تم تو جُدا بھی ہو چکے اور میں مر نہیں گیا
بس اتنا فرق پڑ گیا زخم بھر نہیں گیا
اپنا قصور مان لوں میرا حساب تھا غلط
لیکن کھڑا ہوں پاؤں پر پھر بھی بکھر نہیں گیا
زخمی شجر کے چہرے کو دیکھا لہو میں تر بتر
یہ پہلا ایسا خواب ہے جس سے میں ڈر نہیں گیا
میں جھوٹ لکھ رہا ہوں خوب جھوٹ بولتا ہوں خوب
تجھ سے بچھڑ گیا مگر تیرا اثر نہیں گیا
مجھ کو یہ اطمینان ہے تم کو یہ اعتراف ہے
دنیا سے میں چلا گیا دل سے مگر نہیں گیا
بے شک انا پرست ہوں طعنہ ترا قبول ہے
دستار تم نے چھین لی لے دیکھ سر نہیں گیا
یہ قربتوں کا کھیل بھی صفدر عجیب کھیل ہے
کہ اُسکے گھر کے بعد اب کسی کے گھر نہیں گیا
صفدر ھمدانی














اپنا قصور مان لوں میرا حساب تھا غلط
لیکن کھڑا ہوں پاؤں پر پھر بھی بکھر نہیں گیا
واہ 👌 واہ بہترین کلام
اور پر وقار شعر جس میں سر اٹھا کر جینے کی بات کی گئی ہے