افغانستان: اسپتال اور پولیس افسر کے جنازے پر حملے، 38 افراد ہلاک

0
778

افغانستان میں دو مختلف حملوں میں 38 افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں نومود بچے، خواتین اور صوبائی کونسل کے رکن بھی شامل ہیں۔

دارالحکومت کابل میں ایک اسپتال پر تین مسلح افراد نے حملہ کیا جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے جب کہ ننگرہار میں ایک جنازے پر خود کش حملے میں 25 افراد نشانہ بنے۔

حکام کے مطابق ملک کے مشرقی صوبے ننگر ہار میں منگل کو ہونے والے خود کش حملے میں 15 افراد ہلاک جب کہ 50 زخمی ہوئے ہیں جن میں کئی اعلیٰ سرکاری حکام بھی شامل ہیں۔

ننگرہار صوبے کے گورنر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ننگرہار کی صوبائی کونسل کے رکن لال خان بھی دھماکے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس کمانڈر کے جنازے میں رکن پارلیمنٹ حضرت علی بھی شریک تھے تاہم وہ حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

ننگرہار صوبے کے گورنر کے ترجمان عطا اللہ خوگیانی نے بتایا ہے کہ دہشت گرد نے جنازے کے شرکا کے بالکل بیچ میں دھماکہ کیا۔

ترجمان نے حملے میں 12 افراد کے موقع پر ہی ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وائس آف امریکہ کی افغان سروس کے مطابق دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہوئے۔

صوبائی گورنر کے ترجمان کے مطابق 56 زخمیوں کو علاج کے لیے جلال آباد کے اسپتال منتقل کیا گیا۔

عطا اللہ خوگیانی کا مزید کہنا تھا کہ دھماکہ ڈسٹرکٹ پولیس فورس کے کمانڈر شیخ اکرم کے جنازے میں کیا گیا جو گزشتہ روز ایک حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس کمانڈر کےجنازے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک تھے۔

طالبان نے اس خودکش حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

حکام کے مطابق خودکش حملہ صوبہ ننگرہار میں پاکستان کی سرحد کے قریب واقع علاقے خیواہ میں ہوا۔

یہ علاقہ شدت پسند تنظیم داعش کے زیرِ اثر علاقوں میں شمار ہوتا ہے جب کہ طالبان اور داعش کے درمیان اس علاقے پر قبضہ کرنے کے لیے کئی بار جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔

کابل میں اسپتال پر حملہ، 8 افراد ہلاک
دریں اثنا افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مسلح افراد نے ایک اسپتال پر حملہ کیا جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے زیرِ انتظام چلنے والے اسپتال کو حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

حکام نے ابتدائی طور پر 8 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY