی قائدین سیاسی اجتماعات میں آتے تو ان میں چائلڈ اسپیکر کی حیثیت سے خطاب کی دعوت سیدفخرالدین بلے کو ملا کرتی تھی۔ یہ قدآور سیاسی شخصیات اس کے گال تھپتھپاتیں اوراس کا حوصلہ بڑھاتی تھیں۔ پاکستان کا بیج اس کی زمینِ دل میں پروان چڑھتا رہا اور جب اُس کی طرح یہ بھی تناور پیڑ بن گیا تو فخرالدین بلے کے ساتھ وہ بھی چلاگیا۔ اب بلے اور ’اس کا پاکستان‘ دونوں پاکستان میں ہیں۔
فخرالدین بلے روشن خیال شخصیت کا نام ہے۔ وہ پنج وقتہ نمازی تھا۔ لیکن اندھوں اور بہروں کی طرح اسلامی احکامات کو تسلیم کرنے کا قائل مجھے کبھی نظر نہیں آیا۔ وہ اکثر کہتا تھا کہ آیاتِ قرآنی پر غوروفکر کرتے رہناچاہئے، محض تفاسیر پڑھ کر آنکھیں بند کرلینادانشمندی نہیں۔ اللہ کی آیات پر تدبر اور تفکر کی دعوت بھی خودخداوندِقدوس نے دی ہے۔ لٰہذا اس کے اس حکم کو کسی صورت نظرانداز نہیں کرناچاہئے۔ یہ روشن خیالی آج کے مسلمان اپنالیں تو بہت سے مسائل کا حل نکل سکتا ہے لیکن کیا کریں بلے تو پاکستان چلاگیا ہے۔ یہاں کے مسلمانوں کو سمجھانے کیلئے بھی تو کوئی فخرالدین بلے ہوناچاہئے۔ بلے کے والدِبزرگوار سید غلام معین الدین چشتی ایک بار اُسے ملنے یونیورسٹی آئے تو بلے کہیں گیاہواتھا۔ میں نے ان کے ساتھ کچھ وقت گزارا اور یہ سُن کر حیران رہ گیا کہ بلے نے اپنے گھر میں یہ عبارت آویزاں کر رکھی ہے کہ اگر کسی ملازم نے نماز نہیںپڑھی تو میرے لئے روٹی نہ پکائے۔ ایسے دورے اُس پر پڑاکرتے تھے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اُس نے کبھی خود کو کسی سے برتر نہیں سمجھا۔ بڑوں کی وہ بہت عزت کرتاتھا اور اسکا کہناتھا کہ میں اس لئے بھی ان کی عزت کرتا ہوں کیونکہ یہ عبادت و ریاضت اور نیکیوں میں ہم سے آگے ہیں اور چھوٹوں کی وہ اس لئے عزت کرتاتھا کیونکہ ان کے گناہ کم ہیں۔ دراصل احترام ِانسانیت کی جو قدریں کتابوں میں پڑھنے کو ملتی ہیں، ان کی جیتی جاگتی تصویرکانام سیدفخرالدین بلے ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ موسم لوٹ کر نہیںآتا لیکن علی گڑھ میں جو وقت ہم نے ساتھ گزارا، وہ واپس آگیا ہے یا میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے عہد رفتہ میں لے آیا ہے۔ بلے سائنس کا طالب علم ہے لیکن نظمیں کہتا ہے، غزلیں تخلیق کرتا ہے۔ اور اب تو یونیورسٹی کے جریدے دی یونین کا ایڈیٹر بھی بن گیا ہے۔ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے انتخابی عمل میں بھی کود پڑا ہے، ہم اس کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور وہ کامیابی کیلئے فکر مند نہیں۔ اُسے یقین ہے کہ ووٹ مل جائیں گے۔ یہ انتخابی مہم خوب چلی اور جب بلے مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا جوائنٹ سیکرٹری بن گیا تو اس کا ہمیشہ مسکرانے والا چہرہ مزید کھل اٹھا۔ کچھ دوستوں کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ اس منظر کو میں ایسے دیکھ رہا ہوں جیسے یہ سب کچھ میری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے، حالانکہ یہ واقعہ آج کا نہیں برس ہابرس پہلے کی بات ہے۔ بلے نے دی یونین کا ایڈیٹر بننے کے بعد ایک رسالہ “جھلک “بھی نکالاتھا۔ جس میں اس کی تخلیقی توانائیوں کی جھلک موجود تھی ۔ پوت کے پاوں پالنے ہی میں نظر آ جاتے ہیں۔ اسی لئے اس کے دوست احباب کو یقین تھا کہ بلے سائنسی علوم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ادب اور صحافت سے بھی دور نہیں رہے گا۔ پھر یہی ہوا۔ اس نے لاہور سے ماہنامہ فلاح جاری کیا اور مجھے اس کے شمارے باقاعدگی سے بھجواتا رہا۔ پھر ماہنامہ اوقاف، ماہنامہ ہم وطن، ماہنامہ یارانِ وطن اسلام آباد کے کچھ شمارے بھی مجھے ملے ،جو اسی کی زیرادارت شائع ہوئے۔ ان شماروں کے اداریئے میری سوچ کو غذا بخشتے اور میں اسکی شعری تخلیقات سے بھی فیض یاب ہوتا۔ کبھی کبھارخط وکتابت بھی ہوجاتی لیکن پھر یہ سلسلہ بھی ایک عرصے تک رکا رہا۔ یہ اور بات کہ میں اور وہ ایک دوسرے سے دور ضرور رہے لیکن میں نے اسے کبھی خود سے دور محسوس نہیں کیا۔ آپ دیکھئے کہ وہ اب بھی میرے ساتھ ساتھ ہے۔
ہم اکٹھے کیسے رہتے تھے؟ آپس میں کیا باتیں کرتے تھے؟ یہ سوال ذہن میں کلبلانے لگا تو جواب سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔ شمع کے گر د جیسے پروانے منڈلاتے ہیں، دوست احباب کا بلے کے آس پاس جمگٹھالگارہتا۔ صرف اس لئے نہیں کہ وہ محبتیں بانٹنے کا ہنر جانتا تھا بلکہ اس لئے بھی کہ اس کے ہاتھ میں دولتِ ہنر تھی۔ یہ ہنر بھی بہت سے تھے۔ وہ دست شناس بھی تھا اور چہرے پڑھنے میں بھی اُسے مہارت حاصل تھی۔ علم الاعداد کے اس نے بہت سے ”چمتکار“دکھائے۔ جسم کے مستوراعضا ءکے تل بھی وہ اپنے علم کی بنیاد پر بتادیاکرتاتھا ۔مجھے یاد ہے کہ کچھ دوستوں نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیاتو بلے نے بُرا نہیں منایا بلکہ موضوع بدل دیا لیکن وہ دوست یہ بھی چاہتے تھے کہ وہ انہیں بتائے کہ ان کے جسم پر کہاں کہاں تل ہیں؟ بلے نے کہابتا سکتا ہوں لیکن بتاوں گا نہیں،کم از کم تمہیں تو بالکل نہیں بتاوں گا ۔ اصرار بڑھاتوبلے آمادہ ہوگیا۔ اس نے کہاکہ تم کوئی ایسا کرتہ پہن کر آجاءو ،جسے پھاڑا جا سکے ۔اس نے کہا اس کی کیا ضرورت ہے ؟ تو بلے نے ازراہِ مذاق کہا کہ میں بھری محفل میں تمہارے کپڑے نہیں اُترواناچاہتا۔میں جہاں بتاوں گا کہ تل ہے، وہاں تل ہوناچاہئے، اور میں اس حصے سے کپڑے کو قینچی سے کاٹ کردکھاوں گا۔ تمہارے کپڑے نہیں اُترواﺅں گا۔ چنانچہ وہ ایک پرانا کرتہ پہن کر آگیا۔ بلے نے ایک سوئی لی اور اس کے پیٹ کے قریب کرتے کے اوپر چبھودی اور کہاکہ قینچی سے اس حصے کو کاٹ دو۔ جب وہاں سے پرانے کرتے کو کاٹاگیاتو واقعی وہاں تل موجود تھا۔ اس بات نے سب کو حیران کردیا۔ یہ اور ایسی بہت سی خوبیاں اس میں ہیں کہ لوگ اُس سے جُڑجاتے ہیں۔مطالعہ اتنا وسیع ہے کہ وہ یہ پتہ نہیں لگنے دیتا کہ اس کا میدان کون سا ہے؟ آرٹ پر بات ہو تو وہ آرٹ کی دنیا کا افلاطون نظر آتا ہے۔ نفسیات کی بات ہوتو نفسیاتی باریکیوں کو بیان کرنے لگتاہے۔ علم الفلکیات موضوع بنے تو اپنی گفتگو سے اس دنیا کے ماہرین کو چونکادیتا ہے۔ بظاہر چوبیس پچیس سال کانوجوان ہے لیکن اتنا غیر معمولی اور اتنا کثیرالوصف کہ اگر میں نے اس کی ذہانت اور فطانت نہ دیکھی ہوتی تو میں کبھی نہ مانتا کہ کوئی اتنا باکمال اور بے مثال بھی ہوسکتا ہے۔نوجوانوں کواپنے مستقبل سے دلچسپی ہوتی ہے۔ شاعری کے بھی وہ رسیا ہوتے ہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں،جو انہیں بلے کا دیوانہ بنادیتی تھیں۔ بلے بڑا دریا دل تھا۔ دوستوں پر خرچ کرکے سکون محسوس کرتا تھا۔ سوچ کر پیسے خرچ کرتے میں نے اُسے کبھی نہیں دیکھا۔ غریبوں کیلئے اس کا دل بڑا کشادہ تھا۔ خاموشی کے ساتھ دوستوں کی مدد کردیاکرتاتھا۔ اُس کے ہجرت کر جانے کے بعد یہ بھید مجھ پر کُھلا ورنہ اس نے اشارتاً بھی ایسی بات مجھ سے کبھی نہیں کی۔ جو لوگ اس سے فیض یاب ہوئے۔ انہوں نے خود یہ راز افشا کیا۔ بیت بازی میں بھی وہ ہمیشہ بازی لے جاتا۔ اتنا زودگواور قادرالکلام تھا کہ برجستہ شعر کہہ کر بھی اس نے کئی محفلیں لوٹیں۔
میں نے جو وقت اس کے ساتھ گزارا، اس میں دو مواقع پر میں نے اُسے جھوٹ بولتے سنا ۔میں یہ کہوں کہ وہ ہمیشہ سچ بولتا ہے تو یہ بڑا جھوٹ ہوگا۔وہ ایک سچااور کھراانسان ہے لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ اُس نے میرے سامنے دوبار سچ نہیں بولا۔ بلے کو یاد ہویا نہ ہو، مجھے یاد ہے۔ ایک بار کچھ قریبی دوستوں میں بدمزگی ہوئی اور معاملہ اتنابگڑا کہ آپس میں بات چیت بھی بند ہوگئی۔ برسوں کی پرانی یاری انہوں نے لمحوں میںبُھلا دی۔بلے میرا ہاتھ پکڑ کر ان میں سے ایک نوجوان کے پاس لے گیا، جو اپنے دوست سے خفا تھا،بلے نے کہا تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے، تمہارا دوست تو تمہاری بڑی تعریف کرکے گیا ہے۔ وہ تمہارے ناراض ہونے سے مجھے رنجیدہ نظرآیا۔ تم اس بارے میں ضرور سوچنا اورپھر دوسرے فریق کے پاس جاکر بھی یہی کچھ کہا۔ اگلے روز سب نے انہیں پہلے کی طرح ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے گھومتے دیکھا۔چاہے اس نے روٹھے دوستوں میں صلح کرادی لیکن بولا تو جھوٹ ہی ناں۔ دوسرا جھوٹا ایسا ہے جو بلے مہینے میں دو تین بار ضرور بولاکرتاتھا۔ وہ یہ جھوٹ نہ بولتا تو شایداسکی روٹی ہضم نہ ہوتی۔ دراصل اُسے مونگ کی بریاں دال پسند تھی۔ ہاسٹل میں اُس کے کہنے پریہ دال نہیں بن سکتی تھی کیونکہ “مینو”طے تھا۔ بلے ڈاکٹر سے فرضی نسخے پر لکھواکر وارڈن کو دے دیا کرتا تھا، جس پر یہ ہدایت درج ہوتی تھی کہ آپ دو تین روز مونگ کی دال کھائیں۔ سچائی یہ ہے کہ اس کے سوا میں نے کسی موقع پر بلے کو جھوٹ بولتے نہیں سنا۔ وہ اپنا نقصان بھی ہوجاتا تو سچائی کا دامن نہیں چھوڑتا تھا۔ وہ سچا ہے یا جھوٹا ؟یہ خدا اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ میں اللہ میاں سے تو پوچھنے سے رہا، اب لاہور جا رہا ہوں تو میرے خیال میں اسی سے پوچھ لوں گا۔
ہاسٹل میں بلے کمرہ نمبر 50 میں رہتا تھا۔ اگر مجھے صحیح یاد ہے تو انجم اعظمی اس کے روم میٹ تھے اور 51 نمبر میں پیرآف پگاراشریف کا مسکن تھا۔بلے کو 5کے عدد سے بڑا پیار تھا اوروہ کہاکرتاتھا۔ 50 کا مفرد عدد بھی 5ہے ۔اس لئے اسے اپنا کمرہ اور کمرہ نمبر50 بڑا اچھا لگتا ہے۔ علم الاعداد میں اس کی گہری دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کہتاتھا کہ ہاتھ کی انگلیاں بھی 5 ہیں۔ بنیادی ارکانِ اسلام بھی 5ہیں۔ نمازیں بھی 5 وقت کی فرض کی گئی ہیں۔ اگر ہم سوچیں تواس کائنات میں 5 ہی کی عمل داری نظر آتی ہے اوریہ بھی پنجتن پاک ہی کے فیضان کا پرتو ہے۔ میں نے اس کی ہر بات میں گہرائی دیکھی۔ وقت نے زندگی کی جن حقیقتوں سے اب پردے اٹھائے ہیں، وہ عالم ِنوجوانی میں بھی اس پر منکشف ہوچکی تھیں۔ اسی لئے بعض دوست سوچتے رہ جاتے تھے۔ میں نے بلے کے چلے جانے کے بعد اس کی بہت سی باتوں کے بارے میں سوچا تو اُس کے کچھ نئے مفاہیم مجھ پر کھلے اوراب سوچتا ہوں کہ 5 کے عدد کی باتیں کرنے والے بلے کا مقدر بھی پانچ دریاوں کی سرزمین پنجاب ہی میں جاکرکُھلا۔
بلے شرطیں لگاتا اور ہمیشہ ہارتا۔کبھی کبھی میرے دل میں اس کی ہار پر ہمدردی بھی جاگتی لیکن اسے روکا نہیں جاسکتاتھا۔یہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ شرط کب لگائی؟ البتہ اس کے ہارنے پرچرچاضرور ہوتا۔میں نے کئی بار چاہا کہ وہ شرط نہ لگائے لیکن میں اپنی یہ بات اس سے کبھی نہ منواسکا۔ایک بار بلے حسب ِ دستور ہارگیا۔جس کے نتیجے میں بیس طلباکو ناشتہ کرانا پڑا۔ناشتے کے بعد ایک دوست نے کہا اب تو کوشش کرکے بلے سے ہارناپڑے گا۔بلے نے کہا میں تو تم لوگوں کو خوش دیکھنے کےلئے شرطیں ہارتا ہوں۔اس پر ایک دوست نے جملہ کسا ، اب کھسیانی بلی کھمبا نوچنے پراتر آئی ہے۔جس پر بلے نے کہا چلو شرط لگا لو کہ اب مسلسل میں تین شرطیں جیتوں گا۔چنانچہ ایک شرط یہ لگی کہ بلے شرط نہیں جیت سکتا۔ ہارنے پر بیس طلبا کو ناشتہ کراناتھا۔بلے نے کہا میں شرط جیت سکتا ہوں ،اس کے لئے پہلے ایک شرط اور لگانا ہوگی۔پھر اس نے کہا تم میں سے کوئی ہے جو ایک فٹ لمبے اور ایک فٹ چوڑے طاق میں تکیہ رکھ کرسو سکے۔سب نے کچھ سوچ کر کہا ہم ایسا نہیں کرسکتے۔بلے نے کہا میں ایسا کرسکتا ہوں۔چنانچہ شرط لگ گئی ۔اور ایک نہیں تین دوستوں نے الگ الگ شرط لگائی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بلے ہارا تو اسے ساٹھ طلبا کو ناشتہ کراناپڑے گا۔یہ سرگوشیاں بلے نے بھی سنیں تو کہا یہ بھی تو سوچو کہ میں جیتا تو تین دن ناشتہ چلے گا۔اور پھرواقعی تین دن ناشتہ چلا۔بلے شرط جیت گیا۔سب حیران رہ گئے۔دراصل اس نے ایک طاق میں تکیہ رکھا اور بستر پر آکر لیٹ گیا۔اور لیٹاہی نہیں سو بھی گیا۔سب نے کہا یہ کیا بات ہوئی۔؟طاق میں سوناتھا۔بلے نے کہامیں نے کہاتھا؟ہے کوئی جو ایک فٹ لمبے چوڑے طاق میں تکیہ رکھ کرسوسکے؟تکیہ طاق میں رکھناضروری تھا۔سونے کیلئے یہ شرط نہیں تھی۔دوسری شرط بلے نے لگائی ۔اور پوچھا ہے کوئی جودوروٹیاں نہار منہ کھاکردکھائے؟تین لڑکوں نے کہا ہم کھا سکتے ہیں۔گویا پھر ایک وقت میں تین شرطیں لگ گئیں۔ایک دوست نے نہار منہ دو روٹیاں کھالیں۔پھر دوسرے نے اور اس کے بعد تیسرے نے دودوروٹیاں نہار منہ کھائیں اور بلے سے ناشتے کامطالبہ بھی کردیا۔بلے نے کہا تم شرط جیتے نہیں ،ہار گئے ہو۔سب نے پوچھاکیسے؟ تو بلے نے کہاجب تم نے پہلا نوالہ حلق سے اتار لیاتو تم نہار منہ نہیں رہے ،اس لئے تم لوگ شرط ہار گئے ہو۔البتہ تینوں نے ایک ایک نوالہ نہار منہ ضرور کھایا ہے۔
بلے کی طبیعت میں نفاست ہے۔وہ تن کابھی اجلا ہے اور من کابھی۔خوش لباسی کیا ہوتی ہے؟یہ معنی بلے کو دیکھ کر کھُلتے۔وہ صبح کو جس پہناوے میں ہوتا۔شام کو اس کے جسم پر نظر نہیں آتاتھا۔کپڑے ارجنٹ دھلوانے کا اسے چسکا تھا۔میلے کپڑے اس کے ہاسٹل میں ہو کیسے سکتے تھے۔اس لئے کہ وہ جوکپڑے بدلتا،میلے کپڑوں کاجوڑا ڈرائی کلینر کوبھجوادیاکرتاتھا۔رنگ روپ ،انداز،شکل صورت ،وجاہت سب یہ تقاضاکرتیں کہ تمہیں تو کسی فلم کاہیرو ہوناچاہئیے ۔آئینہ تواسے بھی یہی کچھ بتاتاہوگا لیکن وہ بناوٹی دنیاکاکردار نہیں بن سکتاتھا۔یہ بلے کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ایک اور بات یاد آئی اور وہ یہ کہ اس کے کچھ انداز فقیرانہ اور کچھ شاہانہ ہیں۔کھانے میں اسے بیسنی روٹی لہسن کی چٹنی کے ساتھ بہت پسند ہے۔کھانا پسند نہ آئے تو تھوڑی سی چینی منگاکر اس کے ساتھ لقمے خوشی خوشی حلق سے اتار لیتاہے۔روغنی روٹی بھی اس کی مرغوب غذاہے۔کھیرا ککڑی سلاد میں اسے اچھے لگتے ہیں۔مشروب پئیے گا تو لیموں پانی کا۔اسکنجبین اس کادل بھاتا مشروب ہے۔سرسوں کاساگ اور مکئی کی روٹی مکھن کے ساتھ مل جائے تو ان ڈشز کو دیکھ کر ہی اس کی بھوک بڑھ جاتی ہے۔چائے کابڑا شوقین ہے اور اس کے ذوق و شوق کے مطابق چائے مل جائے تو ابوالکلام آزادکے حوالے دینا کبھی نہیں بھولتا۔ابوالکلام آزاد کی علمیت کا مداح ہے۔ان کے ساتھ ایک دو ملاقاتیں بھی ہوئیں ،جن کاذکرکرتے ہوئے اس کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں۔میں نے اس کے فقیرانہ انداز تو بتادئیے ۔اب ذرا شاہانہ انداز کابھی ذکرکردوں ۔شہر میں یکے چلتے ہیں ،چھٹی کے دن بلے کو جہاں جہاں جانا ہوتا ہے، وہ صبح ایک یکہ کرائے پر لے لیتا ہے،اسے فارغ نہیں کرتا،شام تک وہی یکہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔اگر کوئی اور ہو تو یکہ فارغ کردے اور دو تین گھنٹے بعد دوسرا یکہ لے لے لیکن یہ بلے کی شاہانہ شان کے خلاف ہے۔اس طرح اسے دن بھر یکہ ساتھ رکھنے کی بھاری قیمت چکاناپڑتی ہے اوروہ چکاتا ہے لیکن بچت کےلئے اپنی عادت ترک کرنے کو تیار نہیں۔اسٹائلش کپڑے پہنتا ہے۔اسٹائلش پاپوش بھی۔ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بات ضرورہے کہ وہ کسی احساس ِ برتری کاشکارنظر نہیں آتا۔سب کو خودسے بہترانسان سمجھتاہے۔سب کی عزت کرتاہے۔کیاچھوٹا؟کیا بڑا؟محبت،عزت اور احترام کرنا،انکساری سے ملنا ،اس کے مزاج کاحصہ ہے۔مولائے کائنات حضرت علی مرتضیٰ کایہ ارشاد بھی اس کی زبان سے میں نے پہلی بار سناکہ اکڑتے تومردے ہیں ،زندہ لوگوں میں لچک ہوتی ہے اور ہونی چاہئیے۔لوگ اسے چاہے پیار کااظہار سمجھ لیں لیکن سچائی یہ ہے کہ تبسم اور پریم بھرا تکلم اس کی عادت ہی ہے۔سوتا کم ہے۔کھاتا کم ہے۔رات بھر میں بمشکل چار پانچ گھنٹے سوتاہوگا۔دن میں پانچ دس منٹ کے لئے اونگتا ضرور ہے۔کبھی کبھار تو یہ بھی کہتاہے کہ میں پانچ منٹ سو لوں ،پھر باتیں کریں گے اور وہ واقعی پانچ منٹ بعد بالکل تازہ دم اٹھتا۔وہ جب بھی سو کر اٹھے یا اونگھ کر جاگے ،کلمہ شریف پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک کر اپنے چہرے پر یہ ہاتھ پھیرتا ہے۔یہ عادت اتنی پختہ ہے کہ میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھاکہ وہ اٹھا ہو اور کلمہ پڑھ کرہاتھوں کواس نے اپنے چہرے پر نہ پھیراہو۔علامہ سیدغلام شبیر بخاری علیگ ہمارے سینئیرہیں۔وہ بھی پاکستان کے ہوچکے ہیں۔کبھی کبھاران سے خط و کتابت ہوجاتی ہے۔بلے خوش نصیب ہے کہ اسے ان کا قرب حاصل ہے۔ان کی چٹھیوں سے بلے کی سرگرمیوں کاپتہ چل جا تاہے۔بہا ول پور،ملتان اور لاہور میں انہیں اکٹھے ہونے کاموقع ملا۔سید صاحب نے اپنی کچھ یادداشتیں مجھے بھیجیں،ان میں بلے کی بھی کچھ باتیں تھیں۔
بلے خودنمائی کا قائل نہیں تھا۔میں یہ کہوں کہ وہ چُھپارستم تھا تو یہ بھی صحیح نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ اس کے اندر تو بہت سی شخصیات نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ جیسے بجلی کا ہم جو سوئچ آن کرتے ہیں، اس سے منسلک بلب ہی روشن ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کا جو سوئچ بھی آن ہوتا تو اس کے اندر کی چھپی کوئی نئی شخصیت سامنے آتی۔ بڑی بے تکلفی، دوستی یاری، قربت اور محبت کے باوجود میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس کے اندر آباد تمام شخصیات سے مل چکا ہوں۔ ڈاکٹر عنوان چشتی نے علی گڑھ کے دور ِ طالب علمی ہی میں اس میں ایک صوفی کو دریافت کرلیا تھا۔ستر کی دہائی میں کنور مہندر سنگھ بیدی سحرسے میری شناسائی بڑھی۔انہیں معلوم تھا بلے میرا دوست رہا ہے۔وہ مجھے خط لکھتے توبلے کو بلے بلے کہہ کر ہی مخاطب ہواکرتے تھے ۔ایک دو بارکنور جی نے یہ وضاحت بھی کی کہ میں صرف بلے نام کی مناسبت سے انہیں بلے بلے نہیں کہتا بلکہ ان کاکام اور کلام دیکھ کر میرے اندر سے بلے بلے کی آواز آتی ہے۔دنیاجہان کاکوئی موضوع چھڑجاتا تو گفتگو میں وہ معلومات کادفتر کھول دیاکرتا۔پھلوں،ترکاریوں کی بات ہوتی تو یہ بتادیتاکہ کس ترکاری یاپھل کو کس مقام یادیس میں سب سے پہلے کاشت کیاگیا،کس کے کیا خواص ہیں؟کس بیماری کیلئے مفید ہے۔کس بیماری میں یہ استعمال نہیں کرناچاہئیے۔دیسوں کی بات ہوتی توبھی اس کی معلومات حیران کردیاکرتیں۔اسی لئے اب بھی اس کاذکرچھڑجائے توکچھ دوست اسے چلتاپھرتا انسائیکلو پیڈیاہی کہتے ہیں ۔البتہ آپ اسے متحرک کتب خانہ بھی کہہ سکتے ہیں۔علامہ انور صابری نے تواسے دل میں بسا رکھاتھا اور جب بلے کے پاکستان کے لئے پر تولنے کاانہیں پتہ چلا تو اس حوالے سے خصوصی طور پرانہوں نے ایک خوبصورت نظم بھی کہی اور ایک ادبی محفل میں اپنے مخصوص اندازمیں سنائی بھی تھی۔اس کی گونج کئی دنوں تک فضاوں میں سنائی دی۔ایک مصرع تو زبان ِ زد ِ عام ہوگیا۔دوست احباب آتے جاتے بلے کو دیکھ کر یہ مصرع پڑھتے۔دراصل اس ایک مصرعے میں تمام احباب کے دل کی آوازسمودی گئی تھی۔اسی لئے تو بلے کو یہی مصرع پڑھ کر احباب نے رخصت کیا۔
جان! مت جاو،تم مان جاو۔
بھائی قمر رئیس اس کے قدردان ہیں۔ کہتے ہیں بلے ہندوستان سے پاکستان چلاگیالیکن اس کے نصیب کی ہجرتیں ابھی باقی ہیں۔اسی لئے کبھی پتہ چلتا ہے کہ وہ کوئٹہ میں ہے۔ کبھی سنتے ہیں اس نے قلات اور خضدار میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کبھی اطلاع آتی ہے کہ اس نے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کو اپنا بسیرا بنارکھا ہے۔ کبھی لاہورسے اس کی سرگرمیوں کی خبریں پہنچتی ہیں۔ اس کے پاوں میں چکر ہے۔ بھائی قمر رئیس یہ بھی چاہتے ہیں کہ بلے کی شخصیت اور فن کے حوالے سے منظم انداز میں کوئی تحقیقی کام ہوناچاہئے۔ محض کچھ نظمیں اورغزلیں لے کر ان کی بنیاد پر مضامین لکھنے کافی نہیں۔ وہ جن لوگوں کے ساتھ رہا، جن کے ساتھ ہے۔جن سے علمی اورادبی موضوعات پر تبادلہ خیال کرتا ہے۔ ان سے مضامین لکھوائے جائیں تو بلے کے کئی نئے رخ سامنے آئیں گے۔ آ پ کو یاد ہوگا کہ بلے کے پاکستان چلے جانے کے بعد بھی مولانا حسرت موہانی سے ملاقات ہوتی تو وہ بلے کی خیریت کے حوالے سے ضرور پوچھتے تھے۔ وہ بلے کے قدردان کیوں تھے؟ یہ کون بتائے گا؟ بابائے اردو مولوی عبدالحق کوبلے میں کیا نظر آیا؟ ہم نہیں جانتے۔ جو ہوچکا، اس پر پچھتاوا بے سود ہے۔ ہمیں بلے کے اندر جو جہان آباد ہیں، انہیں دریافت کرنا ہوں گے۔ پھر بلے کا ایک شعر سناتے ہوئے بھائی قمر رئیس نے مجھے یہ بھی کہا کہ تم اسے شعر نہ سمجھنا بلکہ ایک سچائی ہے، جس سے بلے کی شخصیت اور فکر کی وسعتوں کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ شعر آپ بھی سُن لیں۔
ہے ایک قطرئہ خود ناشناس کی طرح
یہ کائنات مری ذات کے سمندر میں
بلے کی ذات میں واقعی ایک کائنات ہے، میں اس کے ساتھ رہتے ہوئے دریافت نہیں کرپایا تو کیا اب یہ ممکن ہے؟ کیا بھائی قمر رئیس کے منصوبے پر عمل کرکے ہی یہ ممکن ہوسکے گا؟؟؟ میں ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ بلے نے پیچھے سے دبے پاوں آکر میرا شانہ ہلایا اور اپنا یہ شعریاد دلایا۔
عجائبات کی دنیا میں کچھ کمی تو نہیں
یہ ہو بھی سکتا ہے مجھ سا کوئی ہوا ہی نہ ہو
کیا میں یادوں کی برات کے ساتھ لاہور جا رہا ہوں۔ میں نے خود سے سوال کیا اوراس سے پہلے کہ میں کچھ مزید سوچتا میرے اندر سے جواب آیا ہاں!ضرور مگر یادوں کی اس برات کا دولہا بھی فخرالدین بلے ہے۔دولہاکی بات سے یاد آیاکہ اس کی زندگی میں ایک۔” مہرو”۔ بھی تھی۔جس نے اس کی زندگی میں اجالا کررکھاتھا۔یہ بتاتا چلوں کہ یہ “مہرو” بلے کی خالہ زاد بیوی تھی۔آپ نے خالہ زاد بیوی کا نام پہلے نہیں سنا ہوگاکیونکہ یہ ترکیب بھی میں نے سب سے پہلے بلے ہی سے سنی تھی۔دراصل بلے کی شادی اس کی خالہ زاد سے ہوئی تھی اور وہ ازراہ ِ مذاق “مہرو ”کو خالہ زاد بیوی کہتاتھا۔یہ مہرو آج بھی اس کے ساتھ ہے اور اس کی چاندنی سے بلے کی زندگی میں اجالاہے۔
فخرالدین بلے ایک ایسی شخصیت ہے ،جس نے علی گڑھ یونیورسٹی کے دورطالب علمی ہی میں خود کو منوالیا تھا۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اس کے کچھ مقالات اورمضامین پڑھے اورنظمیں سنیں تو دنگ رہ گئے اور اتنا کہاکہ بلے کی نثرہویا نظم اس میں کوئی نقص نکالنا محال ہے۔ فراق گورکھپوری ا دب کا بہت بڑا نام ہے، انہوںنے بلے کو لفظوں کا مصور قراردیا۔ بلے کی ہجرت کے بعد جگر مراد آبادی ایک مشاعر ے میں شرکت کیلئے علی گڑھ آئے تو انہوں نے بلے کو یاد کرکے ایک شعر پڑھا۔ کیا تھا وہ شعر؟ مجھے یاد تو نہیں لیکن اس کی گونج ادبی حلقوں میں دیر تک سنی گئی۔ شاید میں نے بلے کو ایک خط میں لکھ کر بھی یہ شعر بھیجاتھا۔ اتنا یاد تو آ رہا ہے لیکن شعر یاد نہیں آرہا۔ اگر میں نے خط میں لکھ کر بھیجاتھا تو بلے کو ضرور یاد ہوگا۔ اس لئے کہ اس کا حافظہ بڑ ے غضب کا ہے۔ میں لاہور کے تمام ادیبوں اور شاعروں سے ملناچاہتا ہوں۔ میرے خیال میں بلے اس معاملے میں مددگارثابت ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ، رام لعل اور ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد جب دورہ پاکستان سے واپس آئے تھے تو انہوں نے بلے کے گھر میں سجنے والی ادبی محفلوں کا بڑا چرچا کیاتھا۔ اس لئے کہ ان کے اعزاز میں بلے نے قافلہ تنظیم کے تحت ادبی ستاروں کی کہکشاں اپنے آنگن میں سجالی تھی۔ ڈاکٹر جگن ناتھ آزادبلے کے قریبی دوست رہے۔ وہ کہتے تھے کہ اس شخصیت میں کوئی ایسا کمال ہے اور اس کی شاعری میں بھی کہ آپ اگر کچھ تخلیقات سُن لیں تومدتوں اس کے سحر سے باہرنہیں آ پائیں گے۔ یہ بات بھی وہ اس وقت کہتے تھے جب بلے اور میں علی گڑھ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے اوراب تو اس بات کوچالیس پینتالیس سال بیت چکے ہیں۔ خدا جانے میں کیا کیا سوچتا رہا۔ میں نے اپنے خیالات کو جھٹکا اور پھر یہ سوچنے لگا کہ کتنی عجیب بات ہے کہ ویزا میں نے لاہور کا لیا اور جا بھی میں پاکستان ہی رہا ہوں لیکن بلے کسی پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر بھارت آگیا ہے۔ اسی لئے تو قدم قدم پر میرے ساتھ ہے۔ اگر وہ علی گڑھ آگیا ہے تو پھر میں اسے چھوڑ کر لاہور کیوں جا رہا ہوں؟ اس سوال کا مجھے خود سے کوئی جواب نہیں مل پا رہا۔اس لئے سوچتا ہوں کہ بلے سے یہ سوال کروں گا ۔ وہ مشکل سوالوں کا جواب دے کر مجھے یقینا لاجواب کر دے گا۔ لاہو ریاترا کی کہانی میں دورئہ پاکستان سے واپسی پر ضرور لکھوں گا۔ اب تک جو الل ٹپ باتیں میں سوچتا رہا، انہیں قلم بند کردیا ہے۔ اپنی پریشاں خیالی کا دستاویزی ثبوت بھی میں بلے کو دے آوں گا، وہ میری بہکی بہکی باتوں پر ہنسا نہ بھی تو مسکرائے گا ضرور اور میں اُس کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ سجی دیکھناچاہتا ہوں۔
مجھے اعتراف ہے کہ میں نے کل کے بلے کا ذکر کیا ہے اور آج کا بلے آپ کو ان سطور پر کہیں دکھائی نہیں دے گا۔ دکھائی دے بھی تو کیسے؟ جب وہ میری آنکھوں کے سامنے ہی نہیں ہے تومیں آپ کے سامنے کیسے لاسکتا ہوں؟۔ اتنا وعدہ ضرور ہے کہ آج کے بلے سے ملنے کے بعد میں “فخرِادب” کی نئی تصویر آپ کے سامنے ضرور لاوں گا۔ پھر پوچھوں گا کہ کیسا لگا؟ میرا فخرالدین بلے۔
[یہ مضمون علی گڑھ کی علمی اورادبی شخصیت ڈاکٹرفوق کریمی نے قافلے کےایک پڑاءومیں پڑھ کرسنایا، جس میں لاہوراور بھارت کے کئی نامورادیب اورشاعر شریک ہوئے}
سیّد فخر الدین بَلّے ۔۔علی گڑھ سے ملتان تک
تحریر:پروفیسر جاذب قریشی ،کراچی
پاکستان سے پہلے ہندوستان کے بہت سے شہر اپنی منفرد شہرتوں کے ساتھ تاریخی جواز کی علامت بنے ہوئے تھے۔ ایسے ہی دو بہت اہمیت رکھنے والے شہروں میں علی گڑھ اور ملتان کے نام شامل تھے۔ علیگڑھ کی جس شہرت نے دنیا کو اپنا چہرہ دکھایا اور پسندیدگی حاصل کی ،وہ سر سید احمد خان کی جدید سائنسی تعلیم و تدریس کے ساتھ مشرقی علوم و فنون کا احیاءتھا ۔جس نے ایک ایسی عالمی ذہن کی تخلیق کی ،جو زندگی کے مختلف اہم شعبوں کا نمائندہ بن کر مشرق و مغرب کے مشترک ورثے کی حیثیت اختیار کر گیا ۔ علیگڑھ نے اپنے طالب علموں کی جو کردار سازی کی ،اس میں یک سمتی نہیں بلکہ زندگی کی کئی حقیقتوں کے ساتھ انسانی اقدار کو اجتماعی انسان سے جوڑنے کے خواب دیکھے گئے اور اپنے فکر و عمل کو جدید دنیا سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی اور فقیروں کی سرزمین قرار پائی اور یہاں کی مٹی نے روحانیت کی خوشبو کو انسانی محبتوں کے احساس سے باندھ دیا ۔ ملتان کے موسموں نے انسانی باطن کو آئینہ بنانے کا ہنر سکھایا۔ میں اس موڑ پر ایک ایسے شخص کا نام لینے جا رہا ہوں جو علیگڑھ اور ملتان دونوں شہروں کی منفرد اہمیتوں کو اظہار میں لاکر ایک ایسا اجالا تخلیق کرتا رہا ،جس کو مثبت، متوازن اور کامیاب زندگی کا منشور کہا جا سکتا ہے۔ فخر الدین بَلّے ملتان کے اس شخص کا نام ہے ،جو زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔
جدید زندگی کی ضرورتوں کے شعور نے اور انسان کی بنیادی آسودگیوں کے احساس نے فخر الدین بَلّے کے فکر و عمل کی پرورش کی تھی۔ بَلّے صاحب جو زبانیں جانتے تھے، ان میں عربی ، فارسی، اردو، انگریزی ،ہندی اور پنجابی شامل تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ زندگی کے کئی شعبوں میں آسانیوں کے ساتھ اپنا اظہار کرتے رہے۔ انہوں نے ادبی صحافت میں نمایاں کارکردگی دکھائی ۔پھر وہ تاریخ نگار بن کر سامنے آئے ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے فنونِ لطیفہ کو اپنا موضوع بنایا اور اہم کام کیا ۔ ان سارے کاموں کے علاوہ تصوف میں تو بَلّے صاحب نے اینمیری شمل، وزیر آغا اور پیر حسام الدین راشدی جیسی بڑی گواہیاں حاصل کر لی ہیں۔ ملتان سے بَلّے صاحب کا عشق مثالی قرار پاتا ہے کہ شاید بیسویں صدی میں کوئی ایسا دوسرا نام موجود نہیں ،جس نے بَلّے صاحب کی طرح ملتان کو چاہا ہو۔ اس کو سوچا ہو اور اسے لکھا اور پھر ملتان کی عظمتوں میں گم رہا ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کا قاری انہیں پڑھ بھی رہا ہے ۔ان سے کچھ سیکھ بھی رہا ہے اور زندگی کی دوڑ میں ان کے فکری و عملی اور تخلیقی و فنی تجربوں کو ساتھ رکھنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔
بَلّے صاحب نے شعر و ادب میں جو کام کیا ہے، اسے جوش ،فراق ،جگر ،وزیر آغا اور کئی دوسرے اہم تخلیق کاروں نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔ میرے سامنے بَلّے صاحب کی بہت تھوڑی سی شاعری ہے، جس کا انتخاب کرتے ہوئے اختصار کے ساتھ میں کچھ باتیں کرنا چاہوں گا۔ فخر الدین بَلّے نے شاعری کا جو زمانہ پایا، وہ بہت زرخیز اور بہت شہرت یافتہ شاعروں کا زمانہ تھا ۔پورا ہندوستان اور تعلیم کے بعد پورا پاکستان شاعری کو اپنے اظہار کا سب سے موثر اور سب سے اہم حوالہ بنائے ہوئے تھا مگر بَلّے صاحب کی شخصیت میں ایک ایسی مقنا طیسی ہمہ گیریت تھی ،ایسا پر خلوص چلن تھا ،جو ہر دوسرے شخص کو شکار کر لیتا تھا ۔اس سبب سے شاعری میں بھی ان کے چاہنے والوں کی قطار زیادہ لمبی دکھائی دیتی تھی۔ بَلّے صاحب کی شاعری میں بڑے خوبصورت شعر موجود ہیں۔ اپنے عہد ِرائگاں کو نئی نسل کا اظہار بنا کر پیش کرنے میں بَلّے صاحب کا ہنر دیکھئے ،جسے انہوں نے تصویر کر دیا ہے۔
مہر بلب ہیں گاﺅں کے گیانی، شہر کے دانشور
بچے سوکھے پیڑوں کی تصویر بناتے ہیں
اس کے ساتھ ایک اور فکری تمثیل دیکھئے۔
کتاب لاکھ پرانی سہی مگر اس پر
چھَپا ہے اب جو نیا انتساب کیسا ہے
بَلّے صاحب خود سوچتے ہیں اور چاہتے ہیں ہمیں بھی سوچنا چاہئیے کہ ہماری دنیا میں نئے علوم و فنون اور جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے جو ایجادات اور جو تبدیلیاں سامنے آتی چلی جا رہی ہیں ۔ان میں کسے قبول کرنا ہے ‘کسے رد کرنا ہے ۔ ہمیں اپنے لمحہء موجودکوماضی سے ملا کر رکھنا ہے‘جو ہمیں مستقبل سے جو ڑتا ہے مگر اپنی شناخت کے لئے ٹکراتا بھی ہے اور ساتھ بھی چلتا ہے۔ بَلّے صاحب کی شخصیت کا مزاج اور ان کی ذات اپنی انفرادیت کے کئی جواز رکھتی ہے لیکن اس بات کا جاننا بھی ضروری ہے کہ خود انہوں نے اپنے بارے میں ہمیں کیا بتانا چاہا ہے۔
