ارباب اختیار کی ترجیحات کا محور کیا ہے۔سلیم مرزا

0
699

پاکستان وہ ﻭﺍﺣﺪ ﻣُﻠﮏ ﮨﮯ ﺟﻮ ﭘﭽﮭﻠﮯ 11 ﻣﺎﮦ ﺳﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺮﭘﺸﻦ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺑﺪﻥ ﺯﻭﺍﻝ ﭘﺬﯾﺮ ﮨﮯ۔۔وجہ یہ ھے کہ ملک اس وقت نواز شریف جیسے بڑے بحران کا شکار ھے، اور اس اتنے بڑے بحران کے ھوتے ھوئے بھی یار لوگوں کا سلیکٹیڈ کے مسئلے کو اجاگر کرنا ثابت کرتا ھے ارباب اختیار کی ترجیحات کا محور کیا ھے. تین سابقہ حکومتوں سے تجربہ کار عمر ایوب نے اس اھم قومی مسئلے پہ توجہ دلائی تو سب کو یاد آیا کہ اپوزیشن ابھی تک سلیکٹیڈ لفظ کو پکڑے بیٹھی ھے،
وہ تو بھلا ھو اسپیکر کا کہ اسے غیر پارلیمانی لفظ قرار دے کر وھاں پھینک دیا جہاں گالیاں وغیرہ رکھتے ھیں، ویسے بہت ساری گالیاں تو ھم دل میں رھتے ھیں، اس پابندی کے بعد ذمہ داری بڑھ گئی ھے کیونکہ پرائمری اسکول کے بچوں کی عموما ایسی شکایات سامنے آتی ھیں
“میڈم اس نے مجھے دل میں گالیاں دی ھیں ”
اب سب ارکان کو یہ دھیان یہ رکھنا ھوگا کہ کوئی دل ھی دل میں سلیکٹیڈ نہ کہہ رھا ھو،
دو لطیفے ہیں بہت پرانےجو لکھنے کی ضرورت اس لئیے نہیں کیونکہ وہ بہت مشہور ہیں، بس یاد کروانے کی ضرورت ہے
ایک تو اس مرشد والا ہے جس نے کہا تھا کہ خبردار نسخہ تیار کرتے بندر کا خیال نہ آئے
دوسرا اس طوطے کا ہے جس نے کہا تھا کہ
” سمجھ تے گیا ای ھونا ایں” ؟
اب جتنی دیر اجلاس ھوتا رھا کرے گا اتنی دیر ہر کسی کے ذھن میں لفظ سلیکٹیڈ رھا کرے گا
بس اپوزیشن کو ھلکا سا مسکرانا پڑا کرے گا
بقول نورالہدی شاھین سبزی فروٹ والے
“اردو میں سلیکٹڈ اور الیکٹڈ دونوں کا ترجمہ ’منتخب‘ ہی بنتا ہے۔ حکومت کے پاس یہ اچھا موقع ہے کہ ملک بھر میں انگلش بولنے اور لکھنے پر کوڑے مارنے کی سزا مقرر کرے اور اردو کو سختی کے ساتھ دفتری زبان کے طور پر نافذ کرے تاکہ سلیکٹڈ کے طعنے سے بھی جان چھوٹ جائے اور قومی زبان کے نفاذ کا کریڈٹ بھی ملے۔ دوسرے الفاظ میں نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔”
اسی طرح اسکاچ وھسکی والے علاقے سے ایک شیکسپئر نامی بزرگ (سنا ھے پی کر ڈرامے لکھتے تھے حالانکہ اپنے ڈرامے دیکھ کر دل چاھتا ھے کہ کاش پی کر لکھے جاتے ) کا ارشاد ھے ” گلاب کو کوئی بھی نام دے لو اس کی شگفتگی پہ اثر نہیں پڑتا ”
لہذا سلیکٹیڈ کہنے سے کون سی مہنگائی کم ھوجائے گی؟
نام میں کیا رکھا ھے، اور دیسی بزرگ ایسے موقعوں کیلئے فرماگئے ھیں، “جوکہتا ھے ،وھی ھوتا ھے “آج حکومت کو سلیکٹیڈ کہنے والے نیب اور عدلیہ سے بچ بھی گئے تو اوپر والوں سے کیسے بچیں گے،
آج نہیں تو کل وہ انہیں بھی سلیکٹ کر سکتے ھیں،
عمران خاں الیکٹیبل کے سر کا تاج ھے، اب کسی ایک جگہ تو اسے ٹک کر سرتاج لگا رھنے دیں،
باقی رھی معیشت تو اس کے بارے میں جب مقتدر حلقوں کو کوئی فکر نہیں تو ھمیں کیوں ھو؟ خالد ندیم شانی جس کی اپنی کریانے کی دکان بھی ھے گاھک نہ ھونے کی وجہ سے فرماتے ھیں ۔
گرانی پہ جوانی چل رھی ھے
میں خالد مطمئن بیٹھا ھوا ھوں

سلیم مرزا

SHARE

LEAVE A REPLY