غصہ حرام ہے مگر اسے پی جائیں تو حلال ہو جاتا ہے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری اکثر حماقتیں غصے کی حالت میں سرزد ہوتی ہیں بچتے وہی ہیں جو غصے کی کیفیت پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں-
2018 کے انتخابات کے بعد جب قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوا تو ہم نے دیکھا کہ اپوزیشن ہمارے نو منتخب وزیر اعظم محترم عمران خان کو اشتعال دلانے میں کامیاب ہو گئی اور اس اشتعال کے عالم میں محترم وزیر اعظم نے بجائے اس کے کہ اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں عوامی فلاح اور ملکی ترقی کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کا ذکر کرتے اپنے مخالفین کے لتے لینے شروع کر دیئے اور وہی تقریر فرما دی جو وہ 2011 سے مسلسل فرمائے چلے جا رہے ہیں یوں اپوزیشن جناب وزیر اعظم کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے اور جذبات کی رو میں بہانے میں پوری طرح کامیاب ہو گئی-
اس پہلی کامیابی کے بعد اپوزیشن نے جناب وزیر اعظم کو اشتعال دلانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور جناب وزیر اعظم نے بھی کبھی اپوزیشن کو مایوس نہیں کیا بجٹ پیش کئے جانے کے موقع پر ہمیشہ عوام کو دی جانے والی سہولیات اور معاشی مشکلات کا ذکر کیا جاتا ہے مگر بات وہی اشتعال کی کہ اس موقع پر اپوزیشن ایک بار پھر کامیاب ہو گئی اور محترم وزیر اعظم اتنے مشتعل ہوئے کہ بجائے اسمبلی میں جواب دینے کے آدھی رات کو قوم سے خطاب فرما دیا اور اس میں بھی بجٹ کے حوالے سے ایک جملہ تک نہ ارشاد فرمایا بلکہ مخالفین کی ایسی تیسی کر کے رکھ دی-
بجا کہ وزیر اعظم زبانی اپنا مطمع نظر پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں مگر فی البدیہہ تقریر میں یہ قباحت ضرور ہوتی ہے کہ زبان کسی نہ کسی موڑ پر لڑکھڑا ضرور جاتی ہے یہی ہوا کہ بدر اور احد کے واقعات بیان کرتے ہوئے لغزش ہو گئی جو دل آزاری کا باعث بنی اگر محترم وزیر اعظم لکھی ہوئی تقریر فرما دیا کریں تو اس میں آخر حرج ہی کیا ہے نہ تو اس سے ان کی شان میں کوئی کمی آئے گی اور نہ ہی اعتماد میں بلکہ اس طرح وہ اپنا مطمع نظر بہتر انداز میں پیش کر سکیں گے-
یاد رہے کہ اشتعال کے عالم میں محترم آصف علی زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے کا اعلان کر دیا تھا مگر پھر کافی عرصے تک پاکستانی اینٹوں اور مٹی پر چلنے سے محروم رہے اور دبئی کی چمکتی سڑکوں پر مٹر گشت فرماتے رہے واپسی تب ممکن ہو سکی جب نواز شریف کا کانٹا نکالنے کے لئے بلوچستان کے تخت کا تختہ کرنے کے لئے ان کی ضرورت محسوس ہوئی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ زرداری صاحب نے اینٹیں جوڑنے کے لئے ایسا مصالحہ استعمال کیا کہ نواز شریف کو نہ صرف بلوچستان حکومت سے محروم ہونا پڑا بلکہ سینٹ میں اکثریت رکھنے کے باوجود وہ نہ تو چئیرمین سینٹ کے لئے اپنا امیدوار کامیاب کروا پائے اور نہ ہی ڈپٹی چئیرمین سینٹ کا ، زرداری صاحب کی چلی گئی چالوں پر نواز شریف کف افسوس ملتے ہوئے بس میثاق جمہوریت کا رونا روتے رہے اور آصف علی زرداری مستقبل کے سہانے سپنے دیکھتے ہوئے بغلیں بجاتے رہے حالانکہ سیاست میں طفل مکتب مریم نواز شریف نے تب ہی کہہ دیا تھا کہ نواز شریف کا کانٹا نکالنے کے بعد باقی کانٹے بھی چنے جائیں گے موجودہ حالات اس وقت کی کہی بات پر مہر تصدیق ثبت کر رہے ہیں یوں آصف علی زرداری کا نواز شریف کی اپنے ساتھ ہونے والی ملاقات منسوخ کرنے پر غصے میں کیا جانے والا فیصلہ آج ان کے اپنے بھی گلے پڑ گیا ہے-