وہی تو ہوں میں کہ جس کے وجود سے پہلے
خود اپنے رب سے فرشتوں نے اختلاف کیا
ازل سے عالمِ موجود تک سفر کر کے
خود اپنے جسم کے حجرے میں اعتکاف کیا
دیکھی چمک جو سرپہ مرے آفتاب کی
پرچھائیں تک مری مرے قدموں میں آگری
میرے گھر میں بھی کہکشاں کی طرح
ربط قائم ہے انتشار کے ساتھ
نفس کی آندھیاں چلتی رہیں مگر میں نے
تمام عمر گزاری ہے ریت کے گھر میں
آندھیوں کے درمیان ریت کے گھر میں عمر گزار دینا ایک طرف زندگی کی مشکلات کا استعارہ ہے تو دوسری طرف گردو پیش کے موسموں کی بے ثباتی کی علامت بھی ہے۔ بَلّے صاحب کا خیال ہے کہ آدمیوں کے ہجوم میں ذات کی تنہائیاں بڑھتی جارہی ہیں اور اس طرح آبادیوں کے درمیان ویرانے اتر آئے ہیں۔ بَلّے صاحب دیر تک حیرتوں کے بازار میں آئینہ بن کر کھڑے رہے لیکن ان کے دکھوں کو جاننے والا کوئی نہیں آیا ۔وہ خواب دیکھتے رہے، دیواریں گرتی رہیں ۔ محرومیوں کے درمیان خود اعتمادی کا سفر بڑھتا رہا ۔ ان کا تجربہ بتاتا رہا کہ جہاں دھوپ بچھی ہو گی وہاں چھاﺅں بھی اترے گی۔ بَلّے صاحب علم و ہنر کا اعتبار تھے کہ محبتوں کے الفاظ ، خیال کے رنگ ، خواہشوں کی تصویریں کسی آندھی ،کسی سیلاب،کسی بارش سے مٹا نہیں کرتیں بلکہ سچائیوں کی پہچان بن کر زندگی کے موسموں میں اپنا اظہار کرتی رہتی ہیں۔ اپنے عہد کے منفی رویوں کو بَلّے صاحب نے لکھنا چاہا تھا کہ ان کے
تجربوں میں بے اعتباریوں کو اور شک و شبہات کو اہمیت حاصل ہوتی جا رہی تھی۔ ایسی چند مثالیں دیکھتے ہیں۔
پڑا ہوا ہے بہت سے چہروں پہ مستقل جو غبار کیا ہے
ذرا کبھی آئینوں سے پوچھو نگاہ کا اعتبار کیا ہے
نہ آئینے کا بھروسہ نہ اعتبارِ نظر
جو روبرو ہے مرے کوئی دوسرا ہی نہ ہو
قربتوں سے فاصلوں کی جس کو بیداری ملی
جسم و جاں کے درمیاں آئے نظر پردے کئی
چمن میں فصلِ بہاراں سہی خزاں نہ سہی
مگر حضور! یہ موسم ضرور آئے گا
میں اس مقام پر تو نہیں آ گیا جہاں
ہو گی نہ صبح رات گزرنے کے باوجود
سید فخر الدین بَلّے نے روحانیت کی دھوپ چھاﺅں میں پرورش پائی ہے ۔اس لئے وہ خواب میںبیداری اور بیداریوں میں خواب دیکھ لیتے تھے ۔ وہ زندگی سے سرسری نہیں گزرے ۔انہوں نے ایک جہان میں کئی جہان تلاش کئے اور کسی ایک منظر میں بہت سے پس منظر وں اور پیش منظروں کی تفصیل لکھتے رہے۔ انہوں نے اپنے تجربوں کے کنارے تک جا کر ریت کی لہریں اور سیپیوں کے موتی یکجا کئے ہیں۔ اناﺅں کی کشتیاں ابھر کر غرقاب ہو جاتی ہیں۔ باغ میں رنگ و خوشبو کے درمیان جب شبنم کے آنسوبرستے ہیں تو کلی کا تبسم بکھر جاتا ہے۔ ایسی متضاد سچائیاں بَلّے صاحب کی شاعری میں پوشیدگیوں اور وضاحتوں کی تمثیلیں بن گئی ہیں۔ بَلّے صاحب نے اپنی روشنیوں میں بہت سے ان اندھیروں کے پاﺅں کاٹے ہیں، جہاں سے لوگ بغیر کچھ دیکھے بغیر کچھ جانے گزر جاتے ہیں۔ ان کے چند ایسے شعر دیکھتے ہیں جو عمومی خیال کئے جاتے ہیں لیکن اپنے اسلوب میں بہت سچے اور بہت سادہ ہیں۔
وہ ایک شخص جو حالات کی پناہ میں ہے
یہ جان لے کہ ہر اک فرد کی نگاہ میں ہے
دائرے بنتے بگڑتے دیکھنے والوں نے بھی
کب سنا ہے جھیل میں گرتے ہوئے کنکر کا شور
ٹھن گئی ہے اس لئے تقدیر اور تدبیر میں
ہاتھ تو ہر اک کے دو ہیں اور گلدستے کئی
شکستہ دل ہیں بہت سی کلیاں‘ بدن دریدہ ہیں پھول سارے
ہیں خارزاروں میں قید آنکھیں کہ جانتی ہیں بہار کیا ہے
بَلّے صاحب محبتوں کے شخص تھے ۔بُرا کہنا ،طنز کرنا ان کے مسلک میں نہیں تھا۔ وہ زندگی کے منفی رجحانات کو اور غیر انسانی رویوں کو اپنے اثباتی سلوک کی پناہ دے کر کئی ناہموار باتوں کو لوگوں کےلئے آسانیوں کا سبب بنا دیتے تھے۔ ماحول اور معاشرے کے منافقانہ رنگوں کواور بے اعتبار خواہشوں کو بَلّے صاحب نے ذرا طنز کے ساتھ لکھنا چاہا ہے مگر ان کے اظہار میں بے غرض ترجمان اور سچی عکاسی موجود ہے۔
وجودیت کا یہ رنگیں سراب کیسا ہے
ہر ایک چہرے پہ مبہم نقاب کیسا ہے
ہم شب میں رندبن کے رہے، دن میں متقی
دنیا میں اس چلن سے بڑی آبرو رہی
دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد
پنجوں کے بل کھڑا ہے کہ اونچا دکھائی دے
شہر یاروں کی جبینیں دیکھو
ان کہی میں نے کہی ہو جیسے
بَلّے صاحب کے شعری انتخاب میں مجھے ایک شعر ایسا دکھائی دیا ہے، جسے میںعشقیہ جمالیات کے ساتھ ساتھ محبوب و محبوبیت کا نمائندہ سمجھتا ہوں۔ میں چاہوں گا کہ بَلّے صاحب کے پڑھنے والے میرے ساتھ اس شعر کی قرات کریں۔ شعر ہے کہ
میں جانتا ہوں مگر تو بھی آئینہ لے کر
مجھے بتا کہ مرا انتخاب کیسا ہے
میں اس شعر کی تشریح نہیں کر رہا ہوں ۔بلکہ میں نے اس کی معنیاتی سطحوں کو اور اس کے تجرباتی و تخلیقی احساس کو کچھ یوں سمجھنا چاہا ہے کہ بَلّے صاحب کے ذاتی اعتماد نے ایک ایسا آئینہ تخلیق کیا ،جو ایک مشکل سوال بن کر چمکا اور غیر وضاحتی جواب کے اعتبار کو اظہار میں لاتا چلا گیا کہ بَلّے صاحب کاانتخاب ایسا ہے جس سے اختلاف کا امکان نہیں ۔میں بَلّے صاحب کی انفرادی پسندیدگیوں اور ان کے منفرد امکانات کو زندگی کا ایک ایسا مشترک سائبان سمجھتا ہوں ،جو ہمیں وقت کی سیاہ دھوپ سے،ذاتی مفادات کے سیلاب سے، اور سینوں میں حسد کی جلتی ہوئی آگ سے بچانے کا ہنر رکھتا ہے۔
بَلّے صاحب کی شخصیت اور شاعری میں ایک سچی ہم آہنگی موجود ہے کہ جس رخ سے بھی انہیں دیکھا جائے، وہ ویسے ہی نظر آتے ہیں ، جیسے وہتھے۔ ان کی شاعری میں تنقید بھی ہے مگر طنز کی بلند بانگیں نہیں ہیں۔ وہ اپنے لب و لہجے کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو لفظ اور شاعرانہ تلازمات ان کی اپنی آواز کے ساتھ شاعری بنتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے پڑھنے والوں میں اور اپنے سننے والوں میں پہلے بھی پسندیدہ رہے ہیں ۔آج بھی ان سے محبت کرنے والوں کا ہجوم سامنے کھڑا ہے۔
میں بَلّے صاحب کے ایک ایسے شعر پر اپنی بات مکمل کرتا ہوں جس کی پیش گوئی کو میری طرح دوسرے لکھنے والے بھی دیکھ رہے ہیں اور بَلّے صاحب کی پیش گوئی کا چہرہ مرتب کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کا شعر ہے کہ
اپنی کتابِ زیست پہ تنقید کےلئے
آخر میں چند سادہ ورق چھوڑ جاﺅں گا
بَلّے صاحب آپ نے جو سادہ ورق چھوڑے تھے ۔میں نے اپنی روشنائی ان کی نذر کر دی ہے۔
تحریر: پروفیسر جاذب قریشی، کراچی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کئی دنیاﺅں کا ایک بڑا آدمی
تحریر:طفیل ہوشیارپوری
تلاشِ رزق ہو یا جستجوئے معرفت بلے
ہماری زندگی شعر و ادب یوں بھی ہے اور یوں بھی
اس شعر کے آئینے میں سید فخرالدین بلے کی زندگی کی پوری تصویر نظر آ رہی ہے۔ بلا شبہ علم وادب فخر الدین بلے کا اوڑھنا بچھونا رہا ہے اور اب بھی ہے۔انہوںنے 15دسمبر1930کو بابائے اردو مولوی عبدالحق کے پڑوس میں آنکھ کھولی۔ علمی اور ادبی ذوق ورثہ میں ملا، جسے انہوں نے اپنی کسبی اور نسبی صلاحیتوں سے جلابخشی۔علی گڑھ یونیورسٹی سے بی ایس سی کیا اور جامعہ اُردوعلی گڑھ سے ادیب ِکامل کی سند حاصل کی۔معدنی ذخائر کی دریافت پر پیشہ وارانہ مہارت حاصل کرنے کے بعد اس شعبے سے منسلک ہونے کی بجائے اپنے اندر کے انسان کی دریافت میں مصروف ہوگئے۔ پنجاب کے محکمہ تعلقات عامہ واطلاعات سے منسلک ہوئے اور مختلف محکموں میںڈیپوٹیشن پر خدمات انجام دیتے ہوئے علم وادب کے فروغ کیلئے ٹھوس بنیادوں پر کام کیا۔
فخرالدین بلے نے بانی مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے ماہنامہ “جھلک”علی گڑھ۔ ماہنامہ “فلاح”لاہور۔ ماہنامہ “اوقاف” اسلام آباد۔ماہنامہ “ہم وطن” اسلام آباد اور ماہنامہ “یاران وطن”اسلام آباد کے جو شمارے ترتیب دیئے، وہ ظاہری اعتبار سے کسی بھی ڈرائنگ روم میں رکھے ہوئے بک شیلف کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں اور اپنے معنوی اور علمی اعتبار سے شاہکارقراردیئے گئے ہیں۔ ہر چند کہ ان جرائد میں سے بعض سرکاری محکموں کے ترجمان تھے،مگر سیدفخرالدین بلے نے محکمے کے نام کے سوان پر حتی الامکان سرکاری چھاپ نہیں لگنے دی۔ اسی طرح انہوں نے انگریزی کے جرائد ”دی یونین” علی گڑھ۔ “بہاولپور ریویو” اور “لاہورافیرز“ کی ادارت کے فرائض بھی سرانجام دیئے ۔ ایک محتاط انداز ے کے مطابق آج تک انہوں نے جو مطبوعا ت تالیف یا ترتیب دی ہیں،ان کی تعداد ڈیڑھ سو سے متجاوز ہے۔ یہ مطبوعات شخصیات اورثقافتی و تاریخی موضوعات کے بارے میں ہیں، جس سے ان کی علمیت کی ہمہ گیری کا پتہ چلتا ہے۔
فخرالدین بلے دراصل پہلودار شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی، صحافی بھی ہیں اور مولف بھی، مقرر بھی ہیں اور تخلیق کار بھی، دانشور بھی ہیںاور مسلک کے اعتبار سے صوفی بھی، گویا وہ
وہ اپنی ذات میں اِک انجمن ہیں۔
انہوں نے علم وادب کی مختلف جہتوں میں بالکل انوکھے زاویوں سے کام کیا ہے۔”ولایت پناہ حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ ” اور “اسلام اور فنون لطیفہ”کے موضوعات پر ان کی دو تحقیقی کتابیں طباعت کے آخری مراحل میں ہیں۔ تصوف کے حوالے سے بھی انہوں نے گراں قدر تحقیقی کام کیا ہے اور جو مقالے لکھے ہیں، ان کے پیش نظر پیر حسام الدین راشدی ، نامور مستشرقہ این میری شمل اور ڈ اکٹر وزیر آغا نے انہیں تصوف پر اہم ا تھارٹی قراردیا ہے۔ یہ بڑی عجیب سی بات ہے کہ محکمہ اطلاعات اور صحافت سے منسلک رہنے کے باوجود فخر الدین بلے نے ”چَھپنے“کی بجائے چُھپنے کو زیادہ پسند کیا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں اُردو ادب میں جو مقام حاصل ہے، اس کا ذکر بہت سے ناقدین نے کیا ہے۔ فراق گورکھ پوری کا خیال ہے کہ “فخرالدین بلے رنگوں کی بجائے الفاظ سے تصویریں بنانے کا فن جانتے ہیں”۔بابائے اردو مولوی عبدالحق کا کہنا ہے ۔”فخرالدین بلے کی نثر اور نظم میں کوئی نقص نکالنا محال ہے”۔ ڈاکٹر وزیر آغا بھی یہی کہتے ہیں “ان کی نثر اتنی پختہ اور نین نقش کی اتنی صحیح ہے کہ ان کے کسی جملے پر تو کجا، ان کے استعمال کردہ کسی لفظ پر بھی انگلی رکھنا مشکل ہے ۔علامہخیربھوروی کے خیال میں ۔”سیدفخرالدین بلے کو زبان وبیان پر قابل رشک قدرت حاصل ہے” ۔حتیٰ کہ جوش ملیح رآبادی جیسا غزل دشمن بھی فخرالدین بلے کا مداح ہے اور مصطفیٰ زیدی اور فخر الدین بلے کی غزلوں کوانہوں نے وقیع ادب سے تعبیر کیا ہے۔
قوالی کا آغاز”قول“سے اور اختتام”رنگ“پر ہوتا ہے۔ اب تک برصغیرمیں امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کا قول اور رنگ رائج ہے تاہم قول کی نئی تصریحی تہذیب اور نئے رنگ کی تخلیق کا سہرا بھی فخرا لدین بلے کے سر ہے ،جن کی دھنیں ریڈیو پاکستان نے تیار کی ہیں۔ ممتاز عالم دین علامہ سید احمد کاظمی رحمتہ اللہ علیہ کی رائے میں قول کی تصریحی تہذیب کا جو کام حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ نے امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کے سپرد فرمایا تھا، بلے صاحب کی یہ کاوش اس کا تکملہ نظر آتی ہے۔ اسی طرح رنگ کے بارے میں پروفیسر اسلم انصاری نے فخرالدین بلے کو عہد آفریں شخصیت قراردیتے ہوئے کہا”سید فخرالدین بلے صاحب نے سات صدیوں کے بعد نیارنگ دے کر تاریخی کارنامہ سر انجام دیا ہے۔
فخرالدین بلے نے ان گنت غزلیں، نظمیں اور قطعات وغیرہ تخلیق کئے ہیں اور نثر کی طرح شاعری میں بھی ہرصنف ِ سخن میں اپنی ادبی صلابت کا لوہا منوایا ہے۔وہ مشاعروں میں شرکت سے بھی گریزاں رہے ہیں اور یہی چلن ان کے صاحبزادوں کا بھی ہے، پھربھی متعدد مولفین نے ان کی بہت سے شعری تخلیقات کو اپنے انتخاب میں شاملِ اشاعت کیا ہے۔فخر الدین بلے کی تخلیقات کو دیکھ کر ڈاکٹرز وزیر آغا کی اس رائے سے اتفاق کرنا پڑتا ہے
“سیدفخرالدین بلے نے سینکڑوں کتابوں کو اپنے اوپر لادا نہیں بلکہ انہیں ہضم کیا ہے۔”
طفیل ہوشیار پوری نے یہ مضمون سید فخرالدین بلے کے ساتھ لاہورمیں ایک ادبی نشست میں پیش کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیدفخرالدین بَلے۔ایک تہذیبی ادارہ۔۔ایک یونیورسٹی
تحریر:ڈاکٹر عاصی کرنالی
سیدفخرالدین بلے ایک شخص کا نام نہیں، ایک یونیورسٹی اور ایک تہذیبی ادارے کا نام تھا۔ اس شخص کے زرخیز دماغ میں ایک کمپیوٹر نصب تھا۔ جس میں حکمت الٰہی نے ان گنت اور بے حدوشمار علوم “فیڈ “کر دئے تھے۔جن کا ظہور حسبِ ضرورت ہوتا رہتا تھا۔ ہم ان مظاہر کو دیکھتے اور حیرت زدہ رہ جاتے۔ وہ عالم تھے، ادیب تھے، شاعر تھے، ناقد اور محقق تھے۔ لیکن بنیادی طور پر وہ ایک انسان تھے۔ شریف اور مہذب، وضعدار، با مروت، مخلص، خیر خواہ اور سراپا صداقت و محبت۔ اس لئے ان کی انسانی شخصیت پر اوصاف و صفاتِ عالیہ کے تمام لباس خوبصورت لگتے تھے۔
انہوں نے چاہا کہ وہ ملتان کے ادب و ثقافت کی پردہ کشائی اور چہرہ آرائی کریں۔ ان کا یہ منصوبہ جامع اور ہمہ جہت تھا۔ وہ نہ صرف اس سرزمین کی تاریخ، تہذیب و تمدن، دین و تصوف، ادب اور آرٹ کے تمام ذخائر و خزائن کو محفوظ کرنا چاہتے تھے بلکہ انہیں حیاتِ نو عطا کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس کام کا آغاز بھی کر دیا تھا۔ لیکن ان کی جانب پرجوش انداز میں رفاقت و اعانت کے ہاتھ نہ بڑھ سکے۔بعض لوگوں کو بد گمانیوں نے آ گھیرا۔ یہ کہتے بھی سنا گیا کہ بلے صاحب کون ہوتے ہیں ہمارے ادب و ثقافت میں ہاتھ ڈالنے والے۔ اندازہ ہے کہ بلے صاحب اس حوصلہ شکنی کی فضا میں کام کو پیش رفت نہ دے سکے۔
اس مختصر تحریر کو میں ان اشعار پر ختم کر رہا ہوں ،جو میں نے ان کی وفات پر فخرالدین بلے ،ایک زندہ شخصیت کے عنوان کے تحت کہے تھے۔
محبت تھا عمل ، ہر گام فخرالدین بلے کا
یہ ہے احسان اور انعام فخرالدین بلے کا
قلم سے اور زباں سے صرف تبلیغِ محبت کی
دلوں کو جوڑنا تھا کام فخرالدین بلے کا
زمیں کو سب بہشتِ امن میں تبدیل کر ڈالیں
تھا دنیا بھر کو یہ پیغام فخرالدین بلے کا
وہ مر کر بھی رہیں گے یاد کی صورت ہر اک دل میں
سدا زندہ رہے گا نام فخرالدین بلے کا
تحریر:ڈاکٹر عاصی کرنالی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فخر الدین بلّے۔ ایک تہذیب ساز ہستی
تحریر:اصغر ندیم سید
ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی چراغ علی گڑھ میں روشن ہو اور اس کی روشنی دور تک نہ پھیلے۔ کچھ ایسا ہی میرا تجربہ ہے کہ جو شخصیات علی گڑھ کی علمی اور تہذیبی فضا میں سانس لے لیتی ہیں، وہ دنیا میں کہیں بھی آباد ہو جائیں اپنے ساتھ وہی شرافت، دیانت، متانت، ذہانت اور تہذیبی اقدار لیکر جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت فخر الدین بلّے صاحب کی ہے۔ ملتان اور لاہور کے قیام کے دوران میرا ان سے گہرا تعلق قائم رہا۔ وہ مجھ پر شفقت اور لطف و کرم کے کئی انداز آزماتے رہتے تھے۔ لب و لہجہ انتہائی مربیانہ ہوتا تھا اور حقیقی معنوں میں میری اور میرے ساتھ کے لوگوں کی سرپرستی میں کوئی کسراٹھا نہیں رکھتے تھے۔ گویا یہ ان کے مزاج اور شخصیت کا حصہ تھا۔ ایسے لوگ دوبارہ کسی معاشرے، کسی تہذیب کو نصیب نہیں ہونگے، جن کے مزاج میں فنون لطیفہ کا رچاﺅ اپنا معجزہ دکھاتا تھا۔
سید فخر الدین بلّے سے میری ملاقات اس زمانے میں ہوئی جب وہ محکمہ اطلاعات کے افسر اعلیٰ بن کر ملتان میں تعینات ہوئے۔ میں کالج کا طالب علم تھا، میرے ساتھ کالج کے وہ دوست جو علم و ادب سے دلچسپی رکھتے تھے اور شاعری، افسانہ نگاری اور کالم نگاری میں کچھ نام بنانا چاہتے تھے ۔ اکثر ان کے دفتر حاضری دیا کرتے تھے، حسن پروانہ روڈ پر ان کا دفتر ہوتا تھا۔ اسی سڑک پر روزنامہ “امروز” کا دفتر بھی تھا جو اس علاقے کا سب سے مقبول واحد اخبار تھا اور ترقی پسند نظریات کا حامل تھا۔
اس اخبار کے ایڈیٹر مسعود اشعر تھے، جو اردو کے صف اول کے جدید افسانہ نگار ہیں۔ مسعود اشعر الہ آباد (انڈیا) کے رہنے والے ہیں، اس لئے ان میں بھی مشرقی اقدار بدرجہ اَتم موجود ہیں۔ اکثر ہم طالب علم ان کے دفتر جا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے۔ وہاں اکثر سید فخر الدین بلّے صاحب بھی آیا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ پروفیسر عرش صدیقی، پروفیسر نذیر احمد اور پروفیسر فرخ درانی بھی آیا کرتے تھے۔ اکثر ان صاحبان کی موجودگی میں ادبی نشست بن جاتی تھی۔ ہم ان کی باتیں سن کر اپنے ذوق کی تربیت کے لئے کوشاں رہتے تھے۔ یہ سب ادیب اور شاعر کلاسیکی ادب کا گہرا شعور اور ذوق رکھتے تھے۔ ان سب میں سید فخر الدین بلّے صاحب کی شخصیت من موہنی تھی، چونکہ وہ ہمارے استاد نہیں تھے۔ اس لئے ہمیں ان سے ڈر نہیں لگتا تھا۔ وہ دوستانہ انداز سے ہمیں اکثر اپنے دفتر لے جاتے تھے۔ ان کے دفتر کا ماحول عام سرکاری دفاتر سے قطعاً مختلف ہوتا تھا۔ وہ لگتا تھا ان کی لائبریری یا ان کے لکھنے کا کمرہ ہے۔ اس لئے کہ اس میں بے شمار کتابیں اور لکھنے پڑھنے کا پورا ماحول ہوا کرتا تھا۔ہر طرف کتابیں بکھری ہوتی تھی۔ ایک طرف بڑی میز پر چائے کا ساز و سامان رکھا ہوتا تھا۔ اکثر بلے صاحب خود چائے بنا کر پیش کرتے تھے۔ کھانے پینے کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے تھے۔ بے حد وسیع دل و دماغ کے مالک تھے اور ان کا دستر خوان ان کی آخری سانس تک بے حد وسیع رہا۔ دوستدار انسان تھے اور ہر طبقہ کے افراد سے ان کا گہرا تعلق تھا ۔ سیاست، تجارت، ثقافت اور زندگی کے دیگر شعبوں کے افراد ان کے پاس آیا کرتے تھے اور وہ ان سب سے مروت و اپنائیت سے ملا کرتے تھے۔
چونکہ میرا گھر ان کے دفتر سے زیادہ دور نہیں ہوا کرتا تھا۔ میں اپنی سائیکل پر پہنچ جاتا تھا اور پھر کوئی نہ کوئی ملاقاتی وہاں موجود ہوتا تھا یا آ جایا کرتا تھا ۔وہ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے کیونکہ محفل آرائی اور مجلسی ماحول انہیں بے حد پسند تھا۔ وہ سرکاری کام بھی ساتھ ساتھ نمٹاتے جاتے تھے اور نوجوانوں کی تربیت ایک غیر محسوس طریقے سے کئے جاتے تھے۔ کبھی کوئی غزل سناتے اور اس پر بحث شروع کر دیتے تھے ۔کبھی اپنے مطالعے کے حاصل سے ہماری رہنمائی کرتے تھے، کبھی اپنے ہم عصروں کی لکھیہوئی چیزوں پر رائے دیتے تھے۔ اس طرح وہ اپنے مطالعے میں ہمیں شامل کر لیتے تھے۔ جو کچھ ہم کالج میں نہیں سیکھ سکتے تھے،وہ سید فخرالدین بلے صاحب ہمیں غیر رسمی طریقے سے سمجھا دیتے تھے۔ سید فخرالدین بلے صاحب بے حد خوش لباس اور جاذب ِ نظر شخصیت کے مالک تھے ، اوپر سے اللہ نے انہیں گداز سے بھری آواز عطا کی تھی۔ وہ بولتے تو لگتا کوئی محبت سے تھپکیاں دے رہا ہے۔ اکثر سفید رنگ کا لباس پہنتے تھے۔ شیروانی پاجامہ ان پر بہت سجتا تھا۔ علی گڑھ والوں کے لباس سے انہیں محبت تھی۔ اس لئے انہوں نے وہی مزاج اپنائے رکھا۔ ملتان میں دو نسلوں کی تربیت تو میرے تجربے کا حصہ ہے۔ اس دوران ان کی شاعری اور نثر مختلف رسالوں میں شائع ہوتی رہی اور ہم پڑھتے رہے، طفیل ہوشیارپوری نے ان کے ایک شعر کو ان کی زندگی کی کلید کے طور پر دیکھا ہے۔ میں بھی ان کا ہمنوا ہوں۔
تلاشِ رزق ہو یا جستجوئے معرفت بلّے
ہماری زندگی شعر و ادب، یو ں بھی ہے اور یوں بھی
بلّے صاحب کی تعلیم سائنس کے مضامین میں تھی، لیکن انہوں نے سائنس سے سائنسی شعور لے کر ادب و شعر کو دریافت کرنے کو اپنی تخلیقی زندگی بنا لیا۔ میں نے شروع میں لکھا ہے کہ وہ ایک مکمل تہذیبی شخصیت تھے۔ اس سے میری مراد یہ تھی کہ وہ مذہب، تصوف، اخلاقیات ، سماجیات، نفسیات، ادب اور فنون لطیفہ سے یکساں جذباتی رشتہ رکھتے تھے۔ ان کے کام کا دائرہ بے حد وسیع ہے، مذہب اور عقیدے کے ذیل میں مولاعلیؓ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے علم اور تفکر اور فلسفے کو سمجھنے کی انہوں نے بھر پور سعی کی۔ اگرچہ مولاعلی کرم اللہ وجہہ کے علم اور فکر کو سمجھنے کے لئے صدیوں کی ریاضت کم ٹھہرتی ہے کہ جو تفصیل آپ کی ذات والاصفات سے منسوب ہے، وہ تہہ در تہہ علم کے آفاقی تصورات کو جنم دیتا ہے۔ کہاں ہم کہاں وہ۔ ایسے ہے جیسے سمندر کی وسعت کا اندازہ لگانا۔ فخر الدین بلّے نے اپنی عقیدت کے پھول تو نچھاور کئے۔ حضرت مولاعلی کرم اللہ وجہہ کے کلام اور بلاغت کو صرف چوم لینا ہی بہت بڑی عبادت اور ریاضت ہے، بلے صاحب نے اس کو محسوس ضرور کیا ہے اور شاید اس کی وجہ مشتاق معینی بہتر طریقے سے بتا رہے ہیں۔
“سید فخر الدین بلّے کا سلسلہ نسب خواجہ غریب نواز سے ہوتا ہوا، مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے جا ملتاہے۔ بلے صاحب سماع کے دلدادہ اور قوالی کے رسیا تھے۔”
یقینا سید فخر الدین بلّے اجمیر شریف سے لیکر حضرت نظام الدین اولیاءتک پھیلے فیض سے جڑے ہوئے تھے۔ حضرت خواجہ غریب نواز اور حضرت امیر خسرو کی روایت سے جذباتی اور روحانی طور پر رچے ہوئے تھے۔ میں نے اور میرے دوستوں نے فخر الدین بلے کی صحبت میں ان تمام نشانیوں کو بھانپ لیا تھا۔ اس لئے مجھے بہت روحانی سرور ملتا تھا ،جب ہم ان کے آس پاس بیٹھے ہوتے تھے۔ مجھے ان کی شاعری کا تجزیہ نہیں کرنا۔ کیونکہ نقاد اکثر تجزیہ کرتے ہوئے اپنی ذات اور جذبات سے عاری ہو جاتے ہیں اور ایک پیشہ ورانہ میکانکیت کے سہارے خوامخواہ کی بحثوں میں الجھے رہتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے انہوں نے شاعری کو اخلاقی قدروں کی ترویج کے لئے استعمال کیا۔ شاعری کا بنیادی کردار انسان کی حسیات اور روحانی کیفیات کی ترویج و تہذیب ہوتا ہے۔ اس لئے مذہب اور عقیدے کو اس میں مرکزی حیثیت حاصل ہوا کرتی ہے۔ بلے صاحب نے اسی سے اپنی شعری کائنات بنائی ہے۔
میں لاہور میں 1980ءمیں آگیا تھا اور اپنی ملازمت کے حوالے سے شکر گڑھ اور شیخوپورہ میں سزا کاٹ رہا تھا۔ سزا یہ تھی کہ ضیاءالحق کے مارشل لاءمیں ترقی پسند لکھنے والوں کو ان کے شہروں سے نکال کر شہر بد ر کیا گیا۔ ان میں مسعود اشعر ملتان سے لاہور آگئے اور میں شکر گڑھ کالج میں تبدیل ہوگیا۔ یہ پاکستان کا ایک سرحدی شہر ہے ،جو گرداسپور اور جموں کے کنارے آباد ہے ۔اس کے بعد میں لاہور آگیا اور لاہور کی تہذیبی زندگی میں گم ہوگیا۔ اس دوران سید فخر الدین بلّے صاحب کے متعلق معلوم ہوتا رہا کہ وہ کہاں کہاں کی خاک چھان کر لاہور میں آ چکے ہیں۔ اب پھر سے ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وہ جی او آر تھری میں سرکاری رہائش گاہ میں مقیم تھے۔اب ان کے بیٹے بھی جوان ہو چکے تھے۔ آنس معین مرحوم سے تو میں مل چکا تھا۔ پھر ظفر معین سے تعلق قائم ہوا، جو اب تک ہے۔ وہ ایک بے حد حساس نوجوان ہے اور اب تو وہ صحافت اور تدریس میں قدم رکھ چکا ہے۔
سید فخر الدین بلّے نے لاہور میں ہم خیال دوستوں اور ادیبوں کی ایک انجمن قافلہ بنائی۔ جس کے ماہوار اجلاس ان کے گھر پر ہوا کرتے تھے۔ اس میں شہر کے چیدہ چیدہ ادیب اور شاعر جمع ہوا کرتے تھے۔ ان میں مجھے یاد ہے ڈاکٹر وحید قریشی، انور سدید، ڈاکٹر سلیم اختر، احمد عقیل روبی، سائرہ ہاشمی، اسلم کمال، حسن رضوی، سرفراز سید، ذوالفقار تابش اور کچھ لوگ مستقل آنے والوں میں شامل تھے۔ مجھے بھی باقاعدگی سے دعوت ملتی تھی۔ کبھی کبھی میں نہیں جا پاتا تھا لیکن اکثر میری حاضری ہوتی تھی۔ دو تین دفعہ میں نے افسانہ اور نظمیں بھی پیش کیں۔ یہاں تواضع کے لئے انواع و اقسام کی لذیذ ڈشیں دستر خوان کی زینت ہوا کرتی تھیں۔ خاص طور پر حلیم تو ان کے ہاں بہت لذیذ بنا کرتی تھی۔ انہیں مہمان نوازی کا اتنا شوق تھا کہ بس نہیں چلتا تھا روزانہ دوستوں کی دعوت کریں۔ شہر میں ان کے بہت سے شاگرد تھے اور طلباءان کے پاس موجود لائبریری اور مختلف نادر کتابوں اور مسودوں سے فیض یاب ہوا کرتے تھے۔ وہ خود طلباءکی رہنمائی کرتے ہوئے بتایا کرتے تھے کہ ان کے پاس ایسا مخطوطہ ہے جو کہیں اور دستیاب نہیں ہے۔
سید فخر الدین بلّے نام و نمود اور شہرت کی طرف کبھی خود نہیں لپکے۔ اس لئے مشاعروں کے بے حد مقبول شاعر طفیل ہوشیار پوری کی رائے ہے کہ وہ ہمیشہ مشاعروں سے دور رہے، اسی طرح ان کی رائے ہے کہ تصوف میں آپ کے خاص رجحان کی وجہ سے پیر حسام الدین راشدی، نامور مستشرقہ این ای میری شمل اور ڈاکٹر وزیر آغا نے انہیں تصوف پر اہم اتھارٹی قرار دیا ہے۔
ان کی غزلوں میں بھی تصوف کی جھلکیاں کہیں نہ کہیں موجود ہیں، چند مثالیں درج ذیل ہیں۔
نہ آئینے کا بھروسہ نہ اعتبار ِنظر
جو روبرو ہے مرے، کوئی دوسرا ہی نہ ہو
یوں لگی مجھ کو خنک تاب سحر کی تنویر
جیسے جبریل نے میرے لئے پر کھولے ہیں
ہے ردا پوشی مری دنیا دکھاوے کے لئے
ورنہ خلوت میں بدلنے کو کئی چولے ہیں
انا کا علم ضروری ہے بندگی کے لئے
خود آگہی کی ضرورت ہے بے خودی کے لئے
ہے ایک قطرہ ء خود نا شناس کی طرح
یہ کائنات مِری ذات کے سمندر میں
میں کیا بتاﺅں کہ قلب و نظر پہ کیا گزری
کرن نے قطرہء شبنم میں جب شگاف کیا
ازل سے عالم ِ موجود تک سفر کر کے
خود اپنے جسم کے حجرے میں اعتکاف کیا
خدا گواہ کہ میں نے خود آگہی کے لئے
سمجھ کے خود کو حرم عمر بھر طواف کیا
رہیں گے قصرِ عقائد نہ فلسفوں کے محل
جو میں نے اپنی حقیقت کا انکشاف کیا
اپنے اپنے دور کے عالموں اور صاحب بصیرت ادباءنے سید فخر الدین بلّے کی شخصیت اور فن کے مختلف پہلوﺅں کو سراہا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ بے حد ملنسار اور محبت کرنے والے انسان تھے۔ یہی خوبیاں ان کے کلام میں ظاہر ہوتی ہیں ،ان کے بچوں میں ظفر معین بلے میرے بہت قریب ہیں اور ان کی وساطت سے پتہ چلتا رہتا ہے کہ وہ میرے ڈراموں کو شوق سے دیکھتے ہیں۔ خود سید فخر الدین بلّے صاحب کو ئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے اور کسی نہ کسی بہانے میری تعریف کیا کرتے تھے۔ میں اگرچہ ان کی رائے کو اپنے حق میں دُعا تصور کرتا تھا اور خود کو اس تعریف کے قابل نہیں سمجھتا تھا۔بلے صاحب کی زبان کی چاشنی ان کی اولاد میں بھی منتقل ہوئی ہے، وہ جب بات کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے سید فخر الدین بلّے گفتگو کر رہے ہیں۔ پورا گھرانہ ادب دوست اور علم دوست ہے ۔ جب تک حیات رہے آخری سانس تک میل ملاقات اور مہر و التفات کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا رہا۔ میں تو ان کی محبت کا قرض نہیں اتار سکتا کہ بیس سال کی عمر سے میں ان کے ساتھ رہا ہوں۔ آخری وقت تک میرا ان سے رابطہ رہا۔ اس رفاقت کا سفر اچانک ختم ہوگیا۔
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید فخر الدین بلّے ۔ایک داستان ایک دبستان
پروفیسر افتخار اجمل شاہین
سید فخر الدین بلّے کا شمار ان بلند و بالا ادبی و علمی شخصیتوں میں ہوتا ہے، جو اپنی ذات میں خود ایک انجمن یا دبستان کہے جانے کی مستحق ہیں۔ ان کی شخصیت بڑی پہلو دار تھی۔ ان کی شخصیت کے کئی رخ تھے۔ اور ان کی شخصیت کا ہر رخ روشن اور اہم تھا ۔بلے صاحب کی شخصیت بڑی متنوع اور جامع تھی ۔ان کا شمار ممتاز قلم کاروں میں ہوتا ہے۔ وہ ایک اچھے نثر نگار بھی تھے اور ایک اچھے شاعر بھی ۔ وہ صحافی بھی تھے ۔ وہ ایک عمدہ ادیب بھی تھے اور ماہر اقبالیات بھی، تصوف میں بھی ان کو مقام حاصل تھا۔ سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے تھے۔ یعنی سیاسی بصیرت کے بھی مالک تھے۔ علم ارضیات کا بھی ادراک رکھتے تھے۔ اس سلسلے میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے اس حوالے سے تحقیق ہونی چاہئے۔ شاید اس کا کوئی مفید نتیجہ نکل آئے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں تحقیق کا مادہ بہت کم لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ جبکہ مغرب میں لوگ دوسروں کی تحقیق سے استفادہ کرتے ہیں اور ان کے کام کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ دوسرے ممالک کی زبان بھی سیکھتے ہیں اور دوسرے ممالک میں جاکر تحقیقی کام سرانجام دیتے ہیں۔
اہل مغرب نے جہاں ہماری سائنسی اور طبی تجربات اور تحقیقات سے استفادہ کیا ہے، وہاں وہ لوگ ہمارے ادب اور دیگر علوم و فنون سے بھی فیض یاب ہوئے ہیں۔ مولانا روم، خیام، سعدی، حافظ، میر، غالب، اقبال اور چند دیگر مشاہیر، اورشعراءو ادباءکے فن اور ان کی شخصیت پر کام کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، ان سے صرف ِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔
بلے صاحب نے اسلام اور پرفورمنگ آرٹس پر بھی قابل توجہ اور اہم کام کیا ہے۔ ان کی ایک کتاب (اسلام اور فنون لطیفہ) کو ایک فکر انگیز تصنیف قرار دیا گیا ہے۔
سید فخر الدین بلّے بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انہوں نے علم و ادب کے مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا بے مثل مظاہرہ کیا۔ ان کا شمار بھی نابغہء روز گار میں ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف یہ کہ ایک قابل ِذکر اور اہم مولف تھے بلکہ وہ ایک اعلیٰ درجے کے صحافی بھی تھے ۔وہ پنجاب کے محکمہ تعلقات عامہ و اطلاعات سے منسلک رہے ۔جہاں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا بے پناہ مظاہرہ کیا ۔وہ تقریباً ڈیڑھ درجن جرائد اور رسالوں کے بانی، مدیر، اورمدیر اعلیٰ رہے۔ ان رسالوں میں نہ صرف اردو کے رسالے تھے بلکہ انہوں نے انگریزی میں شائع ہونے والے جرائد کی بھی ادارت کی۔ وہ جن رسالوں کی ادارت سے منسلک رہے، ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔دی یونین (علی گڑھ) ماہنامہ جھلک(علی گڑھ) روز نامہ نو روز(کراچی) بہاولپور ریویو، لاہور افیئرز، استقلال،ویسٹ پاکستان، ماہنامہ فلاح (لاہور) ماہنامہ اوقاف (اسلام آباد)ماہنامہ ہم وطن(اسلام آباد)ماہنامہ یاران وطن (اسلام آباد) پندرہ روزہ مسلم لیگ نیوز ،لاہور ہفت روزہ آواز ِ جرس ، ماہنامہ نوائے بلدیات (لاہور) اور ماہنامہ ہمارا ملتان وغیرہ۔مذکورہ بالا رسالوں کی ادارت سے ان کی صحافتی صلاحیت کا بھر پور اظہار ہوتا ہے۔ اپنی زندگی میں انہوں نے اتنے سارے رسالوں اور جرائد کی ادارت کی، وہ ان کی مدیرانہ حیثیت اور صحافتی صلاحیتوں کے شاہد ہیں۔
سید فخر الدین بلّے نے بہت سی کتابیں بھی تالیف و تدوین کی ہیں بلکہ ان کی تالیفات کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ یعنی وہ مصنف بھی ہیں اور مولف بھی۔ مختلف موضوعات پر انہوں نے ایک سو پچاس سے زیادہ کتابیں تالیف کی ہیں۔ ان کی تصنیفات اور تالیفات میں تحقیقی کتابیں بھی ہیں۔ روحانی بزرگوں پر بھی کتابیں مدون کیں اور مذہبی موضوعات پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔ بلے صاحب صرف نثر نگار ہی نہیں تھے بلکہ ایک خوشگوار اور پرگو شاعر بھی تھے۔ اصناف سخن میں مختلف اصناف پر انہوں نے طبع ٓازمائی کی ہے۔ انہوں نے نظمیں بھی لکھی ہیں اور غزلیں بھی، آزاد نظم بھی کہی ہے اور ہائیکو بھی لکھے ہیں۔ “سوچ سفر” ان کی نظموں کا مجموعہ ہے اور سوچ رنگ ان کی غزلیات پر مشتمل ہے۔ انہوں نے حمد بھی لکھی ہے ۔ نعت بھی لکھی ہے اور منقبتیں بھی کہی ہیں۔ وہ تصوف پر گہری نظر رکھتے تھے۔ ان کا مسلک بھی صوفیانہ مسلک تھا ۔بعض نقادوں اور ادیبوں نے ان کو تصوف پر اتھارٹی قرار دیا ہے۔ صوفیانہ موضوعات اور رسائل ان کی شاعری میں جگہ جگہ نظر آتی ہے۔ انہوں نے تصوف کے مضامین کو باقا عدگی کے ساتھ اپنے اشعار میں پیش کیا ہے۔ ان کا یہ رنگ غزل کے اشعار میں دیکھا جا سکتا ہے۔ چند مثالوں سے اس حقیقت کی وضاحت ہو جائے گی۔
ازل کے روز میں نکلا تھا ڈھونڈے خود کو
ملا ہے آج مجھے آئینے کے پیکر میں
یوں لگی مجھ کو خنک تاب سحر کی تنویر
جیسے جبریل نے میرے لئے پر کھولے ہیں
انا کا علم ضروری ہے بندگی کے لئے
خود آگہی کی ضرورت ہے بے خودی کے لئے
وہی تو ہوں میں کہ جس کے وجود سے پہلے
خود اپنے رب سے فرشتوں نے اختلاف کیا
ازل سے عالم ِموجود تک سفر کر کے
خود اپنے جسم کے حجرے میں اعتکاف کیا
خدا گواہ کہ میں نے خود آگہی کے لئے
سمجھ کے خود کو حرم عمر بھر طواف کیا
ہر نفس ایک تازیانہ ہے
آہ میں کچھ اثر نہیں نہ سہی
کسی کا ہو کے کوئی کس طرح رہے اپنا
رہِ سلوک پہ جیسے کوئی ملنگ چلے
چلے ازل سے ابد کے لئے تو رستے میں
پڑاﺅ دنیا میں ڈالا کہ کچھ درنگ چلے
یہ زندگانی تو یوں لگے ہے ،ہو کھیل کٹھ پتلیوں کا جیسے
ہے اور ہاتھوں میں ڈور ہی جب تواس پہ اب اختیار کیاہے
خوش بو رہی چمن میں نہ وہ رنگ رہ گیا
تربت پہ گل کی خار کا سرنگ رہ گیا
خدا سے روز ازل کس نے اختلاف کیا
وہ آدمی تو نہ تھا جس نے انحراف کیا
تلاش ِ رزق ہو یا جستجوئے معرفت بلے
ہماری زندگی شعر و ادب یوں بھی ہے اور یوں بھی
تصوف کے علاوہ بہت سے دیگر موضوعات بھی ان کے غزلیہ اشعار میں ملتے ہیں۔ زندگانی کے حقائق اور زیست میں در آنے والے مسائل کا ذکر بھی ان کے اشعار میں ملتا ہے۔ کہیں کہیں عشق کی کار فرمائی اور اس کی دلاویزی کا عکس بھی نظر آتا ہے۔ کسی کسی شعر میں طنز ِلطیف بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ انہوں نے مختلف تجربات اور مشاہدات کو بھی شعر کا جامہ پہنایا ہے۔ چند مثالوں سے اس کی وضاحت ہو جائے گی۔
ہیں مجھ کو پسند آپ کی بکھری ہوئی زلفیں
بکھری ہوئی زلفوں کو سنوارا نہ کریں آپ
کسی نے توڑ دیا دل کو دل لگی کے لئے
کوئی ترستا رہا عمر بھر کسی کے لئے
میں جانتا ہوں مگر تو بھی آئینہ لے کر
مجھے بتا کہ مرا انتخاب کیسا ہے؟
ہے پیار کا کھیل مصلحت اور خیال ِ سودو زیاں سے بالا
لگا ہی لی ہے جو دل کی بازی تو جیت کیا اور ہار کیا ہے
کھل کے گل بن گئی کلی چپ چاپ
اک قیامت گزر گئی چپ چاپ
سوچ کے آسماں سے اتری ہے
دل کے آنگن میں چاندنی چپ چاپ
میں نے گردوں پہ خون دیکھا ہے
لوگ کہتے ہیں پو پھٹی چپ چاپ
ہو لب پہ رام رام، بغل میں رہے چھری
جینے کا اس جہاں میں یہی ڈھنگ رہ گیا
پیڑ نعمت بدست و سرخم ہیں
ہے تفاخر بھی انکسار کے ساتھ
میں اس مقام پر تو نہیں آگیا کہیں
ہوگی نہ صبح رات گزرنے کے باوجود
وجودیت کا یہ رنگیں سراب کیسا ہے
ہر ایک چہرے پہ مبہم نقاب کیسا ہے
بھیڑ میں ایسے گھرے کہ بڑھ گئیں تنہائیاں
ساتھ ہی لیکن ہوئے آباد ویرانے کئی
خود ارادی اور آزادی کی برکت دیکھئے
گھر کے آنگن میں نظر آتے ہیں اب چولہے کئی
میں کیا بتاﺅں کہ قلب و نظر پہ کیا گزری
کرن نے قطرہ ء شبنم میں جب شگاف کیا
کرلئے ہیں بند میں نے گھر کے روشن دان تک
جگ ہنسائی کے لئے باہر نہ جائے گھر کا شور
ہنگامہ ہائے کارگہہِ روز و شب نہ پوچھ
اتنا ہجوم تھا کہ میں تنہا سا رہ گیا
دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد
پنجوں کے بل کھڑا ہے کہ اونچا دکھائی دے
اتنا بڑھا بشر کہ ستارے ہیں گرد ِ راہ
اتنا گھٹا کہ خاک پہ سایہ سا رہ گیا
انساں ہی اس زمین پہ تنہا نہیں حریص
پھیلا ہوا ہے دیکھئے ہر برگ کا بھی ہاتھ
چمن کے دیدہ وروں سے سوال ہے میرا
بہار کا ہے یہ موسم تو پھر گھٹن کیوں ہے؟
شہر کے محتسب مجھے بھی دکھا
ایسا دامن جو داغ دار نہیں
اگلی صف میں جو لوگ بیٹھے ہیں
تن کے اجلے ہیں من کے کالے ہیں
اپنی کتاب زیست پہ تنقید کے لئے
آخر میں چند سادہ ورق چھوڑ جاﺅں گا
سادگی و پرکاری ان کے اشعار کی نمایاں خصوصیت ہے۔ طنز ِملیح کی مثالیں بھی ان غزلوں میں نظر آتی ہیں۔ میں نے چند ایسے اشعار اوپر درج کر دیئے ہیں۔
انہوں نے اپنی نظموں میں منظر نگاری کا بھی کمال کر دکھایا ہے۔ کوئٹہ کی برف باری سے متاثر ہو کر انہوں نے ایک نظم “باران ِکرم” کے عنوان سے لکھی ہے۔ اس نظم کے دو حصے ہیں۔ ایک میں برف باری کے مثبت اثرات کا بیان کیا ہے تو دوسرے حصے میں اس کے برعکس مناظر پیش کئے ہیں۔ اس طرح کی تکنیک کے نظیر اکبر آبادی ماہر تھے۔ مثال کے طور پر ان کی نظم ”برسات کی بہاریں“ دیکھئے۔ اسی طرح کی ایک خوبصورت نظم بلے صاحب نے کوئٹہ کی برف باری سے متاثر ہو کر لکھی ہے۔ پہلے رخ کاعنوان ہے باران ِ کرم اور برفباری کی تصویر کےدوسرے رخ کا عنوان انہوں نے “ہنگام محشر”رکھا ہے۔ اس نظم کے دونوں حصوں سے چند اشعار پڑھیئے اور حظ اٹھایئے اور ان کے فن کی داد دیجئے۔
گردوں سے برستے ہوئے یہ برف کے گالے
تنتے ہوئے ہر سمت ،ہر اک چیز پہ جالے
دُھنکی ہوئی روئی کی طرح صاف شگفتہ
شفاف، سبک، نازک و خود رفتہ و خستہ
رخشندہ و تابندہ و رقصندہ جوانی
یہ برف کی بارش ہے کہ پریوں کی کہانی
دوشیزگی ء شام و سحر کے یہ سنبھالے
چھائے ہوئے بکھرے ہوئے ہر سمت اجالے
چاندی میں نہائے ہوئے یہ کوہ و بیاباں
ہے عام بہ عنوان ِ طرب زیست کا ساماں
انوار کا ٹیکہ ہے پہاڑوں کی جبیں پر
غالیچہ ء سیمیں ہے بچھا ہے جو زمیں پر
موتی ہیں کہ دامن میں کوئی رول رہا ہے
جو بن کی ترازو میں سحر تول رہا ہے
ہر برگ و شجر رشک ِ تن یا سمنی ہے
صحن و درودیوار کی کیا سیم تنی ہے
گو عارضی بخشش سہی فطرت کی یہ چھل ہے
ہر ایک مکاں آج یہاں تاج محل ہے
یہ ایک طویل نظم ہے ۔میں نے صرف چند اشعار نقل کئے ہیں۔ جن سے ان کی منظر نگاری کی صلاحیت ظاہر ہوتی ہے، اور ان اشعار کو پڑھنے والا بلاشبہ ان کی منظر نگاری پر داد دینے کو مجبور ہو جاتا ہے، اس نظم میں عجب روانی اور نغمگی پائی جاتی ہے۔ جس کا احساس نظم کی قرآت کے بعد ہر قاری کو لازمی طور پر ہوتا ہے۔ دل تو یہی چاہتا ہے کہ پوری نظم کی نقل پیش کردوں مگر طوالت کے خوف سے صرف اس نظم کا ایک حصہ رقم کر سکا ہوں۔
اب آئیے اس خوبصورت نظم کا دوسرا حصہ دیکھیں۔ اس حصے کے چند اشعار پیش کرنے پر اکتفا کروں گا بقیہ اشعار قارئین کو پڑھنے کی دعوت دوں گا۔
ہے برف کے اس عکس میں سرشاریِ و مستی
لیکن ہے اسی عکس کا اک دوسرا رخ بھی
تصویر کے اس رخ میں ہے ژولیدہ جوانی
ہے ہوش رُبا، صبر طلب جس کی کہانی
گھنگھور گھٹائیں ہیں دھواں دار دھندلکا
یخ بستہ ہواﺅں سے ہے اک حشر سا برپا
آبادیاں مانند ِ بیاباں ہیں لقو دَق
آتا بھی ہے ذی روح نظر کوئی تومنہ فق
حرکت ہے نہ ہلچل، نہ حرارت نہ جنوں ہے
پر ہول فضا زیست گرفتار ِ فسوں ہے
ہر چیز ہے ٹھٹھری ہوئی افسردہ و بے رنگ
ہر آن ہوئے جاتے ہیں دامان ِ نظر تنگ
ہے ساز نہ آواز نہ بربط ہے نہ دَف ہے
کل سلسلہ ء کون و مکاں برف بکف ہے
بے جان ہیں احساس و گماں، ہو کا ہے عالم
چلتی ہے ہوا جب تو شجر کرتے ہیں ماتم
پابند ِ نشیمن ہے کوئی غار میں پا بند
ہیں طفل و زن و پیر و جواں گھر میں نظر بند
راہوں میں رکاوٹ ہے، ہراک گام پہ قدغن
یہ برف ہے یا زیست کے آثار کا مدفن
یہ برف ہے یا مرگ و قیامت کی نشانی
بے رنگ ہو جیسے کسی بیوہ کی جوانی
واللہ کہ ایمان لرزتا ہے دلوں میں
آتش کدے آباد مساجد میں گھروں میں
اس نظم سے متعلق کچھ باتیں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں اس نظم کے دونوں حصوں کے مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ایک نہایت خوبصورت اور عمدہ نظم ہے۔ جس میں شاعر نے منظر نگاری کا کمال کر دکھایا ہے اور یہ نظم اردو کی چند خوبصورت نظموں میں سے ایک ہے۔ بلے صاحب کی یہ نظم ان کی ایک شاہکار نظم ہے اور یہ نظم ان کو بحیثیت شاعر کے زندہ رکھنے کے لئے کافی ہے اور ان کا یہ شعر اس موقع پر مجھے یاد آ رہا ہے۔
الفاظ و صوت و رنگ و تصور کے روپ میں
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود
یہ نظم ایسا شہ پارہ ہے جو شاعر کو زندہ رکھنے کے لئے کافی ہے ۔انہوں نے الفاظ و صوت و رنگ اور تصور کو اس نظم کی شکل میں وہ روپ عطاکیا ہے ، جو ان کو بحیثیت شاعر ہمیشہ زندہ رکھے گی۔میں کسی مبالغے سے کام نہیں لے رہا ہوں بلکہ حقیقت کا اظہار کر رہا ہوں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نظم کا بھر پورا تجزیہ کیا جائے اور اس کے فنی اور معنوی محاسن پر روشنی ڈالی جائے۔
بلے صاحب نہ صرف یہ کہ پابند نظمیں کہنے میں مہارت رکھتے ہیں بلکہ یہ آزاد نظمیں بھی اسی مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ کہتے ہیں۔ انسان چاند پر گیا تھا ۔ چاند کی تسخیر کا بڑا غلغلہ تھا ۔مختلف شاعروں نے اس پر نظمیں لکھیں اور اپنے اپنے اشعار میں اس کا تذکرہ کیا۔ ڈاکٹر عندلیب شاوانی نے اپنی شاعری میں چاند کا ذکر جا بجا کیا ہے ۔ اسی لئے ان کو پروفیسر عطاءکاکوی نےشاعر ماہتاب THE MOON POET کانام دیاتھا ۔مگراس شاعر ِ ماہتاب پر یہ حقیقت کھلی کہ چاند جیسا نظر آتا ہے، ویسا نہیں ہے۔انہوں نے ایک شعر میں اس حقیقت کا اظہار بھی کیا تھا کہ چاند صرف خوبصورتی اور حسن کا مرکز نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک ویرانہ ہے۔”ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ”۔ جب تسخیر ماہتاب کے بعد اس تصویر کا دوسرا رخ سامنے آیا تو شاوانی صاحب نے اس پر بھی اظہار خیال کیا۔
ہنستی آنکھیں، ہنستا چہرہ، اک مجبور بہانہ ہے
چاند میں سچ مچ نور کہاں ہے؟ چاند تو اک ویرانہ ہے
ہمارے اردو کے شعراءنے مختلف انداز میں اپنے خیالات کا اظہار مختلف انداز میں کیا ہے۔ اس سلسلے میں فخر الدین بلے کی ایک آزاد نظم میں چاند پرانسان کےپہلے قدم کاقصہ بیان کیاگیاہے ۔ جس کا عنوان ہے ”تسخیر“۔ یہ نظم بھی ہمیں مطالعے کی دعوت دیتی ہے۔ اس نظم میں خلاءکے مسافر یعنی چاند کی تسخیر کرنے والوں کو مبارک باد دیتے ہیں اور ان کی اس کامیابی کو عظیم کامیابی تصور کرتے ہیں ۔ وہیں شاعر اس دنیا میں ہونے والے ظلم و بربریت اور استبداد کی طرف بھی توجہہ دلاتا ہے۔ میں نے بھی اسی حقیقت کی طرف ایک شعر میں اشارہ کیا تھا۔
اس زمیں کے ذرے ذرے کو بنا لیں آفتاب
پھر مناسب ہے کریں ہم چاند پر جانے کی بات
مگر جو بات اور جس انداز میں فخر الدین بلّے صاحب نے کہی ہے اس کا تو کوئی جواب نہیں۔ یہ نظم بھی ان کی ایک شاہکار نظم ہے۔ چند اشعارر دیکھئے۔جس سے اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی یہ نظم کتنی عمدہ موثر اور دلنشیں ہے۔
خلا کی تسخیر کرنے والو
سنا ہے تم چاند دیکھ آئے
کئی ارب ڈالروں کے بدلے
قمر کی مٹی سمیٹ لائے
خلاءکی تسخیر کرنے والو
قمر کی تسخیر صد مبارک
جو خواب ِ آدم کو تم نے بخشی
وہ زندہ تعبیر صد مبارک
خلاءکی تسخیر کرنے والو
بتاﺅ کیا تم نے یہ بھی سوچا
کہ بوسنیا میں کیا ہوا ہے
خلیج میں تم نے کیا کیا ہے
اس نظم کے اختتام بھی ہمیں فکر و عمل کی دعوت دیتا ہے ۔ یعنی کہ جہل ِخرد نے یہ دن کھائے۔گھٹ گئے انسان بڑھ گئے سائے
اب یہ آخری چار مصرعے دیکھئے۔ جس میں شاعر نے المناک صورت حال کا ذکر کیا ہے۔
وہ دیکھئے قافلہ ہمارا
بخوم و مہ سے گزر رہا ہے
خلاءکی تسخیر ہو رہی ہے
زمیں پہ انسان مر رہا ہے
اسی طرح ان کی کئی دوسری نظمیں بھی ہیں جو ہمیں متاثر کرتی ہیں ۔ان نظموں میں ”بھیگی صبح“ اور ایک نظم جو ملتان پر لکھی ہے ان کا شمار ان کی اہم اور قابل ذکر نظموں میں ہوتا ہے۔ اگرچہ ملتان پر لکھی جانے والی نظم مختصر ہے مگر اس میں ملتان کی تاریخی حیثیت کو نہایت خوبی کے ساتھ اجاگر کیا ہے ۔ یہاں کے لوگوں کی قربانیاں اور یہا ں تک کہ ایٹمی تسخیر کے سامان یہاں سے بہم ہونے کا ذکر کیا ہے۔ اس شہر کو ولیوں کا مدینہ کہا ہے، اس شہر کی عظمت اور اس کی اہمیت کا ذکر نہایت اختصار کے ساتھ موثر انداز میں کر دیا ہے۔ گویا کہ اس نظم میں انہوں نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔
وہ عصری تقاضوں اور عصری مسائل سے بخوبی واقف تھے جس کا پتہ ان کی نظموں اور غزلوں کے مطالعے سے ملتا ہے۔ نظموں کے علاوہ انہوں نے ہائیکو اور قطعات بھی کہے ہیں۔
اگرچہ ہائیکو میں انہوں نے اس کے اوزان کی پابندی یا پاسداری نہیں کی ہے۔ یعنی ہائیکو کا اپنا مخصوص وزن ہے۔ مختلف اصناف کی رفتار کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر انور سدید نے ماہنامہ ”صریر“ میں لکھا تھا۔”ہائکو کی مجوزہ جاپانی ہیت کے انحراف کی مثالیں اس برس بھی افراط سے منظر عام پر آئیں۔ ان میں ادا بدایونی، پیرزادہ قاسم، حمایت علی شاعر، وضاحت نسیم، حمید اطاس، چغتائی اور متعدد شعراءکو شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان شعراءنے موضوع کی معنویت اور جذبے کے بہاﺅ کو زیادہ اہمیت دی اور 5-7-5کے وزن کو قبول نہیں کیا۔ ان ہائیکو نگاروں میں ایک نام ایک بزرگ شاعر (جو اب مرحوم ہو چکے ہیں) تابس دہلوی کا بھی لیا جاتا ہے۔ جنہوں نے مخصوص وزن کی پابندی نہیں کی۔ چنانچہ فخر الدین بلے بھی ہائیکو کے مروجہ یا مجوزہ وزن کی پابندی نہیں کی۔ ان کی ہائیکو نگاری کی دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔
اس نے پوچھا علوم کتنے ہیں
میں نے بھی اس سے یہ سوال کیا
آسماں پر نجوم کتنے ہیں؟
……..
سوکھنے ہیں کمار کے برتن
اور دہقاں کے کھیت پیاسے ہیں
پیشِ رب سجدہ ریز ہیں دونوں
مندرجہ بالا دونوں ہائیکو میں موضوع کی معنویت اور جذبے کے بہاﺅ کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔ میں نے لکھا ہے کہ ان کا تعلق قطعہ نگاری سے بھی تھا ۔اس کی بھی ایک مثال دیکھئے۔
اپنے احساس کو معکوس نہ ہونے دوں گا
فکر کو شعر میں ملبوس نہ ہونے دوں گا
مجھ پہ جو کچھ بھی گزرتی ہے مری جان ِوفا
انتقاماً تجھے محسوس نہ ہونے دوں گا
اس مثال سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قطعہ نگاری میں بھی ان کو مہارت حاصل تھی۔محفل سماع اور قوالی بھی اہل صفا یا صوفیوں کا ایک پسندیدہ شغل رہا ہے۔ قوالی کے سلسلے میں طفیل ہوشیار پوری نے لکھا ہے۔
“قوالی کا آغاز قول سے اور اختتام رنگ پر ہوتا ہے۔ اب تک برصغیر میں امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کا قول اور رنگ رانج ہے تاہم قول کی نئی تہذیب اور نئے رنگ کی تخلیق کا سہرا بھی فخر الدین بلے کے سر ہے ،جن کی دھنیں ریڈیو پاکستان نے تیار کی ہیں۔ ممتاز عالم دین علامہ سید احمد سعید کاظمیؒ کی رائے میں قول کی تصریحی تہذیب کا جو کام حضرت نظام الدین اولیا رحمتہ اللہ علیہ نے امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کے سپرد فرمایا تھا۔ بلے صاحب کی یہ کاوش اس کا تکملہ نظر آتی ہے۔ اس طرح رنگ کے سلسلے میں بھی فخر الدین بلے نے بھی اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنا پر اسے ایک نیا رنگ دیا ہے، جو ان کی جدت طبع کی ایک روشن مثال ہے۔ قوالی ہو یا رنگ یا اس طرح کی کوئی اور چیز جب یہ چیزیں وجود میں آتی ہیں تو ہمیشہ اسی انداز میں قائم نہیں رہتی ہیں۔ بلکہ فی زمانہ اس میں کچھ نہ کچھ تبدیلیاں یا جذت طرازی ہوتی رہی ہے۔رنگ کے بارے میں پروفیسر اسلم انصاری نے فخر الدین بلے کی کوششوں کو سراہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فخر الدین بلے صاحب نے سات صدیوں کے بعد نیا رنگ دے کر تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ وہ قوالی ہو یا رنگ، ان دونوں میں فخر الدین بلّے صاحب نے اپنی جدت طبع سے جو نیا انداز اور نیا رنگ دیا ، وہ قابل تعریف کارنامے ہیں۔
بلے شاہ نے بہاﺅ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے عرس کے سلسلے میں قابل تحسین اقدام کئے ۔جس کا اعتراف پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آج جس رنگ ڈھنگ سے حضرت بہاﺅ الدین زکریا ملتانی کا عرس منایا جاتا ہے، یہ رنگ بھی فخر الدین بلّے نے بخشا ہے ۔ اس سے پہلے اس انداز سے عرس منایا نہیں جاتا تھا۔آپ کا سلسلہء نسب خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ سے ہوتا ہوا 43واسطوں سے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ تک جا پہنچتا ہے۔
قوالی کے سلسلے میں یہ بتانا یا جاننا ضروری ہے کہ خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے قوالی کو بھی تبلیغ کا وسیلہ بنایا تھا اور انہی کی ایما پر محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء نے قول کی تصریحی تہذیب کا کام حضرت امیر خسرو کے سپرد کیا، لفظ قوالی قول سے ہی نکلا ہے اور قول سے مراد قول ِ رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اس قول کی تصریحی تہذیب کا کام حضرت امیر خسروؒ نے انجام دیا ۔ پھر سات سو سال گزرنے کے بعد اس کی نئی تصریحی تہذیب ملتان شہر میں سید فخر الدین بلّے کی تخلیق ہے جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں۔ اس کی دھن ریڈیو پاکستان نے تیار کی تھی۔
بلے صاحب اسلامی تعلیمات اور روایات کے شیدائی تھے۔ جہاں پر آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے پناہ عقیدت تھی وہاں وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے تھے۔ حضرت علی ؓ کے متعلق ان کی ایک تصنیف کا مسودہ تیار ہے ،جس کا عنوان ہے ۔
ولایت پناہ حضرت علی امرتضیٰ کرم اللہ وجہہ
نزول قرآن پر بھی انہوں نے ایک نظم لکھی ہے۔ قرآن مجید ہرمسلمان کے لئے سب سے مقدس کتاب ہے۔ اس کا احترام ہر مسلمان کرتا ہے اور کرنا چاہئے کیونکہ یہی دستور ِ خداوندی ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی آخری کتاب ہے ،جو ہمارے نبی آخر الزماںصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی تھی اورقیامت تک یہی کتاب ہماری رہنمائی کرتی رہے گی۔ سید فخر الدین بلّے صاحب نے اس پر بڑی پر اثر اور عمدہ نظم تحریر کی ہے، جس کا عنوان ہے “نزول ِ قرآن”۔جس کے چند اشعار دیکھئے۔
چار سو جلوہ ء لولاک لما رقص میں ہے
والقلم!سلسلہ ءارض و سما رقص میں ہے
لیلتہ القدر میں خورشید بکف ہے جبریل
جبل النور پہ خود نور ِہدیٰ رقص میں ہے
قلب ِ اُمی پہ اتر آئی کتاب ِ محفوظ
للہّ الحمد براہیمی دعا رقص میں ہے
جیسا کہ پہلے رقم کر چکا ہوں۔ انہوں نے تقریباً تمام مروجہ اصنافِ سخن میں شعر کہے ہیں۔ کچھ اصناف ِ سخن کا حوالہ مع اشعار دے چکا ہوں۔ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو ان کو عقیدت اور محبت تھی، اس کا اظہار انہوں نے اپنی نعتیہ شاعری میں کیا ہے ۔ ان کی ایک نعت کے چند اشعار ملاحظہ کیجئے۔
ہے خوف ِ خدا اُن کو خدا کہہ نہیں سکتے
کچھ اور مگر اس کے سوا کہہ نہیں سکتے
اِلاّ کو اگر لا سے جُدا کہہ نہیں سکتے
حق بات بہ انداز ِ ثناءکہہ نہیں سکتے
الفاظ جھجکتے ہیں لرزتے ہیں معانی
کچھ اور بجز صل ِعلیٰ کہہ نہیں سکتے
بلے سید فخر الدین کے نام کا آخری لفظ ہے ۔جو ان کے نام کا ایک لازمی جزو بن گیا ہے ۔بلے کی وجہہ تسمیہ کچھ اس طرح بتائی جاتی ہے ۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے نام کی مناسبت سے سید فخر الدین بلے کے والد بزرگوار کا نام غلام ِ معین الدین چشتی رکھا گیا ۔ خواجہ غریب نواز سے ان کا بھی تعلق تھا ۔خواجہ صاحب کے فرزند کا اسم مبارک فخر الدین تھا۔ اس طرح غلام ِ معین الدین چشتی نے اپنے جدا اعلیٰ کی پیروی میں اپنے فرزند کا نام بھی فخر الدین رکھا۔ خواجہ غریب نواز اپنے فرزند فخر الدین کو پیار سے” بلے” کہا کرتے تھے۔ اس طرح آپ کے والد غلام ِ معین الدین چشتی نے بھی آپ کو بلے کہنا شروع کر دیا ۔اس طرح بلے ان کے نام کا ایک حصہ بن گیا ہے جو دراصل ان کی عرفیت ہے۔
سید فخر الدین بلّے نے قائد اعظم اور اردو کے سلسلے میں ایسے انکشافات کئے ہیں ،جن پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو ملتانی قرار دیا ہے اور اس سلسلے میں تاریخی حوالے بھی دیئے ہیں۔ ان کی تحقیق کے مطابق قائد اعظم کا خاندان ملتان کے نزدیک آباد رہا۔ اس سلسلے میں حسن رضا پاشا (جو اس وقت ملتان کے کمشنر تھے) نے تاریخ کے پروفیسروں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی تاکہ اس جگہ کا تعین ہو سکے ، جس مقام سے قائد اعظم کا تعلق بتایا گیا۔ محققین نے بلے صاحب کی تحقیق سے اتفاق تو کیا مگر وہ جگہ متعین نہ ہو سکی، جس مقام سے قائد اعظم کا تعلق تھا۔
اردو زبان کے مولد اور اس کی جائے پیدائش سے متعلق محقیقن نے اپنے اپنے طور پر تحقیق کی ہے ۔کوئی اس کا مولد و مسکن پنجاب بتاتا ہے تو کوئی اس کی جائے پیدائش سندھ کو قرار دیتا ہے ۔حافظ محمود شیرانی کا کہنا ہے کہ اردو پنجاب میں پیدا ہوئی ۔جبکہ علامہ سلیمان ندوی اس کے سوتے سندھ میں تلاش کرتے رہے مگر بلے صاحب ملتان کو اردو کی جنم بھومی یعنی جائے پیدائش قرار دیتے ہیں۔ اس تحقیق کا حوالہ انہوں نے اپنے اشعار میں بھی دیا ہے ۔اگر وسیع معنوں میں حافظ محمود شیرانی کی تحقیق پر انحصار کیا جائے تو سید فخر الدین بلّے کا دعویٰ کچھ غلط معلوم نہیں ہوتا کیونکہ ملتان ایک تو پنجاب ہی کا علاقہ ہے اور یہاں مسلمانوں، بادشاہوں اور لشکروں کا آنا جانا لگا رہا ہے، نیز یہ شہر بزرگوں اور اولیاءکی سرزمین ہے۔ وہ اپنی تعلیمات کے لئے ایسی زبان کا استعمال کرتے رہے ہونگے، جس میں ان کی اپنی زبان یعنی عربی ، فارسی و نیز مقامی زبانوں کا سہارا لیا گیا ہوگا۔ اس طرح ایک کھچڑی زبان وجود میں آئی ہوگی جو بعد میں شائستہ اور خالص ہو کر ایک زبان کی شکل اختیار کر گئی ہوگی اور بعد میں جس کا نام اردو رکھا گیا یا اردو زبان کے نام سے وہ زبان موسوم ہوگی۔
قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور اردو سے متعلق سید فخر الدین بلّے کی آراءکی روشنی میں ہم یہ کہنے میں حق بنجانب ہیں وہ صرف شاعر اور ادیب ہی نہیں تھے بلکہ تحقیق کا دامن بھی تھام رکھا تھا ۔ ان کا شمار ایک مخلص اور سنجیدہ محققوں میں بھی ہوتا ہے ۔ان کی ذات کے اندر تحقیق کا مادہ یعنی تحقیقی صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھری تھی ۔جس کا اظہار وہ مختلف وسیلوں اور موضوعات کے حوالے سے کرتے رہے۔
“قوالی “، قول ترانے اور رنگ سے متعلق مذکورہ بالا عبارتوں میں ان کی احتراع کا ذکر آ چکا ہے مگر یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے تمثیل اور ڈرامے کے سلسلے میں بہت نمایاں کام کیا ہے۔ انہوں نے 1982میں ملتان میں جشن تمثیل کا انعقاد کیا۔وہ اس وقت وہاں کے آرٹس کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے کام کررہے تھے ۔ پہلے 17روزہ یا 19روزہ جشن تمثیل کا اہتمام کیا گیا تھا مگر بعد میں اس کی مدت کو بڑھا کر 25روزہ کر دیا گیا۔ مسلسل 25روز یہ سلسلہ جاری رہا ۔ جشن ِ تمثیل کے سلسلے میں روزانہ نئی ٹیم نئی سکرپٹ اور نئے سیٹ پر مختلف قسم اور طرز کے ڈرامے پیش کئے گئے ۔ اقبال ساغر صدیقی نے ان کے جشن تمثیل کو ایک فقید المثال کارنامہ قرار دیا ہے اور ان کے اس کارنامے کو محمود غزنوی کے سترہ حملوں سے تعبیر کیا ہے (شروع میں اس جشن تمثیل کی میعاد 17روزہ تھی ، جو بعد میں بڑھا دی گئی۔ اسی سترہ روزہ جشن تمثیل کی رعایت سے اقبال ساغر صدیقی نے محمود غزنوی کے 17حملوں سے تعبیر کیا ) اگرچہ اس جشن تمثیل کے انعقاد کو دو دہائی سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے مگر لوگوں کے ذہنوں میں اب تک اس کی یاد تازہ ہے۔ اس جشن تمثیل کے تذکرے آج تک ثقافتی دنیا میں سنے جا سکتے ہیں۔ مذکورہ بالا جشن تمثیل میں مشاہیر اور اہم شخصیتوں نے شرکت کی تھی ،ان میں چند لوگوں کے ناموں کا ذکر میں ضروری سمجھتا ہوں تاکہ اس جشن تمثیل کی اہمیت کا اندازہ ہو سکے۔ ڈاکٹر اے بی اشرف، ڈاکٹر اسلم انصاری، ڈاکٹر عاصی کرنالی، ڈاکٹر خالد سعید بٹ، ڈاکٹر عرش صدیقی، ڈاکٹر احمد حسن دانی، پروفیسر نصرت مند خان، ڈکٹر سید مقصود زاہدی اور اس وقت کے صوبائی سیکرٹری برائے اطلاعات و ثقافت شیخ حفیظ الرحمن نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ بین الاقوامی شہرت کی مالک اور ایک اہم مشترق اینی میری شمل نے بھی اس جشن کے انعقاد پر بلے صاحب کوخط لکھ کر تہنیتی پیغام بھیجا تھا ۔ بہت سی علمی، ادبی اور ثقافتی شخصیتوں نے اس 25روزہ جشن تمثیل میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔پاکستان کے سابق اسپیکر سید فخر امام، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جیسے مقتدر اور محترم رہنماﺅں نے بھی اس جشن تمثیل کو دیکھااور اس کو تھیڑ کی دنیا کا ایک عجوبہ قرار دیا ۔ اس کارنامے پر بلے صاحب کو مین آف دی سٹیج اور محسن فن کا خطاب دیا گیا ۔ موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس جشن تمثیل پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا”سید فخر الدین بلے نے ملتان میں ایسی بہت سی چیزوں کی بنیاد رکھی ،جس کا اس سے پہلے یہاں تصور بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے علاوہ مزید انہوں نے کہا کہ فخر الدین بلے صاحب نے 25روزہ جشن تمثیل کا دھماکہ کر کے سٹیج کی دنیا کے لوگوں ہی کو نہیں بلکہ فنون و ثقافت کے دلداد گان کو بھی چونکا دیا اور ان کی خدمات کو دنیا کے لوگ اور ملتان کےعوام و خواص فراموش نہیں کر سکتے۔ یہاں پر اس بات کی وضاحت بھی ضرور ی ہے کہ شاہ محمود قریشی نہ صرف یہ کہ اہم سیاسی شخصیت اور پاکستان کے وزیر خارجہ امور ہیں ، بلکہ درگاہ حضرت غوث بہاﺅ الدین زکریا ملتانی کے سجاد ہ نشیں بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج حضرت غوث بہاﺅ الدین زکریاملتانی کا عرس جس رنگ ڈھنگ سے منایا جاتا ہے ، اس میں سید فخر الدین بلے صاحب کا عمل دخل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
میں نے اس مضمون میں ان کے جن کارناموں کا ذکر کیا ہے ان کے علاوہ اور بہت سے ایسے کام یا کارنامے انہوں نے انجام دیئے ہیں، جن میں سے کچھ کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ ان میں سے ان کا ایک بڑا کام ملکہ ءہانس کے حجرے کی تعمیر نو بھی قابل ذکر ہے۔1970ءکی دہائی میں سید فخر الدین بلے جب محکمہ تعلقات عامہ کے اعلیٰ عہدے پر فائز تھے یعنی وہ ملتان ڈویژن کے ڈائریکٹر تھے تو وہ ضلع ساہیوال کے دورے پر گئے ۔ وہاں ملکہ ہانس کے حجرے کی خستہ حالی پر ان کو رونا آگیا۔ پھر انہوں نے اپنی گاڑی کا رخ ڈی سی آفس کی طرف کر دیا ۔ اس وقت جاوید قریشی اس علاقے کے ڈپٹی کمشنر تھے (بعد میں جاوید قریشی پنجاب کے چیف سیکرٹری بنے) انہوں نے ڈی سی صاحب کی توجہ اس کی تعمیر نو کی طرف دلائی اور پھر ان کو لے کر دوبارہ ملکہ ہانس پہنچے اور اس کے بعد انہوں نے اس کی نئے سرے سے تعمیر کرائی۔ جب اس کی تعمیر مکمل ہوگئی تو ایک بروشر بھی شائع کیا،جس کے سرورق کیلئے ایک شعر بھی بلے صاحب نے کہا ،جو یہ تھا۔
ملکہ ءہانس دے اک حجرے وچ
اتری وارث شاہ دی ہیر
جب شہنشاہ ایران کا جشن ملتان میں منایا گیا تو اس کے بھی منتظم اعلیٰ سید فخر الدین بلے تھے۔ شہنشاہیت ایران کا جشن دس روز تک جاری رہا اور اس موقع پر چوک نواں شہر پر واقع علامہ اقبال پارک کی نئے سرے سے تزئین و آرائش کی گئی اور اس پارک کو ”فرح پہلوی“ کے نام سے موسوم کیا گیا مگر پھر ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار کے خاتمے پر اس کا نام بدل دیا گیا اور یہ پھر سے علامہ اقبال پارک بن گیا۔ مختلف وقتوں میں مختلف سیاسی حالات کے پیش نظر ایسا ہوتا رہا ہے جو میرے خیال میں مناسب نہیں ہے۔ علامہ اقبال پارک کا نام جو اس وقت بدلا گیا ۔وہ مناسب نہیں تھا بلکہ دوسرا پارک بنا کر فرح پہلوی پارک نام رکھ دیا مگر اس کے بعد شہنشاہ ایران کو بھی زوال کا منہ دیکھنا پڑا اور جب شاہ ہی نہیں رہے ان کی حکومت کا تختہ الٹ گیا تو فرح پہلوی کی بھی اہمیت ختم ہوگئی۔ یہ اس وقت کے لحاظ سے ایک سیاسی اقدام تھا ، جس کا انہدام بھی جلد ہی ہوگیا ۔ یہی بات پیپلز اوپن یونیورسٹی کے ساتھ ہوئی ، جسے بعد میں بدل کر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی رکھ دیا گیا۔ مسعود ملک صاحب روز نامہ ایکسپریس کے کالم میں لکھتے ہیں کہ علمی ادبی اور ثقافتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے ارادے کے تحت ایوان ملتان کے نام سے کلچرل کمپلیکس کے تعمیراتی امور کا نگراں سید فخر الدین بلے کو بنایا گیا اور جب اس کا ایک عالی شان ڈھانچہ تیار ہوگیا تو اسے نئی آنے والی حکومت نے منہدم کر دیا۔
اے بسا آرزو کہ خاک شد
بلے صاحب صوفی منش اور درویش صفت آدمی تھے۔ وہ علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے۔ ان کا اپنا کوئی گھر نہیں تھا ان کا اثاثہ ان کی کتابیں ، ان کی تحریریں اور مسودات تھے ۔ ان کے ساتھ بھی ایک عجب حادثہ ہوا ۔ یعنی ان کی دو غیر مطبوعہ کتابوں کے مسودات تھے، جو چوری ہوگئے ۔ مسعود ملک کے مطابق ایک کتاب کا مسودہ، ناظم الدین سے نواز شریف تک کے عہدے کے حوالے سے تھا یا ایوانوں میں کیا ہوتا رہا؟ کے حوالے سےحقائق پر مبنی ان کی یادداشتیں تھیں ، جس کی چوری نے فخر الدین بلے کو صدمے سے دوچار کر دیا۔ بقولمسعود ملک ” پولیس اور انتظامیہ نے شاید اس کو فخر الدین بلے کا ذاتی نقصان سمجھا، ایک قومی نقصان نہیں”۔
میرے خیال میں اب بھی اگر اس کی بازیافت کی کوشش کی جائے تو شاید کامیابی مل سکتی ہے اور اس طرح ان دونوں کتابوں کی اشاعت ممکن ہو سکتی ہے۔سید فخر الدین بلّے ایک اچھے اور سچے مسلمان تھے۔ وہ وطن کی محبت میں سرشار تھے۔ انہیں اپنے وطن پاکستان سے بہت محبت تھی، شہر اولیاءیعنی ملتان سے انہیں جو محبت تھی، وہ ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ ملتان پر جو نظم لکھی ہے اس سے ان کی اس شہرسے وابستگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ علی گڑھ سے تعلیم حاصل کر کے آئے تو پاکستان اور ملتان کے ہو کر رہ گئے۔
سید فخر الدین بلّے ہا پور ضلع میرٹھ میں 6 اپریل 1930ءکو پیدا ہوئے ۔ ہاپوڑ بابائے اردو مولوی عبدالحق کا بھی مولد ہے ۔یہ کہا جاتا ہے کہ باپوڑ کی دو چیزیں بہت مشہور ہیں۔ ایک پاپڑ اور دوسرے مولوی عبدالحق مگر اب میں اس میں ایک تیسری چیز یا شخصیت کا اضافہ کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں اور وہ شخصیت ہے سید فخر الدین بلّے صاحب کی۔
سید فخر الدین بلّے صاحب نے 1942ءمیں الہ آباد بورڈ سے میٹرک کیا ۔اس وقت پاکستان کی تحریک زوروں پر تھی ۔بلے صاحب نے اس تحریک میں بھی بھر پور حصہ لیا ۔ وہ آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے جوائنٹ سیکرٹری تھے۔ انہوں نے تقسیم ہند کے بعد تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور 1945ءمیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انٹر اور 1951ءمیں اس جامعہ سے سائنس میں گریجویشن یعنی بی ایس سی کیا ۔ پھر علی گڑھ ہی سے ایم ایس سی اور ادیب کامل کا امتحان پاس کیا اور 17نومبر 1952ءمیں پاکستان کے لئے ہجرت کی ۔ وہ پاکستان کی تحریک میں شامل تھے۔ پاکستان ان کی منزل تھی اور وہ ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور یہاں 1953ءمیں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ میں ملازمت کرلی۔ بہاولپور سے انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا ۔ملازمت کے دوران انہوں نے ایران، چین، بھارت، سری لنکا اور افغانستان کے دورے کئے۔وہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کشمیر کے بھی مذاکرات کے سلسلے میں بھارت گئے۔ملازمت کے دوران مختلف عہدوں پر کام کرتے رہے۔ آخر میں ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ پنجاب مقرر ہوئے اور اسی حیثیت سے 1990ءمیں ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان مسلم لیگ کے ڈھائی سال تک میڈیا کنسلٹنٹ کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ آخر یہ علم و آدب کا روشن آفتاب 28جنوری 2004ءکو ملتان کے افق پر غروب ہوگیا ۔ان کا انتقال تو ملتان میں ہوا مگر ان کی تدفین بہاولپور میں ہوئی۔
یہ کہا جاتا ہے (جس کے راوی ڈاکٹر قمر رئیس ہیں) اور یہ بات میں نے پروفیسر اجمل حفیظ سے سنی کہ جب ان پر موت کا غلبہ طاری تھا اور ان کی نبض ڈوب رہی تھی اور سانس کا بھی پتہ نہیں چل رہا تھا تو ان کے لب ہل رہے تھے۔وہ کچھ پڑھ رہے تھے۔ ڈاکٹر کے استفسار پر کہ کیا کہہ رہے ہیں یا کیا پڑھ رہے ہیں تو انہوں نے کہا کلمہ اور درود۔ وہ موت سے گھبرا نہیں رہے تھے بلکہ بہت خوش تھے۔ وہ خوش تھے کہ اپنے معبود اور محبوب کے پاس جا رہےتھے۔ انہوں نے دوسرے لوگوں کو خوش رہنے اور غم نہ کرنے کا سبق دیا تھا۔ گویا وہ اس وقت علامہ اقبال کے ان اشعار کی تعبیر نظر آ رہے تھے۔
سحر ہا در گریبان شب دوست۔ دوگیتی دا فراغ از کوکب اوست نشان، مرد حق دیگرچہ گویم، چومرگ آید تبسم برلت او ست اوراس طرح وہ ہنستے مسکراتے اور خوش خوش اس دنیاسے رخصت ہوگئے اور بقول حافظ شیرازی
ہر گز غیردآنکہ دش زندہ شد بہ عشق
ثبت است بر جریدہ ءعالم دوام
انسان اپنے کارناموں سے زندہ رہتا ہے
ایمان تھا عمل پہ ایام پر نہیں
حسن عمل سے زندہ ءجاویدہوگیا
ایسا جید عالم،ما ہرلسانیات، کئی زبانوں کا ماہر، علم کا رسیا، ثقافت کا دلدادہ، صوفی مشن جوتصوف پر اتھارٹی تھا ،ہم سے رخصت ہوگیا۔ وہ ممتاز صحافی تھے، شاعر تھے، محقق تھے، معین اکادمی کے بانی تھے، تصوف پر اتھارٹی تھے، پرکشش شخصیت کے مالک تھے تخلیقی قوتوں۔ اسلام اور فنون لطیفہ کے موضوع پر فکر انگیز کتاب لکھی تھی ۔ غرضیکہ کہاں تک ان کی خوبیوں، خصوصیتوں ،اورکمالات کا ذکر کیا جائے بس شعر کی زبان میں یہ کہنا مناسب ہوگا۔
خوبی ہمیں کرشمہ ناز و خرام نیست
بسیار شیوہ باست بتاں را کہ نام نیست
مشاہیر اور ادیبوں کی نظر میں
ان کی شخصیت اور فن پر اہم ادیبوں اور ممتاز شخصیتوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور ان کی علمی، ادبی و ثقافتی خدمات پر ان کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔ ان میں سے چند اہم لوگوں کی آراءاور خیالات میں قلمبند کر رہا ہوں تاکہ ان اہم علمی و ادبی شخصیات کے حوالے سے ان کے فن اور شخصیت کو سمجھا جا سکے۔
پروفیسر ڈاکٹر عاصی کرنالی:۔
”سید فخر الدین بلّے ایک شخص کا نہیں ایک یونیورسٹی اور ایک تہذیبی ادارے کا نام ہے“۔
ڈاکٹر وزیر آغا:۔
“ادب کے لئے بلے صاحب کی لگن اور لگاﺅ مثالی حیثیت رکھتا ہے ۔قدرت نے انہیں اعلیٰ ذوق نظر ہی عطا نہیں کیا ،دل کی بات کو لفظوں میں ڈالنے کا گر بھی سکھایا ہے۔ ان کی نثر اتنی پختہ ،نین نقش کی اتنی صحیح اور لفظوں کے انتخاب کے معاملے میں اس قدر سخت مزاج ہے کہ کسی کو فقرے پر تو کجا، ان کے استعمال کردہ کسی لفظ پر بھی انگلی رکھنا مشکل ہے۔ اس پر مستزاد ان کا وسیع مطالعہ ہے”۔
اینمیری شمل، پروفیسر حسام الدین راشدی، ڈاکٹر وزیر آغا:،۔ ان تینوں نے بلے صاحب کو تصوف پر اتھارٹی قرار دیا ہے۔
شاہ محمود قریشی،(وزیر خارجہ پاکستان):۔
“سید فخر الدین بلّے نے ملتان میں ایسی بہت سی چیزوں کی بنیاد رکھی ، جس کا اس سے پہلے یہاں تصور بھی نہیں ہو سکتا تھا۔سید فخر الدین بلّے نے 25روزہ جشن تمثیل کا دھماکہ کرکے سٹیج کی دنیا کے لوگوں ہی کو ہی نہیں بلکہ فنون ثقافت کے دلدادگان کو بھی چونکا دیا اور ان کی خدمات کو سٹیج کی دنیا کے لوگ اور ملتان کے لوگ فراموش نہیں کر سکتے۔یہاں پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس سلسلے میں بلے صاحب کو محسن فن اور مین آف دی سٹیج کے خطابات سے نوازا گیا اور انہیں گولڈ میڈل بھی دیا گیا
پریشان خٹک:۔
“سید فخر الدین بلّے علم و ادب اور فنون و ثقافت کی دنیا کی دیو قامت شخصیت ہیں اور بہت سے اداروں نے بھی اتنی خدمات انجام نہیں دی ہونگی ،جتنی صرف تن تنہا سید فخر الدین بلّے نےانجام دیں”۔
افتخار ایلی:۔
سید فخر الدین بلّے کے رفیق کار کی حیثیت سے مجھے دس برس کام کرنے کا موقع ملا۔ یقین کیجئے کہ میں نے اتنا جرات مند، با صلاحیت ، انتھک ، مخلص ، شفیق افسر اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا۔ وہ برائی کا بدلہ بھلائی سے دیا کرتے تھے۔ البتہ اگر کسی سے کوئی غلطی ہو جاتی تو اس کی ذمہ خود قبول کرنے میں تامل نہیں کیا کرتے تھے…. وہ انگریزی، اردو، فارسی اور ہندی پر یکساں عبور رکھتے تھے…. انہوں نے جدت اور جدیدیت کو اپنایا۔
مشتاق معینی:۔
سید فخر الدین بلّے کسی ایک شخصیت کا نام نہیں، وہ بیک وقت بہت سی شخصیات کا مرقع تھے ۔وہ جب ڈکٹیشن دیتے تو ایسا لگتا کہ علم کا سمندر چل پڑا ہے۔ تقریر کرتے تو فضاحت و بلاغت کے دریا بہتا دکھائی دیتے۔ ان کا صحافتی سفر 50برسوں پر محیط ہے۔
پروفیسر حمید رضا صدیقی:۔
سید فخر الدین بلّے کی 73سالہ زندگی مصروفیت، مقصدیت اور حرکت سے عبارت تھی۔ انہوں نے اپنے وقت کا بھر پوراور صحیح استعمال کیا۔
نور احمد میرٹھی:۔
محترم سید فخر الدین بلّے بچپن سے ہی شعری و علمی ذوق رکھتے تھے۔ آپ نے 1944ءمیں شعری سفر کا آغاز کیا تھا اور آج خوش فکر اور صاحب فن شاعر ہیں۔
پروفیسر اظہر علی رضوی،(بحوالہ کالم نوائے وقت):۔
مرحوم کی شاعری میں شامل تمام تراکیب ان کی اپنی ہیں ۔ وہ منفرد خیالات، خوبصورت الفاظ کے چناﺅ اور ان کے بہاﺅ سے رچاﺅ پیدا کرتے تھے…. مختلف ادوار میں ان کی علمی و ادبی صلاحیتوں کو سراہاگیا۔
جگن ناتھ آزاد:۔سید فخر الدین بلّے کی خوبصورت تخلیقات پڑھنے یا سننے کے بعد برسوں تک ان کے سحر سے آزاد ہونا مشکل ہے۔
میرزا ادیب:۔
مجھے کئی بار ان سے ملاقات کاشرف حاصل ہوا۔ ان کے گھر پر ادبی تنظیم قافلے کے پڑاﺅ میں کئی بار شریک ہوا اور ہر ملاقات میں سید فخر الدین بلّے کی شخصیت کا ایک نیا اور تابناک رخ میرے سامنے آیا۔ یہ سب رخ ان کی شخصیت کے مختلف رنگ ہیں اور اس کثیر الجہت شخصیت کو میں علم ادب کی آبرو پورے اعتماد کے ساتھ قرار دے سکتا ہوں۔
ڈاکٹر محمد خواجہ زکریا:۔
ہو سکتا ہے میں بھی سید فخر الدین بلّے کی شخصیت دلآرا و دلکش سے نا آشنا ہی رہتا مگر حسنِ اتفاق سے بیسویں صدی کی آخری دہائی کے چند برس میں نے ان کی ہمسائیگی میں گزارے…. ان کی وضع داری، شرافت، خوش مزاجی اور انسان دوستی کی خصوصیات کو بھی قدرے قریب سے دیکھا۔ بلے صاحب کے ہاں درجنوں ادبی محفلوں میں شرکت کی … مجھے خوب یاد ہے کہ پنجاب کے درویش وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں ان کا بہت احترام کرتے اور ان کے مشوروں پر عمل کیا کرتے تھے ۔ وہ کہیں تقریب میں مدعو ہوتے تو تیا رشدہ تقریر پڑھنے کی بجائے زبانی گفتگو کو ترجیح دیتے اور اس سلسلے میں سید فخر الدین بلّے انہیں تیاری کراتے۔
ڈاکٹر عنون چشتی:۔
سید فخر الدین بلّے کی ذات میں ایک کائنات موجود ہے۔ اس انسان کے اندر نامعلوم جہان ہیں۔ جو وقتاً فوقتاً ان کی تخلیقات، نگارشات، رویوں، انداز ،گفتار اور کردار میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ان کا شعری لہجہ توانا ہے، شاعری اثر انگیز ہے۔ زبان و بیان پر انہیں غیر معمولی قدرت حاصل ہے۔
ڈاکٹر انور سدید
انہوں نے حالات کی کلائی موڑنے کے بجائے اپنے احساسات، مشاہدات اور تجربات کو اہمیت دی اور وہ رنگ جو خود ان کے اندر موجود تھا، اسے خارج کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ ان کے ہاں ایسے سولات نے اہمیت اختیار کی، جو تشلیک سے اٹھتے ہیں، ازلی اور ابدی ہیں اور بالآخر جستجوئے صداقت کی راہ دکھاتے ہیں…. مجلس آرائی بلے صاحب کی فطرت کا روشن زاویہ تھا۔ سرگودھا میں انہوں نے حلقہ ارباب ذوق کو آراستہ کیا۔ لاہور میں ہر ہفتے “قافلہ ” نام کی مجلس آراستہ کرتے۔ ملتان گئے تو یہ انجمن ساتھ لے گئے اور ان کی وفات تک اس کے جلسے ہوتے رہے۔
محمد طفیل(مدیر نقوش):۔
انہوں نے بلے صاحب کو علم و ادب کی آبرو قرار دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اتنی کثیر الجہت شخصیت سے دوستی پر مجھے ناز ہے۔ وہ میرے دکھوں اور خوشیوں اور گھریلو تقریبات میں بھی شریک ہوتے رہے۔ ان کے اندر کئی توانا شخصیات بیک وقت بیدار رہتی تھیں۔
محسن بھوپالی:۔
محسن بھوپالی کا خیال ہے سید فخر الدین بلّے ادب دوست ، ادب نواز ہونے کے ساتھ ساتھ ادیبوں، شاعروں اور تخلیق کاروں کو
ایک ”قافلے“ کی صورت میں لیکر چلتے رہے۔ جہاں جہاں رہے،ادیبوں اور شاعروں کو ایک کنبہ بنا دیا۔ اردو، انگریزی، ہندی، فارسی زبان میں لکھتے ہوئے کبھی دقت کا سامنا کرتے نہیں دیکھا۔ ایسا لگتا تھا کہ سب ان کی مادری زبانیں ہیں۔
عباس خان:۔
انہوں نے ادب و ثقافت کے فروغ کے لئے قابل تحسین خدمات انجام دیں۔ شعر و نثر کے علاوہ انہوں نے تحقیق کے میدان میں بھی کام کیا….بلے صاحب کی شاعری میں کلاسیکی اور جدید دونوں رنگ ملتے ہیں۔ملتان راولپنڈی اور لاہور میں موسیقی کی کلاسیں شروع کرائیں، ڈرامیٹک سوسائیٹوں اور کلچرل اداروں کی معاونت کی…. لاہور، ملتان، سیالکوٹ، راولپنڈی ، کوئٹہ ، پشاور اور کراچی میں پینٹنگز کی کئی نمائشیں منعقد کرائیں ۔جبکہ ملتان اور راولپنڈی میں آرٹ گیلریاں بھی بنوائیں….وہ بہت بڑے خطیب تھے۔ ان تمام خوبیوں کے باوجود ان کا اصل میدان ادب رہا۔
حرف آخر:۔
آخر میں بس میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ سید فخر الدین بلّے اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ وہ ایک دبستان کی حیثیت رکھتے تھے ۔ان کی ساری زندگی علم و ادب اور ثقافت کی خدمت کرتے ہوئے گزری ۔گویا کہ ان کی زندگی انہیں کاموں کے لئے وقف تھی۔ وہ کام کو عبادت سمجھ کر انجام دیتے تھے۔ یعنی کام اوربس کام۔ انہوں نے صحافت کے ذریعے بھی خدمت کی اور ادب کے ذریعے بھی ، وہ ایک ذہین اور با صلاحیت صحافی تھے ۔ جس کا مظاہرہ انہوں نے مختلف اخبارات اور رسائل کا اجرا کرکے پیش کر دیا۔ ان کے کام کرنے کی رفتار کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک اکیلا شخص اتنا کام کیسے کرگیا ؟وہ ایک لیجنڈری شخصیت تھے۔ اللہ نے ان کو زبردست صلاحیت عطا کی تھی ،جس کا استعمال انہوں نے علم و ادب اور ثقافت کے میدانوں میں کیا۔
ایں سعادت بزور باز ونیست
تانہ بخشند خدائےبخشندہ
جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں ۔ انہوں نے معین اکادمی کی بنیاد ڈالی تھی ۔ جس کے تحت مختلف ادباءکی بہت سی کتابیں شائع ہوئیں،معین اکادمی کا بھی ادب کی خدمت کے سلسلے میں اہم کردار رہا ہے اور اس کا سہرا سید فخر الدین بلّے کے سر ہی جاتا ہے۔
انہوں نے قافلہ کے نام سے بھی ایک ادارہ بنایا تھا، جو ممتاز ہم عصر فنکاروں، شاعروں ، مصنفین اور مفکرین پر مشتمل تھا۔ پہلے اس کا مرکز لاہور کو بنایا پھر اسے ملتان لے آئے۔
سید فخر الدین بلّے جنوبی پنجاب کو پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت کہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا یہ خطہ وہ ہے ،جس کی سرحدیں سندھ، سرحد اور بلوچستان سے ملتی ہیں۔ اس طرح قومی ثقافت کی یافت یا دریافت کا کام یہیں ہو سکتا ہے۔ وہ خود کو اس دھرتی کا مقروض سمجھتے تھے اور اس دھرتی کا قرض اپنا فرض سمجھ کراتارنا چاہتے تھے۔ اس بات کا اظہار انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ۔ چند اشعار دیکھئے۔
اس دھرتی کی ہر شے پر ہے اس مٹی کا قرض
میرے لئے ہے فرض سے پہلے اس مٹی کا قرض
کیوں نہ دھرتی سیوا کرکے خون پسینہ بوئیں
ممکن ہے کچھ کم ہو جائے اس مٹی کا قرض
ارض وطن سے پوچھو ہم سب ہیں کب سے مقروض
پنجند نے تو اب مانگا ہے اس مٹی کا قرض
روز و شب مقروض ہیں میرے، سانس تک مقروض
مجھ کو تو ورثے میں ملا ہے اس مٹی کا قرض
جیتے جی ہے اس مٹی کا قرض چکانا مشکل
بڑھ جائے گا قبر میں جا کے اس مٹی کا قرض
مگر اس سلسلے میں مجھے یہ کہنا ہے کہ بلے صاحب آپ نے بڑی حد تک مٹی کا قرض چکانے کی کوشش کی اور بڑی حد تک کامیاب رہے ۔ کاش کہ آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کچھ اور لوگ بھی آگے آئیں اور آپ کے مشن کو لے کر آگے بڑھیں تاکہ ہماری سرزمین میں محبت، اخوت کا جذبہ بڑھے ۔ اس سرزمین میں علم و ہنر کا اجالا پھیلے اور یہ ملک بھی دیگر ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا ہو جائے۔
بلے صاحب اب ہم میں نہیں، مگر وہ ہمیں یاد آتے ہیں اور یہ قوم ان کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
جانے والے کبھی نہیں آتے
جانے والے کی یاد آتی ہے
میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بلے صاحب مجھ سے مخاطب ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں۔
میں بعد مرگ بھی بزم وفا میں زندہ ہوں
تلاش کر مری محفل مرا مزار نہ پوچھ
یہ روشن چراغ اب تو مٹی میں دفن ہوگیا ہے مگر اس کی روشنی آج بھی ہماری آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہے اور جلا بخش رہی ہے، اس وقت مجھے ایک شعر یاد آ رہا ہے۔
زمیں کے اندر بھی روشنی ہو
چراغ مٹی میں رکھ دیا ہے
(عبید اللہ علیم)
نوٹ:۔
کہا جاتا ہے کہ مندرجہ بالا شعر عبید اللہ علیم نے اپنے روحانی پیشو مرزا غلام احمد (قادیانی) کے لئے لکھا۔ مگر استفسار پر یہ بتایا کہ کسی بھی بڑے اور بزرگ آدمی پر اس شعر کا اطلاق کیا جا سکتا ہے
صُوفی بلّے اور ان کی صوفیانہ شاعری
تحریر: ظفر علی راجا
بلّے بلّے بلے ….سید فخر الدین بلّے کا ذکر زبان پر آئے تو عروس البلاد، شہر لاہور کی علمی اور ثقافتی نصف صدی یادوں کے پردے پر اپنے عکس بکھیرنے لگتی ہے…. سید فخر الدین بلّے ایک مقناطیسی شخصیت کے مالک تھے، جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے، آج سے تقریباً35سال قبل شریف بلخ شاعر سید شاہد حسین واسطی نے ہمیں اس ”مقناطیس“ سے چپکایا تھا، پھر جب تک بلّے صاحب لاہور میں رہے، ان کی مقناطیسی کھینچ نے ہمیں اپنی کشش ثقل سے باہر نہیں نکلنے دیا۔ ان کی وسیع علمی کائنات کے طواف میں گرداں بہت سے خاکی سیاروں کے ساتھ ساتھ ہماری ذات کے چھوٹے سے سیارچے کو بھی اس گردش فیض یابی کا اعزاز حاصل ہے۔ ہم ایمان داری کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جیسے اکھڑ دیہاتیوں کی اخلاقی اور شخصی تہذیب میں جن کرم فرماﺅں کا نام سر فہرست لیا جا سکتا ہے، ان میں سید فخر الدین بلّے چوٹی کے مہربانوں میں شامل ہیں۔
لاہور شہر میں سید فخر الدین بلّے کا ظاہری تعارف تو ایک ادیب، شاعر اور سرکاری افسر کی حیثیت سے تھا اور حکیم محمد سعید کی “شام ہمدرد” کی طرح بلّے صاحب کی ادبی تنظیم “قافلہ” کی ہفتہ وار محفل آرائی لاہور کی ثقافتی زندگی کی ایک متحرک علامت سمجھتی جاتی تھی، قافلہ کی محافل میں لاہور کی علمی، ادبی اور ثقافتی شخصیات کی کہکشاں جمع ہوتی تھی۔ اس کہکشاں کے روشن ستاروں میں مستقبل اور گاہے بگاہے چمک دکھانے والی شخصیات کی فہرست بہت طویل ہے۔ بلّے صاحب کے قافلے میں ادبی سفر کے دوران برسوں پر پھیلے ہوئے، فصیح الدین روڈ سمن آباد کے ہفتہ وار پڑاﺅ میں جن ہمسفروں کا دیدار ہمیں نصیب ہوا، ان میں احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر وزیر آغا، مرتضیٰ برلاس، ڈاکٹر وحید قریشی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر آغا سہیل، احمد بشیر، انور سدید، محسن نقوی، اداکار محمد علی، اداکار منور سعید، شہزاد احمد، علامہ شبیر بخاری، سیف الدین سیف، ڈاکٹر برہان احمد فاروقی، اکبر حمیدی، منشاءیاد، اصغر ندیم سید، اجمل نیازی، جاوید قریشی، پروفیسر اظہر علی رضوی، میرزا ادیب، ضمیر جعفری، ڈاکٹر خواجہ زکریا، واصف علی واصف، غلام جیلانی اصغر، اسلم کمال، عطاءالحق قاسمی، پروفیسر مشکور حسین یاد، منو بھائی، جگن ناتھ آزاد، ضیاءالاسلام انصاری، مجیب الرحمن شامی، بیدار سرمدی، مصور اور خطاط بشیر موجد ، منیر نیازی وغیرہ شامل ہیں۔
سید فخر الدین بلّے کی شاعری منفرد اور فکر انگیز تھی، جہاں بابائے اردو مولوی عبدالحق ، ان کے کلام میں کوئی نقص نکالنا محال سمجھتے ہوں ۔ فراق گورکپوری جنہیں الفاظ کا مصور قرار دیتے ہوں، پروفیسر جگن ناتھ آزاد اور اشفاق احمد دنیائے شعر کا ساحر گردانتے ہوں۔ ساحر لدھیانوی فخر ادب مانتے ہوں، جون ایلیاءجان ِجاناں تسلیم کرتے ہوں۔ جوش ملیح آبادی وقیع شاعری کا خالق لکھتے ہوں، راغب مراد آبادی جیسے ثقہ بند اور قافیہ شناس شاعر یہ کہہ کر ان سے امداد کے طلب گار ہوتے ہوں کہ
قوافی اب نہیں ہیں میرے پَلے
مدد فرمائیں فخرالدین بلّے
اور جگر مراد آبادی ان کی غیر موجودگی میں شعر خوانی کو بارِ خاطر جان کر بھری محفل میں اعلان کرتے ہیں۔
کیا کوئی شعر پڑھے آج، کہ بلے کے بغیر
کاٹنے دوڑتی ہے، محفل ِ اشعار مجھے
تو ہم جیسا حقیر فقیر ان کی شاعری اور ان کے ادبی مقام پر کچھ لکھنے کے لئے کیا قلم اٹھائے گا، اپنی بے بسی پر مبنی یہ خیال ہمیں اس وقت آیا جب کراچی سے عزیز ظفر معین بلے نے فون پر بلّے صاحب کی شخصیت اور فن پر کچھ لکھنے کی فرمائش کی۔ دو تین ہفتے اسی ادھیڑ بن میں گزر گئے کہ سید فخر الدین بلّے کی ہمہ جہت شخصیت پر لکھیں تو کیا لکھیں اور اس سورج کی روشنی سے کون سا چراغ روشن کریں۔ پھر ایک دن اچانک بلے صاحب کا یہ بھولا بسرا شعر ذہن کے کسی گوشے سے نکلا اور قلمی وجدان کو ایک روشنی عطاءکرتا ہوا دل کی گہرائیوں میں اتر گیا۔
تلاش ِ رزق ہو یا جستجوئے معرفت بلے
ہماری زندگی شعر و ادب، یوں بھی ہے اور یوں بھی
یعنی بلے صاحب کا فلسفہ ءحیات یہ تھا کہ انہوں نے تلاش رزق اور جستجوئے معرفت کی حقیقت کو شعر و ادب کے لباس ِ مجاز میں چھپا رکھا تھا۔ اب جو اس زاویے سے ان کی حیات باصفات پر ایک نظر ڈالی تو یہ راز کھلا کہ قدرت نے ہمارے کسی نامعلوم کارحسنہ کے صلے میں ہم پر بلے صاحب جیسے ایک آئینہ قلب صوفی کی محبت انعام کر دی ہے۔ پیر حسام الدین راشدی، این میری شمل اور ڈاکٹر وزیر آغا نے اگر اس صوفی کو تصوف پر اہم اتھارٹی قرار دیا تھا تو محض ان کی محبت کا طریق نہیں تھا بلکہ ایک ٹھوس حقیقت تھی۔ سید فخر الدین بلّے کے صوفیانہ مقام اور کام کو پرکھنے کے لئے ان کے حسب نسب اور نظم و نثر کا جائزہ، قاری کے دل پر، ان کے مراتب تصوف کو منکشف کرتا چلا جاتا ہے۔ ان کے پیکرخاکی میں تصوف کی جڑیں دور تک پھیلی ہوئی صاف دکھائی دیتی ہیں۔ صوفی ازم ان کی فطرت کا پیدائشی بلکہ وراثتی تحفہ ہے۔ بلے صاحب کا سلسلہ ءنسب حضرت معین الدین چشتیؒ اجمیری سے ہوتا ہوا 43واسطوں کے بعد باب العلم حضرت علیؓ سے جا ملتا ہے۔ حضرت معین الدین چشتی ؒ کی نسبت سے بلے صاحب کے والد بزرگوار کا نام غلام ِ معین الدین چشتی رکھا گیا تھا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے صاحبزادے کا نام فخر الدین تھا۔ لہٰذا بلے صاحب کے والد محترم نے ان کی پیدائش پر ان کا بھی نام فخر الدین منتخب کیا۔ خواجہ معین الدین چشتیؒ اپنے فرزند ارجمند فخر الدین کو پیار سے “بلے “کہہ کر پکارتے تھے۔ سو غلام ِمعین الدین نے بھی اپنے لخت جگر فخر الدین کو ان کی پیروڈی میں بلے کہنا شروع کر دیا۔ بچپن کی یہ درویشانہ نسبت بلے صاحب کی پوری زندگی پر سایہ فگن دکھائی دیتی ہے۔ ان کی علمی، فکری اور شعری وجدان کی بنیادوں کا صوفیانہ مسالا، انہیں ان ہی مراکز فیضان سے حاصل ہوا ہے۔ بعض نقادان ِادب کا خیال ہے کہ تصوف بلے صاحب کی شاعری میں اس وقت داخل ہوا، جب وہ عمر کے آخری حصے میں تھے۔ ہمیں اس رائے سے اختلاف ہے۔ ان کی تمام شاعری اور مزاج میں تصوف کے رنگ شروع سے گندھے ہوئے ہیں اور قدم قدم پر اپنا جلوہ دکھاتے ہیں۔ بلے صاحب سے تیس تیس سال کی رفاقت رکھنے والے احباب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کی ذات سے ان کے کسی مخالف کو بھی تکلیف نہیں پہنچی، برائی کا بدلہ بھلائی سے دینا ان کا ایمان تھا۔ ان کے لہجے میں ایک قدرتی مٹھاس اور دل موہ لینے والی اپنائیت تھی۔ دستر خوان وسیع تھا۔ ان کے دستر خوان پر محمود و ایاز ایک ہو جاتے تھے اور ہم جیسے، ایسے ولیوں کو بھی ہاتھ مارنے کی اتنی ہی آزادی حاصل ہوتی تھی جتنی کہ کسی خاص مہمان کو…. ان کی طبیعت میں تکلف یا تصنع نام کو بھی نہیں تھا…. وہ خود کو مسافر اور دنیا کو ایک عارضی سرائے خیال کرتے تھے۔ اس لئے کارِ آشیاں بندی کے عذاب میں کبھی مبتلا نہیں ہوئے۔ زندگی بھر ذاتی مکان نہیں بنایا۔ پاکستان کے مختلف صدور اور وزرائے اعظم مثلاً جنرل محمد ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل محمد ضیاءالحق اور میاں محمد نواز شریف کی طرف سے ان کی لامکانی کو مکان آشنا کرنے کے لئے پلاٹ الاٹ کئے گئے مگر انہوں نے اپنی صوفیانہ سفر مزاجی کو ان الاٹی پلاٹی جالوں میں کبھی اسیر نہیں ہونے دیا۔ وہ دنیاوی مفادات کے لئے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے یا سر جھکانے کے بجائے سر اٹھا کر چلنے کی روایت کے امین تھے۔ اس سلسلے میں اپنی درویشانہ بے اعتنائی کا اظہار انہوں نے اپنے ایک شعر میں یوں کیا ہے۔
سر اٹھا کر زمیں پہ چلتا ہوں
سر چھپانے کو گھر نہیں، نہ سہی
ہمارے سمیت بلے صاحب کے کچھ دوستوں نے بہ تقاضائے دنیا داری اصرار کیا کہ وہ پلاٹ کی حکومتی پیشکش کو قبول کرلیں اور بے مانگے ملنے والی اس ”نعمت“ کو نہ ٹھکرائیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دوستوں کے تقاضے کے زیر اثر کسی کمزور لمحے میں خو د ان نفسانی خواہشات نے بھی منہ زوری دکھاتے ہوئے ان پر غلبہ پانے کی کوشش کی ،لیکن انہوں نے ہم جیسے دنیا داروں کی آراءاور اپنی نفسانی خواہشات کے مقابلے میں اپنی صوفیانہ انا کو سر بلند رکھا اور تمام عمر کرائے کے مکان میں گزار دی۔
نفس کی آندھیاں، چلتی رہیں، مگر میں نے
تمام عمر گزاری ہے، ریت کے گھر میں
اہل ِ تصوف کا ہمیشہ سے یہ قول رہا ہے کہ دنیا میں انسان کا گھر اس کا پیکر خاکی ہوتا ہے اور اس کی صفائی ستھرائی کا کام ہی اتنا کٹھن ہے کہ سنگ وخشت کے گھروں کی نگہداشت اس کام کے سامنے ہیچ لگتی ہے۔ فخر الدین بلے جب یہ کہتے ہیں کہ
ازل سے عالم ِ موجود تک سفر کر کے
خود اپنے جسم کے حجرے میں اعتکاف کیا
تو اینٹ گارے سے بنے مکان سے ہٹ کر اسی راہ سلوک پر چلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
صوفیانہ صفات کے حامل دل ِبیدار رکھنے والے ہر شخص کی طرح فخر الدین بلّے بھی ایک شب بیدار شخصیت تھے۔ وہ پوری رات میں دو گھنٹے سے زیادہ کبھی نیند سے مغلوب نہیں ہوئے ۔سحر خیزی انہیں ایک روحانی کیف سے سرشار کرتی تھی اور فرشتوں کی آہٹ کا وجدانی تجربہ مہیا کرتی تھی۔ اس تجربے کو انہوں نے متعدد جگہ بیان کیا ہے مثلاً
یوں لگی مجھ کو خنک تاب سحر کی تنویر
جیسے جبریل نے میرے لئے پر کھولے ہیں
اپنی ایک خوبصورت نظم ”بھیگی صبح“ میں انہوں نے یہی بات بہ انداز ِدیگر کہی ہے۔
وقت سحر جب پو پھٹتی ہے
گگن دریچہ وا ہوتا ہے
روش روش پہ گل کھلتے ہیں
جبرائیل کے پر کھلتے ہیں
فخر الدین بلّے صاحب، برصغیر کے صوفی بزرگان دین اور صوفی شعراءکا ذکر ہمیشہ بہت محبت،عقیدت اور اپنائیت سے کیا کرتے تھے، سلطان باہو، بابا فرید، بلھے شاہ، میاں محمد، وارث شاہ اور امیر خسرو کا کلام انہیں بے حد پسند تھا اور اسے شوق و استغراق سے سنا کرتے تھے۔ عالم استغراق ،ان کا دائیں بائیں جبنش کرتا ہوا سفر، بکھرتے گیسو، روحانی سرور کے نشے میں ڈوبی نیم وا آنکھیں، دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں لرزتا اور دھواں دیتا ہوا سگریٹ ایک عجب سماں باندھ دیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ ہم نے ان کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی کہ حضرت سلطان باہوؒ کی طرح آپ بھی اپنے نام بلے کو اپنے کلام میں مستقل ردیف کے طور پر اپنا لیں تو صوفیانہ شاعری میں باہو باہو کی طرح بلے بلے بھی ہونے لگے گا، بلے صاحب نے یہ مضحکہ خیز تجویز سنی…. کچھ لمحے توقف کیا پھر تیز اور چمکتی ہوئی نظروں سے ہماری طرف دیکھا اور ہماری گستاخانہ شوخی پر فی البدیہہ یہ شعر پڑھا۔
ہم ہیں بلے، وہ حضرت ِ باہو
کیوں شرارت حضور کرتے ہیں
نامور اہل ِولایت اور صوفیاءکا مسکن ہونے کی وجہ سے بلے صاحب کو ملتان شہر سے ایک جداگانہ عقیدت تھی۔ قدرت نے شاید اسی محبت کو مزید نکھارنے کے لئے انہیں ملتان میں بطور ڈائریکٹر آرٹس کونسل خدمات سرانجام دینے کا موقع دیا تھا ۔اس دوران انہوں نے ملتان کی تہذیب و ثقافت پر گراں قدر کام کیا۔ ملتانی تہذیب کو اجاگر کرنے کے لئے ایک سالانہ “جشن تمیثل” کا تصور پیش کیا اور اس کے انعقاد پر مسلسل پچیس روز تک ملتان کی تہذیب اور ثقافت پر مشتمل نئے نئے ڈرامے سٹیج کروائے۔ ان تمام ڈراموں کی کہانیوں میں اخلاقی اسباق اور تصوف کے رنگ شامل تھے۔ ملتان کے مشہور صوفی بزرگوں حضرت غوث بہاءالدین زکریا اور شاہ رکن عالم کے عرس جس انداز میں منائے جاتے تھے۔ ان کا رنگ ڈھنگ تبدیل کیا اور ان میں صوفیانہ احترام اور نظم و ضبط کی جھلک نمایاں کی۔ ان کے اشتراک سے برپا ہونے والی زکریا کانفرنس اور محافل سماع کو آج بھی اہل ِ ملتان محبت سے یاد کرتے ہیں۔
بلے صاحب جنوبی پنجاب کو پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت اور ملتان کو اولیاءکا مدینہ قرار دیتے تھے۔ ملتان کی تہذیبی اور صوفیانہ تاریخ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے انہوں نے ایک یادگار نظم بھی کہی تھی ،اس نظم کا ایک شعر کچھ یوں ہے۔
ولیوں کا مدینہ اسے کہتے ہیں کہ یہ شہر
ہے جلوہ گہ ِ منزلت ِ خاک نشیناں
ملتان کی عظمت اور تاریخی حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے بھی وہ کسی تخت نشین شہنشاہ کے دور حکومت کے بجائے دنیائے تصوف کے بادشاہ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کے عہد کے حوالے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اور اس کی جلالت کا یہ عالم تھا کہ لاہور
تھا عہد میں ہجویری کے، اک قریہ ءملتاں
صوفی بزرگان ِدین اور صوفی شعراءسے بلے صاحب کی یہ دلچسپی صرف ملتان تک محدود نہیں تھی۔ ایک مرتبہ آپ ضلع ساہیوال کے سرکاری دورے پر نکلے تو ملکہ ءہانس میں مشہور پنجابی شاعر وارث شاہ کے حجرے پر حاضری کے لئے چلے گئے۔ حجرے کو انتہائی خستہ حالت میں دیکھا تو بہت آزردہ خاطر ہوئے۔ حاضری کے بعد انہوں نے اپنی باقی مصروفیات ترک کردیں اور سیدھے ڈپٹی کمشنر ساہیوال کے دفتر جا پہنچے۔ ان دنوں وہاں (مشہور شاعر اور کالم نگار) جاوید قریشی تعینات تھے۔ بلے صاحب نے ان سے وارث شاہ کے خستہ حال حجرے کا ذکر کیا۔ اس کی مرمت اور بحالی پر نہ صرف پر زور اصرار کیا بلکہ انہیں ساتھ لیکر دوبارہ ملکہ ءہانس پہنچے اور حجرے کی حالت زار بچشم خود دکھائی۔ بلے صاحب کی یہ کاوش آخر کار رنگ لائی اور وارث شاہ کے حجرے پر مرمت اور تعمیر نو کے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔ روایت ہے کہ حضرت وارث شاہ نے ہیر کی منظوم داستان ِ عشق کا بڑا حصہ اس حجرے میں تخلیق کیا تھا اور کلام وارث کے لازوال صوفیانہ رنگ اسی حجرے میں ان کے چمنستان ِ خیال پر نازل ہوئے تھے۔بلے صاحب نے حجرہ ءوارث شاہ کی تزئین ِنو کے بعد اس حوالے سے ایک تخلیقی مقالہ بھی سپرد قلم کیا تھا، جس کے سرورق پر بلے صاحب کا یہ پنجابی شعر درج ہے۔
