پاکستان اور انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق باؤلنگ کوچ مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں میں نظم وضبط اور احساس ذمہ داری کا فقدان ہے اسی لیے اس منصوبے پرنیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) میں کام شروع کردیا ہے۔

پاک پیشن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ آپ دوسرے ملکوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں لیکن ہماری اصل طاقت اپنے کلچر میں مضمر ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو انگلینڈ کرکٹ سے سیکھنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘میں انگلینڈ کرکٹ بورڈ سے حاصل کئے ہوئے بعض منصوبوں پر نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں عمل کررہا ہوں جس میں نظم وضبط اور احساس ذمہ داری پر عمل کرنا شامل ہے جو ہمارے کھلاڑیوں میں نہیں ہے’۔

پاکستان کرکٹ ٹیم 3 ٹیسٹ اور 5 ایک روزہ میچوں کی سیریز کے لیے آسٹریلیا میں موجود ہے اس سے قبل قومی ٹیم کو نیوزی لینڈ کی تیز وکٹوں پر شدید بحرانی کیفیت کا سامنا رہا اور دونوں ٹیسٹ میچ ہار کر سیریز میں وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ ‘مجھے پاکستان ٹیم اور اس کے کوچنگ اسٹاف کا حصہ رہنے کی بنیاد پر آسٹریلیا میں اپنی ٹیم کی کامیابی پر یقین ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو جیت کے لیے سخت پریکٹس کرنا ہوگی خصوصاً بلے بازاپنی تیکنیک اور بنیاد کو بہتر کرنا ہوگا جس کے بعد کوئی وجہ ہی نہیں کہ انھیں مشکل سے دوچار کیا جائے۔

یاسر شاہ کی باؤلنگ میں بہتری کی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ “جب میں نے پاکستان ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داریاں سنبھالی تو سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کے مسائل تھے اور ہمارے پاس کوئی اچھا اسپنرنہیں تھا لیکن ہم نے ایک کیمپ منعقد کیا جہاں یاسر شاہ بھی شامل تھے’۔

انھوں نے کہا کہ’یاسر شاہ کے ساتھ شروع میں ایکشن اور وکٹ کے دونوں اطراف سے باؤلنگ کرنے میں مسائل تھے جس کے بعد میں نے معین خان اور وقاریونس سے بات کی اور یاسر کے ایکشن کی بہتری کے لیے میں نے ان کے ساتھ 6 ہفتے گزارے اور اس دوران انھوں نے بہتری لائی’۔

مشتاق نے یاسر شاہ کو اپنی گگلی پر کام کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘اگر انھوں نے اس پر کام نہیں کیا تو دنیا کے بلےبازوں کو بہت آسان ہوگا اور وہ ان کے خلاف موثر کارکردگی دکھانا شروع کردیں گے’۔

SHARE

LEAVE A REPLY