حیرت ہوتی ہے کہ مریم نواز شریف نے آصف علی زرداری کی جانب بڑھنے والے طوفان کا اندازہ تو قبل از وقت لگا لیا مگر اپنے والد نواز شریف کو گرفت میں لینے والے بگولے کو یا تو دیکھ نہ پائیں یا پھر نظر انداز کرتی رہیں کہ چودھری نثار علی خان تو نواز شریف کی اپنی صفائی میں کی جانے والی قومی اسمبلی کی تقریر کے بھی مخالف تھے اور جے آئی ٹی میں اعلی خفیہ ایجنسیوں کی شمولیت پر بھی ان کے تحفظات تھے اسی وجہ سے وہ نہ صرف نواز شریف کو تقریر سے روکتے رہے بلکہ جے آئی ٹی کو تسلیم نہ کرنے پر قانونی جنگ کا مشورہ بھی دیتے رہے مگر خدمت مرکز کے خدمت گزار نواز شریف کو اپنی برسوں کی جانے والی خدمات کو نظر انداز کرنے پر شدید غصہ تھا اور اسی غصے کے عالم میں وہ بجائے پوری توجہ قانونی جنگ پر مرکوز کرنے کے جوشیلے اور غصیلے بیانات سے خدمت مرکز کو مزید اپنے خلاف کرتے چلے گئے یوں پاناما میں سے جب کچھ نہ نکل سکا تو دوسری پٹاری میں سے اقامہ نکل آیا جس نے نواز شریف کو ڈس لیا-
اسی غصے کی کیفیت میں کئے جانے والے فیصلے نے پرویز مشرف سے خود اپنے ہاتھوں اپنے لئے گڑھا کھدوا دیا مطلق العنانی کے زعم میں مبتلا پرویز مشرف نے اکبر بگٹی کو اپنا ہمنوا بنانے پر ناکامی کا منہ دیکھا تو غصے سے تلملاتے ہوئے بیان داغ دیا کہ وہاں سے ہٹ کیا جائے گا کہ پتا بھی نہیں چلے گا اور پھر ایسا ہٹ کیا کہ آج تک باوجود صد کوشش ہم اپنے پیارے بلوچستان کے حالات معمول پر نہ لا سکے مزید غصے کی حالت میں کیا گیا فیصلہ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے عہدے سے ہٹانا تھا جس پر بگڑتے حالات کو قابو میں لانے کے لئے پرویز مشرف کو دوسری بار آئین معطل کرنا پڑا جو آج بھی ان کے گلے پڑا ہوا ہے آئین سے غداری کا مقدمہ ان کی وطن واپسی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے –
حالیہ اور سابقہ ملکی قیادت کے بیسیوں غصے پر مبنی فیصلے مثال کے طور پر پیش کئے جا سکتے ہیں مگر کالم کے لئے مختص جگہ طوالت کی اجازت نہیں دیتی اس لئے مختصرا عرض ہے کہ محترم عمران خان بے شک اپنے مخالفین کو کرپٹ چور اور ڈاکو سمجھتے رہیں مگر اس حوالے سے احتساب کے اداروں اور عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیں اور خود اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ ملک کے معاشی معاملات کی بہتری پر مرکوز رکھیں کہ اگر وہ ملک کی کشتی کو معاشی گرداب سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے تو اس سے بڑی کامیابی اور کوئی نہیں ہو گی لیکن اگر وہ اندرون اور بیرون ملک صرف اور صرف سابقہ ادوار کی کرپشن کہانیاں ہی سنا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے میں مگن رہے تو قرضوں کا بوجھ مزید بڑھنے کے باوجود معیشت کی کشتی دلدل میں دھنستی چلی جائے گی اور وہ نوجوان جنہیں عمران خان نے روشن مستقبل کے سہانے سپنے دکھا کر اپنا پرستار بنا رکھا ہے انہیں بہت جلد اپنے آپ سے بدظن کر لیں گے کہ گرم خون میں جوش اور غصہ بہت زیادہ ہوتا ہے اللہ نہ کرے اگر اس خون نے کھولنا شروع کر دیا تو اسے کون سمجھائے گا کہ غصہ حرام ہے …!