ملکہ ءہانس دے اک حجرے وِچ
ا ُتری وارث شاہ دی ہیر
مکتب ِ تصوف سے تعلق رکھنے والے برصغیر پاک و ہند کے ہمہ جہت اور بے بدل صوفی شاعر امیر خسرو بھی بلے صاحب کے محبوب ترین شعراءمیں سرفہرست دکھائی دیتے ہیں۔ ہندو مزاج اور نفسیات کے شناسا مسلمان صوفیاءنے برہمن سامراج میں اسلام کا پیغام پھیلانے کے لئے قوالی کو وسیلہ بنایا۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءکی فرمائش پر امیر خسرو نے قول کی تصریحی تہذیب کا کام سرانجام دیا۔ قوالی کا لفظ قول سے مشتق ہے اور صوفیاءکی تشریح کے مطابق قول سے مراد قول ِ رسول ﷺہے۔ امیر خسرو نے قوالی میں بہت سے اقوال کو غیر محسوس طریقے سے شامل کرنے کا عظیم الشان کارنامہ سرانجام دیا ہے اور اللہ کے آخری پیغمبر کی احادیث مبارکہ کا مفہوم بالواسطہ طریقے سے غیر مسلم طبقات کے قلوب و اذہان میں اتار اہے۔ امیر خسرو کے اس کارنامے کے سات سو سال بعد فخر الدین بلے نے ازسر نو اس موضوع پر وقیع تحقیقی کام کیا اور اہل تصوف کے لئے قول کی نئی تصریحی تہذیب کی۔ بلے صاحب نے قوالی کے اختتامی حصے اور اسلوب پر بھی تحقیق کی۔ اس حصے کو فنی زبان میں” رنگ “کہا جاتا ہے۔ رنگ بھی حضرت امیر خسرو کی ایجاد ہے۔ بلے صاحب نے سات صدیوں بعد اس “رنگ” میں بھی جدت کے بعض خوبصورت رنگ اور انگ شامل کئے۔ ان کی اس تحقیقی جدت کو ریڈیو پاکستان ملتان کے موسیقاروں نے ایک وجد آفریں دھن میں ڈھالا۔ بقول پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری، امیر خسرو کے رنگ میں تازہ روحانی تجربات کو شامل کرکے بلے صاحب نے اسے ایک آفاقی چیز بنا دیا۔ یہی وہ عظیم الشان معرکہ ہے ،جسے دیکھ کر پروفیسر حسام الدین راشدی اور ڈاکٹر وزیر آغا جیسے صاحبان ِ نظر نے فخر الدین بلے کو تصوف پر ایک اتھارٹی تسلیم کیا ہے اور اشفاق احمد جیسے دانشور نے فخر الدین بلے کو بحرِ تصوف کا فخر قرار دیا ہے۔
دنیائے تصوف کی اصطلاحات رنگ اور قول کی نئی تصریحی تہذیبمیں عقیدت کے نئے زاویوں کا اضافہ وہی شخص کر سکتا ہے، جو سرتاپا عشق ِ رسول ﷺمیں ڈوبا ہوا ہو۔ فخر الدین بلّے کا نعتیہ کلام ان کے فنانی الرسول ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حوالے کے طور پر ان کی ایک نعت کے تین اشعار پیش خدمت ہیں۔
ہے خوف ِ خدا، اُن کو خدا کہہ نہیں سکتے
کچھ اور مگر اس کے سوا کہہ نہیں سکتے
اِلّا کو اگر لا سے جدا کہہ نہیں سکتے
حق بات، بہ انداز ِ ثنا، کہہ نہیں سکتے
الفاظ جھجھکتے ہیں، لرزتے ہیں معانی
کچھ اور بجز صلِّ علیٰ کہہ نہیں سکتے
عشق ِ رسول ﷺ کی وارفتگی میں ایسی نعت کہنا جسے اہل ِ توحید کے سخت گیر حلقے گردن زدنی قرار دیتے ہوں، عصر حاضر میں منصور حلاج کی سی جرات دکھانے کے مترادف ہے۔ یوں لگتا ہے کہ بلے صاحب صوفیاءکی اس طرز فکر کے قائل تھے، جو وحدت الوجود کے فلسفے پر یقین رکھتی ہے۔ اسی لئے وہ وحدت میں کثرت اور کثرت میں وحدت کا نظارہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے متعدد اشعار سے اس نظارے کی جھلکیاں آشکار ہیں۔ مثلاً
نہ آئینے کا بھروسہ، نہ اعتبار ِ نظر
جو روبرو ہے، مِرے، کوئی دوسرا ہی نہ ہو
وجودیت کا یہ رنگیں سراب کیسا ہے
ہر ایک چہرے پہ مبہم نقاب کیسا ہے
مطلوب بھی ، موجود ہے ، طالب بھی، طلب بھی
پائل بھی ہے، جھنکار بھی، مطرب بھی، طرب بھی
منظر بھی ہے، منظور بھی، ناظر بھی، نظر بھی
ہے ناز بھی، انداز بھی، انداز ِ دگر بھی
رہیں گے قصر ِ عقائد، نہ فلسفوں کے محل
جو میں نے اپنی حقیقت کا انکشاف کیا
ہے ایک قطرہ ء خود ناشناس کی طرح
یہ کائنات، مِری ذات کے سمندر میں
بلا امتیاز محبت اور عالمگیریت اہل ِ تصوف کی منزل ہوتی ہے۔ ان کے دلوں میں کدورت نہیں ہوتی۔ بلے صاحب کے تمام دوست اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ وہ اپنے دل کے زخم نظر انداز کیا کرتے تھے اور کسی دوسرے کا دل دکھانے سے پرہیز کرتے تھے۔ وہ ایک ایسے دانشور تھے ،جو فلسفہ دانوں کے فرامین عالیہ کے بجائے ایک صیقل دل کی رہنمائی کو ترجیح دیتے تھے اور فلسفے کی اندھی پیروڈی کو رد کرتے تھے۔
ہے فلسفوں کی گرد، نگاہوں کے سامنے
ایسے میں خاک سوچ کو رستہ دکھائی دے
ہے میرا سوچ سفر، فلسفے کے صحرا میں
ہوا کے دوش پہ جیسے، کٹی پتنگ چلے
دنیا کی بے ثباتی پر یقین، اہل ِتصوف کو دنیا کی طلب گاری سے آزاد کر دیتا ہے۔ وہ دنیا کے بازار سے گزرتے ہیں لیکن اس میں سجے ہوئے سامان ِ عیش و نشاط سے بے نیاز رہتے ہیں، اس لئے ان کے ہاں ذاتی مفادات کے مقابلے میں انسانیت کی بلا تفریق خدمت، عفو و درگزر، فنا کا خیال اور انسان کی بے اختیاری کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے ۔ وہ غم اور خوشی دونوں کو قدرت کی طرف سے عطا کردہ، زندگی کا لازمی حصہ تصور کرتے ہیں۔خوشی خوشی راضی بہ رضا رہتے ہیں اور انا پرستی سے نفرت کرتے ہیں۔ فخر الدین بلّے کی شاعری میں تصوف کے یہ تمام اصول نگینوں کی طرح جا بجا چمکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ مذکورہ تمام رنگوں کی نمائندگی ان کے حسب ذیل اشعار میں ابھر کر سامنے آتی ہے۔
بے ثباتی:۔
مٹی اڑی تو اپنی حقیقت ہوئی عیاں
جھونکا ہوا کا، میرا پتہ دے گیا مجھے
یہی ہے گردشِ لیل و نہار کی تعبیر
کسی کا وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا
عفوودرگزر:۔
شہر کے محتسب، ہمیں بھی دکھا
ایسا دامن، جو داغدار نہیں
غم اور خوشی : خواہشِ باغباں ، یہ ہے شاید
زرد رُت بھی رہے بہار کے ساتھ
رضائے الٰہی:۔
جس کو ہونا ہے، شرف یاب ِ ردائے تطہیر
خرقہ ء فقر پہ راضی بہ رضا، رقص میں ہے
بے اختیاری:۔
یہ زندگانی تو یوں لگے ہے، ہو کھیل کٹھ پتلیوں کا جیسے
ہے اور ہاتھوں میں ڈور ہی جب، تو پھرمِرا اختیار کیا ہے
فنا:
اس بحر ِ ِ کائنات میں، ہر کشتی ء انا
غرقاب ہو گئی ہے، ابھرنے کے باوجود
صوفیاءکے طریق کے مطابق فخر الدین بلے صرف اس انا کے قائل ہیں ،جو بندگی کا راستہ دکھاتی ہو۔وہ صرف اس خود آگہی کو اصل گردانتے ہیں ، ِجو بے خودی کے لطف سے سرشار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
انا کا علم ضروری ہے بندگی کے لئے
خود آگہی کی ضرورت ہے، بے خودی کے لئے
آگہی اور بے خودی کے اس سفر میں حضوری کی منزل تک آتے آتے وہ بہت سے خرابات سے بھی گزرتے ہیں۔
راہ میں کعبہ کی پڑتے ہیں صنم خانے کئی
اور اپنے جسم و جاں کی قربتوں اور فاصلوں میں بہت سے پردے بھی حائل ہوتے اور اٹھتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
جسم و جاں کے درمیاں آئے نظر پردے کئی
ان خرابات اور پردوں سے گزرتے ہوئے بلے صاحب بھی دیگر اہل تصوف کی طرح ایک ایسے مقام پر آن ٹھہرتے ہیں ِجہاں ہر طرف ایک حیرت پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔
ہے معرفت کا سفر آگہی سے حیرت تک
فخر الدین بلّے کے حلقہ ء ارادت میں بڑے بڑے نقادان ِ فن کے اسم ہائے گرامی شامل ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ قول سے متعلق تصریحی کام، صوفیانہ شاعری، تصوف، منطق، فلسفہ پر ان کے تحریر کردہ مقالات اور ان کی شخصیت میں پوشیدہ تصوف کے جوہر کو آشکارا کرنے کے لئے ابھی بلے صاحب پر اس عمیق نظری سے تحقیقی کام نہیں ہوا، جو ان کا حق تھا، بلے صاحب کے صوفیانہ ادراک پر شاید بات آئینہ ہو چکی تھی، اسی لئے انہوں نے کہا تھا۔
اپنی کتاب ِ زیست پر، تنقید کے لئے
آخر میں چند سادہ ورق چھوڑ جاﺅں گا
یہ اوراق ابھی تک سادہ ہیں اور نقادان ِادب کی توجہ کے منتظر ہیں۔
اس جہان رنگ و بو سے رخت ِسفر باندھنے سے قبل وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لاہور سے رخصت ہو کر اپنے دل پسند شہر ملتان میں منتقل ہو گئے تھے….ملتان…. جسے وہ ولیوں کا مدینہ کہا کرتے تھے۔ ملتان روانگی سے پہلے ایک روز ان کی علالت کی خبر سن کر محترم میرزا ادیب اور سید شاہد حسین واسطی کے ہمراہ ہم ان کی رہائش گاہ پر پہنچے تو دیکھا کہ ان کی طوالت پذیر زلفیں تکیئے پر بکھری ہوئی ہیں۔ خوبصورت کلین شیو چہرے پر داڑھی بڑھی ہوئی ہے اور سانس کی تکلیف کے سبب بات کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ان کی ناک میں آکسیجن کی نالی لگی تھی اور سرہانے رکھے ایک بڑے سیلنڈر سے یہ زندگی بخش گیس ان کے پھیپھڑوں میں پہنچ رہی تھی۔ہم لوگوں کو دیکھتے ہی ان کا مرجھایا ہوا چہرہ روایتی شفقت سے گلنار ہوگیا۔ انہوں نے ہمیں صوفوں پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور اپنی خوئے مہمان نوازی کو برقرار رکھتے ہوئے ظفر معین بلے کو چائے لانے کے لئے کہا۔ ظفر معین زنان خانے میں چلے گئے تو ہم نے بلے صاحب سے کہا۔ہم آپ کی عیادت کرنے نہیں آئے بلکہ یہ بتانے کے لئے حاضر ہوئے ہیں کہ بیماری آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ آپ پہلے بھی کئی مرتبہ اس بیماری کو شکست دے چکے ہیں….اب بھی انشاءاللہ آپ ہی سرخرو ہونگے…. زندہ سلامت رہیں گے۔
بلے صاحب نے یہ سنا تو ان کی آنکھوں میں ایک محبوبانہ شوخی نمایاں ہوئی…. اپنی اکھڑتی ہوئی سانسوں کو سنبھالا اور مسکراتے ہوئے یہ شعر پڑھا۔
اب تو مرنا بھی ہوگیا مشکل
آپ کیوں آگئے عیادت کو
یہ بلے صاحب کی اور ہماری آخری ملاقات تھی۔ پھر وہ اپنے بیٹوں کے روز گار کی وجہ سے ان کے ہمراہ ملتان چلے گئے اور اس کے کچھ عرصہ بعد 28جنوری 2004ءکو اللہ کو پیارے ہوگئے۔ کسی صوفی نے کیا سچ کہا تھا کہ انسان جب وسعت ِ افلاک پرکمند ڈالنے لگتا ہے تو اسے خاک کا بلاوا آ جاتا ہے ۔ بلے صاحب نے خود بھی یہ بات با انداز ِدگر یوں کہی ہے۔
کردیا دفن مجھے زیر ِ زمیں یاروں نے
میں نے جب گردشِ دوراں سے نکلنا چاہا
سات صدیوں بعد
قول اور رنگ ۔۔۔بَلّے بَلّے
تحریر: سیّد سعید احمدجعفری علیگ
ہے عشقِ نبی میرا ایماں‘ ہے حُبِ علی ؓ میرا مسلک
میں ایک قلندر زادہ ہوں ‘ دم مست دما دم آج بھی ہے
اس شعر میں سیّد فخر الدین بَلّے نے اپنے مذہب، مسلک، رجحان، میلان اور عرفان کا اعلان کیا ہے۔ ان کا نام ، کام اور بیشتر کلام ہی ایسا ہے کہ دما دم مست قلندر ہونا ہی ہے۔ اسی لئے دم مست دما دم آج بھی ہے اور انشاءاللہ کل بھی رہے گا۔
سیّد فخر الدین بَلّے نے سات صدیوں کے بعد “قول” اور “رنگ” بھی تخلیق کئے۔جنہیں جید علمائے دین،صوفیاء ومشائخ اور اربابِ علم و ادب نے تخلیقی اور قابلِ ستائش کارناموں کا نام دیا ہے۔ قول اور رنگ کیا ہیں؟ ان کی روایات کیا ہیں؟ انہیں روحانی اور قوالی کی محفلوں میں کیا اہمیت حاصل ہے؟ ان کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟ ان سوالوں کا جواب دینا ضروری معلوم ہوتا ہے اور اس کےلئے تاریخ کے اوراق پلٹنے ہوں گے۔
قوالی “قول” سے مشتق ہے۔ قولِ سیّد المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم “من کُنتُ مولاہ فعلی مولاہ ….ومن کُنتُ مولاہ فھٰذا علی مولا ہ ” ہے۔ جس میں مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی حدیثِ ولایت کا ورد صوفیاؒ اور اولیاءؒ کے حلقوں میں عہدِ رسالت سے جاری ہے۔ خواجہ ء خواجگان سلطان الہند حضرت معین الدین چشتی سنجری اجمیریؒ نے ہندوستان میں اپنی روحانی سلطنت قائم ہوتے ہی قوالی کو بھی تبلیغ کا ذریعہ بنایا اور اس کام کو آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔حضرت بابا فرید الدینؒ مسعود گنج شکر کے ایماء پر خواجہ نظام الدین اولیاؒ نے یہ کام خواجہ امیر خسروؒ کو سونپا۔ انہوںنے قوالی کا نیا نصاب تشکیل دیا۔ قولِ سیّد المرسلین “من کُنتُ مولاہ و فعلی مولاہ…. ومن کُنتُ مولاہ فھٰذا علی مولاہ”۔ کے ساتھ انتہائی خوبصورت شاعری کر کے قول ترانہ تخلیق کیا۔ قوالی کے نصاب میں رنگ کو آخر میں شامل کیا اور اپنا “رنگ”بھی دیا۔ چنانچہ سات سو سال سے قوالی کی محفلوں میں حضرت امیر خسروؒ کا مقبولِ عام “قول ترانہ” اور “رنگ” ہی گایا جاتا ہے۔
امیر خسروؒ کے بعد سیّد فخر الدین بَلّے نے مدینتہ الاولیاءملتان میں قیام کے دوران قولِ سیّد المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم …. من کُنتُ مولاہ فعلی مولا…. ومن کُنتُ مولا فھٰذا علی مولاہ ۔ کی نئی تصریحی اور صوتی تہذیب کی اورتضمین بھی ۔ اور سات صدی بعد نیا رنگ تخلیق کیا۔ ریڈیوپاکستان ملتان کے سٹیشن ڈائریکٹر حمید اصغر کی ہدایت پر سینئر پروڈیوسر محمود غازی نے اس “قول ترانے” اور “رنگ” کی کئی دھنیں بنوائیں۔ روزنامہ آفتاب ملتان نے 28ستمبر 1975ء(21 رمضان المبارک ) کو یومِ شہادتِ علیؑ پر اس حوالے سے خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا۔ جس میں سیّد فخر الدین بَلّے کا “قول ترانہ” پہلی بار مطبوعہ صورت میں منظر عام پر آیا۔ غوث العالمین حضرت بہاءالدینؒ زکریا ملتانی کے عرس کی تقریبات کے سلسلے میں قلعہ کہنہ قاسم باغ میں قوالی کی ایک محفل سجی تو عزیز میاں قوال اور ان کے ہمنواﺅں نے سیّد فخر الدین بَلّے کا یہ قول ترانہ گا کر سماں باندھ دیا ۔ خواجہ نصیر الدین نصیر گولڑہ شریف کا کہنا ہے “امیر خسروؒ کے بعد قول ترانے کی تخلیق کا اعزاز دوسری بار ملتان کا مقدر بنا ہے کہ امیر خسروؒ نے بھی یہ کارنامہ ملتان میں ہی انجام دیا تھا”۔ 1976ءکے اواخر میں وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا کوثر نیازی اسلام آباد کی ایک محفل میں سیّد فخر الدین بَلّے کا یہ “قول”اور “رنگ” سن کر ششدر رہ گئے اور شرکائے محفل کے ساتھ دیر تک سر دُھنتے رہے اور کہا کہ”بَلّے صاحب کی شخصیت کا یہ رخ آج میرے سامنے آیا ہے” اور اس عزم کا اظہار کیا کہ “وزارت ِ مذہبی امور پاکستان ٹیلی ویژن کے اشتراک سے اس کی تقریب ِ پذیرائی بڑے پیمانے پر کرائے گی”۔ خواجہ نصیر الدین نصیر گولڑہ شریف بے ساختہ بولے “سبحان اللہ‘ سبحان اللہ۔ بَلّے بَلّے۔ بلا شبہ بَلّے صاحب کا یہ “قول ترانہ ” قابلِ تحسین و آفرین اور موجب ِ صد ستائش تاریخی کارنامہ ہے”۔
بڑے لوگوں اور نامور شخصیات نے ان دونوں تخلیقات کے حوالے سے بہت کچھ کہا اور لکھا ہے اور یہ بھی کہ خانوادہ ء چشت کے سپوت سیّد فخر الدین بَلّے نے قوالی کے باب میں خوبصورت اضافے کئے اور اپنا تخلیقی رنگ دکھایا اور جمایا ہے اور اپنے خاندان کی چشتیہ روایات کو آگے بڑھایا ہے۔
غزالی ء زماں رازی ء دوراں حضرت علامہ سیّد احمد سعید کاظمی نے اس تاریخی کارنامے پر دل کھول کر داد دی اور لکھا ہے کہ “جناب سیّد فخر الدین بَلّے نے قول کی جو نئی تصریحی تہذیب فرمائی ہے، وہ ان کی علمی قابلیت، روحانی ذوق، بالخصوص بارگاہِ سیّدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے کمالِ محبت و عقیدت کی آئینہ دار ہے۔ قول کی تصریحی و صوتی تہذیب کا جو کام حضرت نظام الدینؒ اولیاءنے امیر خسروؒ کے سپرد فرمایا تھا ‘ بَلّے صاحب کی یہ نئی تصریحی تہذیب اسی کا تکملہ نظر آتی ہے”۔
اس قول ترانے کے ایک ایک شعر، ہر شعر کے ایک ایک مصرعے اور ہر مصرعے کے ایک ایک لفظ میں شانِ علی بیا ن کی گئی ہے۔ اگرچہ اس تخلیق کے آئینے میں سیّد فخر الدین بَلّے”فنا فی العلی” کی منزل پر نظر آتے ہیں لیکن اس کیفیت میں بھی ہر مقام پر ان کے فکر و خیال کا سرچشمہ قرآن اور صاحب ِ قرآن کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب و مُحب حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف مقامات پر حضرت علیؑ کی جو شان بیان فرمائی ہے‘ فخر الدین بَلّے کی یہ ایمان افروز کاوش اسی کا پر تو دکھائی دیتی ہے یا یوں کہیے انہی ارشادات کی روشنی میں انہوں نے اپنے فکر و خیال کا چراغ جلایا ہے۔ وفورِ عقیدت سے محبتوں کا ایک تاج محل بنایا ہے۔ بھٹکے ہوئے لوگوں کو ایک سَچّا اور سُچّا رستہ سُجھایا ہے اور ”درِ ولایت“ کی صورت میں ایک ایسا دروازہ دکھایا ہے‘ جس پر دستک دے کر ہی مدینتہ العلم تک رسائی ممکن ہے۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ “قول” درِ ولایت پر دستک ہی تو ہے۔ یہ وہ در ہے ‘ جس پر دستک دیئے بغیر مدینتہ العلم تک نہیں پہنچا جا سکتا۔اس در تک آئے بغیر انسان روشنی کیا ؟ کچھ نہیں پا سکتا۔ یقینا ایسے جذبے اور احساس کے تحت انہوں نے “قول” کی نئی تصریحی تہذیب اور تضمین کا فریضہ انجام دیا اور یہ بڑا کام کیا۔ انہوں نے “درِ ولایت پر دستک” کے عنوان کے تحت سماع کے روحانی نصاب سے متعلق ایک کتاب بھی مرتب کی تھی اور اس کی کتابت کے بعد پروف ریڈنگ میں، مَیں نے ان کا ہاتھ بٹانے کا اعزاز بھی حاصل کیا تھا۔ بہر حال مشاہیر اور دنیائے تصوف کے عمائدین و اکابرین نے سیّد فخر الدین بلے کی اس کاوش کو محض رسمی انداز میں نہیں سراہا بلکہ اس کے صوری حسن اور معنوی جمال کو بھی موضوع بنایا ہے اور مختلف زاویوں سے اس کے مخفی اوصاف و محاسن اور مفاہیم و مطالب کو سامنے لا کر یہ بتایا ہے کہ امیر خسرو کی پیروی میں سات صدیوں کے بعد سیّد فخر الدین بَلّے نے کیا تخلیقی معجزہ دکھایا ہے۔
درگاہِ عالیہ حضرت غوث بہاءالدین زکریا سہروردیؒ ملتانی اور درگاہِ عالیہ حضرت رکن الدین العالمؒ کے سجادہ نشین مخدوم سجاد حسین قریشی مرحوم کا کہنا تھا کہ سلسلہ سہروردیہ اور سلسلہ ء چشتیہ کے بزرگوں میں غیر معمولی قربت اور محبت رہی ہے ۔سیّد فخرالدین بَلّے خاندانِ چشت کے روشن چراغ ہیں اور اپنے بزرگوں کی روایات ہی ہمیں ایک دوسرے کے قریب لائی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ نسل در نسل یہ محبت آئندہ بھی قائم رہے گی۔ بَلّے صاحب ایک قد آور علمی شخصیت ہیں اور انہوں نے جو قول اور رنگ تخلیق کیا ہے،یہ تاریخی کارنامہ اور روحانی جذبوں سے سرشار توشہآخرت ہے۔ یہ بلا شبہ تصوف پر اتھارٹی کا درجہ رکھتے ہیں۔ میں ان کے دینی و دنیوی درجات کی بلندی کےلئے دعا گو ہوں”۔معروف دانشور اشفاق احمد نے کہا بَلّے صاحب تصوف پر اتھارٹی تو ہیں ہی۔ تصوف ان کی شخصیت میں رچا بسا ہے۔ ان کی بیشتر شاعری ان کی شخصیت کا آئینہ ہے اور میرے اس خیال کی تصدیق کےلئے ان کا “قول” اور “رنگ” بہت کافی ہیں۔ ڈاکٹر عنوان چشتی لکھتے ہیں “وہ خواجہ غریب نوازؒ کی یادگار ہیں۔ اس لئے ان کی زندگی اور شاعری میں چشتیہ مسلک اور تصوف کا رنگ اور بھی کھِلتا اور کھُلتا ہوا نظر آتا ہے۔ پیر حسام الدین راشدی نے بھی قول اور رنگ کو فخر الدین بَلّے کا قابلِ ستائش کارنامہ قرار دیا ۔ علامہ سیّد نصیر الاجتہادی نے یہ قول سن کر اپنے مخصوص انداز میں بآ واز بلند درود شریف پڑھا اور کہنے لگے ۔”اللہ اللہ ! کیا زبان و بیان ہے۔ ایمان کو ترو تازہ کرنے کا سامان ہے۔ ہر شعر معانی کا جہان ہے۔ اس کا ہر مضمون شرحِ آیتِ قرآن ہے اور بلاشبہ یہ کاوش معرفت کا ایک دبستان ہے” ۔
پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری نے “سات صدیوں بعدرنگ…. سیّد فخر الدین بَلّے کا ایک تخلیقی معجزہ “-کے عنوان کے تحت مضمون لکھا اور اس “رنگ” میں محبت ،عقیدت، فکر، خیال اور ان کی وسعتوں کے جو “رنگ”ہیں‘ ان کی نشاندہی کی۔ ڈاکٹر اسلم انصاری لکھتے ہیں”میرے مکرم سیّد فخر الدین بَلّے نے سات صدیوں کے بعد “نیا رنگ” لکھ کر نہ صرف رنگ کی روایات کا تحفظ کیا ہے بلکہ انہیں آگے بھی بڑھایا ہے۔ ان کا رنگ ….رنگ اور اعداد کی علاماتی معنویت کی تشریح بھی کرتا ہے اور مسالکِ صوفیاءمیں سے بیشتر کے مرکزی تصورات کی توضیح بھی ۔ ان کی عددی علامت سات ہے۔ سات زمینیں، سات آسمان، دھنک کے سات رنگ اور موسیقی کے سات سُر۔ جو ان کے خیال میں عالم کا ہفت آہنگ سرگم مرتب کرتے ہیں۔”انا مدینتہ العلم” کی حدیث کی رو سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ مدینتہ العلم کے بابِ ہفتہ خرفہ ہیں۔ جس سے مراد ان کے سات خلفاءیعنی حضرت امام حسنؑ، حضرت امام حسینؑ، حضرت سلمان ؓفارسی،حضرت ابوذر ؓغفاری،حضرت خواجہ حسن بصریؓ ‘ حضرت اویس قرنیؓ اور حضرت کمیل ؓ بن زیاد ہیں۔ ان ساتوں میں سے ایک مرکز (امامت) کی علامت ہیں اور باقی شش جہات کےلئے نور ِولایت۔ اسی عددی علامت کی تشریح کے بعد بَلّے صاحب نے “دیکھن میں تو ہر ڈھولے کا الگ الگ ہے انگ” کہہ کر تصوف کے سلسلوں کی انفرادی خصوصیات کی طرف اشارہ کیا ہے۔مجھے یقین ہے کہ بَلّے صاحب کے اس رنگ کو اہلِ ذوق کے ہاں مقبولیت حاصل ہو گی اور اس کی غِنائیت اور گیت رنگ کا آہنگ اس کےلئے دوام کی سند ہوگا”۔
قول ترانے اور رنگ میں سیّد فخر الدین بَلّے کی مولا علی ؑ سے محبت اور عقیدت کے رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ پنجتن پاک سے خاندانی نسبت ان کا اعزاز اور طرّہامتیاز ہے۔ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی سنجری اجمیریؒ سے ہوتا ہوا آپ کا سلسلہنسب 43 واسطوں سے مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ اس لئے بھی آپ کی زندگی اور فکر و نظر کا مرکز قطب مدار حیدر کرار حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی ذات بابرکات ہے۔ آپ نے کئی برس کی تحقیق و تدقیق کے ساتھ “ولایت پناہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ “کے عنوان کے تحت ایک کتاب لکھی۔ جس میں مولائے کائنات کی سیرت‘ شخصیت،نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان کی نسبت اور قربت ،باب العلم ؑ کی علمیت اور حکمت،خیبر شکن کی قوت اور بسالت اور ان کے فضائل، شمائل، خصائل، خدمات اور کارناموں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ “فنونِ لطیفہ اور اسلام” کے حوالے سے بھی سیّد فخر الدین بَلّے نے ایک کتاب مرتب کی ہے اور بلا شبہ یہ کام بھی بڑا وقیع ہے۔ یہ علمی پس منظر بھی ان کےقول ترانے اور رنگمیں اپنے جلوے دکھا رہا ہے۔ ان کا یہ شعر تو میرے دل پر نقش ہو گیا ہے۔
واللہ بے مثال تھی‘ شادی بتول ؑ کی
بیٹا خدا کے گھر کا تھا‘ بیٹی رسول کی
یہ رنگِ سخن، یہ معجزہ ءفن اور یہ انداز کہاں ملتا ہے؟ بس جہاں محبت اور عقیدت ہو ،وہاں ملتا ہے۔
سیّد فخر الدین بَلّے نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے جیالوجی میں ایم ایس سی کیا اور جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیبِ کامل کا امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک محفل میں ایک ادبی شخصیت نے ان سے کہا کہ بلے صاحب ! علی گڑھ یونیورسٹی نے آپ کو بہت کچھ دیا۔ تو انہوں نے برجستہ کہا بلا شبہ علی گڑھ یونیورسٹی نے مجھے کیا؟ پورے جنوبی ایشیاءکو بہت کچھ دیا۔ پھر توقف کر کے بولے۔ “علی۔ گڑھ” یہ علیؑ سے وابستہ شہر ہے اور اِ س نے جو کچھ دیا ،یہ در اصل علیؑ ہی کا فیض اور فیضان ہے ۔ پھر انہوں نے شان ِ علی اس انداز میں بیان کی کہ پوری محفل نعرہ ء حیدری ۔۔ یا علیؑ، ….یا علیؑ کے نعروں سے گونج اٹھی۔ ان کی تان نبیء آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمانِ ذیشان یعنی ولایت کے اعلان پر ٹوٹی اور انہوں نے اپنے اس شعر پر اپنی گفتگو سمیٹی ۔
مباہلہ و مواخات و ذوالعشیر کی بات
یہ ابتداء ہے تو پھر انتہا غَدیر کی بات
قول اور رنگ۔۔ یہ دونوں کارنامے دیکھ کر مجھے تو یہی لگتا ہے کہ سیّد فخر الدین بَلّے زندہ ہیں اور بلا شبہ جادہء ادب و شوق پران مٹ نقوش چھوڑنے والے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔سیدفخرالدین بلے بھی ہمیں یہی کچھ بتاچکے ہیں
الفاظ و صوت و رنگ و نگارش کی شکل میں
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود
امیر خسرو کے سات سوسال بعد
سیّد فخر الدین بَلّے کا ایک قابلِ قدر تخلیقی کارنامہ
علامہ سید احمد سعید کاظمیتحریر:
قولِ سید المرسلین حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم “من کنت مولاہ ….فھذا علی مولاہ “کی جو “نئی تصریحی تہذیب” جناب سیّد فخر الدین بَلّے صاحب نے فرمائی ہے۔ وہ ان کی علمی قابلیت،روحانی ذوق،بالخصوص بارگاہِ سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے کمال عقیدت و محبت کی آئینہ دار ہے۔
قول کی تصریحی و صوتی تہذیب کا جو کام حضرت نظام الدین اولیاء نے امیر خسروؒ کے سپرد فرمایا تھا‘ بَلّے صاحب کی یہ نئی تصریحی تہذیب اسی کا تکملہ نظر آتی ہے۔
حقیقت ِ ولایت کمال عشق خداوندی اور محبت ِایزدی ہے۔ جس کا قطب مدار مولائے کائنات حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا وجودِ گرامی ہے۔
قوالی کا مفاد ساز سے سوز پیدا کر کے عشقِ الٰہی کی حرارت سے دلوں کو گرمانا ہے۔ اس لئے اس کی روح و رواں منبعِ عشق و محبت کی شان میں قولِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم “من کنت مولاہ …. فھذا علی مولاہ” کا قرار پانا قوالی کے مفاد کا عین مقتضیٰ ہے۔
لفظ مولا میں مولا ئے کائنات سیدنا علی بن ابی طالب کے جو فضائل و کمالات مخفی تھے۔ بَلّے صاحب نے اس نئی تصریحی تہذیب میں نہایت حسن و خوبی کے ساتھ ان کا اظہار کیا ہے۔ جو قابلِ داد اور موجب ِ ستائش ہے۔ اہلِ ذوق حضرات اس سے محظوظ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبولیت ِعامہ کا شرف عطا فرمائے ۔آمین۔
تحریر: علامہ سید احمد سعید کاظمی
سید فخرالدین بلے کاقول ترانہ ۔ ایک تخلیقی معجزہ
تاثرات :مولانا ابن ِ حیدر ،لکھنئو
محبوب ِ رب العالمین ،رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ احمد ِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الکمال سے و اپسی پر جس اہتمام کے ساتھ مولا علی علیہ السلام کی ولایت کااعلان فرمایا،وہ کسی بیان کامحتاج نہیں۔خُم ِ غدیر کی فضائیں من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ کی صدائوں سے گونج اٹھیں اور پھر چہاردانگ ِعالم میں اس کی بازگشت سنائی دی ۔صوفیاء اور اولیاء اللہ کے حلقوں میں من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ کاورد ہونے لگا بلکہ یہ ان کاوظیفہ بن گیا۔ مولائےکائنات حضرت علی المرتضی ٰعلیہ السلام کےخلفاء نےاپنے حلقوں میں جوروایت قائم کی تھی ، وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی رہی۔ مولائےکائنات حضرت علی المرتضی علیہ السلام کی شہادت کے سات سو سال بعد سید گھرانے کی ایک عظیم الشان روحانی شخصیت خواجہ ء خواجگاں حضرت معین الدین چشتی سنجری اجمیری نے متحدہ ہندوستان میں آکر دین ِ اسلام کاچراغ روشن کیا۔اس چراغ سے لاکھوں چراغ روشن ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلام کا اجالا پھیلتاچلاگیا۔ یہیں سے قولِ رسول ِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یعنی من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ کی بنیاد پر گائیکی اورموسیقی کی ایک نئی صنف قوالی سامنے آئی ۔محبوب ِ الہیٰ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کےایماء پر حضرت ِ امیر خسرو دہلوی نے من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ کواساس بناکر قول ترانہ تخلیق کیا اور آج بھی قوالی کی محفلوں کاآغاز اسی قول ترانے سے ہوتاہے ۔قوالی کارنگ ڈھنگ بدل چکاہے لیکن جس محفل میں یہ قول ترانہ نہیں پڑھاجاتا،اسے قولی کی محفل نہیں سمجھاجاتااورنہ ہی وہ قوالی کی محفل ہوسکتی ہے ۔ سات سو سال سے امیرخسروکاقول ترانہ ہی قوالی کی محفلوں میں پیش کیاجاتاہے۔یہ روایت اتنی مستحکم ہوچکی ہے کہ سات سو برسوں کےدوران کسی بڑے سے بڑے شاعر نے نیاقول ترانہ تخلیق کرنے کاسوچاتک نہیں ۔سلام ہے چشتیہ خانوادے کے چشم و چراغ سید فخرالدین بلے صاحب کو ،جنہوں نے امیر خسرو دہلوی کے بعد نیا قول ترانہ تخلیق کیا۔ جسے بجاطور پر ایک تخلیقی معجزہ قراردیا جاسکتا ہے ۔بلے صاحب نے حمد ،نعت اور منقبتوں کے موتیوں کو ایک لڑی میں پرو دیاہے۔پہلا بند ملاحظہ فرمائیں ۔
اللہ تو واللہ ، ھواللہ ُ احد ہے
وہ قادر ِمطلق ہے،وہ خالق ہے،صمدہے
احمد میں اِدھر میم، اُ دھر منی و منھہ
اِک پردہء ادراک ہے،اِک عقل کی حد ہے
غور فرمائیے۔کچھ نہ کہہ کر اور ایمائیت اور رمزیت کاحسن برقرار رکھتے ہوئے پردہ ء ادراک ہی اٹھادیا ہے۔ اس بند میں بھی ہمیں حمد،نعت اور منقبت کادلکش امتزاج دکھائی دیتاہے ۔تین دریا یکجاہوکر بہنے لگیں گے تو یہ خوبصورتی دیکھی جاسکتی ہے ۔
قرآن حکیم ، ارشادات ِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مستند تاریخی روایات سے انہوں نے جو ثمرات سمیٹے،انہیں بڑی فنکارانہ مہارت کےساتھ اپنے قول ترانے کی زینت بنادیاہے۔ عربی ، فارسی اور اردو زبان کے خوبصورت الفاظ نایاب نگینوں کی طرح اس پریم مالا میں جڑےہوئے نظر آتے ہیں ۔مولائےکائنات حضرت علی المرتضیٰ علیہ السلام سے اپنی پہلی محبت و عقیدت کااظہار انہوں نے سیرت و شخصیت پر ایک تحقیقی کتاب “ولایت پناہ ” لکھ کرکیاتھا۔جو نثرنگاری کاشاہکار ہے جبکہ اس قول ترانے میں انہوں نے اپنی محبتوں کےرنگوں کو شعری زبان بخشی ہے ۔ میں اسے ایک تخلیقی معجزے کےسوااورکوئی نام نہیں دے سکتا۔اللہ تبارک و تعالی ٰ اس قابل ِ قدر کاوش کوشہرت ِ عام اور مقبولیت ِ دوام کی سند عطافرمائے۔
من کُنتُ مولاہ فَعَلی مولاہ ۔
و مَن کُنتُ مولاہ ،فھٰذا علی مولا
اب ملاحظہ فرمائیے ۔ مندرجہ بالا قول سیدالمرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بنیاد پر امیر خسرو کے 700سال بعد وہ قول ترانہ جو سیّد فخر الدین بَلّے نے تخلیق کیا ،جسے سن کر علامہ طالب جوہری نے تاریخ ساز کارنامہ اور معرفت کاانمول خزانہ قرار دیا تھا۔
امیر خسرو کے سات سو سال بعد
سیّد فخر الدین بَلّے کا قول ترانہ
من کُنتُ مولاہ فَعَلی مولاہ، ۔۔۔ و مَن کُنتُ مولاہ ،فھٰذا علی مولاہ،
اللہ تو واللہ ھُوَ اللہ ُ اَحد ہے
وہ قادرِ مطلق ہے‘ وہ خالق ہے،صمد ہے
احمدمیں اِدھر “میم” اُدھر”مِنّیِ و مِنھہ ”
ادراک ہے ، اک عقل کی حد ہےاک پردہء
……..
اللہ ُ غنی مولا‘ اللہ ُ قوی مولا
اللہ ُ خفی مولا‘ اللہ ُ جلی مولا
اللہ ُ ولی مولا‘ اللہ ُ عَلِی مولا
مولا کا نبی مولا‘ مولا کا ولی مولا
لاریب نبی مولا‘ واللہ علی مولا
……..
من کُنتُ مولاہ ،فَعَلی مولاہ،
من کُنتُ مولاہ ،فھٰذا علی مولاہ،
……..
لَو کَانَ نبی بعدی‘ فی الحق علی مولا
وَاجعل لی وزیری ومن اھلِی اخی مولا
……..
مَن کُنتُ مولاہ‘ فعلی مولا
من کُنتُ مولاہ‘ فھٰذا علی مولا
……..
الطاھر و الشاّھد، الصّالح و الذَاہد
المومن و الصائم ‘ صدیق و صفی مولا
……..
مَن کُنتُ مولاہ، فعلی مولا
من کُنتُ مولاہ، فھٰذا علی مولا
……..
السیّد وا لسّاقی‘ المھدی و الہادی
القاری و الداعی‘ ہمرازِ نبی مولا
……..
مَن کُنتُ مولاہ‘ فعلی مولا
من کُنتُ مولاہ‘ فھٰذا علی مولا
……..
ایلی وعَلی عَالی ،مولودِ حرم والی
درحالِ رکوع بخشش‘ بِصوّم سخی مولا
……..
مَن کُنتُ مولاہ‘ فعلی مولا
من کُنتُ مولاہ‘ فھٰذا علی مولا
……..
فی الخندق و فی الخیبر،فی البدر واُحد حیدرؑ
قتّالِ حُنین اولیٰ‘ ذوالبرقہ علی مولا
……..
مَن کُنتُ مولاہ‘ فعلی مولا
من کُنتُ مولاہ‘ فھٰذا علی مولا
……..
معراجِ ِ نبی برحق‘ معراجِ ِ علی برحق
ہے کعبہ ء مولامیں بردوشِ نبی مولا
……..
مَن کُنتُ مولاہ‘ فعلی مولا
من کُنتُ مولاہ‘ فھٰذا علی مولا
……..
مِن لَحمِکَ لَحمِی و بالقولِ علی مِنّی
مولا کا اخی مولا‘ مولا کا وصی مولا
……..
مَن کُنتُ مولاہ‘ فعلی مولا
من کُنتُ مولاہ‘ فھٰذا علی مولا
……..
ہم اوّل و ہم آخر‘ ہم ظاہر و ہم باطن
ہم مولا و ہم قرآں‘ ہم نورِ نبی مولا
……..
مَن کُنتُ مولاہ‘ فعلی مولا
من کُنتُ مولاہ‘ فھٰذا علی مولا
……..
اِقرار کُنَم بَلّے ‘ من بندہ ء مولائی
اللہ و نبی مولا‘ واللہ علی مولا
……..
مَن کُنتُ مولاہ، فعلی مولا
من کُنتُ مولاہ، فھٰذا علی مولا
……..
ان کی بیاض میں اس قول کا مقطع یہ بھی موجود ہے۔
ہر سالک و عارف کا بَلّے یہی مسلک ہے
اللہ و نبی مولا، واللہ ُ علی مولا
{یہ تھا وہ قول ترانہ جو امیرخسرو کے 700سال بعد سید فخرالدین بلے نے تخلیق کیا}
اب سیدفخرالدین بلے کا رنگ بھی ملاحظہ فرمالیں ، یہ رنگ بھی امیرخسرو کےسات سو سال بعد تخلیق کرکے سیدفخرالدین بلےنے ایک تاریخ سازکارنامہ انجام دیا ہے ۔
سیدفخرالدین بلے کا رنگ
سات زمینیں ، سات فلک ، ہیں سات دَھنک کے رنگ
سات ُسروں کی سنگیتا ہے ، سرگم ہفت آہنگ
سَا۔ رے۔گا۔ ما۔ پا۔ دھا۔ نی۔ دَھا۔پا۔ ما۔ گا۔ نی۔ سا ۔ رَنگ
لکھ چوبیس ہزار سَجیلے لے کے آئے رنگ
رنگینی پر مَہاراج ﷺ کو رَب نے دی فرہنگ
اکِ دروازہ سات جھروکے مولا ہفت اورنگ
ایک علامت مرکز کی ، چھ سمتوں کے سرہنگ
حَسنین و َسلمان و بوذر،حَسن ، اَویس، کمیل
ایک علامت مرکز کی ، چھ سمتوں کے سرہنگ
سات زمینیں، سات فلک ، ہیں سات دَھنک کے رنگ
سرَگم ہفت آہنگ ، مولا ہفت اورنگ
آءوسَکھیو! مل کر کھیلیں رنگ سجن کے سنگ
دیکھن میں تو ہر ڈھولے کا الگ الگ ہے انگ
رَنگ الگ، آہنگ الگ اور الگ الگ ہیں ڈھنگ
آئو سَکھیو! مل کر کھیلیں رنگ سجن کے سنگ
اَندھیارے میں تنگ ہیں نظریں ، اُجیارے میں دَنگ
چَندا ہو تو کم کم تارے، دن وچ رنگ میں بھنگ
اربوں انساں، اربوں تارے، سارا جگ نیرنگ
دِن نِکلا تو نُور ندی میں ڈوب گئے سب سنگ
آئوسَکھیو! ِمل کر کھیلیں رنگ سجن کےسنگ
روپ نگر تو رنگ نگر ہے تن رنگے من رنگے
نُور نگر میں لیکن بلے ہَر جامہ بے رنگ
سا۔ رے۔ گا۔ ما۔ پا۔ دھا۔ نی۔ دھا۔پا۔ ما۔ گا۔ نی۔ سا۔ رنگ
کے سنگ آئو سَکھیو! ِمل کر کھیلیں رنگ
سَید فخرالدین بِلّے۔۔ علم وادب کااثاثہ
تحریر:کمال احمد رضوی
خداداد صلاحیتوں سے مالامال اورباکمال سَید فخرالدین بِلّے ادب ،صحافت،ثقافت،اسٹیج اورقوالی کی دنیامیں ایسے کام کرگئے جومدتوں فراموش نہیں کئے جاسکیں گے۔
وہ بڑے ملنسار،خوش اخلاق اور مروت و محبت کاپیکر تھے۔جوملتا،اسے اپناگرویدہ بنالیاکرتے تھے۔پاکستان ٹیلی ویژن لاہور اسٹیشن 1964 میں بنا اور یہی ہم دونوں کی دوستی کاپہلاسال تھا۔جو وقت کے ساتھ پروان چڑھتی چلی گئی۔ایسابھی ہواکہ کئی کئی سال ملاقات نہ ہوپائی لیکن جب ہوئی تو سلسلہ وہیں سے جڑگیا،جہاں سے ٹوٹاتھا۔بہت سی شامیں ان کے ساتھ گزاریں،گھنٹوں گپ شپ رہی۔وہ بڑی پہلودار شخصیت کے مالک تھے۔دل کے غنی ۔دل کی طرح ان کادسترخوان بھی بڑاکشادہ تھا۔ غزلوں،نظموں اور نثرپاروں میں اپنے کمالات دکھائے۔سو سے زائد مطبوعا ت مرتب کیں۔ایک درجن سے زیادہ جریدوں کی ادارت کی۔مولائے کائنات حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہ کی سیرت و شخصیت پر تحقیقی کتاب “ولایت پناہ ” لکھی۔جشن ِتمثیل کرایااور وہ بھی 25 روزہ ۔ہرروز نیاڈرامہ۔نئے فن کاروں اور نئے اسکرپٹ کے ساتھ اسٹیج کیاگیا۔یہ اپنی نوعیت کاانوکھاتجربہ تھا،جس کی گونج ملک کے طول وعرض میں دوردورتک سنائی دی۔وہ اپنی ذات میں خود ایک ادارہ اور ایک انجمن تھے۔ایک زمانہ ان کے کام کامداح ہے اور میں بھی انہیں علم وادب کااثاثہ ہی سمجھتاہوں۔
تحریر:کمال احمدرضوی
………………………………………………………………
سید فخرالدین بَلّے ۔محسن ِ فن اور مین آف دی اسٹیج
ہمارے شہرمیں اِک آدمی تھا آسماں جیسا
تحریر: پروفیسر خالد پرویز
لکھنے والوں کے لئے دو مراحل بڑے دشوار ہوتے ہیں۔ ایک اس وقت جب کسی ایسے موضوع پر لکھاجائے ،جس پر پہلے نہ لکھاگیا ہو یا اتنا کم لکھاگیا ہو کہ کوئی سِرا ہی نہ ملے۔ اور دوسرا دشوار گزار مرحلہ اس وقت درپیش ہوتاہے، جب آپ کسی ایسے موضوع پر لکھنے بیٹھیں، جس پر بہت کچھ لکھاگیا ہو اور اتناکچھ لکھاگیا ہو کہ آپ کو کوئی نیارستہ، اورکوئی نیازاویہ سجھائی ہی نہ دے۔ میں آج موخرالذکر مرحلے سے دوچارہوں۔ اسی لئے الجھن میں گرفتار ہوں۔ مشکل میںآسانیوں کا طلب گار ہوں۔مرحلہ یہی نہیں کہ جس شخصیت پر قلم اٹھانے بیٹھا ہوں، اس پر بہت کچھ لکھا گیا بلکہ یہ بھی ہے کہ اپنے اپنے شعبوں کی اتنی بڑی بڑی ہستیوں نے لکھا ہے کہ اس میں کوئی اضافہ کرنا بھی میرے جیسے کسی قلم کار کے بس کی بات نہیں۔ آپ خود سوچئے کہ جس ہستی کو اینی میری شمل، اشفاق احمد، مخدوم طالب المولیٰ، پیرحسام الدین راشدی اور ڈاکٹر وزیر آغا نے تصوف پر اہم اتھارٹی کہا۔ فراق گورکھپوری نے جسے لفظوں کا مصور قراردیا۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے تسلیم کیاکہ ان کی نثر ہو یا نظم اس میں کوئی نقص نکالنا محال ہے۔ ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد لکھیں کہ ان کی شعری اور نثری تخلیقات کو دیکھ کر برسوں ان کے سحر سے آزاد ہونا مشکل ہے۔دنیائے شعروادب کی قدآورشخصیات نے اسے ایک شخصیت نہیں،ایک ادارہ،ایک تنظیم، ایک آدرش، ایک انجمن، ایک نصب العین قرار دیا ہو۔ اس پر کوئی لکھے تو کیا لکھے؟۔ پہلے میں نے سوچاتھا کہ میں انہیں ایک تہذیبی ادارہ اور ایک یونیورسٹی لکھوں لیکن اس سے پہلے کہ میں قلم اٹھاتا ڈاکٹر عاصی کرنالی کا لکھا ہوا مضمون میرے سامنے آگیا۔ انہوں نے پہلا جملہ ہی یہ لکھا ہے کہ سیدفخرالدین بلے ایک تہذیبی ادارے اور ایک یونیورسٹی کا نام ہے۔ پھر سوچا کہ انہیں ایک تہذیب ساز ہستی قرار دے کر اس حوالے سے اپنے جذبوں کو زبان دوں تو اصغر ندیم سید کا مضمون میرا منہ چڑانے لگا ۔جس میں بڑی انکساری کے ساتھ تسلیم کیا گیاہے کہ انہوں نے سید فخر الدین بلے سے بہت کچھ سیکھا۔ ان کی فکری تربیت میں سید فخرالدین بلے کا بھی ہاتھ ہے اور ملتان کی کئی نسلوں کی تہذیبی تربیت سید فخرالدین بلے نے کی ہے۔افتخار عارف کہتے ہیںسید فخرالدین بلے ہمارے زمانے کے ان یگانہ روزگارشخصیتوں میں تھے کہ جن کی ذاتِ گرامی بے شمار کمالات کی جامع تھی۔ وہ خوش مزاج۔ کشادہ ذہن اور کشادہ نظر آدمی تھے۔ ایک بار جو بھی انہیں مل لیتا ، وہ ان کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔بلاشبہ جو لوگ بھی انہیں ملے، وہ اپنے اپنے تجربوں کی بنیاد پر یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ افتخار عارف نے ان کے محسوسات کی ترجمانی کی ہے۔
سیدفخرالدین بلے “چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو”کے فلسفے کے قائل تھے۔ ماحول کو اپنے رنگ میں رنگ دینے کا ہنر انہیں قدرت نے عطا کیا۔ جس کا ساری زندگی انہوں نے بھرپور استعمال کیا۔ میں یہی نہیں کہناچاہتا کہ جس جس شہر میں تعینات رہے، وہاں سے انہوں نے جریدے نکالے اور نہ علی گڑھ کے ماہنامہ جھلک، اسلام آباد سے ماہنامہ اوقاف، ماہنامہ ہم وطن، ماہنامہ یاران وطن، لاہور سے پندرہ روز مسلم لیگ نیوز، ماہنامہ بلدیات، ہفت روزہ آواز جرس اور ملتان سے ماہنامہ ہمارا ملتان کی مثال دوں گا۔ اس لئے کہ یہ میرا موضوع نہیں۔ میں چاہتا تھا کہ میں ان کی تالیفات پر کچھ لکھوں ،لیکن یہ تعداد ڈیڑھ سو کے لگ بھگ بلکہ اس سے زیادہ ہے۔ اور سیاحت، تاریخ، تاریخی مقامات،اولیائے کرام، ثقافتی اقدار، فنون کی ترویج سمیت ان کے موضوعات میں اتنی رنگا رنگی ہے کہ اسے سمیٹنے کیلئے کتاب بھی ناکافی ہوگی۔ اسی لئے میں نے اپنے لئے آسانی تلاش کرلی ہے اور میں ثقافت کے فروغ اورا سٹیج کی ترقی کیلئے ان کی چند ایک خدمات ہی کو اپنا موضوع بنانے پر اکتفا کر رہا ہوں۔
مجھے وہ شام یاد ہے کہ جو تخلیق کاروں، فن کاروں اور اسٹیج کی دینا کے نامور اور روشن ستاروں نے سید فخرالدین بلے کے نام کی تھی۔ یہ شام نہیں دراصل اسٹیج کی ترقی اور ثقافت کی ترویج کیلئے سید فخرالدین بلے کی خدمات کے اعتراف کی محفل تھی۔ جس میں انہیں محسن ِ فن اور مین آف دی اسٹیج کا خطاب دیا گیا۔ فن کاروں اور نامور شخصیات نے ا ن کے قصیدے پڑھے۔ آخر یہ خدمات کیا تھیں؟ اس سوال کا جواب ہی میرے مضمون کا مرکز اور محور ہے۔
سیدفخرالدین بلے تخلیقی توانائیوں سے مالامال ہستی کا نام ہے۔راولپنڈی آرٹس کونسل کےلئے جب اپنے وجود کو برقرار رکھنا محال ہوگیا تو اسے حیاتِ نوبخشنے کے لئے پنجاب سے سید فخرالدین بلے کا انتخاب عمل میں لایاگیا۔وہ انفارمیشن سروس کے آدمی تھے۔ اسلئے ڈیپوٹیشن پر ان کی خدمات حاصل کرکے انہیں راولپنڈی آرٹس کونسل کا ڈائریکٹر بنادیاگیا۔ وسائل انتہائی محدود ہیں۔اسٹاف کا مورال برقرار نہیں رہا اور نہ ہی وہ اب کام کرنے کا عادی ہے۔ ان حالات میں سیدفخرالدین بلے نے راولپنڈی آرٹس کونسل میں اپنی تمام صلاحیتوں اور تجربوں کو کام میں لاتے ہوئے جان ڈال دی۔ مجھے یاد ہے کہ روزنامہ ڈان میں ایک تفصیلی خبر شائع ہوئی۔ جس میں چھ ماہ میں باون تقریبات سجانے کا سہرا سید فخرالدین بلے کے سرنظرآیا۔ “جادو گھر “کی بات نہ کی تو راولپنڈی میں بلے صاحب کی سرگرمیاں کاتذکرہ ادھورا رہے گا۔عدالتی فیصلے پر کئی دہائیوں کے بعد فری میسن راولپنڈی کے بندتالے کھولنے کافیصلہ ہوا۔اس قدیم عمارت کے بارے میں عمومی تاثریہ تھاکہ یہ” جادو گھر “ہے۔یہاں روحوں نے بسیراکررکھاہے۔اس لئے سول اور وردی پوش افسران ،مجسٹریٹ اور پولیس اہلکارفری میسن کے تالے کھولنے چلے تو آئے لیکن کسی کو آگے بڑھنے کاحوصلہ نہ ہوا۔خدا معلوم جادوگھرکے اندرسے کیا نکل آئے؟۔انسانی کھوپڑیاں بول پڑیں تو کیا ہوگا؟اس خوفناک فضامیں جو شخص آگے بڑھا ،اس نے ہاتھ میں قران پاک کا نسخہ تھاما۔آیت الکرسی کاورد کیا اور پھر قرآن پاک سر پر رکھ کر جادو گھر کاتالا کھول دیا۔بلے صاحب کا حوصلہ دیکھ کر دیگر لوگ بھی آگے بڑھے۔اندر سے کچھ انسانی کھوپڑیاں ضرور نکلی تھیں لیکن کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔سید فخرالدین بلے نے راولپنڈی میں بھی بڑا بھرپور وقت گزارا۔ان کی تقرری سے ایک دم توڑتے ہوئے ادارے کو نئی زندگی ہی نہیں ملی، راولپنڈی آرٹس کونسل ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بھی گئی۔پینٹنگز کی کئی نمائشیں سجیں۔مصسورانہ خطاطوں کے شہ پاروں کی نمائشوں کااہتمام کیاگیا۔ایک شام طارق عزیز کے نام کردی گئی۔ ادیبوں اور شاعروں نے اس ادارے کارخ کرنا شروع کردیا۔جلیل عالی کہتے ہیں حلقہ اربابِ ذوق کی محفلیں بھی راولپنڈی آرٹس کونسل میں سجنے لگیں۔جس میں حسن یوسف اور دیگردوست احباب شریک ہوتے۔ابھی یہ سلسلہ زور پکڑرہاتھاکہ اس ادارے کے اربابِ بست وکشاد نے ملتان آرٹس کونسل کو نئی زندگی بخشنے کا فیصلہ کرلیا اور قرعہء فال سیدفخرالدین بلے کے نام نکلا۔حکومت پنجاب کے بااختیارحکام باخبر تھے کہ یہ کام کوئی اور نہیں سید فخرالدین بلے ہی انجام دے سکتے ہیں۔ چنانچہ انہیں ملتان آرٹس کونسل کا ڈائریکٹر بناکر بھیج دیاگیا۔ ملتان آرٹس کونسل کے حالات انتہائی دگرگوں تھے ۔جہاں برسوں دفتر میں صرف بیٹھنے کی تنخواہیں ملتی رہی ہوں تو پھر اسٹاف سے کام کیسے لیا جائے؟سید فخرالدین بلے تعلقات عامہ کے ماہر بھی تھے۔ ملتان میں ڈائریکٹر تعلقات عامہ کی حیثیت سے بھی چھے سال کام کرچکے تھے۔ صحافیوں، ادیبوں، تخلیق کاروں اور اسٹیج کے فن کاروں سے ذاتی مراسم تھے۔ انہوں نے ایک افسر بن کرنہیں بلکہ ماہر تعلقات عامہ کی حیثیت سے پہلے فضاوں کو سازگار بتایا۔اسٹاف کو نفسیاتی انداز میں کام کرنے پر اکسایا اورثقافت کے ٹھہرے ہوئے پانی میں ہلچل مچانے کیلئے منظم انداز میں کوششیں شروع کردیں۔ یہ تمام مراحل مہینوں میں نہیں، انہوںنے دنوں میں طے کئے ۔غالباً ایک دومہینے کے اندراندر ہی انہوں نے ملتان آرٹس کونسل کے زیراہتمام 17سترہ روزہ جشنِ تمثیل کا اعلان کردیا۔ اسٹیج کی دنیا سے جڑے ہوئے لوگ جی اٹھے۔ اب ان کے خواب پورے ہوسکیں گے۔ وہ کچھ کرکے دکھاسکیں گے۔ مایوسیوں کے اندھیروں میں امید کے چراغ روشن ہوگئے۔
17 روزہ جشن تمثیلِ کا اعلان تو ہوگیا مگر اب فخرالدین بلے صاحب کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ یہ کریں کہاں؟ملتان آرٹس کونسل کی اپنی عمارت نہیں، شہر میں کوئی بڑا ایوان نہیں،شادی ہالز اس وقت تک بنے نہیں تھے۔ کیا کیا جائے؟وہ بند گلی میں آگئے۔جہاں بندشیں ہوں، وہاں رستے نکالنے کا ہنر بھی انہیں خوب آتا ہے اور انہوں نے دو تین روز کی سوچ بچارکے بعد فیصلہ کرلیا، ہم آرٹس کونسل کی کرائے کی عمارت کے بڑے لان میں اوپن ایئرتھیٹر سجائیں گے۔ ملتان کی گرمیاں ان کی سرگرمیوں میں معاون ثابت ہوئیں۔ہال میں مئی کے تپتے مہینے میں جشنِ تمثیل ہوتاتوگھٹن سے لوگوں کا دم ہی گھٹ جاتا۔آپ یہ بات ذہن میں رکھئے کہ وسائل بھی نہیں ہیںلیکن وہ بقول انتظارحسین ہمت نہیں ہارتے۔مشکل کا کوئی نہ کوئی حل ڈھونڈ ہی نکالتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ لنڈابازار کارُخ کرلیا۔ خوبصورت پردے خریدے اور اپنی اسٹیج کو سجالیا۔ ہے نا ں کم خرچ بالانشیں والی بات۔ اسٹیج فنکاروں اور دانشوروں کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی زور پکڑ گیا ہے۔ ایک میٹنگ میں سوال اٹھایاگیا کہ آپ نے 17روزہ جشنِ تمثیل کا اعلان کردیا ہے ۔کیا اتنی تعدادمیں فنکار ہیں کہ وہ یہ کھیل کھیل سکیں؟کیا شائقین بھی آئیں گے؟ میں اس میٹنگ میں موجود تھا۔ ڈاکٹر اے بی اشرف، اقبال ساغرصدیقی ریذیڈنٹ ایڈیٹر امروز، نصرت مند خان اور ڈاکٹر مقصود زاہدی کی طرف دیکھ کر بلے صاحب مخصوص انداز میں مسکرائے اور بولے آپ کے سوال کے دو حصے ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا اتنی بڑی تعداد میںفن کار ہیں کہ وہ سترہ روز تک ہر روز نیا ڈرامہ اسٹیج کرسکیں؟۔ پہلے اس کا جواب سنئے،!پھر میں آپ کے سوال کے دوسرے حصے کا جواب دوں گا ۔ ملتان ایک شہر نہیں پورا جہان ہے۔جوہرِقابل سے مالامال ہے۔ یہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ بس اسے دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔اس سترہ روزہ جشن تمثیل کامقصد اسٹیج فنکاروں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ جوہر ِقابل کی دریافت بھی ہے۔ یہ جوہر ِقابل جب نکھر کرسامنے آئے گا تو دنیا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔میں دیکھ رہا ہوں کہ ان اداکاروں اور اسٹیج فن کاروں ہی میں سے روشن ستارے کل کو آسمانِ شہرت پر چمکیں گے۔ انہیں دیکھنے اور ان سے ملنے کیلئے شائقین بے تاب ہونگے۔یہی وہ فنکار ہوں گے، جو کل کوٹی وی ڈراموں کی ضرورت بن جائیں گے۔ بڑی اسکرین پر ان کی موجودگی کامیابی کی ضمانت ہوگی۔ آج شاید آ پ کو یہ باتیں خواب نظر آئیں لیکن کل کو انشاءاللہ آپ ، ہم اور یہ اسٹیج فنکاراس کی تعبیردیکھیں گے۔ ان کا یہ جواب لاجواب کردینے کیلئے کافی تھا۔ اس پر میٹنگ میں کافی دیر تک تالیوں کی گونج سنائی دیتی رہی۔ ڈیسک بجاکر بھی بلے صاحب کے موقف کی بھرپورتائیدکی گئی۔ یہ شورتھماتوبلے صاحب نے کہاآ پ نے یہی پوچھا ہے ناں کہ کیا اتنی بڑی تعداد میں شائقین ان ڈراموں کو دیکھنے آئیں گے؟گویا آ پ اپنے خدشات کا اظہارکرناچاہ رہے ہیں کہ اگر شائقین ڈرامے دیکھنے ہی نہ آئے تو یہ میلہ سجایا کیوں جارہا ہے؟ مجھے خوشی ہے کہ آ پ نے بے باکی کے ساتھ اپنے خدشے کا اظہار کردیا، منفی پہلووں پر نظر رکھنا بری بات نہیں۔بلکہ تعمیری سفر کیلئے یہ ضروری ہے۔ملتان میں ایک درجن سے زائد سینماگھرہیں ،اچھی فلمیں لگی ہوں تو کیا لوگ دیکھنے نہیں آتے؟کیا ٹکٹیں بلیک میں فروخت نہیں ہوتیں؟کیا کھڑکی توڑ رش کے اشتہارات آپ کی نظر سے نہیں گزرے؟ اگر ایسا ہے تو اندیشہ کس بات کا ؟اس خطے میں صاحبان ِذوق کی کمی نہیں، لوگ تفریح کے متلاشی ہیں۔تفریح کی تلاش ہی انہیں پارکوں، باغات اور تاریخی مقامات کی سیر کراتی ہے۔ ڈرامے اچھے ہوں گے تو لوگ آئیں گے۔ ضرور آئیں گے۔ اس لئے بھی آئیں گے کہ اب سے پہلے بھی آتے رہے ہیں۔اخبارات میں فلمی اشتہارات کےلئے ایک صفحہ مخصوص ہوتا ہے۔میں تو فلمی صفحے پر زیرنمائش فلموں کے ساتھ تھیٹرڈراموں کے اشتہارات بھی دیکھ رہاہوں۔اس لئے بھی کہ یہ شہر کئی ہزار سال سے مسلسل آباد چلا آرہا ہے اور اس کا کوئی عہد ایسا نہیں کہ تخلیقی اور تفریحی سرگرمیوں سے خالی قرار دیا جاسکے۔میں ملتان کی عظمت کے گن پھر کبھی گالوں گا،آپ کے اندیشے کو مٹانے کیلئے واضح کردوں کہ مجھے ایک اور خدشہ ہے اور وہ یہ ہے کہ کہیں شائقین اتنی بڑی تعداد میں نہ آجائیں کہ انہیں سنبھالنا محال ہوجائے۔ کہیں نظم وضبط کو برقرار رکھنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات حاصل نہ کرنی پڑیں۔اوپن ایئرتھیٹر میں گنجائش سے دوگناافراد آگئے تو کیسے سماپائیں گے؟میں یہ بھی بتادوں کہ ڈرامے دیکھنے کیلئے کوئی ٹکٹ نہیں ہوگا۔فری پاس جاری کئے جائیں گے۔ جو”پہلے آو،پہلے پاو”،کی بنیاد پر دیئے جائیں گے۔ فیملیز کے ساتھ آنے والوں کو ترجیح دی جائے گی اور وہ بھی اس لئے تاکہ ماحول کی شائستگی برقرار رہے۔ لوگ اپنی فیملی کے ساتھ آئیں گے تو کسی دوسری فیملی کے ساتھ آنے والوں پر آواز ے نہیں کسیں گے اور اس لئے بھی تاکہ ملتان کی فیملیز کوڈرامے کی چاٹ ڈالی جا سکے۔ اب وہ فری پاس پر ڈرامے دیکھیں گے۔ ان کے ذوق کی تسکین کا سامان بہم پہنچایاجائے گا تو کل کو وہ ٹکٹ خرید کر بھی ڈرامہ دیکھناچاہیں گے اورجب وہ ٹکٹ خرید کرڈرامے دیکھیں گے تواسٹیج فنکار خوشحال ہوں گے۔ اسٹیج کو ترقی ملے گی ۔رائٹرز کی تنگ دستی دور ہو سکے گی اور اس سے جُڑے ہر کاروبار کے پروان چڑھنے کی راہیں ہموار اور روشن ہوں گی۔بلے صاحب کی ان حوصلہ افزاباتوں نے اندیشے ہی دور نہیں کردئے،بہت سے خواب بھی آنکھوں میں سجادیئے۔
جشنِ تمثیل 82ءکی تیاریاں شرو ع ہوگئیں۔کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ بلے صاحب نے مختلف شعبوں کی نمائندہ اور نامور شخصیات کو ان کمیٹیوں میں شامل کیا تاکہ انتظامات مختلف سطحوں پر بخیروخوبی انجام پاسکیں۔ متعلقہ کمیٹیوں کے ارکان نے اپنے ذمے سونپے گئے کاموں کی نگرانی کی۔سب سے فعال مجلس منصفین نظر آئی۔ جس میں اقبال ساغر صدیقی ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ امروز ملتان،پروفیسر ڈاکٹر اے بی اشرف نگراں شعبہ اردو زکریا یونیورسٹی۔ پروفیسر نصرت مند خان۔ ڈاکٹر افتخار اور پروفیسر افتخار غازی شامل تھے۔ یہ تمام نامور ہستیاں فخرالدین بلے کے ساتھ سرجوڑ کر بیٹھتیں اور جشنِ تمثیل کے انتظامات سے متعلق اہم فیصلے کرکے اٹھتیں۔ ان سرگرمیوں کی خبریں اخبارات میں مسلسل شائع ہوتی رہیں۔ اس لئے پورا ماحول بن گیا۔
آخردن گنے جاتے تھے، جس دن کیلئے ۔وہ دن بھی آگیا۔ملتان آرٹس کونسل کا دفتر بہاولپورروڈ پر تھا۔ سید فخرالدین بلے کے ڈائریکٹر آرٹس کونسل بننے سے پہلے اس شہر کے لوگوں ہی کیا ؟بہت سے فنکاروں کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ آرٹس کونسل کہاں ہے؟شہر میں اس کا وجودہے یا نہیں؟ لیکن اس ڈرامہ فیسٹیول نے شائقین ہی کیا ہر خاص وعام پر آرٹس کونسل کے دروازے کھول دیئے۔ مفت پاس لیجئے۔ فیملی کے ساتھ آکر ڈرامہ دیکھئے۔ اور کیا چاہئے؟ ہے ناں ایک ٹکٹ میں دومزے ۔اسی کو کہتے ہیں، چپڑیاں اور دو دو ۔ لیکن یہاں تو ایک دو نہیں، سترہ ڈراموں کا کھیل ہے۔ ہر روز نیا اسٹیج تیار ہوتا۔ نئے فنکار سامنے آتے۔ نیااسکرپٹ ہوتا۔ نئے مکالمے بولے جاتے۔ سب کچھ نیا ۔یا یوں کہئے کہ ہر روز نیا طور نئی برقِ تجلی۔ یہ صورتحال رنگارنگ بھی تھی۔ جس شہر میں چند مہینے پہلے تک اسٹیج تاریکی میں اور فنکار مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے، وہاں ڈراموں کی یلغار۔تماثیل کی بہار۔ اور اس میں بھی کئی شاہکار۔!اقبال ساغرصدیقی اسی لئے تو پکاراٹھے کہ محمودغزنوی نے سومنات پرسترہ حملے کئے تھے اور سید فخرالدین بلے نے سترہ روز جشن تمثیل سجالیا ہے۔
ہرروز ملتان آرٹس کونسل کا اوپن ایئرتھیٹر شائقین سے بھر ا ہوتا۔ کچھ لوگ جو وہاں سمانہیں پاتے یا ان کے پاس فری پاس نہ ہوتے، وہ دیواروں اور قریبی درختوں پر چڑھ کر ڈرامے دیکھتے۔ کئی ڈراموں میں تو ایسا محسوس ہوا کہ شائقین نے ہلہ بول دیا ۔ ایک دو مرحلوں پرآرٹس کونسل انتظامیہ کو پولیس طلب کرنا پڑی۔ بلے صاحب کا مسکراتا چہرہ اور ان کی زیرِلب خاموشی مجھے یہ کہتی سنائی دی کہ میں نہ کہتا تھا کہ اتنارش بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات طلب کرناپڑیں۔ وہ واقعی دیدہ ور تھے۔ ان کی نگاہیں دور تک کے مناظر دیکھ لیا کرتی تھیں۔ میں سوچتا ہوں کہ کئی سوال انتظامی کمیٹیوں کی میٹنگز میں ایسے اٹھائے گئے، جن کے جواب سے بلے صاحب کے اندر چُھپے خوابوں کی ایک جھلک سب نے دیکھ لی۔ یہ سوال نہ اٹھائے جاتے تو وہ جشن تمثیل کے حوالے سے جو کچھ سوچتے تھے۔ جس حکمتِ عملی کے تحت انہوں نے پروگرام تشکیل دیا۔ جو مقاصد ان کے ذہن کے نہاں خانوں میں تھے، ہم اُن سے کبھی آگاہ نہ ہوتے۔قومی اخبارات نوائے وقت اور خصوصاًامروز میں جشن ِتمثیل نے کوریج دینے کا حق ادا کردیا۔بیسیوں کالم لکھے گئے ہوں گے۔ روزانہ ایک ڈرامہ ہو رہا ہے تو روزانہ ایک نہیں کئی کالم اخبارات کی زینت بن رہے ہیں۔ سٹیج کے مناظر کی تصویریں چھپ رہی ہیں۔ فن کاروں کی سرگرمیاں خبریں بن رہی ہیں۔ واقعی وہ فضا بن رہی ہے کہ کل کو کمرشل بنیادوں پر اسٹیج ڈرامے ہو سکیں گے۔ فن کاروں کے دل بھی اب یہ گواہی دے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر ثقافت نیاز محمد ارباب آئے تو انہوں نے جشن ِتمثیل82ءکو ملتان آرٹس کونسل کا تاریخی کارنامہ قراردیا۔عارف الاسلام صدیقی نے اس حوالے سے اپنے کالم میں لکھا”نیازمحمدارباب نے سید فخرالدین بلے کو علم کا آبگینہ اورثقافت کا نگینہ کہا اور یہ بھی کہہ گئے کہ فخرالدین بلے کسی قدر کرنے والے خطے میں ہوتے تو ابوالفضل اور فضلی کی طرح سراہے جاتے”۔
میں کہتا ہوں کیا محبت وشفقت کو کوئی دوسرا نام دیا جا سکتا ہے ؟ کیا والہانہ جستجو اور ادیبانہ گفتگو کا کوئی اور بھی عنوان ہوسکتا ہے؟کیا مہارت وجسارت کو مجسم بھی کیا جاسکتا ہے؟یہ اور اسی نوع کے کئی سوال میرے ذہن کی کھلی کھڑکی پر دستک دیتے ہیں اور جب میرا دل میرے ذہن کا ساتھ دیتا ہے تو پھر جواب مشکل نہیں رہتا بلکہ محض ایک ہی شکل آنکھوں کے سامنے چلتی پھرتی نظر آتی ہے، جسے میں اور آپ سید فخرالدین بلے کے نام سے جانتے ور پہچانتے ہیں۔ میں ان کے نیازمندوں میں شامل ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے کیونکہ سید فخرالدین بلے آل نبی بھی تھے، اولادِعلی بھی تھے۔محبتوں کی تمازتوں کے سفیر بھی تھے اور شفقتوں کی حرارتوں کے وزیر بھی تھے۔جو قافلہ ء ادباءوشعرا کے امیربھی تھے اور جہدِ مسلسل کے زلف گرہ گیر بھی تھے۔ گویا وہ اپنی ذات میں جمال و کمال کا ایک جمِ غفیر بھی تھے۔ ان سب خصوصیات سے بڑھ کر سید فخرالدین بلے ایک سچے اور کھرے انسان تھے۔ ایسا انسان ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ اور جب ملتا ہے تو زمانہ اس کی قدرنہیں کرتا۔ مجھے لگتا ہے کہ یادوں کی کھڑکی کھل جانے کے باعث میں اپنے موضوع سے ہٹ رہا ہوں۔ جشنِ تمثیل کے حوالے سے بات ہو رہی تھی، یہ پروگرام ابتدا میں سترہ روزہ تھا لیکن بعد میں اسکی مقبولیت اور فنکاروں کی چاہت دیکھتے ہوئے یہ ڈرامہ فیسٹیول 24 روزہ کردیاگیا۔ آج کی بڑی بڑی چوٹی کی شخصیات سید یوسف رضا گیلانی ،مخدوم سجاد حسین قریشی ،اورسابق اسپیکر قومی اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی نے بھی مہمان خصوصی کی حیثیت سے کچھ ڈرامے دیکھے۔سیدفخرامام نے اعتراف کیا کہ سید فخرالدین بلے نے ملتان کی ثقافتی زندگی میں ہل چل مچا دی ہے۔چودھری عبدالغفور صوبائی وزیر بھی “بلے بلے “کرتے نظر آئے۔ کمشنر ملتان حسن رضا پاشا کے ستائشی کلمات کی گونج بھی فضاوںمیں سنائی دی۔مشتاق معینی نے بڑے ماہرانہ مگر غیرروایتی انداز میں اسٹیج سیکریٹری کی ذمے داریاں نبھائیں۔اور ان کے کچھ تیکھے جملوں نے ہوٹ کرنے والے شر پسند سامعین کوکئی بار خاموش کرایا۔وہ شام کو ڈراموں میں اسٹیج سنبھالتے اور اگلے روز امروز میں ان کے خوبصورت کالم پڑھنے کو ملتے۔ان کالموں کا ایک مجموعہ وہ ترتیب دے لیں تو اس جشن تمثیل کی بہت سی یادداشتیں محفوظ ہوجائیں گی۔وہ یہ کام نہ کرسکیں تو سنٹرل لائبریری بہاول پور سے اس دور کے اخبارات سے خبریں ،تجزئیے،کالم اور فیچر حاصل کرکے بھی انہیں کتابی صورت دی جاسکتی ہے۔وفاقی وزیر ثقافت ارباب محمد نیاز نے جشن تمثیل ختم ہونے کے بعد بلے صاحب کو ایک ستائشی خط لکھا تھا،اس کی کاپی میرے پاس آج بھی محفوظ ہے،جو میں نے اصرارنہیں ،ضد کرکے بلے صاحب سے لے لی تھی۔صوبائی سیکرٹری اطلاعات شیخ حفیظ الرحمان نے اس طویل پروگرام کو اسٹیج کی دنیا میں اپنی نوعیت کا منفرد تجربہ قراردیا۔ ملتان کے اس ثقافتی دھماکے کی گونج بیرون ملک تک سنی گئی۔ گنیز بک آف ورلڈریکارڈ کو مدعو کرلیاگیاہوتا تو یہ ایک عالمی ریکارڈ ہوتا۔ یہ میرا ہی نہیں سٹیج کی دنیا کے ماہرین کا بھی خیال ہے۔ نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خالد سعید بٹ خصوصی طورپر یہ ڈرامہ فیسٹیول دیکھنے کے لئے ملتان آئے۔ ان کا اتنا شاندار استقبال کیا گیا کہ میری آنکھوں نے آج تک بڑے بڑے بادشاہوںیا غیرملکی حکمرانوں کا بھی نہیں دیکھا۔محاورتاً نہیںعملی طور پر انہیں پھولوں کے ہاروں سے لاد دیا گیا۔ تمام فنکاروں نے دل کھول کر ان کی پذیرائی کی۔ ہر فنکار نے گلاب کے پھولوں کے ہار انہیں پہنائے۔ استقبالیہ رو سے گزرتے ہوئے جب ہار اتنی تعداد میں ان کے گلے میں پڑ جاتے کہ گردن تک کور ہو جاتی تو وہ یہ ہار اتار دیتے اور پھر یہی منظر دوبارہ نظر آتا۔انہیں ہار پہنانے کا سلسلہ تادیر جاری رہا۔ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ بڑی بڑی سیاسی شخصیات آئیں۔ انہیں ملتان آرٹس کونسل کے پلیٹ فارم پر یہ پذیراتی نہ ملی ،جو ڈاکٹر خالدسعید بٹ کیلئے دیکھنے میں آئی۔ آخر کیوں؟ اس لئے کہ ڈاکٹر خالد سعید بٹ خود بھی ایک فن کار ہیں اور ٹی وی ڈراموں میں ان کے فنکارانہ جوہر پوری دنیا نے دیکھے ہیں۔ فن کاروں نے درحقیقت اپنی برادری کی ایک نامور ہستی سے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔ اس حقیقت سے انکارنہیں کہ نیشنل کونسل آف دی آرٹس کی باگ ڈورجب تک ڈاکٹر خالد سعید بٹ کے ہاتھوں میں رہی۔ یہ ادارہ انتہائی سرگرم اورفعال رہا۔ فن کی پذیرائی ہوئی۔ فن کاروں کی عزت افزائی۔ثقافت کی ترویج وترقی کے لئے منظم انداز میں کام کئے گئے۔ فن کار فن کے قدر دان ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ ماننا پڑے گا کہ ڈاکٹر خالد سعید بٹ کی عظمت اور ان کے کارناموں کو “سلام “کرنے کیلئے ملتان آرٹس کونسل کے پلیٹ فارم پر شاندار استقبال کے مظاہرے دیکھنے کو ملے۔ اگر اداروں کی سربراہی اس سے جڑی ہوئی دنیا کے باصلاحیت افراد کو سونپی جائے تو وہی نتیجہ نکلتاہے ،جو ڈاکٹر خالد سعید بٹ کے ڈائریکٹر جنر ل نیشنل کونسل آف دی آرٹس اور فخرالدین بلے کے ڈائریکٹر ملتان ٓرٹس کونسل بننے کے بعد دنیانے دیکھ لیا ہے۔
