عمران خان رات کو فون کرنے پر ایک ہزار فیصد ٹیکس لگا دیں۔صفدر ھمدانی

0
516

وطن عزیز میں چاروں پر بے جا ٹیکس کا شور ہے اور عام آدمی کی زندگی روز بروز اجیرن ہوتی جا رہی ہے

ایسے ایسے چوشیدہ ٹیکس ہیں کہ عام آدمی کو علم ہی نہیں کہ وہ کہاں کہاں ٹیکس دے رہا ہے

ایک تو اب ہوا پر ٹیکس لگنا باقی ہے اور دوسرے ایک ٹیکس لگانے کا شعبہ ہم بتا دیتے ہیں جس سے خاصی آمدنی ہو گی

عمران خان اور شبر زیدی رات کو فون کرنے پر ایک ہزار فیصد ٹیکس لگا دیں

باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی

رات جو فون پر ٹیکس لگانے کی وجہ یہ خبر ہے

دنیا بھر میں سمارٹ فونز یا ٹیبلٹ کو ضرورت سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے تاہم اب نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس کے مطابق سمارٹ فون یا ٹیبلٹ رات گئے استعمال کرنے والوں میں میٹھا کھانے کی خواہش بڑھاتی ہے اور یہ عمل موٹاپے کا باعث بنتا ہے۔

حال ہی میں ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے، یہ دعویٰ ہالینڈ اور فرانس میں ہونیوالی طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے، ستراسبورگ یونیورسٹی اور ہالینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں چوہوں پر تجربات کے دوران اسے دریافت کیا گیا۔ ان ڈیوائسز سے خارج ہونے والی نیلی روشنی میں گھنٹہ رہنا بھی چوہوں کی کھانے کی خواہش پر اثرانداز ہوتا اور اگلے دن ناقص غذا کے استعمال کا امکان بڑھ جاتا۔

تحقیق کے مطابق ان جانوروں کے بلڈشوگر لیول اوپر کی جانب جاتے جسکے باعث جسم شکر کو پراسیس کرنے سے قاصر ہوجاتا جو کہ ذیابیطس سے قبل کی انتباہی نشانی ہے۔ محققین کے مطابق نتائج سے شواہد کو تقویت ملتی ہے کہ رات کو بہت زیادہ فونز کا استعمال موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران چوہوں کو رات میں نیلی روشنی میں رکھا گیا اور اگلے دن دیکھا گیا کہ وہ کیا کھاتے ہیں۔ چوہوں کو دن میں بیدار رکھا گیا جبکہ رات کو سلایا گیا تاکہ انسانی جسمانی گھڑی کی زیادہ بہتر نقل کرسکیں۔ چوہوں کو متوازن غذا، چینی کے پانی، چربی اور پانی پر مشتمل 4 غذاﺅں کو چننے کا موقع دیا گیا اور معلوم ہوا کہ نیلی روشنی میں رہنے کے بعد چوہوں نے زیادہ چینی کو ترجیح دی جبکہ ان کے جسم میں گلوکوز کی برداشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک رات کا اثر تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس سے موٹاپے اور ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا امکان بڑھتا ہے۔ تحقیق کے نتائج سوسائٹی فار دی اسٹڈی انجیسٹیو بی ہیوئیر کی سالانہ کانفرنس میں پیش کیے گئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY