لے امریکہ کے صدارتی انتخابات کے لیے 25 ڈیمو کریٹک امیدوار میدان میں ہیں۔ جمعرات کو مزید دس امیدواروں نے اہلیت ثابت کرنے کے لیے مباحثے میں حصہ لیا۔
مباحثے کے دوسرے دور میں سابق صدر جو بائیڈن اور سینیٹر کملا ہارس کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ کملا ہارس نے سابق صدر جو بائیڈن پر نسلی تعصب کے الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ 1970ء کی دہائی میں بطور نوجوان سینیٹر انھوں نے سفید اور سیاہ فام بچوں کا انضمام روکنے کے لیے الگ اسکول اور بسیں مختص کرنے کی حمایت کی تھی۔
کملا ہارس نے جو بائیڈن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں سمجھتی کہ آپ نسل پرستی پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن ستر کی دہائی میں آپ نے دو نسل پرست سینیٹرز کے ساتھ مل کر نسلی امتیاز پر مبنی قانون سازی کی کوشش کی تھی۔
کملا ہارس نے کہا کہ ایک چھ سالہ بچی جو دوسری جماعت کی طالبہ تھی، وہ بسوں کے ذریعے ایک ایسے اسکول جاتی تھی جہاں سفید اور سیاہ فام بچوں کی کوئی تمیز نہیں تھی اور اس بچی کا نام کملا ہارس تھا۔
جو بائیڈن نے کہا کہ وہ ہمیشہ شہری حقوق کے علمبردار رہے ہیں۔ انھیں نے کبھی نسل پرستی کے حق میں بات نہیں کی اور نہ ہی انھوں نے اسکول بسوں کی کبھی مخالفت کی ہے۔ یہ مقامی کونسل کا فیصلہ ہوتا ہے۔
نسل پرستی کا معاملہ مباحثے کے عین وسط میں زیر بحث آیا جب صدارتی امیدوار ساؤتھ بینڈ انڈیانا کے میئر پیٹ بٹیگیگ کو حال ہی میں سفید فام پولیس اہل کار کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کی ہلاکت سے متعلق سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
بٹیگیگ نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ یہ معاملہ پیچیدہ اور حل طلب ہے۔ تاہم حقائق سامنے لائے جائیں گے۔
انڈیانا میں بہت سے لوگ اس واقعے پر میئر کے کردار پر سواالات اٹھا رہے ہیں، جب کہ بعض سیاہ فام افراد کو یہ بھی اعتراض ہے کہ انڈیانا میں سفید فام پولیس اہل کاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
مباحثے کے دوران ایک بار پھر ڈیموکریٹس امیدواروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیا اور ہیلتھ کیئر سے متعلق ٹرمپ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس معاملے میں بہتر حکمت عملی مرتب کرنے کا یقین دلایا۔
امیدوار برنی سیندرز نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ صدر ٹرمپ جھوٹے اور نسل پرست ہیں اور وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکی عوام کے ساتھ غلط بیانی کرتے رہے ہیں۔
جو بائیڈن نے کہا کہ ٹرمپ کے متعارف کردہ ٹیکس سے متعلق قوانین امریکی معاشرے میں تقسیم پیدا کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے امیر طبقے کو ٹیکسوں میں 1.5 ارب ڈالر کی چھوٹ دی ہے۔ انھیں موقع ملا تو وہ یہ ختم کریں گے۔
ایک 38 سالہ ڈیمو کریٹ امیدوار ایرک سویلویل نے کہا کہ 76 سالہ جو بائیڈن کو نئی نسل کو آگے آنے کا موقع دینا چاہیے۔
خیال رہے کہ اگر جو بائیڈن صدر بنے تو اس وقت اب کی عمر 78 برس ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ ‘جب میں چھ سال کا تھا تو ایک صدارتی امیدوار کیلی فورنیا آیا اور اس نے کہا کہ میں یہ ‘ٹارچ’ نئی نسل کو منتقل کروں گا۔ یہ امیدوار جو بائیڈن تھے۔
جواب میں جو بائیڈن نے کہا کہ فکر نہ کریں ٹارچ اب بھی میرے پاس ہے اور میرے پاس ہی رہے گی۔
مباحثے کے دوران صحت عامہ پر بھی امیدواروں نے کھل کر اظہار خیال کیا۔ برنی سیندرز اور کوملا ہارس نے کہا کہ وہ اس حق میں ہیں کہ نجی انشورنس اداروں کا عمل دخل ختم کر کے ہیلتھ کیئر کے شعبے کو براہ راست حکومت کے کنٹرول میں لایا جائے۔
برنی سیندرز نے کہا کہ وہ ایسا نظام صحت لانا چاہتے ہیں جس سے ہر طبقے کو سہولت ملے۔