سید فخرالدین بلے کی یادوں کے دریا کو کوز ے میں سمیٹنا میرے بس کی بات نہیں۔ اقبال بانو ان کی قدردان تھیں۔ پٹھانے خان انہیں اپنا مان اور فن کاروں کیلئے سائبان کہتے تھے۔ ثریا ملتانی کران کی ثقافتی اور فنی خدمات کی معترف نظر آتی ہیں۔بے سروسامانی کے باوجود ڈرامہ فیسٹیول سجاکر فخرالدین بلے نے ثابت کر دیا کہ جذبے جوان ہوں اور انسان ہمت نہ ہارے تو تاج محل آج بھی بنائے جا سکتے ہیں۔
چوبیس روزہ جشنِ تمثیل 82ءکے بعد ایوارڈز اور انعامات بانٹنے کیلئے بڑی خوبصورتی کے ساتھ محفل سجائی گئی۔ چاروں طرف بڑے بڑے چارٹ آویزاں کئے گئے۔ ہر چارٹ پر ایک ڈرامے اوراس میں شریک فن کاروں کے نام جگمگا رہے تھے۔ کمشنر ملتان حسن رضا پاشا نے فن کاروں کی حوصلہ افزائی کی۔ فخرالدین بلے کے اس تاریخی کارنامے پر دل کھول کرداد دی۔کچھ عرصے بعد اسٹیج فن کاروں ،تخلیق کاروں اور ادیبوں نے ایک شام سید فخرالدین بلے کے نام کردی۔ جس میں مجلس ِ منصفین کے تمام ارکان، متعددادیبوں اور کئی تخلیق کاروں نے سید فخرالدین کی اسٹیج کیلئے خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر مقصود زاہدی نے جو مضمون پڑھا ،اس کا عنوان تھا۔سید فخرالدین بَلے محسن فن، آبروئے شعروسخن۔وہ رباعیات کے خوبصورت شاعر تھے ۔اس لئے اس موقع کی مناسبت سے چار مصرعے بھی پڑھے۔جومیری یادوں کی الماری میں اب بھی موجود ہیں۔آپ بھی سن لیجئے ۔کیا یاد کریں گے؟
فخرِ شعر و ادب، آبروئے سخن
محسن ِ فن سمجھتے ہیں ارباب ِ فن
بلے بلے سبھی کی زبانوں پہ ہے
ذات میں آ پ ہیں اپنی اِک انجمن
اس محفل میں سید فخرالدین بلے کو مین آف دی اسٹیج اور محسن فن کا خطاب دیاگیا۔فخرالدین بلے نے کہا یہ خطاب میں اسٹیج کی دنیا کے روشن ستاروں کے نام کرتا ہوں۔ آ پ کا شکریہ کہ آپ نے مجھے یہ عزت بخشی۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے دوست احباب ،اپنے سیکریٹری اطلاعات شیخ حفیظ الرحمان،کمشنرحسن رضا پاشا اور قومی ادارہ ثقافت اور خصوصاً اس کے سربراہ ڈاکٹر خالد سعید بٹ کابھرپور تعاون حاصل نہ ہوتاتو ہمارا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوتا بلکہ میں آپ کے سامنے آج شرمندہ ہوتا۔الحمد للہ ،! ملتان کے جوہرِ ِقابل کو آپ اور ہم دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ یہ پہلا قدم ہے۔ انشاءاللہ سفر جاری رہا تو مطلوبہ مقاصد ضرور حاصل ہوں گے۔
وقت گزرجاتا ہے، یادیں چھوڑجاتاہے۔ایک ہزار سالہ جشن شہنشاہیت ایران کے موقع پر نواں شہرملتان میں ملکہ فرح پہلوی پارک بنانے کی تجویز بھی سید فخرالدین بلے نے دی تھی۔شہنشاہ ِ ایران کاتاج چھناتو فرح بھی ملکہ نہ رہیں ۔فرح پارک کانام بدل کراقبال پارک رکھ دیاگیا،جوصاحبان ِحال کوبلے صاحب کی یاد دلاتاہے۔فرح پہلوی پارک نہ بنتاتو اقبال پارک بھی آج نواں شہرملتان کاحسن نہ ہوتا۔آرٹس کونسل کی کرائے کی عمارت میں بلے صاحب نے ایک “دریچہء صناعی” بھی بنوایا تھا،جسے آپ ملتان کے حسین ثقافتی ورثے کی ایک کھڑکی کہہ سکتے ہیں ۔اس میں ملتانی فن کاروں کی دستکاریاں ۔نقاشی اور کاشی گری کے خوبصورت فن پارے سجائے گئے تھے۔جشن تمثیل 82 کے موقع پر ایک بروشر بھی شائع کیاگیا تھا،جو ملتان میں ڈرامے اور ڈرامے کی تاریخ کے حوالے سے اہم دستاویزہے۔اس میں بلے صاحب کی ذہانت ،ان کی حکمت اور مقصدیت جھانکتی نظر آئی۔ڈرامہ فیسٹیول کے بعدمبارکبادوں کا سلسلہ جاری تھا کہ بلے صاحب نے اپنی نوعیت کی ایک انوکھی محفل سجاڈالی۔اربابِ علم و دانش کو دعوت دی اور کہاوہ ان خامیوں اور کمزریوں کی نشان دہی فرمائیں،جو جشن ِ تمثیل میں انہیں نظرآئیں تاکہ آئندہ ان خامیوں کودور کیاجاسکے اورآئندہ جب ایک اور جشن تمثیل ہوتو غلطیاں دہرائی نہ جائیں۔یہ مذاکرہ بھی بڑا بھرپور رہا۔
کہاں تک سنو گے ،کہاں تک سناوں۔
میں سوچ رہا ہوں کہ بلے صاحب نے کہاتھا کہ تم دیکھنا کہ اس ڈرامہ فیسٹیول سے اسٹیج کی ترقی کی راہیں ہموارہوں گی اور آج کے اسٹیج فن کار کل کو آسمانِ شہرت پر نمودار ہوں گے۔ جب میںزاہد سلیم، خالد سلیم بٹ، سہیل اصغر، محسن گیلانی، تاج حیدر سمیت دیگر فنکاروں کو ٹی وی ڈراموں میں دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ واقعی وہ ایسا کچھ دیکھ سکتے تھے،جو دوسروں کو نظر نہیں آتا تھا۔ آج ان کے خواب پورے ہو رہے ہیں۔ اسٹیج سے ابھرنے والے فنکار قومی سطح پر جگمگا رہے ہیں۔ اگر شہر شہر بلے ہوں تو جوہرِ قابل کبھی چھپا نہیں رہ سکتا۔
سید فخر الدین بلے ایک سچے اور کھرے انسان تھے۔ ایسا انسان ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا اور جب ملتا ہے تو زمانہ اس کی قدر نہیں کرتا۔ لِلّی پُشنز اس کا قد چھوٹا کرنے کی ناکام کوشش و کاوش ضرور کرتے ہیں مگر کیا کبھی کسی گلیور کو بھی مات ہوئی ہے؟یہی کچھ سیّد فخر الدین بلے کے ساتھ بھی ہوا مگر اس مرد جری نے تا حیات سنتِ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے عفو و درگزرکے گلدستے یوں بانٹے اور بکھیرے کہ جن کی مہک آج تک ہواﺅں اور فضاﺅں میں موجود ہے اور تا دیر موجود رہے گی۔
پروفیسر خالد پرویز نے یہ مضمون جشن تمثیل82 کی سلورجوبلی اورسیدفخرالدین بلے کی تیسری برسی پر2007میں لکھاتھا
لاہور میں قافلے کاسفر
تحریر : ڈاکٹرانورسدید
قافلے کی کیفیت بھی عجیب ہے ۔چلتا ہے تو چلتا ہی رہتاہے۔ رکتا ہے صرف اس لئے کہ اہل ِقافلہ چند لمحے درختوں کے نیچے سائے میں آرام کریں،کنویں کا مصفی ٰ ٹھنڈا پانی پئیں، حقے کا فرحت بخش کش لگائیں اورپھر تازہ دم ہوکر نئے جادے پرسرگرمِ سفر ہوجائیں، تین برس قبل فخرالدین بلے نے “قافلہ” کے پڑاوکا سلسلہ شروع کیا تو ان کے پیش نظر بھی یہی مقصد تھا کہ زندگی کی مشقت آزمائی میں مہینہ بھر مصروف رہنے کے بعد لاہور کے اہل ِ قلم ان کی رہائش گاہ پر جمع ہوں اور چند لمحے آلائشِ حیات سے کٹ کر شعروادب کی دنیا میں سانس لیں، اپنا کلام سنائیں، دوسروں کے کلام سے استفادہ کریں، افسانہ نگاروں سے افسانہ سنیں۔ سفرنگاروں کی رودادِ سفر میں شریک ہوں۔ نقادوں کی تنقیدی دریافتوں سے اثبات و اختلاف کے زاویئے نکالیں،ان دوستوں سے ملیں، جن سے مہینہ بھر ملنے کی آرزو بیدار رہتی ہے لیکن ملاقات کا موقع پیدا نہیں ہوتا۔ آخر میں میزبان کے دسترخوان پر چائے کافنجان نوش ِجاں کریں اور پھر اپنے اپنے رزم گاہِ حیات میں شریک ہونے کیلئے رخصت ہوجائیں۔ یہ سلسلہ گزشتہ تین برس سے اس طرح جاری ہے کہ اس میں کبھی ناغہ نہیں ہوا۔ حالانکہ نہ اس کا کبھی رسمی پروگرام اخبار میں چھپاہے، نہ کسی کوبطورِخاص اس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اس غیر رسمی محفل میں تکلف کو دخل اندازی کی اجازت نہیں تھی اور نہ اب ہے۔ کسی کا داخلہ ممنوع نہیں تھا اور نہ اب ہے۔ بات کرنے اور موضوع کو فٹ بال کی طرح اچھال کر دوسرے کی طرف پھینکنے کی روش پہلے بھی عام تھی اور ڈی میں داخل ہوکرگول کیپر کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور گول کرنے کی کوشش اب بھی عمل میں نہیں آتی، اب محفل سے لوگ رخصت ہوتے ہیں تومحض شعروادب کا گراں قدر اثاثہ ہی ساتھ لے کر نہیں جاتے بلکہ اگلے ماہ کی یکم کو پھر ملنے کی تمنا بھی ان کے دل میں موجود ہوتی ہے۔
“قافلہ“ کا ماہانہ پڑاوتقریب ِملاقات بھی ہے اور بہ ہمہ لحاظ یہ ایک ادبی محفل بھی ہے۔تین برس قبل اس کا آغاز ہواتو”خاک افتاد” اس میں ایک ادنیٰ سامع کی حیثیت سے شامل تھا اوراسے معلوم تھا کہ قافلہ کی روایت سرگودھا سے شرو ع ہوئی تھی ،جہاں پر ہرساتویں شام کو ادباءمرتضیٰ برلاس کی رہائش گاہ پر جمع ہوتے اور ہفتے بھر کا کاروباری زنگ اتارڈالتے، ہفتہ وار مجلس اس روایت ہی کی توسیع تھی۔ جس کی بنیاد ڈاکٹروزیرآغانے اٹھاون سول لائنزکی “شام ِدوستاں آباد” میں ڈالی تھی لیکن جب وہ اپنے گاﺅں واپس چلے گئے تو اس روایت کا سلسلہ دراز کرنے کیلئے مرتضیٰ برلاس اور فخرالدین بلے سرگودھاآگئے۔ پھر یہ روایت ملتان منتقل ہوگئی اور قران السعدین جب لاہور میں ہوا تو اس روایت کی تجدید یہاں پر ہوئی لیکن اب اس کی صورت یہ تھی کہ اس میں صرف لاہور ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے اردو لکھنے والے ادبا شامل تھے۔ میرا امتیاز یہی نہیں کہ میں نے قافلہ کی سب سے زیادہ محفلوں میں شرکت کی ہے ،بلکہ میرا افتخار یہ بھی ہے کہ مجھے یہاں بھارت،برطانیہ،امریکہ، کینیڈااورناروے جیسے ممالک میں آباد اردو ادیبوں سے ملنے اوران کے تخلیقات سے فیضیاب ہونے کا موقع بھی ملا ہے اور بے شمار ایسے ادیبوں سے بھی ملاقات ہوئی ،جس کا میں نام آشنا اور تخلیق آشنا تو تھا لیکن صورت آشنا نہیں تھا۔چنانچہ اگر کہاجائے”قافلہ ” نے ادب کے بہت سے سارسوں کو باہم ملانے اور انکا حلقہءاحباب وسیع کرنے میں بنیادی کردارادا کیا ہے تو یہ درست ہوگا لیکن اسے ایک یہ اضافی کریڈٹ بھی دینا پڑے گا کہ اس نے “ادب برائے ادب” یا”ادب برائے زندگی” کی بحث کو منفرد انداز میں ابھارنے کی بجائے “ادب برائے محبت”کو فروغ دیا اوریہ بات میں اس لئے عرض کر رہا ہوں کہ ادب اور زندگی کا ساتھ تو چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ادب کی چولی تو اس وقت پھٹتی ہے جب اس سے زندگی اپنا دامن شعوری طور پر چھڑانے کی کوشش کرتی ہے۔ زندگی کے مدکو ادب کے جزر سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قافلہ نے چونکہ ان دونوں کو یہاں اہمیت دی اور بے جا تنقید وناروا تنقیص سے اس مجلس کو بچائے رکھا، اس لئے یہاں “ادب برائے محبت” پروان چڑھتا رہا۔ اس جذبے کے تحت یہاں قاسمی صاحب کی سالگرہ منائی گئی اورکیک کو اس عقیدت سے کاٹا گیاکہ قافلہ کی تقریبات ”کیک تراشی“ کے بغیر نامکمل نظر آنے لگیں۔اس کا بالواسطہ مطلب یہ ہے کہ “قافلہ” نے اپنے جنتری کی یادداشت کو تازہ رکھا اورکیک کی موجودگی میں ادب کے غفلا کو کسی نہ کسی ادیب کی بھولی ہوئی سالگرہ کی خبر دی۔ قاسمی صاحب کی اس اولیت کا اعترا ف ضروری ہے کہ انہوںنے “قافلہ”کو لقمہ دہن کی ایک نئی لذت سے آشنا کیا۔ ادیبوں کی سالگرہ کا جشن منانے کی طرح ڈالی جو کیک مہنگے ہوجانے کے باوجود ابھی تک جاری ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ماضی قریب میں “قافلہ”نے ایک چھوڑ دو کیک کاٹے تھے۔دوادیبوں کی سالگرہ کے جشن منائے تھے۔
“قافلہ” کی ایک اور خصوصیت بھی سالگرہ کے جشن جیسی ہی ہے اوروہ ہے کسی ادیب کے ساتھ اس کی خصوصی صنف ِادب کے حوالے سے محفل کا انعقاد۔چنانچہ جب اصغر ندیم سید ایران کا دورہ کرکے واپس آئے تو ان سے ایرانی تھیڑاور ڈرامے کے بارے میں بات چیت کرنے کا اہتمام کیا گیا۔شہزاداحمدامریکہ سے لوٹے تو ان سے اس ملک کا غیرکتابی احوال سننے کے لئے ایک محفل منعقدکی گئی۔ڈاکٹر وزیرآغاکی شاعری کے سب مجموعے یکجاہوکرچہک اٹھی لفظوں کی چھاگل کی صورت میں سامنے آئے، پھر ان کی نئی طویل نظم”اک کتھاانوکھی“ شائع ہوئی تو ایک شام ان سے گفتگو اور نظم خوانی کے لئے وقف کی گئی۔ غیرملکی مصنفین کے لئے جو محفلیں برپا ہوئیں، ان میں سے گوپی چند نارنگ کی محفل کا ذکر ضروری ہے۔ نارنگ صاحب نے نہ صرف اپنے حالیہ خاص موضوع”ساختیات“ پرگفتگو کی بلکہ بھارت کی تہذیبی اور سماجی زندگی کے بارے میں بڑے ادیبانہ اندازمیں کھلی کھلی باتیں کیں اوربلے صاحب نے جب کشمیر کے مسئلہ پر بھارتی ادیبوں کے رویئے اور سردمہری کا سوال اٹھایا تو انہوں نے اس کا جواب بھی خندہ پیشانی سے دیا۔یہ بات میں خصوصی طورپر اس لئے عرض کر رہا ہوں کہ علی گڑھ سے ایک مہمان یہاں تشریف لائے تھے تو اس مجلس کے مستقل اسٹیج سیکرٹری سرفراز سید نے سیاسی سوال اٹھانے سے منع کردیا تھا لیکن نارنگ صاحب نے خود یہ دعوت دی کہ ان سے ہر قسم کا سوال پوچھاجاسکتا ہے۔ان کا موقف یہ تھا کہ پاکستان اور بھارت کے ادیب آپس میں کھل کر بات کیوں نہ کریں اور مغائرت کے پردے درمیان میں کیوں حائل رہیں ؟
ادیبوں کا رویہ پیشہ ور سیاستدانوں سے کیوں مختلف نہ ہو؟ اس زاویئے سے دیکھئے تو”قافلہ”کی محفل کو ایک ڈرائنگ روم مجلس کا درجہ بھی دیا جاسکتا ہے، جہاں ہر موضوع زیربحث آسکتا ہے اور دوست باہم مل کر انشائیہ کے انداز میں گفتگو کرسکتے ہیں۔
قافلہاب اپنی زندگی کے چوتھے برس میں قدم رکھ چکا ہے لیکن اس کے آغاز کو سرگودھا سے شمار کیجئے تو اس کا سن برس پندرہ یا سولہ کا ہونے والا ہے، یہ جوان رعنا بن چکا ہے۔بلے صاحب سے درخواست ہے کہ اگر انہیں اس کی شادی کا خیال نہیں آتا تو اس کیلئے ایک لیڈی سیکرٹری ضرور مقرر کردیں۔
لاہور میں قافلے کے تین سال مکمل ہونے پر ڈاکٹرانورسدید کی ایک جائزہ رپورٹ۔ ہفت روزہ آواز جرس ،لاہورسے ماخوذہے
لاہور میں قافلےکاپڑاو۔۔۔۔۔ ایک مستحکم روایت
اسرارزیدی کے قلم سے
سیدفخرالدین بلےنے لاہور کی ادبی فضاوں میں ہل چل مچا رکھی ہے۔ وہ اپنی ذات میں انجمن ہی نہیں “قافلہ” بھی ہیں اور ادبیتنظیم قافلہ ان کے ساتھ ساتھ رواں دواں ہے۔ قافلے کے ماہانہ پڑاو ان کی اقامت گاہ پر بڑی باقاعدگی کے ساتھ ہوتے ہیں اوراس کی آواز ِ جرس کی بازگشت دوردور تک سنائی دیتی ہے ۔قافلے کے پڑاوکا کوئی دعوت نامہ جاری نہیں کیا جاتا۔محض یاد دہانی کے لئے اطلاع دی جاتی ہے کہ یکم تاریخ کو قافلے کا پڑاوفخرالدین بلے کے گھر پر ہوگا۔ شاعر اور ادیب اس اطلاع پرکھچے چلے آتے ہیں۔اشفاق احمد، بانو قدسیہ، جاوید قریشی، صدیقہ بیگم، مرتضیٰ برلاس، میرزاادیب،ڈاکٹر اجمل نیازی، امجداسلام امجد،عطاءالحق قاسمی،احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر وزیر آ غا، ڈاکٹر انورسدید، طفیل ہوشیار پوری، سرفراز سید، سیماپیروز، نسرین ہاشمی، نورین طلعت عروبہ، حسن رضوی، سرفراز سید، جون ایلیا، شبنم رومانی، شہزاد احمد، جعفر شیرازی، علامہ شبیر بخاری، اسلم کمال، مستنصر حسین تارڑ، اظہر جاوید، یوسف حسن، ظفر علی راجا، ڈاکٹر خواجہ زکریا، ڈاکٹر وحید قریشی سمیت آسمان ِ ادب کے روشن ستاروں کی کہکشاں بلے صاحب کے ہال نما ڈرائنگ روم میں سجی نظر آتی ہے۔ خوب صورت شعری اور نثری تخلیقات سے ضیافت ِطبع کا بھرپور اہتمام کیا جاتا ہے۔ پڑاوکی روداد سے متعلق پریس ریلیزیں جاری نہیں کی جاتیں۔ البتہ “آوازجرِس” میں اس کی بھرپور بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اتنی بھرپور رپورٹنگ ہوتی ہے کہ ا ٓپ اسے پڑھ کر محفل میں خود کو شریک پاتے ہیں۔ آوازِ جرس ایک ہفت روزہ جریدہ ہے، جسے آپ سیاسی اور نیم ادبی جریدہ کہہ سکتے ہیں ۔اس کے بانی چیف ایڈیٹر بھی سید فخرالدین بلے ہیں۔
قافلے کی سرگرمیوں کی گونج سمندرپار پاکستانیوں تک پہنچ چکی ہے۔ اس لئے بھی کہ جو شاعر اور ادیب بیرون ملک سے داتا کی نگری میں وقتاً فوقتاً آتے ہیں۔وہ لاہورکے تاریخی مقامات اور عجائبات دیکھنے کے ساتھ ساتھ قافلے کے پڑاومیں بھی شرکت ضروری سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد، جوگندر پال، ڈاکٹر فوق کریمی، ڈاکٹر گوپی چند نارنگ، پروفیسر عزیز عالم، راجندر ملہوترا اور رام لعل کے ساتھ مل بیٹھنے کے بھرپور مواقع بھی اربابِ ادب کو انہی محفلوں میں میسر آئے اور اسے پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی طرف پیش قدمی قراردینا بے جا نہ ہوگا۔
مشفق خواجہ کے ساتھ بھی قافلے نے پڑاءو ڈالا۔وہ گھنٹوں اہل ِ علم وادب کی توجہ کامرکزبنے رہے۔شکیب جلالی اور آنس معین پر انہوں نے بڑی خوبصورت گفتگو کی۔اوربلے صاحب کومخاطب کرکے یہ بھی کہاکہ ہم شکیب کی طرح آنس کومرنے نہیں دیں گے اور مرنے کے بعد جو کچھ شکیب جلالی کے ساتھ ہوا،وہ آنس کے ساتھ نہیں ہونے دیاجائےگا۔انہوں نے آنس کی شاعری میں بڑے نئے زاوئیے تلاش کرکے حاضرین کو چونکادیا۔کاش مشفق خواجہ کی اس خوبصورت گفتگو کوریکارڈ کیاجاسکتا۔کاش اس وقت کوئی ٹیپ ریکارڈر یامووی کیمرہ ہوتاتو آپ کوپتہ چلتاکہ انہوں نے علم وعرفان کے دیپ جلاکربجلی کی لوڈشیڈنگ کے دور میں ہرطرف اجالا بکھیردیاتھا۔یہ فکری روشنی آج بھی میں اپنے ساتھ محسوس کررہاہوں۔میں جب بھی قافلے کے کسی پڑاومیں شریک ہوتاہوں تو مجھے لگتاہے مشفق خواجہ کی گفتگو کااجالا اب بھی ان محفلوں میں موجودہے۔
قافلے کے پڑاو کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ اس میں کسی ادیب یا شاعر کے خلاف لب کشائی نہیں ہوتی۔ کسی ادبی گروپ کی مخالفت نہیں کی جاتی۔کسی مخصوص ادبی لابی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوتا۔ سب شاعروں اور ادیبوں کو یکساںاہمیت ملتی ہے۔ ان کی پذیرائی ہوتی ہے۔ ان کے کام اورکلام کو سراہا جاتا ہے۔ ان کی تخلیقات سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور ان میں محبتیں بانٹی جاتی ہیں۔ فخر الدین بلے کے گھر کے دروازے شاعروں اور ادیبوں کو ہمیشہ کُھلے ملتے ہیں۔ لاہورادبی مرکز ہے۔ لوگ محفلوں کے رسیا ہیں ۔بلاشبہ فخرالدین بلے نے قافلے کو رواں دواں رکھ کر انہیں ایک نئے ذائقے اور لذت سے روشناس کرایا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قافلے کی باقاعدگی کے ساتھ پڑاوکی روایت مستحکم ہوگئی ہے اور وہ بھی اتنی کہ لاہور کی ادبی سرگرمیوں کاذکر قافلے کے سفر اور اس کے پڑاوکے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔
(قافلے کے سفرکے 4سال مکمل ہونے پر قافلے کےایک پڑاءو میں اسرارزیدی کا اظہارِ خیال )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سَیّد فخرالدین بَلّے کے ادبی نقوش
تحریر:شبنم رومانی
سَیّد فخرالدین بَلّے نے اپنے اندرکابراعظم تودریافت کرلیاہے۔اس براعظم میں کتنے جہان آباد اور کتنے خزائن مخفی ہیں ،اسکاسراغ ان کی تخلیقات کے ذریعے ہی لگایاجاسکتاہے۔ شاعر، ادیب، اسکالر، دانشور، محقق، مولف، خطیب اورماہر ِ تعلقات عامہ کی حیثیت سے انہوں نے اپنے جوہردکھائے۔شہرشہر محفلیں سجائیں۔فنون و ثقافت کی ترویج و ترقی کےلئے قابل ِقدرخدمات انجام دیں،جنکے اعتراف میں انہیں محسن ِ فن اور مین آف دی اسٹیج کے خطاب سے بھی نوازاگیا۔
سَیّد فخرالدین بَلّے کی شخصیت کثیرالجہت اوران کی شاعری کئی ادوار پرمحیط ہے۔نظموں میں بلاکازور ِ بیان ہے۔منظرنگاری کے ساتھ ساتھ حسن ِ فطرت کی خوبصورت مصوری بھی کی ہے۔ان کی غزل کاکینوس بڑاوسیع ہے۔میں نے ان کی بیاض کے ساتھ سات دن گزارے ہیں ۔وہ کہیں تصوف کے اسرار ورموز کھولتے نظرآئے،کہیں حکمت و دانش کے ساتھ بولتے نظرآئے۔کہیں اپنی شاعری میں بہت سے سوال اٹھائے ا ورکہیں خود ہی ان کے جواب دے کرلاجواب کردیا۔یہ شاعری دعوت ِ فکر دیتی ہے ۔تشنگان ِ ادب و معرفت کی پیاس بجھاتی اور ذوق کی تسکین کاسامان بہم پہنچاتی ہے۔سَیّد فخرالدین بَلّے کاکلام ان کی وسیع العلمی ،قادرالکلامی،ژرف نگاہی،نفاست پسندی،زبان و بیان پراستادانہ مہارت اور فکرو خیال کی بلندی کا آئینہ دارہے۔
ادیبوں اور شاعروں کاقافلہ انکے گھرپرہرمہینے کی یکم تاریخ کوپڑاوڈالتاہے۔بڑے بڑے ادبی ستاروں کی کہکشاں انکے آنگن میں سجی نظرآتی ہے اور قافلے کے سفر اور پڑاوکی بازگشت ہمیں انکے مجلے آواز ِ جرس میں سنائی دیتی ہے۔انہوں نے قافلے کاخصوصی پڑاو میرے اعزاز میں بھی ڈال کرمیری عزت افزائی کی۔
سیدفخرالدین بَلّے نے جس جس شعبے میں قدم رکھا،وہاں گہرے نقوشچھوڑے ہیں۔ عمرنے وفاکی تومیں نہیں اپناموضوع ضرور بناوں گا۔
تحریر: شبنم رومانی
سیدفخرالدین بلے کے کلام کی جھلکیاں
اس خوبصورت کتاب “سیدفخرالدین بَلّے ۔ایک آدرش ۔ ایک انجمن” کا دوسرا حصہ منتخب شاعری پر مبنی ہے، اس حصے میں سیدفخرالدین بَلّے کی نعتیں، مناقب ، سلام، غزلیں، پابند نظمیں ،آزاد نظمیں ، قطعات اور ہائیکو شامل ہیں ۔دیگراصناف ِ سخن میں بھی بلے صاحب کے فکرانگیز کلام کی جھلکیاں آئندہ صفحات میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیے۔
نعت
ہے خوفِ خدا اُن کو خدا کہہ نہیں سکتے
کچھ اور مگر اس کے سوا کہہ نہیں سکتے
اِلّا کو اگر لا سے جدا کہہ نہیں سکتے
حق بات بہاندازِ ثنا کہہ نہیں سکتے
وہ ذات جو مطلوب ہے ، طالب بھی ، طلب بھی
کہنا جو اسے چاہیں تو کیا کہہ نہیں سکتے
او ادنی و قوسین کی منزل ہے معما
انساں کو تو ہم عرش رسا کہہ نہیں سکتے
کیوں “میم “کے پردے میں ہوئی حمد کسی کی
کیااس کو بھی شوخیء ادا کہہ نہیں سکتے
الفاظ جھجکتے ہیں ، لرزتے ہیں معانی
کچھ اور بجز صلِ عَلیٰ کہہ نہیں سکتے
سیدفخرالدین بَلّے
نعتِ رسولِ مقبولﷺ
اول و آخر ، رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم
حُسنِ سراپا، عشقِ مجسِّم صلی اللہ علیہ وسلم
مظہرِ نُورِ ذاتِ الٰہی ، سرِ علوم و رازِ خُدائی
ہادیٔ برحق ، رہبرِ اعظم، صلی اللہ علیہ وسلم
روئے منور ، سیرتِ اطہر، شافعِ محشر، ساقئی کوثر
تم ہو جمالِ روحِ مکرّم صلی اللہ علیہ وسلم
خلق تمہارا کامل واکمل ، ذات تمہاری اشرف و افضل
تم سے مفخّر اُمتِ آدم صلی اللہ علیہ وسلم
روحِ اخوت ، وجہِ محبت ، شمعِ ہدایت ، شانِ نبوت
ارفع و افضل ، سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم
مہرِ گدایاں ، لطفِ یتیماں ، مُحسنِ انساں ، عاشقِ یزداں
شانِ خودی و فخرِ ِدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم
وارثِ ایماں، چشمئہ عرفاں، مہرِ درخشاں، صاحبِ قرآں
شانِ یقیں ،ایقانِ مُسلم صلی اللہ علیہ وسلم
ماہِ فروزاں، نیرِِّ تاباں، نعمتِ یزداں، دلبرِ رحماں
تم سے مشرف عرشِ معظم صلی اللہ علیہ وسلم
شوق کا عالم اللہ اللہ، عشق ِ محمد بلّے بَلّے
نورِ نبی ہے وجہ ِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم
سیدفخرالدین بَلّے
منقبت ِ علی المرتضیٰ ؑ
مرا سفینۂ ایماں ہے ، ناخدا بھی علی ؑ
مری نماز علی ؑ ہے ، مری دعاءبھی علی ؑ
وجود و واجد و موجود و ماجرا بھی علیؑ
شہود و شاہد و مشہود و اشتہا بھی علیؑ
ہے قصد و قاصد و مقصود و اقتضا بھی علی ؑ
رضا و راضی ، رضی اور مرتضیٰ ؑ بھی علیؑ
مرے لئے ہیں سبھی اجنبی علی ؑ کے سِوا
مرے لئے تو ہے تمہیدِ اقرباءبھی علیؑ
ہے اُس کی ذا ت میں مرکوز عصمتِ تخلیق
ابو لائمہ بھی ہے ، زوجِ ِفاطمہؓ بھی علیؑ
اَبو ترابؑ و شرف یابِ آیۂ تطہیر
ہے راز دارِ حِرا و مباہلہ بھی علیؑ
وہی مسیحؑ کا ایلی ہے ، خضرؑ کا رہبر
وہی ہے شیرِ خدا ، موسویؑ عصا بھی علیؑ
وہی ہے نقطۂ باء اور مُعلّمِ جبریلؑ
ہے بابِ علم بھی اور حجّتِ خدا بھی علیؑ
حنین و بدر و اُحد ہوں کہ خندق و خیبر
ہے کار ساز و ید اللہ ولا فتی بھی علی ؑ
خدا کے گھر میں ولادت ہوئی شہادت بھی
خدا کے گھر میں ہے بردوشِ مصطفی بھی علی ؑ
نمازِ عصر کی خاطر پلٹ گیا سورج
ہے قیدِ عصر سے والعصر ماورا بھی علی ؑ
وہ ذوالعشیر کا داعی ، ” خلیفتی فیکم “
شریکِ عقدِ مواخاتِ مجتبیٰ بھی علی ؑ
ملیکِ اَمر ، ولایت پناہ ، ظلِ اِللہ
عطا وجود و سخا ، فقر کی رِدا بھی علی ؑ
ہے رازِ کن فیا کوں ، مظہر العجائب ہے
کہ انتہا ہے علی ؑ اور منتہیٰ بھی علی ؑ
سیدفخرالدین بَلّے
حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کے لئے
حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کیلئے
الٰہی ! کون مٹادین کی بقا کیلئے
یہ کس نے جامِ شہادت پیا وفا کیلئے
یہ کس نے کردیا قربان گھرکاگھراپنا
یہ کس نے جان لُٹا دی تری رضا کیلئے
حسین ہی کی ضرورت تھی کربلاکے لئے
ہنوز تشنہ تھی روحِ پیامِ ربِ جلیل
ہنوز تشنہ و مبہم تھی زندگی کی دلیل
ہنوز تشنۂ تکمیل تھا مذاق ِ خلیل
حصولِ مقصدِ تعلیمِ انبیاء کیلئے
حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کیلئے
قیامِ فصلِ بہاراں کا کام باقی تھا
علاجِ ِ تنگیٔ داماں کا کام باقی تھا
ابھی نقادتِ ایماں کا کام باقی تھا
شعورِ حکمتِ قرآں کی انتہا کیلئے
حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کیلئے
بھٹک رہا تھا اندھیروں میں کاروانِ رسول
اسیرِ دامِ مصائب تھا خاندانِ رسول
امیرو حاکم و سلطاں تھے دشمنانِ رسول
تحفظِ حرم و دینِِ مصطفیٰ کیلئے
حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کیلئے
اسیرِ حلقۂ دشمن تھے مہوشانِ حرم
اجڑ رہے تھے خٰیابان و گلستانِ حرم
بنے ہوئے تھے سیہ کار پاسبانِ حرم
حرم کی حرمت و تقدیس کی بقا کیلئے
حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کیلئے
حیا کا نام مٹا جارہا تھا دنیا سے
وفا کانام مٹا جارہا تھا دنیا سے
خدا کا نام مٹا جا رہا تھا دنیا سے
فروغِ سنت ِ و پابندیٔ وفا کیلئے
حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کیلئے
فنا سے دست و گریباں تھا زندگی کا وقار
ملا رہی تھی ہوس خاک میں خودی کا وقار
سوالِ عظمتِ خاکی تھا آدمی کا وقار
عروجِ ِ آدمِ خاکی کی انتہا کیلئے
حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کیلئے
سیدفخرالدین بَلّے
نزول ِقرآن
چار سو جلوۂ لَولَاکَ لَما رقص میں ہے
والقلم ! سلسلۂ ارض و سما رقص میں ہے
لیلة القدر میں خورشید بکف ہے جبریلؑ
جبل النُور پہ خود نورِ ہدیٰ رقص میں ہے
صبحِ تہذیبِ طریقت کی اذاں سے پہلے
ہمہ تن کار گہِ قدر و قضا رقص میں ہے
عرشِ اعیان کی لے فرش ِزمیں تک پہنچی
سازِ اقرا پہ شبستانِ حرا رقص میں ہے
وجد میں عالمِ امکاں ہی نہیں ہے ، والعصر
اپنے نغمات پہ خود نغمہ سرا رقص میں ہے
عالمِ وجد میں ہے ارضِ فلسطین و حجاز
آج پھر وادیٔ مروا و صفا رقص میں ہے
قلبِ امیّ پہ اتر آئی کتابِ محفوظ
للہ الحمد براہیمی دعا رقص میں ہے
ذات سے اٹھ گئے جب سارے حجابات ِصفات
دیکھا ” اِلا “ کو کہ درپردۂ لا رقص میں ہے
جس کو ہونا ہے شرف یابِ ردائے تطہیر
خرقَہ فقر پہ راضی بہ رضا رقص میں ہے
کافتہ الناس ہے سرچشمۂ عرفانِ وجود
دوشِ رحمت پہ رسالت کی رِدا رقص میں ہے
جھوم اٹھا تھا جسے دیکھ کے خود نورِ ازل
آج وہ حسنِ ازل صلِ علیٰ رقص میں ہے
نظم۔۔۔۔۔آگ ۔۔۔۔۔۔۔
(مسجد کی اقصیٰ کی آتشزدگی سے متاثر ہو کر )
قرآں سے دھوأں سا اٹھتا ہے اور عرشِ بریں تھراتا ہے
اللہ ! وفور ِغیرت سے نبیوں کو پسینہ آتا ہے
وہ قبلۂ اول منزل تھی ، معراج کی شب جو احمد کی
وہ مسجدِ اقصیٰ جلتی ہے ، ایمان شہادت پاتا ہے
وہ تین سو تیرہ تھے جن سے تقدیرِ امم تھراتی تھی
ہم پون ارب ہیں جن کا سر ہر گام پہ جھکتا جاتا ہے
تھے صرف بہترّ جن کا لہو معراجِ ِشعورِ ہستی ہے
محرابِ شفق پر جن کا علم ہر شام و سحر لہراتا ہے
سرکارِ دو عالم کی امت، اللہ کے ضیغم کے پیرو
دلگیر ہیں ، گرگِ صیہونی اندازِ شنا دہراتا ہے
…………
ہم وہ ہیں کہ جن کی تکبیریں گونجی ہیں سوادِ عالم میں
ہم وہ ہیں کہ جن کے کلمے سے اصنامِ جہاں لرزیدہ ہیں
ہوں بدر و احد یا خیبر ہو یا واہگہ اور چونڈہ ہوں
ہم وہ ہیں کہ جن کی ہیبت سے کفارِ جہاں ترسیدہ ہیں
کیا سوچ کے ہم پر بھونکے ہیں غیلانِ سگانِ صیہونی
مجروح اسادِ خفتہ بھی دمبازوں سے بالیدہ ہیں
…………
ایثار و شجاعت کے خوں سے پھر باب رقم کرنا ہو گا
شبیر کی سنت پر چل کر جینے کے لئے مرنا ہو گا
رندانِ خمستانِ ملت ! ناوک بہ گلو اصغر کی قسم
میخانہ ء دیں میں شہ رگ سے ہر جامِ وفا بھرنا ہو گا
…………
ہے اپنا علم کالی کملی اور ابنِ علی کا پیراہن
دستارِ علی ؑ ء شیرِِ خدا ، عابد کے گلے کے طوق و رسن
ہم ہاتھ میں لے کر یہ پرچم ہر دشمنِ دیں پر ٹوٹیں گے
اے قبلہ اول تیرے لئے باندھیں گے سروں سے اپنے کفن
اے مسجدِ اقصیٰ تیرے لئے ہم خون سے ہولی کھیلیں گے
ہم رزم و وِغا کے عادی ہیں ، ہے جان گنوانا اپنا چلن
…………
سیدفخرالدین بلے
مٹی کا قرض
اس دھرتی کی ہر شے پر ہے اس مٹی کا قرض
میرے لئے ہے فرض سے پہلے اس مٹی کا قرض
کیوں نہ دھرتی سیوا کرکے خون پسینہ بوئیں
ممکن ہے کچھ کم ہو جائے اس مٹی کا قرض
اکِ مدت سے دیکھ رہی ہیں میری بھیگی آنکھیں
بڑھ جاتا ہے جب مینہ برسے اس مٹی کا قرض
پیا ملن کو مانگ رہی ہے دھرتی ہار سنگھار
کم کر دیں گے سبز دو شالے اس مٹی کا قرض
میرے لئے جب بارِ امانت ہے شانوں پر سر
سر سے میرے کیسے اترے اس مٹی کا قرضِ
ارضِ وطن سے پوچھو ہم سب ہیں کب سے مقروض
پنجند نے تو اب مانگا ہے اس مٹی کا قرض
جہلِ خرد کے اندھیاروں میں گھٹ تو سکتا ہے
پلکوں پہ جلدیپ سجا کے اس مٹی کا قرض
قوم کو گروی رکھنے والو ، خوب چکایا ہے
مٹی کا کشکول بنا کے اس مٹی کا قرض
روز و شب مقروض ہیں میرے ، سانسیں تک مقروض
مجھ کو تو ورثے میں ملا ہے اس مٹی کا قرض
جیتے جی ہے اس مٹی کا قرض چکانا مشکل
بڑھ جائے گا قبر میں جا کے اس مٹی کا قرض
بازیافتنظم
ہے رتجگے شب کی زندہ داری
ہے میرا مسلک ،مری طریقت
وجود کی ان کہی حکایت
خود آگہی اور رقصِ حیرت
تلاش درپردہء مشیت
وصال کی کیفت زابشارت
بنی ہوئی ہے مری ضرورت
مجھے نہ سونے کا شوق کب ہے؟
سکون کھونے کا شوق کب ہے؟
مری تو نیندیں اُڑی ہوئی ہیں
تضادِ ابہامِ آگہی سے جڑی ہوئی ہیں
میں دھیان جنگل میں گھر گیا ہوں
جہاں بلائیں کھڑی ہوئی ہیں
اک ایسا جنگل کہ جس کے باہر
عقیدوں ، رسموں ، روایتوں کی
بہت سی چھوٹی بڑی صلیبیں
گڑی ہوئی ہیں
میں شام ِجلوت میں حسبِ توفیق
تاش، شطرنج کھیلتا ہوں
تضادِ آراء سے فیض پانے کو
باتیں سن کر
بھڑاس دل کی نکالتا ہوں
خطائیں کرتا ہوں
ملتا جلتا ہوں
وقت اپنا گزارتا ہوں
مگر میں یہ بات مانتا ہوں
کہ شامِ جلوت میں بیٹھ کربھی
میں چاہتا ہوں کہ رات بھیگے
میں اپنی خلوت میں آکے بیٹھوں
میں اپنی قیدِ بدن سے نکلوں تو خود کو پاؤں
میں چاہتا ہوں
کہ شام ِطوفاں میں کشتی لیکر
ہر ایک خوش باش کو بچاؤں
میں آذری کا گھمنڈ توڑوں
میں لامکاں کا مکاں بناؤں
ملے سلیماں کا تخت مجھ کو
توحدابد تک کی دیکھ آؤں
میں طور دیکھوں تو روشنائی لوں
برق مٹھی میں لے کے اتروں
صلیب پر چڑھ کے خیر بانٹوں
اندھیرے چھانٹوں
حراسے نسبت یہ چاہتی ہے
کہ بابِ حکمت پہ بیٹھ جاؤں
اُدھرسے کوئی پیام آئے
پیام روح الامین لائے
اور اسکے ذریعے
میں اپنے اشکوں کے جام بھیجوں
سلام بھیجوں
اور اس سے پہلے کہ خوں چکیدہ سحر کو دیکھوں
حجاب اٹھے
میں خودکودیکھوں
میں خود کو جانوں
میں خود سے بولوں
میں خود کو تولوں
میں خودکوسمجھوں
میں خودکوپرکھوں
میں خود کو سوچوں
میں خود کو لکھوں
میں خود کو ڈھونڈوں
میں خود کو پاؤں
سید فخرالدین بلے
نظم ۔ سالگرہ کا تحفہ
میں تری سالگرہ پراے دوست
یہ بتا کون سا تحفہ بھیجوں
میری خواہش تو یہی ہے کہ تری دعوت پر
سر کے بل چل کے میں خود جاؤں جنم دن پہ ترے
ایک دلہن کی طرح تجھ کو سجانے کیلئے
تیری خوابیدہ امنگوں کو جگانے کیلئے
عید ِمیلاد کی اِک رسم سمجھ کر اس کو
بالارادہ تجھے سینے سے لگانے کیلئے
تیری طرح مِری مجبوری بھی یہ ہے لیکن
میں تیری بزم میں جاؤں گاتو سب دیکھیں گے
ناشکیبائی کا چرچا ہوگا
جس سے میرا ہی نہیں تیرا بھی دل ٹوٹے گا
اس لئے میں نے یہ سوچا ہے کہ بہتر ہے یہی
میں تری سالگرہ پر اس بار
خودنہ جاؤں کوئی تحفہ بھیجوں
اور اب توہی بتادے مجھ کو
کیا کروں ؟کون سا تحفہ بھیجوں
بھیجوں گہراب جو آنکھوں میں چُھپا رکھے ہیں
یاوہ جلدیپ جو پلکوں پہ سجارکھے ہیں
یا تجھے اَدھ کھلی کلیاں بھیجوں
کہ تو خود دیکھ سکے حالتِ دل
پھول بھیجوں جوسرِنیزہ ء شاخ
چاک دامان و دریدہ تن ہیں
یاتری سالگرہ پر اے دوست
میں تجھے سب سے چھپانے کیلئے
خلوتِ شب میں بُلانے کیلئے
قیس کی رسم نبھانے کیلئے
تجھے الفاظ کا محمل بھیجوں
جس میں لیلی ء مُعانی کب سے
بیٹھی ہے تیری ہی طرح خاموش
یا تجھے چاند کی کرنیں بھیجوں
جوترا نام جپاکرتی ہیں
میری پلکوں کی طرح
آبپاروں کا سہارالے کر
دھیان کے چہرے پہ انجانے سے رسم الخط میں
کوئی افسانہ بیداد لکھاکرتی ہیں
خواب بھیجوں جو ادھورے ہیں ابھی
چشمِ بے خواب میں مشکل سے اتارے ہیں ابھی
یا تجھے رانجھاکی ونجلی بھیجوں
جو بجے ہیرکی پائل کی طرح
کیونکہ مقصودنہیں تجھ کو پشیماں کرنا
تشنہءآرزو و اشک بداماں کرنا
کیوں نہ بھیجوں میں تجھے تیرے بدن کی خوشبو
جو مرے شانوں پہ محفوظ ہے یادوں کی طرح
جو مہکتی ہے ہمہ وقت بہاروں کی طرح
خلوتِ شب میں دمکتی ہے ستاروں کی طرح
یہ بھی ممکن ہے کوئی شعر کہوں
اوراس شعر کے پردے میں تجھے
دل کا پیغام ِ محبت بھیجوں
جشن ِتعریس کی دعوت بھیجوں
شعرگوئی سے مگر اس لئے ڈر لگتا ہے
ناشکیبائی بڑھی جو حد سے
شعرسرچنگ بھی ہوسکتا ہے
ایک سرہنگ بھی ہوسکتاہے
قافیہ تنگ بھی ہوسکتا ہے
آخرش میں نے یہ سوچا ہے کہ دوست
میں تری سالگرہ پر اس بار
تجھ کو اِک بند لفافہ بھیجوں
جس میں اِک سادہ ورق ہو،جس پر
توجو چاہے تو مجھے لکھ بھیجے
مل گیا ہے تجھے تحفہ میرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
6ستمبر
(ایک نظم 65 کی پاک بھارت جنگ پر )
چھ ستمبر کی سحر لائی تھی ظلمت کا پیام
وحشت و حیوانیت کا بربریت کا پیام
بھارتی سینا نے شب خوں مار کر لاہور پر
اہل ِایماں کو دیا قربِ قیامت کا پیام
۔۔۔
دُھن پہ توپوں کی اہنسا کے بھجن گاتے ہوئے
سوتے شہروں پر بموں کے پھول برساتے ہوئے
رات کو پچھلے پہر “پربھات پھیری” کےلئے
سورما! آئے لہو اشنان کرواتے ہوئے
۔۔۔۔
امتیازِ حق و باطل کو مٹانے کےلئے
آٹھ صدیوں کا ہر اک قرضہ چکانے کےلئے
بھارتی اور جنگ بازی توبہ توبہ‘ رام رام
آئے تھے وہ پاک بھارت کو ملانے کےلئے
۔۔۔۔
شرمیں پنہاں خیر تھا اور حق کی عظمت کا پیام
جرأت و پامردمی و عزم و شجاعت کا پیام
شکر ہے رب کا ہمیں بھارت کے اس شب خون سے
مل گیا بیداری و تنظیم ِ ملت کا پیام
۔۔۔
اپنی کثرت اور طاقت پر وہ نازاں تھے اُدھر
اہلِ ایماں بے نیاز ِسازوساماں تھے اِدھر
دیدنی تھا درحقیقت منظرِ میدانِ جنگ
وہ بھی حیراں تھے اُدھر اور ہم بھی حیراں تھے اِدھر
۔۔۔۔
ٹینکوں کے سامنے ہم ہو گئے سینہ سپر
ہر جواں باندھے ہوئے تھا جان دینے پر کمر
منظرِ کرب و بلا تھا شہر میں اقبال ؒ کے
اُڑ رہا تھا رفعتوں پر پرچم ِخیرالبشر
۔۔۔۔
پی رہے تھے حق کے متوالے شہادت کے سبو
راہِ حق میں جان دے کر ہو رہے تھے سرخرو
سرزمینِ پاک کے جانباز، حق کے پاسباں
پڑھ رہے تھے کلمہء حق خون سے کر کے وضو
۔۔۔۔
مصطفی و مرتضیٰؓ و فاطمہؓ کے نورِعین
منتظر تھے حوضِ کوثر پر شہیدوں کے حسینؓ
آ رہی تھی سبز گنبد سے ندائے الجہاد
غزوۂ لاہور تھا ہمرشتۂ بدروحنین
۔۔۔۔
ہاتھ میں لے کر اُٹھے تھے ہم صداقت کا علم
خود ارادی اور انسانوں کی عظمت کا علم
دیکھ لیں اہل ِ نظر اب بھی شفق کے رنگ میں
اُڑتے ہیں شام و سحر شوقِ شہادت کے علم
۔۔۔۔
اُن کے بکتربند دستوں، ٹینکوں کی دھجیاں
ہر طرف بکھری پڑی تھیں “ہنٹروں” کی دھجیاں
معجزہ اک ہو رہا تھا ہر محاذِ جنگ پر
اُڑ رہی تھیں چودھری کے “ارجنوں” کی دھجیاں
۔۔۔۔
شانتی کی بھیک ڈر کر مانگتی سینا کا حال
سر پہ رکھ کر پاؤں رَن سے بھاگتی سینا کا حال
سامراجی ناخداؤ آؤ آ کر دیکھ لو
اپنے آلاتِ حرب اور بھارتی سینا کا حال
۔۔۔۔
یُدھ کرتے ہی ظفر مندی کے دعوے کیا ہوئے
ہند میں لاہور پر قبضے کے چرچے کیا ہوئے
بھارتی آکاشوانی آج کیوں خاموشی ہے
بج رہے تھے چھ ستمبر کو جو ڈنکے کیا ہوئے
۔۔۔۔
اپنی پسپائی سے “رَن کچھ” میں تو پچھتائے تھے تم
اب بتاؤ کس کی شہ تھی ؟کس پہ اِترائے تھے تم
بھول کر تاریخ اپنی جنگ کرنے کےلئے
سورماؤ! یہ بتاؤ کس لئے آئے تھے تم
۔۔۔۔
جیتنے آئے تھے تم جب ارضِ پاکستان کو
رو رہے تھے کس لئے پھر چھمب و راجستھان کو
اپنی کثرت اور ہتھیاروں پہ تھا جب تم کو مان
یُدھ میں پھر کیوں بچاتے پھر رہے تھے جان کو؟
۔۔۔۔
حق کی خاطر کھیل جائیں گے ہم اپنی جان پر
بچہ بچہ جان دے دے گا وطن کی آن پر
چھمب ، واہگہ اور چونڈہ کے شہیدوں کی قسم
آنچ ہم آنے کبھی دیں گے نہ پاکستان پر
سیدفخرالدین بَلّے
ملتانِ مَا نظم ۔۔
تاریخ سے پہلے کے زمانوں میں بھی ملتاں
تھا زندہ و رخشندہ و تہذیب بداماں
دنیا کے ہنر مند و سلاطینِ زمانہ
صدیوں رہے اس شہر کے منتِ کشِ احساں
جو اس کی قدامت پہ جھگڑتے ہیں، وہ سُن لیں
رِگ وید ہے اس شہر کی تہذیب پہ نازاں
اور اس کی جلالت کا یہ عالم تھا کہ لاہور
تھا عہد میں ہجویریؒ کے اک قریۂ ملتاں
در آئے جو اس شہر میں سورج کے پجاری
پر ہلاد کو بخشا گیا توحید کا عرفاں
ولیوں کا مدینہ اسے کہتے ہیں کہ یہ شہر
ہے جلوہ گہِ منزلتِ خاک نشیناں
یہ شہر بنا غزنوی سلطاں کے عہد میں
اردو سی جہانگیر زباں کا جنم استھاں
اِدخالِ سکندر ہو کہ تاتار کی یلغار
ہر عہد میں یہ شہر رہا آشتی ساماں
آزادی کی تحریک میں اس شہر کے فرزند
ایثار کا پیکر بنے ، ہوتے رہے قرباں
ملتان ہی میں کارگزارانِ وطن نے
دریافت کئے ایٹمی تسخیر کے ساماں
تصویر کا یہ رخ تو بہت خوب ہے لیکن
کر دیتا ہے پر دوسرا رخ سر بہ گریباں
اَسبابِ زبوں حالی پہ کچھ غور تو کیجے
ہم چار سو برسوں سے ہیں کیوں اشک بداماں
پنجند کے تموّج کا تقاضہ ہے یہ ہم سے
یکجا کریں تہذیب کے اوراقِ پریشاں
دھرتی کو جو ہم اپنی عرق ریزی سے سینچیں
ہو سکتا ہے شاداب خزاں دیدہ گلستاں
سیدفخرالدین بَلّے
تسخیر نظم
خلاء کی تسخیر کرنے والو
سنا ہے تم چاند دیکھ آئے
کئی ارب ڈالروں کے بدلے
قمر کی مٹّی سمیٹ لائے
……..
خلاءکی تسخیر کرنے والو
قمر کی تسخیر صد مبارک
جو خوابِ آدم کو تم نے بخشی
وہ زندہ تعبیر صدمبارک
……..
خلاء کی تسخیر کرنے والو
یہ کارنامہ عظیم تر ہے
تمہاری ان کوششوں سے قائم
جلالتِ عظمتِ بشر ہے
……..
خلاء کی تسخیر کرنے والو
بتاؤ کیا تم نے یہ بھی سوچا
تمہاری دنیا کا حال کیا ہے؟
زمیں پہ ہے ایک حشر برپا
…….
خلاء کی تسخیر کرنے والو
کرو گے کیا مہ کی خلوتوں میں؟
ہزاروں انساں سسک رہے ہیں
تمہاری اپنی ریاستوں میں
……..
خلاء کی تسخیر کرنے والو
دھواں زمیں سے نکل رہا ہے
دھماکے ایٹم کے ہو رہے ہیں
وجودِ انساں پگھل رہا ہے
……..
وہ دیکھئے قافلہ ہمارا
نجوم و مہ سے گزر رہا ہے
خلاء کی تسخیر ہو رہی ہے
زمیں پہ انسان مر رہا ہے
سیدفخرالدین بَلّے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیدفخرالدین بَلّے کی آزاد نظم ۔
ڈسپلن
بینک کی یونین کے عہدے دار
بینک کے منیجر سے بدظن تھے
روز لڑتے جھگڑتے رہتے تھے
ایک دن بینک میں بہت زیادہ
ہاتھا پائی ہوئی ، فساد ہوا
بات حد سے بڑھی تو بالآخر
منیجر اور یونین والے
ایک ٹیبل پہ آ کے بیٹھ گئے
پہلے ہوتے رہے گلے شکوے
پھر مسائل پہ بات چیت ہوئی
ہو گیا ان میں ایک سمجھوتہ
دیکھ کر یہ عجیب تبدیلی
بینک کا ایک مستند گن مین
یونین سے جو تھا بہت بیزار
اور ، سبھی افسروں سے نالاں تھا
بینک کی آبرو کے پیش نظر
ہو گیا سارے بینک پر قابض
للہ الحمد ایک مدت سے
گاہکوں کو سکون حاصل ہے
داد دیتے ہیں اب تو افسر بھی
اپنے گن مین کی فراست کی
جس کے ایثار اور حکمت سے
کوئی ہنگامہ اب نہیں ہوتا
اور ، فضا پر سکوت طاری ہے
بینک کا کاروبار چلتا ہے
ارتقاءکا سفر بھی جاری ہے
ارتقاءکا سفر نہ رک جائے
اس لئے بینک کا نیا گن مین
یہ سمجھتا ہے میری باری ہے
سیدفخرالدین بَلّے
بارانِ کرم
(کوئٹہ کی برفباری سے متاثر ہو کر )
گردوں سے برستے ہوئے یہ برف کے گالے
تنتے ہوئے ہر سمت ہر اِک چیز پہ جالے
دُھنکی ہوئی روئی کی طرح صاف شگفتہ
شفاف ، سبک ، نازک و خودرفتہ و خستہ
رخشندہ و تابندہ و رقصندہ جوانی
یہ برف کی بارش ہے کہ پریوں کی کہانی
دوشیزگیٔ شام و سحر کے یہ سنبھالے
چھائے ہوئے بکھرے ہوئے ہر سمت اُجالے
چاندی میں نہائے ہوئے یہ کوہ و بیاباں
ہے عام بہ عنوانِ طرب زیست کا ساماں
انوار کا ٹیکہ ہے پہاڑوں کی جبیں پر
غالیچۂ سیمیں ہے بِچھا ہے جو زمیں پر
موتی ہیں کہ دامن میں کوئی رول رہا ہے
جوبن کی ترازو میں سحر تول رہا ہے
ہر برگ و شجر رشکِ تنِ یاسمنی ہے
صحن و درو دیوار کی کیا سِیم تنی ہے
گو عارضی بخشش سہی فطرت کی یہ چھل ہے
ہر ایک مکاں آج یہاں تاج محل ہے
شوخیٔ مناظر میں نظر کھوئی ہوئی ہے
زانوئے شبستاں پہ سحر سوئی ہوئی ہے
چمپا سے چنبیلی سے ہراک زلف گُندھی ہے
ہر ایک سر ِ کوہ پہ دستار بندھی ہے
یا چشمے پہ جیسے کوئی مہناز بنا کر
بیٹھی ہے بصد ناز اداؤں کو چُرا کر
ہے وادیٔ بولان کہ حوروں کا بسیرا
ہر گام پہ حانی نے لگا رکھا ہے ڈیرا
چاندی کا کٹورا ہے سرِ آب پڑا ہے
بِلّور کا ساغر ہے کہ صہبا سے بھرا ہے
ہر ذرے سے جوبن کی کرن پھوٹ رہی ہے
انوار سے ظلمت کی کمر ٹوٹ رہی ہے
ہیں کوثر و تسنیم بھی،ساقی بھی ہے،مے بھی
ہے ساز بھی،مضراب بھی ،آواز بھی ‘لَے بھی
مطلوب بھی موجود ہے ،طالب بھی،طلب بھی
پائل بھی ہے ،جھنکاربھی ،مطرب بھی ،طرب بھی
منظر بھی ہے،منظور بھی، ناظر بھی، نظر بھی
ہے ناز بھی‘ انداز بھی‘ اندازِ دگر بھی
ہیں ارض و سما ، کون و مکاں نور میں غلطاں
بارانِ کرم ہے کہ اترتا ہوا قرآں
ہر منظرِ پُر کیف پہ جنت کا گماں ہے
سڑکوں پہ پڑی برف ہے یاکا ہ کشاں ہے
ہر ذرّہ ہے مہتاب ، ہر اِک ذرّہ ہے خورشید
ہے برف کہ اک جشنِ جہاں تاب کی تمہید
اس برف سے رعنائی و شوخیٔ گل ِ تر
یہ برف ہے پیشانیٔ بولان کا جھومر
یہ برف بلوچوں کی دعاؤں کا ثمر ہے
یہ برف نہیں فصلِ بہاراں کی خبر ہے
اس برف سے مہوش تری تصویر بناؤں
بت ساز بنوں اور صنم دل میں بٹھاؤں
ڈرتا ہوں مگر برف پگھل جائے گی اک دن
انفاس کی حدت سے یہ گل جائے گی اک دن
سیدفخرالدین بَلّے
ہنگامِ محشر
(کوئٹہ میں برفباری کی تصویر کا دوسرا رُخ )
ہے برف کے اِ س عکس میں سرشاری و مستی
لیکن ہے اِسی عکس کا اِک دوسرا رخ بھی
تصویر کے اس رُخ میں ہے ژولیدہ جوانی
ہے ہوش رُبا صبر طلب ،جس کی کہانی
گھنگھور گھٹائیں ہیں دھواں دھار دُھندلکا
یَخ بستہ ہواؤں سے ہے اِک حشر سا برپا
آبادیاں مانندِ بیاباں ہیںلَق و دَ ق
آتا بھی ہے ذی روح نظر کوئی تو منہ فق
حرکت ہے نہ ہلچل، نہ حرارت، نہ جنوں ہے
پُر ہَول فضا زیست گرفتارِ فسوں ہے
سنسان گلی کوچے ہیں اجڑے ہوئے بازار
ہیں برف میں مدفون چمن سبزہ و گلزار
ہر چیز ہے ٹھٹھری ہوئی افسردہ و بے رنگ
ہر آن ہوئے جاتے ہیں دامانِ نظر تنگ
ہے ساز نہ آواز نہ بربط ہے نہ دَفہے
کُل سلسلۂ کون و مکاں برف بکف ہے
بے جان ہیں احساس و گماں ہُو کا ہے عالم
چلتی ہے ہوا جب تو شجر کرتے ہیں ماتم
سردی کا یہ عالم ہے جگر کانپ رہے ہیں
منہ برف کی چادر سے سبھی ڈھانپ رہے ہیں
پابندِ نشیمن ہے کوئی غار میں پابند
ہیں طفل و زن و پیرو جواں گھر میں نظر بند
راہوں میں رکاوٹ ہے ہر اک گام پہ قدغن
یہ برف ہے یا زیست کے آثار کا مدفن
یہ برف ہے یا مرگ و قیامت کی نشانی
بے رنگ ہو جیسے کسی بیوہ کی جوانی
واللہ کہ ایمان لرزتا ہے دلوں میں
آتش کدے آباد مساجد میں گھروں میں
برفیلی چٹانوں کا ہر انداز ہے بھونڈا
بے رنگ ہو جیسے کسی خُرانٹ کا چونڈا
محرومِ تپِ زیست کا ٹھٹھرا ہوا تن ہے
ہے برف پہاڑوں پہ کہ کوڑھی کا بدن ہے
باغات خزاں دیدہ ہیں، پامال چمن ہے
یہ برف ہے یا مُرد ہ پہاڑوں کا کفن ہے
گردوں سے برستے ہوئے یہ برف کے گالے
تنتے ہوئے ہر سمت ہر اک چیز پہ جالے
سیدفخرالدین بَلّے
اب ملاحظہ فرمائیے سید فخرالدین بلے کی چندمنتخب غزلیں
غزل
خداسے روزِ ازل کس نے اختلاف کیا
وہ آدمی تو نہ تھا، جس نے انحراف کیا
میں کیا بتاؤں کہ قلب و نظر پہ کیا گزری
کرن نے قطرہ ءشبنم میں جب شگاف کیا
وہی تو ہوں میں کہ جس کے وجود سے پہلے
خود اپنے ربّ سے فرشتوں نے اختلاف کیا
اسی کے رحم و کرم پر ہے عاقبت میری
نہ جس نے پہلی خطا کو مری معاف کیا
ازل سے عالمِ موجود تک سفر کر کے
خود اپنے جسم کے حجرے میں اعتکاف کیا
خدا گواہ کہ میں نے خود آگہی کے لئے
سمجھ کے خود کو حرم عمر بھر طواف کیا
رہیں گے قصرِ عقائد نہ فلسفوں کے محل
جو میں نے اپنی حقیقت کا انکشاف کیا
سیدفخرالدین بَلّے
غزل
ہے چُبھن مستقل قرار کے ساتھ
پھول ڈالی پہ جیسے خار کے ساتھ
میرے گھر میں بھی، کہکشاں کی طرح
ربط قائم ہے انتشار کے ساتھ
صبح کا انتظار ہے ۔۔۔۔ لیکن
بے یقینی ہے اعتبار کے ساتھ
خواہشِ باغباں یہ ہے شاید
زرد رُت بھی رہے بہار کے ساتھ
پیڑ نعمت بدست و سرخم ہیں
ہے تفاخر بھی انکسار کے ساتھ
غزل
اب شبِ غم اگر نہیں ، نہ سہی
دامنِ برگ تر نہیں ، نہ سہی
زندہ دارانِ شب کو میری طرح
انتظارِ سحر نہیں نہ سہی
دشت پیما کے آس پاس اگر
کوئی دیوار و در نہیں نہ سہی
عام ہے جستجوئے جہلِ خرد
شہر میں دیدہ ور نہیں نہ سہی
ہیں فرشتے ازل سے تنگ نظر
آدمی معتبر نہیں نہ سہی
دل دھڑکتے ہوں ساتھ ساتھ اگر
یاد پیش نظر نہیں نہ سہی
ہر نفس ایک تازیانہ ہے
آہ میں کچھ اثر نہیں نہ سہی
موت ہے مستقل تعاقب میں
زندگی خود نگر نہیں نہ سہی
سر اٹھا کر زمیں پہ چلتا ہوں
سر چھپانے کو گھر نہیں نہ سہی
پیڑ پودوں کی کچھ کمی تو نہیں
ایک سوکھا شجر نہیں نہ سہی
سیدفخرالدین بَلّے
غزل
گزر چکی ہے جو شب، اضطراب کیسا ہے؟
افق پہ ہوش رُباالتہاب کیسا ہے؟
وجودیت کا یہ رنگیں سراب کیسا ہے؟
ہر ایک چہرے پہ مبہم نقاب کیسا ہے؟
رہیں گے مرحلے تعزیر کے جو مر کر بھی
یہ زندگی کا مسلسل عذاب کیسا ہے؟
خدا ہی جانے کہ دن میں طویل رات کے بعد
ہیں شب گزیدہ جو سب ،احتساب کیسا ہے؟
وہ حال پوچھنے آئے تو میں خموش رہا
سوال خوب تھا ! لیکن جواب کیسا ہے؟
کتاب لاکھ پرانی سہی مگر اس پر
چھپا ہے اب جو نیا انتساب کیسا ہے؟
ہے معرفت کا سفر آگہی سے حیرت تک
مراجعت کا جو ہو ارتکاب کیسا ہے؟
وِطائے کاہکشاں پر زمیں کے بارے میں
جو بھیگی آنکھوں نے دیکھا ،وہ خواب کیسا ہے؟
میں جانتا ہوں مگر تو بھی آئینہ لے کر
مجھے بتا کہ مرا ، انتخاب کیسا ہے؟
سیدفخرالدین بَلّے
غزل
کھلیں گلاب تو آنکھیں کھلیں ،اُچنگ چلے
پَون چلے تو مہک اس کے سنگ سنگ چلے
ہے میرا سوچ سفر فلسفے کے صحرا میں
ہوا کے دوش پہ جیسے کٹی پتنگ چلے
کسی کا ہو کے کوئی کس طرح رہے اپنا
رہِ سلوک پہ کیسے کوئی ملنگ چلے
طویل رات ہے ، بھیگی سحر ہے ، ٹھٹھری شام
بڑے ہوں تھوڑے سے دن تو بسنت رنگ چلے
چلے ازل سے ابد کے لئے تو رستے میں
پڑاؤ دنیا میں ڈالا کہ کچھ دَرنگ چلے
خلا نورد ہیں ایسے بھی جو ستاروں میں
بنانے تیشئہ فرہاد سے سرنگ چلے
سیدفخرالدین بَلّے
غزل
کھل کے گل بن گئی کلی چپ چاپ
اِک قیامت گزر گئی چپ چاپ
میں نے گردوں پہ خون دیکھا ہے
لوگ کہتے ہیں پو پھٹی چپ چاپ
سوچ کے آسماں سے اتری ہے
دل کے آنگن میں چاندنی چپ چاپ
دل کی دھڑکن اگر نہ بند ہوئی
کیسے گزرے گی زندگی چپ چاپ
سیدفخرالدین بَلّے
غزل
ہے آب آب موج بپھرنے کے باوجود
دنیا سمٹ رہی ہے بکھرنے کے باوجود
راہِ فنا پہ لوگ سدا گامزن رہے
ہر ہر نفس پہ موت سے ڈرنے کے باوجود
اس بحرِ کائنات میں ہرکشتی ء انا
غرقاب ہو گئی ہے ابھرنے کے باوجود
شاید پڑی ہے رات بھی سارے چمن پہ اوس
بھیگے ہوئے ہیں پھول نکھرنے کے باوجود
زیر ِ قدم ہے چاند، ستارے ہیں گردِ راہ
دھرتی پہ آسماں سے اترنے کے باوجود
طوفاں میں ڈوب کر یہ ہوا مجھ پہ انکشاف
پانی تھی صرف موج بپھرنے کے باوجود
میں اس مقام پر تو نہیں آگیا کہیں
ہوگی نہ صبح رات گزرنے کے باوجود
الفاظ و صوت و رنگ و تصور کے روپ میں
زندہ ہیں لوگ آج بھی مرنے کے باوجود
ابہامِ آگہی سے میں اپنے وجود کا
اقرار کر رہا ہوں مکرنے کے باوجود
سیدفخرالدین بَلّے
غزل
خوشبو رہی چمن میں نہ وہ رنگ رہ گیا
تُربت پہ گل کی خار کا سرہنگ رہ گیا
میں بھی بدل گیا ہوں زمانے کے ساتھ ساتھ
آئینہآج دیکھا تو خود دنگ رہ گیا
ہو لب پہ رام رام، بغل میں رہے چُھری
جینے کا اس جہاں میں یہی ڈھنگ رہ گیا
ہر سنگ بھاری ہوتا ہے اپنے مقام پر
انساں خلاءمیں پہنچا تو پاسنگ رہ گیا
گلہائے رنگ رنگ روش در روش ملے
دامن ہی آرزو کا مری تنگ رہ گیا
سیدفخرالدین بَلّے
غزل
ایک ہی جیسے لگے سننے میں افسانے کئی
ہو بھی سکتا ہے کہ اس دنیا میں ہوں ہم سے کئی
چار آنکھیں چاہئیں اس کی حفاظت کے لئے
آنے جانے کے لئے جس گھر میں ہوں رستے کئی
خود ارادی اور آزادی کی برکت دیکھئے
گھر کے آنگن میں نظر آتے ہیں اب چولہے کئی
دل نہ ہوں جب صاف تو مِل بیٹھنے کا فائدہ
ہو چکے ہیں یوں تو ماضی میں بھی سمجھوتے کئی
آدمی کے پر لگے ہیں، جب سے سمٹی ہے زمیں
دیس جیسے بھیس کو درکار ہیں چولے کئی
ٹھن گئی ہے اس لئے تقدیر اور تدبیر میں
ہاتھ تو ہر اِک کے دو ہیں اور گلدستے کئی
بات قسمت کی نہیں، دل تھا ہوس ناآشنا
ورنہ ہم کو بھی ملے تھے کام کے بندے کئی
قربتوں سے فاصلوں کو حِس کی بیداری ملی
جسم و جاں کے درمیاں آئے نظر پردے کئی
بھیڑ میں ایسے گھرے کہ بڑھ گئیں تنہائیاں
ساتھ ہی لیکن ہوئے آباد ویرانے کئی
لب پہ ہلکی سی ہنسی اور قلب ڈانواں ڈول ہے
راہ میں کعبہ کے پڑتے ہیں صنم خانے کئی
سیدفخرالدین بَلّے
غزل
پڑا ہوا ہے بہت سے چہروں پہ مستقل جو غبار کیا ہے ؟
ذرا کبھی آئینوں سے پوچھو ، نگاہ کا اعتبار کیا ہے ؟
وہ دیدہ ور ہے جو آبدیدہ ، مدام ہے جس کی مسکراہٹ
اسی سے پوچھو کہ بار و کربِ لب تبسم شعار کیا ہے ؟
پڑے ہیں مجھ پر بدن کے زنداں میں لاکھ سانسوں کے تازیانے
مگر میں کیوں اور کسے بتائوں کہ لطفِ زہراب و دار کیا ہے ؟
شکستہ دل ہیں بہت سی کلیاں ، بدن دریدہ ہیں پھول سارے
ہیں خار زاروں میں قید آنکھیں کہ جانتی ہیں بہار کیا ہے ؟
پلے ہیں جو دل کی دھڑکنوں میں ، لہو ہے جن کی رگوں میں جاری
بھلا انہیں کوئی کیا بتائے ، سکون کیا ہے ؟ قرار کیا ہے ؟
یہ زندگانی تو یوں لگے ہے ، ہو کھیل کٹھ پتلیوں کاجیسے
ہے اور ہاتھوں میں ڈور ہی جب تو پھر مرا اختیار کیاہے ؟
زمیں کو گھیرے سمندروں اور ہوا کے طبقوں کا رقصِ پیہم
خلا میں یا رب ، یہ طُرفگی ء حصار اندر حصار کیا ہے ؟
ہے پیار کا کھیل مصلحت اور خیالِ سود و زیاں سے بالا
لگا ہی لی ہے ، جو دل کی بازی تو جیت کیا اور ہار کیاہے
سیدفخرالدین بَلّے کے ہائیکو اور قطعات
ہائیکو
سوکھنے ہیں کمہار کے برتن
اور دہقاں کے کھیت پیاسے ہیں
پیشِ رب سجدہ ریز ہیں دونوں
………..
اُس نے پوچھا علوم کتنے ہیں؟
میں نے بھی اس سے یہ سوال کیا
آسماں پر نجوم کتنے ہیں؟
سید فخرالدین بلے کے چندقطعات
سُو فار سے چِھدے ہوئے سینوں سے پوچھئے
معصوم پر چلے ہوئے تیروں سے پوچھئے
مومن کو دیں عزیز ہے یا زندگی عزیز؟
میدان ِ کربلا کے شہیدوں سے پوچھئے
………..
میخانے سے رشتہ چھو ٹ گیا
ساقی سے تعلق ٹوٹ گیا
ہاتھوں کا پیالہ یاد نہیں
خود پھوڑ دیا یا پھوٹ گیا
………..
اپنے احساس کو معکوس نہ ہونے دوں گا
فکر کو شعر میں ملبوس نہ ہونے دوں گا
مجھ پہ جو کچھ بھی گزرتی ہے مِری جانِ وفا
انتقاماً تجھے محسوس نہ ہونے دوں گا
………..
اًئے جوسجن پاس توآنچل مورا ڈھلکے
جب جائے سجن نین کٹورا مورا چھلکے
میں پریم دوانی ہوں، مری بات نہ پوچھو
ساجن کاتو میں نام بھی جپتی ہوں سنبھل کے
………..
یہ ہمارا ہے ، وہ تمھارا ہے
فرق یہ کب ہمیں گوارا ہے
ہم کسی کو رقیب کیوں سمجھیں
جوہمارا ہے ، وہ تمھارا ہے
سید فخرالدین بَلّے
اب انتظارفرمائیے ۔ایک اورکتاب ۔ سید فخرالدین بلے۔ ایک داستان ۔ ایک دبستان ۔کا
اس کتاب سید فخرالدین بلے ۔ ایک آدرش ۔ ایک انجمن ۔کے بیک ٹائیٹل پر ان کے بارے میں ایک اور کتاب ۔ سید فخرالدین بلے ۔ ایک داستان ۔ایک دبستان کےسرورق کاعکس دیا گیا ہے۔ یہ کتاب معروف ادبی اورسیاسی شخصیت سید تابش الوری نے مرتب کی ہےاوراس کا دیباچہ بھی ان کی محبت کاغماز ہے













